Chapter on Supplication
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 49
Salim bin Abdullah bin Umar narrated : from his father, that when the Messenger of Allah (ﷺ) would hear the sound of thunder and lightning bolts, he would say: “O Allah, do not kill us with Your wrath, and do not destroy us with Your punishment, and pardon us before that (Allāhumma lā taqtulnā bi-ghaḍabika wa lā tuhliknā bi-`adhābika wa `āfinā qabla dhālik).”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بجلی کی گرج اور کڑک سنتے تو فرماتے: «اللهم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعافنا قبل ذلك» ”اے اللہ! تو اپنے غضب سے ہمیں نہ مار، اپنے عذاب کے ذریعہ ہمیں ہلاک نہ کر، اور ایسے برے وقت کے آنے سے پہلے ہمیں بخش دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Bilal bin Yahya bin Talhah bin `Ubaidullah narrated : from his father, from his grandfather Talhah bin `Ubaidullah that when the Prophet (ﷺ) would see a crescent moon, he would say: “O Allah, bring it over us with blessing and faith, and security and Islam. My Lord and your Lord is Allah (Allāhumma ahlilhu `alainā bil-yumni wal-Īmān, was-salāmati wal-Islām, rabbī wa rabbuk Allāh).”
طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھتے تھے تو کہتے تھے: «اللهم أهلله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله» ”اے اللہ! مبارک کر ہمیں یہ چاند، برکت اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، ( اے چاند! ) میرا اور تمہارا رب اللہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Mu`adh bin Jabal narrated : that one of the two men cursed the other next to the Prophet (ﷺ), until anger could be recognized in the face of one of them. So the Prophet (ﷺ) said: “Verily, I know a statement, that if he were to say it, his anger would leave: ‘I seek refuge in Allah from Shaitan, the rejected (A`ūdhu billāhi minash-shaiṭānir-rajīm).’”
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
دو آدمیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپس میں گالی گلوچ کیا ان میں سے ایک کے چہرے سے غصہ عیاں ہو رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اس کلمے کو کہہ لے تو اس کا غصہ کافور ہو جائے، وہ کلمہ یہ ہے: «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں راندے ہوئے شیطان سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں سلیمان بن سرد سے بھی روایت ہے، اور یہ حدیث مرسل ( منقطع ) ہے۔
Abu Sa’eed Al-Khudri narrated that: He heard the Prophet saying: “When one of you sees a dream that he likes, then it is from Allah, so let him praise Allah for it, and speak concerning what he saw. And when he sees other than that of what he dislikes, then it is from Shaitan, so let him seek refuge in Allah from its evil, and not mention it to anyone for, surely, it shall not harm him.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: تم میں سے جب کوئی اچھا اور پسندیدہ خواب دیکھے تو سمجھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور جو دیکھا ہوا سے لوگوں سے بیان کرے، اور جب خراب اور ناپسندیدہ چیزوں میں سے کوئی چیز دیکھے تو سمجھے کہ یہ شیطان کی جانب سے ہے پھر اللہ سے اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے، تو یہ چیز اسے کچھ نقصان نہ پہنچائے گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے، ۲- ابن الہاد کا نام یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد مدینی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ان سے امام مالک اور دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوقتادہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] narrates, saying: “When the people would see the first fruit, they would bring it to the Messenger of Allah (ﷺ). When the Messenger of Allah (ﷺ) would take it, he would say: ‘O Allah, bless for us our fruits, and bless for us our city, and bless for us our Sa` and our Mudd, O Allah, verily, Ibrahim is Your worshipper and Your friend and Your Prophet, and verily I am Your slave and Your Prophet, and indeed, he (i.e., Ibrahim AS) supplicated to You for Makkah, and I supplicate to You for Al-Madinah with the like of that with which he supplicated to You for Makkah, and the like of it with it.’ He said: Then he would call the smallest young child he saw and give him that fruit.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
