Chapter on Supplication
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 49
Ibn `Umar narrated that one day, : The Messenger of Allah (ﷺ) said to his Companions: “Say ‘Glory is to Allah and with His Praise (Subḥān Allāh, wa biḥamdih)’ a hundred times. Whoever says [it] one time, it is written for him ten, and whoever says it ten (times), it is written for him a hundred, and whoever says it a hundred (times), it is written for him a thousand, and whoever increases, Allah will increase for him, and whoever seeks Allah’s forgiveness, [Allah] will forgive him.”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: «سبحان الله وبحمده» کہا کرو، جس نے یہ کلمہ ایک بار کہا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے دس بار کہا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے سو بار کہا اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جو زیادہ کہے گا اللہ اس کی نیکیوں میں بھی اضافہ فرما دے گا، اور جو اللہ سے بخشش چاہے گا اللہ اس کو بخش دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
`Amr bin Shu`aib narrated from his father, from his grandfather, that : The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever glorifies Allah a hundred times in the morning and a hundred in the night, he is like one who performs Hajj a hundred times. And whoever praises Allah a hundred times in the morning and a hundred in the night, he is like one who provides a hundred horses in the cause of Allah.” – or he said – “went out on a hundred military expeditions. And whoever pronounced At-Tahlil of Allah a hundred times in the night, he is like the one who freed a hundred slaves from the offspring of Isma`il, and whoever extols Allah’s greatness a hundred times in the day and a hundred in the night, none shall bring on that day, more than what he brought, except one who said similar to what he said, or increased upon it.”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سو بار صبح اور سو بار شام تسبیح پڑھی ( یعنی «سبحان الله» کہا ) تو وہ سو حج کیے ہوئے شخص کی طرح ہو جاتا ہے۔ اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام میں اللہ کی حمد بیان کی ( یعنی «الحمدللہ» کہا ) اس نے تو ان فی سبیل اللہ غازیوں کی سواریوں کے لیے سو گھوڑے فراہم کئے ( راوی کو شک ہو گیا یہ کہا یا یہ کہا ) تو ان اس نے سو جہاد کئے، اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام کو اللہ کی تہلیل بیان کی ( یعنی «لا إلہ الا اللہ» ) کہا تو وہ ایسا ہو جائے گا تو ان اس نے اولاد اسماعیل میں سے سو غلام آزاد کئے اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام کو «اللہ اکبر» کہا تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے زیادہ نیک عمل لے کر حاضر نہ ہو گا، سوائے اس کے جس نے اس سے زیادہ کہا ہو گا یا اس کے برابر کہا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Az-Zuhri said: “A Tasbihah in Ramadan is better than a thousand Tasbihah in other that it.”
زہری کہتے ہیں کہ
رمضان میں ایک بار سبحان اللہ کہنا غیر رمضان میں ہزار بار سبحان اللہ کہنے سے زیادہ بہتر ہے۔
Tamim Ad-Dari narrated that: The Messsenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever says ten times: ‘I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah. Alone, without partner, One Deity, the One, As-Samad, He did not take a wife, nor a child, nor is there anyone like Him, (Ash-hadu an lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, ilahan wahidan, aḥadan ṣamadan lam yattakhidh ṣāḥibatan wa lā waladan wa lam yakun lahu kufuwan aḥad)’ Allah will write for him forty million good deeds.”
تمیم الداری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دس مرتبہ ( یہ دعا ) «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له إلها واحدا أحدا صمدا لم يتخذ صاحبة ولا ولدا ولم يكن له كفوا أحد» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، وہ تنہا اکیلا معبود ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ اپنا کوئی شریک حیات بنایا اور نہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کے برابر ہے“، پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے چار کروڑ نیکیاں لکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- خلیل بن مرہ محدثین کے یہاں قوی نہیں ہیں اور محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
Abu Dharr narrated that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever says at the end of every Fajr prayer, while his feet are still folded, before speaking: ‘None has the right to be worshipped but Allah, Alone without partner, to Him belongs all that exists, and to Him is the praise, He gives life and causes death, and He is powerful over all things, (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, yuḥyī wa yumītu, wa huwa `alā kulli shay’in qadīr)’ ten times, then ten good deeds shall be written for him, ten evil deeds shall be wiped away from him, ten degrees shall be raised up for him, and he shall be in security all that day from every disliked thing, and he shall be in protection from Shaitan, and no sin will meet him or destroy him that day, except for associating partners with Allah.”
