Chapter on Supplication
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 49
Anas bin Malik [may Allah be pleased with him] narrated that the Messenger of Allah said: “When you pass by the gardens of Paradise, them feast.” They said: “And what are the gardens of Paradise?” He said: “The circles of remembrance.”
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم ( کچھ ) چر، چگ لیا کرو ۱؎ لوگوں نے پوچھا «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے ثابت نے انس سے روایت کی ہے حسن غریب ہے۔
Umar bin Abu Salamah narrated from his mother, Umm Salamah, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When a calamity strikes one of you, then let him say: ‘Indeed, to Allah we belong and to Him we shall return. O Allah, I seek reward with You for my affliction, so reward me for it, and replace it for me with something better (Innā lillāhi wa innā ilaihi rāji`ūn, Allāhumma `indaka aḥtasibu muṣībatī fa’jurnī fīhā wa abdilnī minhā khair).’” When the time of death was near Abu Salamah, he said: ‘O Allah, replace me for my wife, with better than me.” So when he died, Umm Salamah said: “Indeed, to Allah we belong and to Him we shall return. I seek reward with Allah for my affliction, so reward me for it.”
ابوسلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو اسے: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وأبدلني منها خيرا» ”ہم سب اللہ کے لیے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں اپنی مصیبتوں کا اجر تجھ سے چاہتا ہوں مجھے تو ان پر ( صبر کرنے کا ) اچھا اجر دے، اور ان مصیبتوں کے بدلے مجھے ان سے اچھا دے“، پڑھنا چاہیئے، پھر جب ابوسلمہ رضی الله عنہ کی موت کا وقت آ گیا تو انہوں نے دعا کی: «اللهم اخلف في أهلي خيرا مني» ”اے اللہ! میرے گھر والوں میں مجھ سے بہتر ذات کو میرا خلیفہ و جانشیں بنا دے“، اور جب ان کی موت واقع ہو گئی تو ام سلمہ رضی الله عنہا نے کہا: «إنا لله وإنا إليه راجعون عند الله احتسبت مصيبتي فأجرني فيها» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ام سلمہ رضی الله عنہا کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ۳- اور ابوسلمہ رضی الله عنہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد ہے۔
Anas bin Malik narrated that a man came to the Prophet (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah, which supplication is the best?” He (ﷺ) said: “Ask Your Lord For Al-`Āfiyah and Al-Mu`āfāh in this world and in the Hereafter.” Then he came to him on the second day and said: “O Messenger of Allah, which supplication is the best?” So he (ﷺ) said to him similar to that. Then he came to him on the third day, so he (ﷺ) said to him similar to that. He (ﷺ) said: “So when you have been given Al-`Āfiyah in this world, and you have been given it in the Hereafter, then you have succeeded.”
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ( سب سے اچھی ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو“، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا، اور آپ سے پھر پوچھا: ”کون سی دعا افضل ہے؟“ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا، مزید فرمایا: ”جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Aishah narrated: “I said: ‘O Messenger of Allah, what is your view if I know when the Night of Al-Qadr is, then what should I say in it?” He said: ‘Say: “O Allah, indeed You are Pardoning, [Generous,] You love pardon, so pardon me (Allāhumma innaka `Afuwwun [Karīmun], tuḥibbul-`afwa fa`fu `annī).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: ”پڑھو «اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عني» ”اے اللہ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Al-`Abbas bin `Abdul-Muttalib said: “I said: ‘O Messenger of Allah, teach me something that I may ask Allah, [Mighty and Sublime] for.’ He (ﷺ) said: ‘Ask Allah for Al-`Āfiyah.’ Then I remained for a day, then I came and said: ‘O Messenger of Allah, teach me something that I may ask Allah for.’ So he (ﷺ) said to me: “O Abbas, O uncle of the Messenger of Allah! Ask Allah for Al-`Āfiyah in the world and in the Hereafter.”
