Chapter on Supplication
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 49
Al-Agharr Abu Muslim narrated that he bears witness from Abu Sa’eed Al-Khudri and Abu Hurairah, that they bear witness that : the Prophet (ﷺ) said: “Whoever says: ‘There is none worthy of worship except Allah, and Allah is the Greatest, (Lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar)’ His Lord affirms his statement and says: ‘There is none worthy of worship except Me, and I am the Greatest,’ and when he say: ‘There is none worthy of worship except for Allah, Alone, (Lā ilāha illallāh, waḥdahu)’ Allah says: ‘There is none worthy of worship except for Me and I am Alone.’ And when he say: ‘There is none worthy of worship except for Allah, Alone, without partner, (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu)’ Allah says: ‘There is none worthy of worship except Me, Alone, I have no partner.’ And when he say: ‘There is none worthy of worship except for Allah, to Him belongs all that exists, and to Him is the praise, (Lā ilāha illallāh, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu)’ Allah says: ‘There is none worthy of worship except Me, to Me belongs all that exists, and to Me is the praise.’ And when he says: ‘There is none worthy of worship except Allah, and there is no might or power except by Allah, (Lā ilāha illallāh, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh)’ Allah says: ‘There is none worthy of worship except Me, and there is no might or power except by Me.’” And he used to say: “Whoever says it in his illness, then dies, the Fire shall not consume him.”
ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ
میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما نے گواہی دی کہ ان دونوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو «لا إله إلا الله والله أكبر» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“، کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے: ( ہاں ) میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب: «لا إله إلا الله وحده» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے“، کہتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کہتا ہے ( ہاں ) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں“، تو اللہ کہتا ہے، ( ہاں ) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک نہیں ہے، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا الله له الملك» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے“، تو اللہ کہتا ہے: کوئی معبود برحق نہیں مگر میں، میرے لیے ہی بادشاہت ہے اور میرے لیے ہی حمد ہے، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور گناہ سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے“، تو اللہ کہتا ہے: ( ہاں ) میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گناہوں سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی قوت نہیں ہے مگر میری توفیق سے، اور آپ فرماتے تھے: جو ان کلمات کو اپنی بیماری میں کہے، اور مر جائے تو آگ اسے نہ کھائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Umar narrated that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sees a person afflicted and say: ‘All praise is due to Allah Who saved me from that which He has afflicted you with, and blessed me greatly over many of those whom He has created, (Al-ḥamdulillāhi alladhī `āfānī mimmabtalāka bihī wa faḍḍalanī `alā kathīrin mimman khalaqa tafḍīla)’ then he shall be saved from that affliction for as long as he lives.”
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مصیبت میں گرفتار کسی شخص کو دیکھے اور کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا و مصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا، اور مجھے فضیلت دی، اپنی بہت سی مخلوقات پر“، تو وہ زندگی بھر ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رہے گا خواہ وہ کیسی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور عمرو بن دینار آل زبیر کے خزانچی ہیں اور بصریٰ شیخ ہیں اور حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں، اور یہ سالم بن عبداللہ بن عمر سے کئی احادیث کی روایت میں منفرد ہیں، ۳- ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب آدمی کسی کو مصیبت میں گرفتار دیکھے تو اس بلا سے آہستہ سے پناہ مانگے مصیبت زدہ شخص کو نہ سنائے، ۴- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sees an afflicted person then says: ‘All praise is due to Allah who saved me from that which He has afflicted you with, and blessed me greatly over many of those whom He has created, (Al-ḥamdulillāhi alladhī `āfānī mimmabtalāka bihī wa faḍḍalanī `alā kathīrin mimman khalaqa tafḍīla)’ he shall not be struck by that affliction.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی شخص کو مصیبت میں مبتلا دیکھے پھر کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» تو اسے یہ بلا نہ پہنچے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sits in a sitting and engages in much empty, meaningless speech and then says before getting from that sitting of his: ‘Glory is to You, O Allah, and praise, I bear witness that there is none worthy of worship except You, I seek You forgiveness, and I repent to You, (Subḥānaka Allāhumma wa biḥamdika, ashhadu an lā ilāha illā anta, astaghfiruka wa atūbu ilaik)’ whatever occurred in that sitting would be forgiven to him.