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز فجر کے بعد جب کہ وہ پیر موڑے ( دو زانوں ) بیٹھا ہوا ہو اور کوئی بات بھی نہ کی ہو: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء» دس مرتبہ پڑھے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے لیے دس درجے بلند کئے جائیں گے اور وہ اس دن پورے دن بھر ہر طرح کی مکروہ و ناپسندیدہ چیز سے محفوظ رہے گا، اور شیطان کے زیر اثر نہ آ پانے کے لیے اس کی نگہبانی کی جائے گی، اور کوئی گناہ اسے اس دن سوائے شرک باللہ کے ہلاکت سے دوچار نہ کر سکے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
`Abdullah bin Buraidah Al Aslami narrated from his father, who said: “The Prophet (ﷺ) heard a man supplicating, and he was saying: ‘O Allah, indeed, I ask you by my testifying that You are Allah, there is none worthy of worship except You, the One, As-Samad, the one who does not beget, nor was begotten, and there is none who is like Him (Allāhumma innī as’aluka bi annī ashhadu annaka antallāh, lā ilāha illā ant, al-aḥaduṣ-ṣamad, alladhī lam yalid wa lam yūlad, wa lam yakun lahu kufuwan aḥad).” He said: “So he said: ‘By the One in Whose Hand is my soul, he has asked Allah by His Greatest Name, the one which if He is called upon by it, He responds, and when He is asked by it, He gives.’”(One of the narrators) Zaid said: “So I mentioned it to Zuhair bin Mu`awiyah years after that, and he said: Abu Ishaq reported to me from Malik bin Mighwal.’” Zaid said: “Then I mentioned it to Sufyan, so he reported it to me from Malik.”
بریدہ اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ان کلمات کے ساتھ: «اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں بایں طور کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اس بات پر کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا ( معبود ) ہے تو بے نیاز ہے، ( تو کسی کا محتاج نہیں تیرے سب محتاج ہیں ) ، ( تو ایسا بے نیاز ہے ) جس نے نہ کسی کو جنا ہے اور نہ ہی کسی نے اسے جنا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہوا ہے“، دعا کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی گئی ہے اس نے وہ دعا قبول کی ہے، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی گئی ہے اس نے دی ہے“۔ زید ( راوی ) کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث کئی برسوں بعد زہیر بن معاویہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے یہ حدیث ابواسحاق نے مالک بن مغول کے واسطہ سے بیان کی ہے۔ زید کہتے ہیں: پھر میں نے یہ حدیث سفیان ثوری سے ذکر کی تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث مالک کے واسطے سے بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شریک نے یہ حدیث ابواسحاق سے، ابواسحاق نے ابن بریدہ سے، ابن بریدہ نے اپنے والد ( بریدہ رضی الله عنہ ) سے روایت کی ہے، حالانکہ ابواسحاق ہمدانی نے یہ حدیث مالک بن مغول سے روایت کی ہے۔
Fadalah bin `Ubaid narrated: “While the Messenger of Allah (ﷺ) was seated, a man entered and performed Salat, and he said: ‘O Allah, forgive me, and have mercy upon me.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘You have rushed, O praying person. When you perform Salat and then sit, then praise Allah with what He is deserving of, and send Salat upon me, then call upon Him.’” He said: “Then another man performed Salat after that, so he praised Allah and sent Salat upon the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) said to him: ‘O praying person! Supplicate, and you shall be answered.’”
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ ( مسجد میں ) تشریف فرما تھے، اس وقت ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی، اور یہ دعا کی: اے اللہ! میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم فرما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! تو نے جلدی کی، جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو اللہ کے شایان شان اس کی حمد بیان کر اور پھر مجھ پر صلاۃ ( درود ) بھیج، پھر اللہ سے دعا کر“، کہتے ہیں: اس کے بعد پھر ایک اور شخص نے نماز پڑھی، اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! دعا کر، تیری دعا قبول کی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو حیوہ بن شریح نے ابوہانی خولانی سے روایت کی ہے۔
`Amr bin Malik Al-Janbi narrated that he heard Fadalah bin `Ubaid saying: “The Prophet (ﷺ) heard a man supplicating in his Salat but he did not send Salat upon the Prophet (ﷺ), so the Prophet (ﷺ) said: ‘This one has rushed.’ Then he called him and said to him, or to someone other than him: ‘When one of you performs Salat, then let him begin by expressing gratitude to Allah and praising Him. Then, let him send Salat upon the Prophet (ﷺ), then let him supplicate after that, whatever he wishes.’”