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں اللہ رب العزت سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے عافیت مانگو“، پھر کچھ دن رک کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن حارث بن نوفل نے عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے سنا ہے ( یعنی ان کا ان سے سماع ثابت ہے ) ۔
[Ibn Umar narrated that the Messenger of Allah said (ﷺ): “Allah has not been asked for anything more beloved to Him than being asked for Al-`Āfiyah.]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے جو بھی چیزیں مانگی گئی ہیں ان میں اللہ کو سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ اس سے عافیت ( دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات ) مانگی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوبکر ملیکی کی روایت سے جانتے ہیں، ( اور یہ ضعیف ہیں ) ۔
Aishah narrated from Abu Bakr As-Siddiq,: that whenever the Prophet (ﷺ) wanted to do a matter, he would say: “O Allah, make it good for me and choose for me. (Allāhumma khir lī wakhtar lī)”
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یہ دعا فرماتے: «اللهم خر لي واختر لي» ”اے اللہ! میرے لیے بہتر کا انتخاب فرما اور میرے لیے بہتر پسند فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ۲- اور ہم اسے زنفل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے نہیں جانتے، اور یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور انہیں زنفل بن عبداللہ عرفی بھی کہتے ہیں، وہ عرفات میں رہتے تھے، وہ اس حدیث میں منفرد ہیں، یعنی یہ روایت صرف انہوں نے ہی بیان کی ہے ( کسی اور نے نہیں ) اور کسی نے بھی ان کی متابعت نہیں کی ہے۔
Abu Malik Al-Ash`ari narrated that the Messenger of Allah said: “Al-Wudu is half of faith, and All praise is due to Allah (Al-Ḥamdulillāh) fills the Scale, and Glory is to Allah and all praise is to Allah (Subḥān Allāh wal-Ḥamdulillāh)’ fill” - or - “fills what is between the heavens and the earth, and Salat is light and charity is an evidence, and patience is an illumination, and the Quran is a proof for you or against you. And all people shall come to the morning selling their souls, either setting it free or destroying it.”
ابو مالک اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو آدھا ایمان ہے، اور «الحمد لله» ( اللہ کی حمد ) میزان کو ثواب سے بھر دے گا اور «سبحان الله» اور «الحمد لله» یہ دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے درمیان کی جگہ کو یا ان میں سے ہر ایک بھر دے گا آسمانوں اور زمین کے درمیان کی ساری خلا کو ( اجر و ثواب سے ) «صلاة» نور ہے، اور «صدقة» دلیل اور کسوٹی ہے ( ایمان کی ) اور «صبر» روشنی ہے اور «قرآن» تمہارے حق میں حجت و دلیل ہے یا اور تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان صبح اٹھ کر اپنے نفس کو فروخت کرتا ہے چنانچہ یا تو ( اللہ کے یہاں فروخت کر کے ) اس کو ( جہنم سے ) آزاد کرا لیتا ہے، یا ( شیطان کے ہاں فروخت کر کے ) اس کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abdullah bin Amr narrated that the Messenger of Allah said: “At-Tasbīḥ is half of the Scale, and All praise is due to Allah (Al-Ḥamdulillāh)’ fills it, and (as for) None has the right to be worshipped but Allah (Lā Ilāha Illallāh)’ - there is no barrier to it from Allah until it reaches Him.”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «تسبيح» ( سبحان اللہ کہنے سے ) نصف میزان ( آدھا پلڑا ) بھر جائے گا، اور «الحمد لله» میزان ( پلڑے کے باقی خالی حصے ) کو پورا بھر دے گا، اور «لا إله إلا الله» کے تو اللہ تک پہنچنے میں کوئی حجاب و رکاوٹ ہے ہی نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔
A man from Banu Sulaim narrated: “The Messenger of Allah (ﷺ) counted them out in my hand” - or - “in his hand: ‘At-Tasbīḥ is half of the Scale, and “All praise is due to Allah (Al-Ḥamdulillāh)” fills it, and At-Takbīr (Allāhu Akbar) fills what is between the sky and the earth, and fasting is half of patience, and purification is half of faith.”
بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ کی انگلیوں یا اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر گن کر بتایا کہ «سبحان الله» نصف میزان رہے گا اور «الحمد لله» اس پورے پلڑے کو بھر دے گا اور «الله أكبر» آسمان و زمین کے درمیان کی ساری جگہوں کو بھر دے گا، روزہ آدھا ہے، اور پاکی نصف ایمان ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور اس حدیث کو شعبہ اور سفیان ثوری نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
Ali bin Abi Talib said: “The most of what the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated with during the afternoon at Arafat while standing was: ‘O Allah to You is the praise like the one You say, and better than what we say. O Allah, for You is all my Salat, my sacrifice, my living and my dying. And to You is my return, and to You, my Lord, belongs my inheritance. O Allah, indeed, I seek refuge in You from the punishment of the grave, the whispering of the chest, and the dividing of the affair. O Allah, indeed, I seek refuge in You from the evil of what the wind brings (Allāhumma lakal-ḥamdu, kalladhī taqūlu, wa khairan mimmā naqūl. Allāhumma laka ṣalātī wa nusukī, wa maḥyāya wa mamātī, ilaika ma’ābī, wa laka, rabbi, turāthī. Allāhumma innī a`ūdhu bika min `adhābil-qabri, wa waswasatiṣ-ṣadri, wa shatātil-amr. Allāhumma innī a`ūdhu bika min sharri mā tajī’u bihir-rīḥ).”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقوف عرفہ کے دوران عرفہ کی شام اکثر جو دعا مانگا کرتے تھے وہ یہ تھی: «اللهم لك الحمد كالذي نقول وخيرا مما نقول اللهم لك صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي وإليك مآبي ولك رب تراثي اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر ووسوسة الصدر وشتات الأمر اللهم إني أعوذ بك من شر ما تجيء به الريح» ”اے اللہ! تیرے لیے ہی ہیں سب تعریفیں جیسی کہ تو نے ہمیں بتائی ہیں اور اس سے بہتر جیسی کہ ہم تیری تعریف کر سکتے ہیں، اے اللہ! تیرے لیے ہی ہے میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت، اور تیری ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے، اے میرے رب! تیرے لیے ہی ہے میری میراث، اے اللہ میں عذاب قبر سے، سینے کے وسوسہ سے اور متفرق و پراگندہ کام سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس شر سے جسے ہوا لے کر آتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
Abu Umamah narrated: “The Messenger of Allah (ﷺ) supplicated with many supplications of which we did not preserve a thing. We said: ‘O Messenger of Allah, you supplicated with many supplications of which we did not preserve a thing.’ He (ﷺ) said: ‘Should I not direct you to what will include all of that? That you say: O Allah, we ask You from the good of what Your Prophet Muhammad (ﷺ) asked You for, and we seek refuge in You from the evil of that which Your Prophet Muhammad (ﷺ) sought refuge in You from, and You are the one from Whom aid is sought, and it is for You to fulfill, and there is no might or power except by Allah (Allāhumma innā nas’aluka min khairi mā sa’alaka minhu nabiyyuka Muḥammad, ṣallallāhu `alaihi wa sallam, wa na`ūdhu bika min sharri masta`ādha minhu nabiyyuka Muḥammad, ṣallallāhu `alaihi wa sallam, wa antal-musta`ānu wa `alaikal-balāgh, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh).’”
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ساری دعائیں کیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی دعا یاد نہ رہی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دعائیں تو آپ نے بہت سی کیں مگر میں کوئی دعا یاد نہ رکھ سکا، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا دوں جو ان سب چیزوں ( دعاؤں ) کی جامع ہو، کہو: «اللهم إنا نسألك من خير ما سألك منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم ونعوذ بك من شر ما استعاذ منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم وأنت المستعان وعليك البلاغ ولا حول ولا قوة إلا بالله» ”اے اللہ! ہم تجھ سے وہ بھلائی ( خیر ) مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس شر ( برائی ) سے جس سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے، تو ہی مددگار ہے، اور تیرے ہی اختیار میں ہے ( خیر و شر کا ) پہچانا، اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور عبادت کرنے کی قوت اللہ کے سہارے کے بغیر ممکن نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Shahr bin Hawshab said: “I said to Umm Salamah: ‘O Mother of the Believers! What was the supplication that the Messenger of Allah (ﷺ) said most frequently when he was with you?” She said: ‘The supplication he said most frequently was: “O Changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion (Yā Muqallibal-qulūb, thabbit qalbī `alā dīnik).’” She said: ‘So I said: “O Messenger of Allah, why do you supplicate so frequently: ‘O Changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion.’ He said: ‘O Umm Salamah! Verily, there is no human being except that his heart is between Two Fingers of the Fingers of Allah, so whomsoever He wills He makes steadfast, and whomever He wills He causes to deviate.’”
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ
میں نے ام سلمہ رضی الله عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“، پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ اکثر یہ دعا: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتا ہے ( دین حق پر ) قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کر دیتا ہے پھر ( راوی حدیث ) معاذ نے آیت: «ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا» ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی ( گمراہی ) نہ پیدا کر“ ( آل عمران: ۸ ) ، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sulaiman bin Buraidah narrated that his father said: “Khalid bin Al-Walid al Makhzumi complained to the Prophet (ﷺ) saying: ‘O Messenger of Allah, I do not sleep at night due to insomnia.’ So Allah’s Prophet (ﷺ) said: ‘When you go to your bed, say: O Allah, Lord of the Seven Heavens and what they have shaded, Lord of the earths and what they carry, Lord of the Shayatin and those they have misguided, be for me a Protector against the evil of Your creation, all of them together, so that none of them should transgress against me, or oppress me, mighty is the one who seeks protection in You, and glorified is Your praise, and there is none worthy of worship other than You, and there is none worthy of worship except You. (Allāhumma rabbas-samāwātis-sab`i wa mā aẓallat, wa rabbal-arḍīna wa mā aqallat, wa rabbash-shayāṭīni wa mā aḍallat, kun lī jāran min sharri khalqika kullihim jamī`an an yafruṭa `alayya aḥadun minhum, aw an yabghiya `alayya, `azza jāruka wa jalla thanā’uka, wa lā ilāha ghairuka wa lā ilāha illā anta).”