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہو جائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ibn Umar said: “In one sitting of the Messenger of Allah (ﷺ), one could count that he said a hundred time, before he would get up: ‘O my Lord, forgive me, and accept my repentance. Verily, You are the Oft-Returning, the Most Forgiving (Rabbighfirlī watub `alayya innaka antat-Tawwābul-Ghafūr).’”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں مجلس سے اٹھنے سے پہلے سو سو مرتبہ: «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور» ”اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے اور بخشنے والا ہے“، گنا جاتا تھا۔ سفیان نے محمد بن سوقہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
bn Abbas narrated that : when he was in distress, the Prophet of Allah (ﷺ) would supplicate: “There is none worthy of worship except Allah, the Forbearing, the Wise, there is none worthy of worship except Allah, the Lord of the Magnificent Throne, there is none worthy of worship except Allah, the Lord of the heavens and the earth, and the Lord of the Noble Throne (Lā ilāha illallāh al-`aliyyul ḥalīm, lā ilāha illallāh, rabbul-`arshil-`aẓīm, lā ilāha illallāh, rabbus-samāwāti wal-arḍi wa rabbul-`arshil-karīm).”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «لا إله إلا الله الحليم الحكيم لا إله إلا الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله رب السموات والأرض ورب العرش الكريم» ”کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ بلند و بردبار کے، اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اس اللہ کے جو عرش عظیم کا رب ( مالک ) ہے اور کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اس اللہ کے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور قابل عزت عرش کا رب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے بیان کیا محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا ابن ابوعدی نے، اور انہوں نے ہشام سے، ہشام نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالعالیہ سے، اور ابوالعالیہ نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ روایت کے مثل روایت کی، ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Abu Hurairah narrated that: When a matter would worry the Prophet (ﷺ), he would raise his head up toward the sky and say: “Glory is to Allah, the Magnificent (Subḥān Allāhil-`Aẓīm).” And when he would strive in supplication; he would say: “O the Living, O Sustainer (Yā Ḥayyu yā Qayyūm).”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مشکل معاملے سے دوچار ہوتے تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے پھر کہتے: «سبحان الله العظيم» ”اللہ پاک و برتر ہے“ اور جب جی جان لگا کر دعا کرتے تو کہتے: «يا حي يا قيوم» ”اے زندہ ذات! اے کائنات کا نظام چلانے والے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب۔
Sa`d bin Abi Waqqas narrated: From Khawlah bint Al Hakim As-Sulamiyyah, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever stops at a stopping place and then says: ‘I seek refuge in Allah’s Perfect Words from the evil of what He has created, (A`ūdhu bi-kalimātillāhit-tāmmāti min sharri mā khalaq)’ nothing shall harm him until he departs from that stopping place of his.”
خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ”میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے“، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- مالک بن انس نے یہ حدیث اس طرح روایت کی کہ انہیں یہ حدیث یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے پہنچی ہے، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ ( یعنی: مالک نے یہ حدیث بلاغاً روایت کی ہے ) ۳- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے اور انہوں نے یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے روایت کی ہے، البتہ ان کی روایت میں «عن سعيد بن المسيب عن خولة» ہے، ۴- لیث کی حدیث ابن عجلان کی روایت کے مقابل میں زیادہ صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated: “When the Prophet (ﷺ) would travel, and he would mount his riding camel, he would gesture with his finger” – and Shu`bah stretched out his finger – “and say: ‘O Allah You are the companion on the journey, and the caretaker for the family, O Allah, accompany us with Your protection, and return us in security, O Allah, I seek refuge in You from the difficulties of the journey, and from returning in great sadness (Allāhumma antaṣ-ṣāḥibu fis safari wal-khalīfatu fil-ahli, Allāhumma aṣḥabnā bi nuṣḥika waqlibnā bi-dhimmah, Allāhummazwi lanal-arḍa wa hawwin `alainas-safar, Allāhumma innī a’ūdhu bika min wa`thā’is-safari wa ka’ābatil-munqalab).’