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز کے اندر ۱؎ دعا کرتے ہوئے سنا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے جلدی کی“، پھر آپ نے اسے بلایا، اور اس سے اور اس کے علاوہ دوسروں کو خطاب کر کے فرمایا، ”جب تم میں سے کوئی بھی نماز پڑھ چکے ۲؎ تو اسے چاہیئے کہ وہ پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) بھیجے، پھر اس کے بعد وہ جو چاہے دعا مانگے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Asma bint Yazid narrated that the Prophet (ﷺ) said: “Allah's greatest name is in these two Ayah: ‘And your deity is One deity, there is none who has the right to be worshipped but He, Ar-Raḥmān, Ar-Raḥīm.’ And the Opening of Al-`Imrān: ‘Alif. Lām. Mīm. Allah, None has the right to be worshipped but He, the Ever living, the Sustainer.’”
اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے ( ایک آیت ) «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ”تم سب کا معبود ایک ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ رحمن، رحیم ہے“ ( البقرہ: ۱۶۳ ) ، اور ( دوسری آیت ) آل عمران کی شروع کی آیت «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ہے ” «الم»، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو «حی» زندہ اور «قیوم» سب کا نگہبان ہے“ ( آل عمران: ۱-۲ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Call upon Allah while being certain of being answered, and know that Allah does not respond to a supplication from the heart of one heedless and occupied by play.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی، اور ( اچھی طرح ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہی اور بے توجہی سے مانگی ہوئی غفلت اور لہو و لعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میں نے عباس عنبری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عبداللہ بن معاویہ جمحی کی بیان کردہ روایتیں لکھ لو کیونکہ وہ ثقہ راوی ہیں۔
Aishah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: “O Allah, grant me health in my body, and grant me health in my sight, and make it the inheritor from me, there is none has the right to be worshipped but Allah, the Forbearing, the Generous, Glory is to Allah, the Lord of the Magnificent Throne, and all praise is due to Allah, the Lord of all that exists (Allāhumma `āfinī fī jasadi, wa `āfinī fī baṣarī, waj`alhul-wāritha minnī, lā ilāha illāllah, al-ḥalīmul-karīm, subḥān Allāhi rabbil-`arshil-aẓīm, wal-ḥamdulillāhi rabbil-`alamīn).”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم عافني في جسدي وعافني في بصري واجعله الوارث مني لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم والحمد لله رب العالمين» ”اے اللہ! تو مجھے میرے جسم میں عافیت عطا کر ( یعنی مجھے صحت دے ) اور مجھے عافیت دے میری نگاہوں میں ( یعنی میری بینائی صحیح سالم رکھ ) اور اسے ( یعنی میری نگاہ کو ) آخری وقت تک ( یعنی بصارت کو باقی و قائم رکھ چاہے اور کسی چیز میں اضم حلال اور زوال آ جائے تو آ جائے ) کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے جو حلیم اور کریم ہے، پاک ہے اللہ عرش عظیم والا اور تمام تعریفیں اس اللہ کے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ حبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے کچھ بھی نہیں سنا ہے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
Abu Hurairah narrated that: Fatimah came to the Prophet (ﷺ), asking him for a servant. So he (ﷺ) said to her: “Say: ‘O Allah, Lord of the Seven Heavens and the Lord of the Magnificent Throne, our Lord, and the Lord of everything, Revealer of the Tawrah, the Injil, and the Quran, Splitter of the seed-grain and the date-stone, I seek refuge in You from the evil of everything that You are holding by the forelock, You are the First, for there is nothing above You, and You are the Last, for there is nothing after you. And you are az-Zahir, for there is nothing above you. And you are Al-Batin, for there is nothing below You. Relieve me from debt, and enrich me from poverty (Allāhumma rabbas samāwātis-sab`i wa rabbal-`arshil-`aẓīm, rabbana, wa rabba kulli shai’in, munzilat-Tawrāti wal-Injīli wal-Qur’ān, fāliqal-habbi wan-nawā, a`ūdhu bika min sharri kulli shai’in anta ākhidhun bināṣiyatihi, antal-awwalu falaisa qablaka shai’un, wa antal-ākhiru falaisa ba`daka shai’un, wa antaẓ-ẓāhiru falaisa fawqaka shai’un, wa antal-bāṭinu falaisa dūnaka shai’un, iqḍi `anni-daina wa aghnini minal-faqr).”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