لوگ جب کھجور کا پہلا پھل دیکھتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( توڑ کر ) لاتے، جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیتے تو فرماتے «اللهم بارك لنا في ثمارنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا ومدنا اللهم إن إبراهيم عبدك وخليلك ونبيك وإني عبدك ونبيك وإنه دعاك لمكة وأنا أدعوك للمدينة بمثل ما دعاك به لمكة ومثله» ”اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت دے، اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت دے، ہمارے صاع میں برکت دے، ہمارے مد میں برکت دے، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے ہیں، تیرے دوست ہیں تیرے نبی ہیں، اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، انہوں نے دعا کی تھی مکہ کے لیے میں تجھ سے دعا کرتا ہوں مدینہ کے لیے، اسی طرح کی دعا جس طرح کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے کی تھی، بلکہ اس کے دوگنا ( برکت دے ) “، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر آپ کو جو کوئی چھوٹا بچہ نظر آتا جاتا آپ اسے بلاتے اور یہ ( پہلا ) پھل اسے دے دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ibn Abbas narrated: “I entered with the Messenger of Allah (ﷺ), I and Khalid bin Al-Walid, upon Maimunah so she brought us a vessel of milk. The Messenger of Allah (ﷺ) drank from it. I was upon his right and Khalid was upon left, so he said to me: ‘The (turn to) drink is for you, so if you wish, you could choose to grant it to Khalid.’ So I said: ‘I would not prefer anyone (above myself) for your leftovers.’ Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever Allah feeds some food, then let him say: “O Allah, bless it for us, and feed us better than it, (Allāhumma bārik lanā fīhi wa aṭ`imnā khairan minhu)” and whomsoever Allah gives milk to drink, then let him say: “O Allah bless it for us, and grant us increase in it (Allāhumma bārik lanā fīhi wa zidnā minhu).” And the Messenger of Allah (ﷺ) said, ‘There is nothing that suffices in the place of food and drink except for milk.’”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں اور خالد بن ولید رضی الله عنہ ( دونوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، وہ ایک برتن لے کر ہم لوگوں کے پاس آئیں، اس برتن میں دودھ تھا میں آپ کے دائیں جانب بیٹھا ہوا تھا اور خالد آپ کے بائیں طرف تھے، آپ نے دودھ پیا پھر مجھ سے فرمایا: ”پینے کی باری تو تمہاری ہے، لیکن تم چاہو تو اپنا حق ( اپنی باری ) خالد بن ولید کو دے دو“، میں نے کہا: آپ کا جوٹھا پینے میں اپنے آپ پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ کھانا کھلائے، اسے کھا کر یہ دعا پڑھنی چاہیئے: «اللهم بارك لنا فيه وأطعمنا خيرا منه» ”اے اللہ! ہمیں اس میں برکت اور مزید اس سے اچھا کھلا“، اور جس کو اللہ دودھ پلائے اسے کہنا چاہیئے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» ”اے اللہ! ہمیں اس میں برکت اور مزید اس سے اچھا کھلا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کھانے اور پینے ( دونوں ) کی جگہ کھانے و پینے کی ضرورت پوری کر سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض محدثین نے یہ حدیث علی بن زید سے روایت کی ہے، اور انہوں نے عمر بن حرملہ کہا ہے۔ جب کہ بعض نے عمر بن حرملہ کہا ہے اور عمرو بن حرملہ کہنا صحیح نہیں ہے۔
Abu Umamah narrated that : when the table spread would be lifted from in front of him, the Messenger of Allah (ﷺ) would say: “All praise is due to Allah, abundant, good, blessed praise, without being left off, nor being without need of it, O our Lord (Al-ḥamdulillāhi ḥamdan kathīran ṭayyiban mubārakan fīhi, ghaira muwadda`in, wa lā mustaghnan `anhu rabbanā).”