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر نکلتے اور اپنی سواری پر سوار ہوتے تو اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا بنصحك واقلبنا بذمة اللهم ازو لنا الأرض وهون علينا السفر اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب» ”اے اللہ! تو ہی رفیق ہے سفر میں، اور تو ہی خلیفہ ہے گھر میں، ( میری عدم موجودگی میں میرے گھر کا دیکھ بھال کرنے والا، نائب ) اپنی ساری خیر خواہیوں کے ساتھ ہمارے ساتھ میں رہ، اور ہمیں اپنے ٹھکانے پر اپنی پناہ و حفاظت میں لوٹا ( واپس پہنچا ) ، اے اللہ! تو زمین کو ہمارے لیے سمیٹ دے اور سفر کو آسان کر دے، اے اللہ! میں سفر کی مشقتوں اور تکلیف سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور پناہ مانگتا ہوں ناکام و نامراد لوٹنے کے رنج و غم سے ( یا لوٹنے پر گھر کے بدلے ہوئے برے حال سے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں اسے نہیں جانتا تھا مگر ابن ابی عدی کی روایت سے یہاں تک کہ سوید نے مجھ سے یہ حدیث ( مندرجہ ذیل سند سے ) سوید بن نصر کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا عبداللہ بن مبارک نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۱؎، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شعبہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Abdullah bin Sarjis narrated that: When the Prophet (ﷺ) wanted to travel, he would say: “O Allah, You are the companion on the journey, and the caretaker for the family, O Allah, accompany us in our journey, and watch over our families, O Allah, I seek refuge in You from the difficulties of the journey, and from returning in great sadness, and from loss after increase, and from the supplication of the oppressed, and from someone looking with evil at our families and wealth (Allāhumma antaṣ-ṣāḥibu fis safari wal-khalīfatu fil-ahli, allāhumma aṣḥabnā fī safarinā wakhlufnā fī ahlinā. Allāhumma innī a’ūdhu bika min wa`thā’is-safari wa ka’ābatil-munqalab, wa minal-ḥawri ba`dal-kawni, wa min da`watil-maẓlūm, wa min sū’il-manẓari fil-ahli wal-māl).”
عبداللہ بن سرجس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو کہتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في أهلنا اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب ومن الحور بعد الكون ومن دعوة المظلوم ومن سوء المنظر في الأهل والمال» ”اے اللہ! تو ہمارے سفر کا ساتھی ہے، تو ہمارے پیچھے ہمارے اہل و عیال کا نائب و خلیفہ ہے، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ رہ ہمارے اس سفر میں تو ہمارا نائب و خلیفہ بن جا ہمارے گھر والوں میں، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی تکلیف و تھکان سے اور ناکام نامراد لوٹنے کے غم سے، اور مظلوم کی بد دعا سے اور مال اور اہل خانہ میں واقع شدہ کسی برے منظر سے ( بری صورت حال سے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «الحور بعد الكون» کی جگہ «الحور بعد الكور» بھی مروی ہے، اور «الحور بعد الكور» یا «الحور بعد الكون» دونوں کے معنی ایک ہی ہیں، کہتے ہیں: اس کا معنی یہ ہے کہ پناہ مانگتا ہوں ایمان سے کفر کی طرف لوٹنے سے یا طاعت سے معصیت کی طرف لوٹنے سے، مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد خیر سے شر کی طرف لوٹنا ہے۔
Ar-Rabi` bin Al-Bara’ bin `Azib reported from, his father: That whenever the Prophet (ﷺ) would return from a trip, he would say: “(We are) Returning, repenting, worshipping, and to our Lord directing the praise (Ā’ibūna tā’būna `ābidūna lirabbinā ḥāmidūn).”
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو یہ دعا پڑھتے: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ” ( ہم سلامتی کے ساتھ سفر سے ) واپس آنے والے ہیں، ہم ( اپنے رب کے حضور ) توبہ کرنے والے ہیں، ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، اور ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثوری نے یہ حدیث ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے براء سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس حدیث کی سند میں ربیع ابن براء کا ذکر نہیں کیا ہے، اور شعبہ کی روایت زیادہ صحیح و درست ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر، انس اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Anas narrated that: When the Prophet would return from a trip and see the walls of Al-Madinah, he would speed up his riding camel, and if he was upon a beast, he would agitate it, out of his love for Al-Madinah.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس لوٹتے اور مدینہ کی دیواریں دکھائی دینے لگتیں تو آپ اپنی اونٹنی ( سواری ) کو ( اپنے وطن ) مدینہ کی محبت میں تیز دوڑاتے ۱؎ اور اگر اپنی اونٹنی کے علاوہ کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے بھی تیز بھگاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Ibn Umar narrated, saying: “When the Prophet (ﷺ) would bid farewell to a man, he would take his hand, and not let it go until the man let go of the hand, of the Prophet, and he would say: ‘I entrust to Allah your religion, your trusts, and the last of your deeds (Astawdi`ullāha dīnaka wa amānataka wa ākhira `amalik).’”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑتے ۱؎ اور اس کا ہاتھ اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ شخص خود ہی آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا اور آپ کہتے: «استودع الله دينك وأمانتك وآخر عملك» ”میں تیرا دین، تیری امانت، ایمان اور تیری زندگی کا آخری عمل ( سب ) اللہ کی سپردگی و حوالگی میں دیتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما سے آئی ہے۔
Salim narrated that : when he intended to undertake a journey, Ibn `Umar used to say to a person to “Come close to me so that I may bid you farewell as the Messenger of Allah (ﷺ) used to bid us farewell.” Then he would say: “I entrust to Allah your religion, and your trusts, and the last of your deeds (Astawdi`ullāha dīnaka wa amānataka wa khawātīma `amalik).”