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
خالد بن ولید مخزومی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! میں رات بھر نیند نہ آنے کی وجہ سے سو نہیں پاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بسترے پر سونے کے لیے جاؤ تو پڑھو: «اللهم رب السموات السبع وما أظلت ورب الأرضين وما أقلت ورب الشياطين وما أضلت كن لي جارا من شر خلقك كلهم جميعا أن يفرط علي أحد منهم أو أن يبغي عز جارك وجل ثناؤك ولا إله غيرك لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! ساتوں آسمانوں، اور جن پر وہ سایہ فگن ہیں ان سب کے رب! ساری زمینوں اور ان ساری چیزوں کے رب جن کا وہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور اے شیاطین اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان سب کے رب! اپنی ساری مخلوق کے شر سے بچانے کے لیے میرا پڑوسی بن جا، تاکہ ان میں سے کوئی مجھ پر نہ ظلم و زیادتی کر سکے، اور نہ ہی بغاوت و سرکشی کا مرتکب ہو، تیرا پڑوسی باعزت ہو، اور تیری ثنا ( و تعریف ) بڑھ چڑھ کر ہو، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں معبود تو بس تو ہی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۲- حکم بن ظہیر جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں، بعض محدثین ان کی بیان کردہ حدیث نہیں لیتے، ۳- یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دوسری سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
Anas bin Malik said: “Whenever a matter would distress him, the Prophet (ﷺ) would say: ‘O Living, O Self-Sustaining Sustainer! In Your Mercy do I seek relief (Yā Ḥayyu yā Qayyūm, bi-raḥmatika astaghīth).’” And with this chain, that he said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Be constant with: “O Possessor of Majesty and Honor (Yā Dhal-Jalāli wal-Ikrām).’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» ”اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
Anas narrated that the Prophet (ﷺ) said: “Be constant with: ‘O Possessor of Majesty and Honor (Yā Dhal-Jalāli wal-Ikrām).’”
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يا ذا الجلال والإكرام» کو لازم پکڑو ( یعنی: اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، محفوظ نہیں ہے، ۲- یہ حدیث حماد بن سلمہ نے حمید سے، انہوں نے حسن بصری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ اور مومل سے اس میں غلطی ہوئی ہے، چنانچہ انہوں نے «عن حميد عن أنس» دیا، جبکہ اس میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے۔
Abu Umamah Al-Bahili said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: “Whoever goes to his bed while in a state of purity and remembering Allah, until slumber overtakes him, he shall not get up at any hour of the night and ask Allah for something from the good of the world and the Hereafter except that Allah shall grant it to him.’”