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپ کہتے: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه غير مودع ولا مستغنى عنه ربنا» ”اللہ ہی کے لیے ہیں ساری تعریفیں، بہت زیادہ تعریفیں، پاکیزہ روزی ہے، بابرکت روزی ہے، یہ اللہ کی جانب سے ہماری آخری غذا نہ ہو اور اے ہمارے رب ہم اس سے کبھی بے نیاز نہ ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Sa`eed [may Allah be pleased with him] narrated that: When the Prophet (ﷺ) used to eat or drink, he would say: “All praise is due to Allah who fed us and gave us drink, and made us Muslims (Al-ḥamdulillāh, alladhī aṭ`amanā, wa saqānā, wa ja`alanā muslimīn).”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا پی چکتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ”سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا“۔
Sahl bin Mu`adh bin Anas narrated from his father that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever eats food and then says: ‘All praise is due to Allah who fed me this and granted it as provision to me, without any effort from me nor power, (Al-ḥamdulillāh, alladhī aṭ`amanī hādha wa razaqanīhi min ghairi ḥawlin minnī, wa lā quwwatin)’ his past sins shall be forgiven.”
معاذ بن انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھانا کھایا پھر کھانے سے فارغ ہو کر کہا: «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» ”تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں یہ کھانا کھلایا اور اسے ہمیں عطا کیا، میری طرف سے محنت مشقت اور جدوجہد اور قوت و طاقت کے استعمال کے بغیر، تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور ابو مرحوم کا نام عبدالرحیم بن میمون ہے۔
Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] narrated that: The Prophet said: “when you hear the crowing of the roosters, then ask Allah of His bounty, for verily they have seen an angel. When you hear the braying of a donkey, then seek refuge in Allah from Shaitan, [the rejected] for, verily, it has seen a Shaitan.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب اسے کوئی فرشتہ نظر آتا ہے، اور جب گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ اس وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abdullah bin Amr narrated that : the Messenger of Allah (ﷺ) said: “there is not anyone upon the earth who says: ‘None has the right to be worshipped but Allah, and Allah is the Greatest, and there is no might nor power except by Allah, (Lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh) except that his sins shall be pardoned, even if they were like the foam of the sea.”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر جو کوئی بھی بندہ: «لا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہے گا ”اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی کام کے کرنے کی کسی میں نہ کوئی طاقت ہے اور نہ ہی قوت“، اس کے ( چھوٹے چھوٹے ) گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ سمندر کی جھاگ کی طرح ( بہت زیادہ ) ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی طرح ابوبلج سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا، اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن ابی سلیم ہے اور انہیں یحییٰ بن سلیم بھی کہا جاتا ہے۔
Abu Musa Al-Ash`ari said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a military expedition. When we returned, we overlooked Al-Madinah, and the people were pronouncing the Takbir, and they raised their voices with it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Verily, your Lord is not deaf nor absent, [and] He is between you and between the heads of your mounts.’ Then he said: ‘O `Abdullah bin Qais, should I not inform you of a treasure from the treasures of Paradise: Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh (There is no might or power except by Allah).’”
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، جب ہم واپس پلٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے کہی، آپ نے فرمایا: ”تمہارا رب بہرا نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب ہے، وہ تمہارے درمیان اور تمہاری سواریوں کے درمیان موجود ہے، پھر آپ نے فرمایا: ”عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتا دوں؟ وہ: «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے، یعنی حرکت و قوت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعثمان النہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، ۳- اور ابونعامہ کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے، ۴- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «بينكم وبين رءوس رحالكم» سے مراد یہ ہے کہ اس کا علم اور قدرت ہر جگہ ہے۔
Ibn Mas`ud narrated that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “I met Ibrahim on the night of my ascent, so he said: ‘O Muhammad, recite Salam from me to your nation, and inform them that Paradise has pure soil and delicious water, and that it is a flat treeless plain, and that its seeds are: “Glory is to Allah (Subḥān Allāh) [and] all praise is due to Allah (Al-ḥamdulillāh) and ‘none has the right to be worshipped but Allah’ (Lā ilāha illallāh), and Allah is the greatest (Allāhu Akbar).”