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ
جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ کرتا تو ابن عمر رضی الله عنہما اس سے کہتے: ”میرے قریب آؤ میں تمہیں اسی طرح سے الوداع کہوں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں الوداع کہتے اور رخصت کرتے تھے، آپ ہمیں رخصت کرتے وقت کہتے تھے: «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جو سالم بن عبداللہ رضی الله عنہما سے آئی ہے حسن صحیح غریب ہے۔
Anas said: “A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: ‘I intend to undertake a journey, so give me provision. He said: ‘May Allah grant you Taqwa as your provision (Zawwadak Allāhut-taqwā).’ He said: ‘Give me more.’ He said: ‘And may He forgive your sin (Wa ghafara dhanbak).’ He said: ‘Give me more, may my father be ransomed for you, and my mother.’ He said: ‘And may He make goodness easy for you wherever you are (Wa yassara lakal-khaira ḥaithu mā kunt).’”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں، تو آپ مجھے کوئی توشہ دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھے تقویٰ کا زاد سفر دے“، اس نے کہا: مزید اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے“، اس نے کہا: مزید کچھ اضافہ فرما دیجئیے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی تم رہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر ( بھلائی کے کام ) آسان کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] narrated that : a man said: “O Messenger of Allah (ﷺ), I intend to travel, so advise me.” He said, “Hold fast to the Taqwa of Allah, and (say the) Takbir upon every elevated place.” So when the man turned away he said: “O Allah make near for him the distance, and ease for him the journey (Allāhummaṭwi lahul-arḍa wa hawwin `alaihis-safar).”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں تو آپ مجھے کچھ وصیت فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں کہیں بھی اونچائی و بلندی پر چڑھو اللہ کی تکبیر پڑھو، ( اللہ اکبر کہتے رہو ) پھر جب آدمی پلٹ کر سفر پر نکلا تو آپ نے فرمایا: «اللهم اطو له الأرض وهون عليه السفر» ”اے اللہ! اس کے لیے مسافت کی دوری کو لپیٹ کر مختصر کر دے اور اس کے لیے سفر کو آسان بنا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Ali bin Rabi’ah said: “I witnessed Ali having an animal brought to him to ride. When he placed his foot in the stirrup he said: ‘In the Name of Allah,’ (Bismillāh) [three times]. So then, once he had ascended upon its back, he said: ‘All praise is due to Allah.’ (Al-ḥamdulillāh) then he said: Glory is to Him Who has subjected this to us, and we were not able to do it. And, surely, to our Lord are we returning (Subḥān alladhī sakh-khara lanā hādhā wa mā kunnā lahū muqrinīn. Wa innā ilā rabbinā lamunqalibūn). Then he said: ‘All praise is due to Allah (Al-ḥamdulillāh)’ – three times – and ‘Allah is the Greatest (Allāhu Akbar)’ – three times – ‘Glory is to You, indeed I have wronged myself, so forgive me, for indeed none forgives sins except You (Subḥānaka innī qad ẓalamtu nafsī faghfirlī fa-innahū lā yaghfirudh-dhunūba illā ant).’ Then he laughed. So I said: ‘O Commander of the Believer! What caused you to laugh?’ He said: ‘I saw the Messenger of Allah do as I did, then he (ﷺ) laughed, so I said, ‘What cause you to laugh?’ He said: ‘Indeed, your Lord is very pleased with His worshipper when he says: “O my Lord, forgive me my sins, indeed, no one other than You forgives sins.”