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنے بستر پر پاک و صاف ہو کر سونے کے لیے جائے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اسے نیند آ جائے تو رات کے جس کسی لمحے میں بھی بیدار ہو کر وہ دنیا و آخرت کی جو کوئی بھی بھلائی، اللہ سے مانگے گا اللہ اسے وہ چیز ضروری عطا کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- یہ حدیث شہر بن حوشب سے بطریق: «أبي ظبية عن عمرو بن عبسة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے۔
Mu`adh bin Jabal narrated that the Prophet (ﷺ) heard a man supplicating, saying: O Allah! Verily, I ask You for the bounty's completion (Allāhumma, innī as'aluka tamāman-ni`mah). So he (ﷺ) said: What thing is the bounty's completion? He said: A supplication that I made, that I hope for good by it. He (ﷺ) said: Indeed, part of the bounty's completion is the entrance into Paradise, and salvation from the Fire. And he (ﷺ) heard a man while he was saying: O Possessor of Majesty and Honor (Yā Dhal-Jalāli wal-Ikrām) So he (ﷺ) said: You have been responded to, so ask. And the Prophet (ﷺ) heard a man while he was saying: O Allah, indeed, I ask You for patience (Allāhumma, innī as'alukaṣ-ṣabr) He (ﷺ) said: You have asked Allah for trial, so ask him for Al-`Āfiyah.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دعا مانگتے ہوئے سنا وہ کہہ رہا تھا: «اللهم إني أسألك تمام النعمة» ”اے اللہ! میں تجھ سے نعمت تامہ مانگ رہا ہوں“، آپ نے اس شخص سے پوچھا: ”نعمت تامہ کیا چیز ہے؟“ اس شخص نے کہا: میں نے ایک دعا مانگی ہے اور مجھے امید ہے کہ مجھے اس سے خیر حاصل ہو گی، آپ نے فرمایا: ”بیشک نعمت تامہ میں جنت کا دخول اور جہنم سے نجات دونوں آتے ہیں“۔ آپ نے ایک اور آدمی کو ( بھی ) دعا مانگتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا: ” «يا ذا الجلال والإكرام» “، آپ نے فرمایا: ”تیری دعا قبول ہوئی تو مانگ لے ( جو تجھے مانگنا ہو ) “، آپ نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا، «اللهم إني أسألك الصبر» ”اے اللہ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں“، آپ نے فرمایا: ”تو نے اللہ سے بلا مانگی ہے اس لیے تو عافیت بھی مانگ لے“۔
`Amr bin Shu`aib narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When one of you becomes frightened during sleep, then let him say: ‘I seek refuge in Allah’s Perfect Words from His anger, His punishment, and the evil of His creatures, from the whisperings of the Shayatin, and that they should come (A`ūdhu bikalimātillāhit-tāmmati min ghaḍabihī wa `iqābihī wa sharri `ibādih, wa min hamazātish-shayāṭīni wa an yaḥḍurūn).’ For verily, they shall not harm him.” He said: “So `Abdullah bin `Amr used to teach it to those of his children who attained maturity, and those of them who did not, he would write it on a sheet and then hang it around his neck.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈر جائے تو ( یہ دعا ) پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل و جامع کلموں کے ذریعہ اللہ کے غضب، اللہ کے عذاب اور اللہ کے بندوں کے شر و فساد اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ ہمارے پاس آئیں““۔ ( یہ دعا پڑھنے سے ) یہ پریشان کن خواب اسے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ ( تاکہ وہ اسے یاد کر لیں، نہ کہ تعویذ کے طور پر ) عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما اپنے بالغ بچوں کو یہ دعا سکھا دیتے تھے، اور جو بچے نابالغ ہوتے تھے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Abu Rashid Al-Hubrani said: “I came to `Abdullah bin `Amr and said to him: ‘Report something to me that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ).’ So he set forth before me a scroll and said: ‘This is what the Messenger of Allah (ﷺ) wrote for me.’” He said: “So I looked in it and found in it: ‘Indeed, Abu Bakr As-Siddiq, may Allah be pleased with him, said: “O Messenger of Allah, teach me what to say at morning and afternoon.” He said: “O Abu Bakr, say: ‘O Allah, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, there is none worthy of worship except You, Lord of everything and its Owner, I seek refuge in You from the evil of my soul and from the evil of Shaitan and his Shirk, or that I should do some evil to myself or bring it upon a Muslim (Allāhumma fāṭiras-samāwāti wal-arḍi, `ālimal-ghaibi wash-shahādati, lā ilāha illā anta, rabba kulli shai’in wa malīkahu, a`ūdhu bika min sharri nafsī wa min sharrish-shaiṭāni wa sharakihi, wa an aqtarifa `alā nafsī sū’an, aw ajurrahu ilā muslim).’”
ابوراشد حبرانی کہتے ہیں کہ
میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کے پاس آیا اور ان سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں سن رکھی ہیں ان میں سے کوئی حدیث ہمیں سنائیے، تو انہوں نے ایک لکھا ہوا ورق ہمارے آگے بڑھا دیا، اور کہا: یہ وہ کاغذ ہے جسے رسول اللہ نے ہمیں لکھ کر دیا ہے ۱؎، جب میں نے اسے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں صبح اور شام میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! ( یہ دعا ) پڑھا کرو: «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة لا إله إلا أنت رب كل شيء ومليكه أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه وأن أقترف على نفسي سوءا أو أجره إلى مسلم» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، کھلی ہوئی اور پوشیدہ چیزوں کے جاننے والے، کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے تیرے، تو ہر چیز کا رب ( پالنے والا ) اور اس کا بادشاہ ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر اور اس کے جال اور پھندوں سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے آپ کے خلاف کوئی گناہ کر بیٹھوں، یا اس گناہ میں کسی مسلمان کو ملوث کر دوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