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ”اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتا دینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی ( زرخیز ) ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے، اور وہ خالی پڑی ہوئی ہے ۱؎ اور اس کی باغبانی: «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» سے ہوتی ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت ہے اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Mus`ab bin Sa`d narrated from his father, that : the Messenger of Allah (ﷺ) said to those sitting with him: “Is one of you incapable of attaining a thousand good deeds?” So a questioner among those seated with him asked him: “How can one of us earn a thousand good deeds?” He said: “(When) one of you recites a hundred Tasbīḥāt a thousand good deeds are written for him, and a thousand evil deeds are wiped away from him.”
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم نشینوں سے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز و ناکام رہے گا کہ ایک دن میں ہزار نیکیاں کما لے؟“ آپ کے ہم نشینوں میں سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا: ہم میں سے کوئی کس طرح ہزار نیکیاں کمائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی سو مرتبہ تسبیح پڑھے گا ( یعنی سبحان اللہ ) تو اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور اس کی ہزار برائیاں مٹا دی جائیں گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jabir narrated that: The Prophet (ﷺ) said: “Whoever says: ‘Glory is to Allah, the Magnificent, and with His Praise (Subḥān Allāhil-Aẓīm, wa biḥamdih)’ a date-palm tree is planted for him in Paradise.”
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے: «سبحان الله العظيم وبحمده» کہا، اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اور ہم اسے صرف ابوالزبیر کی روایت سے جسے وہ جابر کے واسطے سے روایت کرتے ہیں جانتے ہیں۔
Jabir narrated that : The Prophet (ﷺ) said: “Whoever says: ‘Glory is to Allah, the Magnificent, and with His Praise (Subḥān Allāhil-Aẓīm, wa biḥamdih)’ a date-palm tree is planted for him in Paradise.”
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص: «سبحان الله العظيم وبحمده» کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever says: ‘Glory is to Allah, and with His Praise (Subḥān Allāh, wa biḥamdih)’ a hundred times, his sins are forgiven, even if they were like the foam of the sea.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سو بار: «سبحان الله وبحمده» کہے گا اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There are two statements that are light on the tongue, heavy on the Scale, and beloved to Ar-Raḥmān: “Glory is to Allah and the praise; Glory is to Allah, the Magnificent. (Subḥān Allāhi wa biḥamdih, Subḥān Allāhil-Aẓīm)”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں ( آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں ) مگر میزان میں بھاری ہیں ( تول میں وزنی ہیں ) رحمن کو پیارے ہیں ( وہ یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Abu Hurairah narrates that: The Mesenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever says: ‘There is none worthy of worship except Allah, Alone, without partner, to Him belongs all that exists and to Him belongs the praise, He gives life and causes death, and He is Powerful over all things, (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, yuḥyī wa yumītu, wa huwa `alā kulli shay’in qadīr)’ a hundred times in a day, it will be for him the equivalent of freeing ten slaves, and there shall be written for him a hundred good deeds, and a hundred bad deeds shall be wiped out for him, and it will be a protection for him from Shaitan on that day, until he reaches the evening. And none has brought better than it, except for one who has done more than that.” And with this chain, from the Prophet (ﷺ), that he said: “Whoever says: ‘Glory is to Allah, and with His Praise (Subḥān Allāh, wa biḥamdih)’ a hundred times, his sins are forgiven, even if they were more than the foam of the sea.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں سو بار کہا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» ۱؎، تو اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہو گا، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور یہ چیز اس کے لیے شام تک شیطان کے شر سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی، اور قیامت کے دن کوئی اس سے اچھا عمل لے کر نہ آئے گا سوائے اس شخص کے جس نے یہی عمل اس شخص سے زیادہ کیا ہو۔
Abu Hurairah narrated that: The Prophet (ﷺ) said: “Whoever says in the morning and in the evening ‘Glory is to Allah and with His Praise (Subḥān Allāh, wa biḥamdih)’ a hundred times, none shall bring better than him on the Day of Judgment except one who did the same as him, or increased upon it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح و شام میں سو ( سو ) مرتبہ: «سبحان الله وبحمده» کہے، قیامت کے دن کوئی شخص اس سے اچھا عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس شخص کے جس نے وہی کہا ہو جو اس نے کہا ہے یا اس سے بھی زیادہ اس نے یہ دعا پڑھی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