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ
میں علی رضی الله عنہ کے پاس موجود تھا، انہیں سواری کے لیے ایک چوپایہ دیا گیا، جب انہوں نے اپنا پیر رکاب میں ڈالا تو کہا: «بسم اللہ» ”میں اللہ کا نام لے کر سوار ہو رہا ہوں“ اور پھر جب پیٹھ پر جم کر بیٹھ گئے تو کہا: «الحمد للہ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، پھر آپ نے یہ آیت: «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے قابو میں کیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے جو اسے ناتھ پہنا سکتے، لگام دے سکتے، ہم اپنے رب کے پاس پلٹ کر جانے والے ہیں“، پڑھی، پھر تین بار «الحمد للہ» کہا، اور تین بار «اللہ اکبر» کہا، پھر یہ دعا پڑھی: «سبحانك إني قد ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ”پاک ہے تو اے اللہ! بیشک میں نے اپنی جان کے حق میں ظلم و زیادتی کی ہے تو مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی ظلم معاف کرنے والا نہیں ہے“، پھر علی رضی الله عنہ ہنسے، میں نے کہا: امیر المؤمنین کس بات پر آپ ہنسے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ویسا ہی کیا جیسا میں نے کیا ہے، پھر آپ ہنسے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا رب اپنے بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور ذات نہیں ہے جو گناہوں کو معاف کر سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Ibn `Umar narrated that: When the Prophet (ﷺ) wanted to travel, when he mounted his riding camel, he would say the Takbir three times and say: Glory is to Him Who has subjected this to us, and we were not able to do it. And, surely, to our Lord are we returning (Subḥān alladhī sakh-khara lanā hādhā wa mā kunnā lahū muqrinīn. Wa innā ilā rabbinā lamunqalibūn). Then he would say: “O Allah, I ask You in this journey of mine from the righteousness and piety and actions that which you are pleased with. O Allah, ease for us the path, and make near for us the distance of the land. O Allah, You are the companion in the journey, and the caretaker for the family. O Allah, accompany us in our journey, and take care of our families (Allāhumma innī as’aluka fī safarī hādhā minal-birri wat-taqwā, wa minal-`amali mā tarḍā. Allāhumma hawwin `alainal-masīra, waṭwi `annā bu`dal-arḍ. Allāhumma antaṣ-ṣāḥibu fis safari wal-khalīfatu fil-ahli. Allāhumma aṣḥabnā fī safarinā wakhlufnā fī ahlinā).” And when he would return to his family, he would say: “(We are) Returning, if Allah wills, repenting, worshipping, and to our Lord directing the praise (Ā’ibūna in shā’ Allāh, tā’ibūna `ābidūna lirabbinā hāmidūn).”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر فرماتے تو اپنی سواری پر چڑھتے اور تین بار «اللہ اکبر» کہتے۔ پھر یہ دعا پڑھتے: «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» ۱؎ اس کے بعد آپ یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك في سفري هذا من البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم ہوں علينا المسير واطو عنا بعد الأرض اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في أهلنا» ”اے اللہ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا طالب ہوں اور ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جس سے تو راضی ہو، اے اللہ تو اس سفر کو آسان کر دے، زمین کی دوری کو لپیٹ کر ہمارے لیے کم کر دے، اے اللہ تو سفر کا ساتھی ہے، اور گھر میں ( گھر والوں کی دیکھ بھال کے لیے ) میرا نائب و قائم مقام ہے، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ ہمارے سفر میں رہ، اور گھر والوں میں ہماری قائم مقامی فرما“، اور آپ جب گھر کی طرف پلٹتے تو کہتے تھے: «آيبون إن شاء الله تائبون عابدون لربنا حامدون» ”ہم لوٹنے والے ہیں اپنے گھر والوں میں ان شاءاللہ، توبہ کرنے والے ہیں، اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، حمد بیان کرنے والے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] narrated : that the Messenger of Allah said: “Three supplications are responded to: The supplication of the oppressed, the supplication of the traveler, and the supplication of the parent against his child.” Ali bin Hujr narrated to us (he said): Ismail bin Ibrahim reported to us from Hisham Ad-Dastawa’i, from Yahya bin Abu Kathir with this chain, narrating similar to it, but he added to it: “responded to, there is no doubt in them.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، اور باپ کی بد دعا اپنے بیٹے کے حق میں“۔
Aishah [may Allah be pleased with her] narrates, saying: “When the Prophet (ﷺ) would see the wind he would say: ‘O Allah, indeed, I ask You for its good, the good of what is in it, and the good of what it has been sent with. And I seek refuge in You from its evil, the evil of what is in it, and the evil of what it has been sent with (Allāhumma innī as’aluka min khairihā wa khairi mā fīhā, wa khairi mā ursilat bihī, wa a`ūdhu bika min sharrihā wa sharri mā fīhā, wa sharri mā ursilat bih).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہوا چلتی ہوئی دیکھتے تو کہتے: «اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں، اور جو خیر اس میں ہے وہ چاہتا ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو شر اس میں چھپا ہوا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابی بن کعب سے بھی روایت ہے اور یہ حدیث حسن ہے۔