فاطمہ ( بنت رسول ) رضی الله عنہا آپ کے پاس ایک خادم مانگنے آئیں، آپ نے ان سے کہا: تم یہ دعا پڑھتی رہو: «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن فالق الحب والنوى أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب، عرش عظیم کا رب، اے ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب، توراۃ، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے، زمین پھاڑ کر دانے اگانے اور اکھوے نکالنے والے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر چیز کے شر سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تو پہلا ہے ( شروع سے ہے ) تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر ( یعنی اوپر ہے ) ، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو پوشیدہ ہے سب کی نظروں سے، لیکن تم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، اے اللہ! تو میرے اوپر سے قرض اتار دے، اور مجھے محتاجی سے نکال کر مالدار کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اور اعمش کے بعض شاگردوں نے اعمش سے ایسے ہی روایت کی ہے، ۲- ایسے ہی بعض راویوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، اور انہوں نے اپنی روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
`Abdullah bin `Amr narrated that: The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: “O Allah, I seek refuge in You from a heart that does not humble itself, and from a supplication that is not heard, and from a soul that is never satisfied, and from knowledge that does not benefit, I seek refuge in You from these four (Allāhumma innī a`ūdhu bika min qalbin lā yakhsha`u, wa min du`ā’in lā yusma`u, wa min nafsin lā tashba`u, wa min `ilmin lā yanfa`u, a`ūdhu bika min hā’ula’il-arba`).”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ( یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو ) ، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ( یعنی ) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Imran bin Husain narrated: “The Prophet (ﷺ) said to my father: ‘O Husain, how many deities do you worship now?‘ He said: ‘Seven. Six in the earth, and one above the heavens.’ He said: ‘So which of them do you take for your ardent requests and fears?’ He said: ‘The one above the heavens.’ He said: ‘O Husain, if you would but accept Islam, I would teach you two phrases that would benefit you.’” He said: “So when Husain accepted Islam, he said: ‘O Messenger of Allah, teach me the two phrases you promised me.’ So he (ﷺ) said: “Say: O Allah, inspire me with my guidance, and protect me from the evil of my soul (Allāhumma alhimnī rushdī, wa a`idhnī min sharri nafsī).’”
عمران بن حصین کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ سے پوچھا: ”اے حصین! آج کل تم کتنے معبودوں کو پوجتے ہو؟“ میرے باپ نے جواب دیا سات کو چھ زمین میں ( رہتے ہیں ) اور ایک آسمان میں، آپ نے پوچھا: ”ان میں سے کس کی سب سے زیادہ رغبت دلچسپی، امید اور خوف و ڈر کے ساتھ عبادت کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اس کی جو آسمان میں ہے، آپ نے فرمایا: ”اے حصین! سنو، اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھا دیتا وہ دونوں تمہیں برابر نفع پہنچاتے رہتے“، پھر جب حصین اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دونوں کلمے سکھا دیجئیے جنہیں سکھانے کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: ”کہو «اللهم ألهمني رشدي وأعذني من شر نفسي» ”اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث عمران بن حصین سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے۔
Anas bin Mallik [may Allah be pleased with him] narrates, saying: “I used to often hear the Prophet (ﷺ) supplicating with these words: ‘O Allah, I seek refuge in You from sadness, grief, helplessness, laziness, being stingy, overwhelming debt, and the overpowering of men (Allāhumma innī a`ūdhu bika minal-hammi wal-ḥazani wal-`ajzi wal-kasali wal-bukhli wa ḍala`id-dain wa ghalabatir-rijāl).’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر و بیشتر ان الفاظ سے دعا مانگتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکرو غم سے، عاجزی سے اور کاہلی سے اور بخیلی سے اور قرض کے غلبہ سے اور لوگوں کے قہر و ظلم و زیادتی سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Anas narrated that : The Prophet (ﷺ) used to supplicate, saying: “O Allah, indeed, I seek refuge in You from laziness, weakness of old age, cowardice, stinginess, the trial of Al-Masih, and the punishment of the grave (Allāhumma innī a`ūdhu bika minal-kasali wal-harami wal-jubni wal-bukhli wa fitnatil-masīḥi wa `adhabil-qabr).”
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والجبن والبخل وفتنة المسيح وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی و کاہلی سے، اور انتہائی بڑھاپے سے ( جس میں آدمی ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے ) بزدلی و بخالت سے اور مسیح ( دجال ) کے فتنہ سے اور عذاب قبر سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abdullah bin Amr narrated: “I saw the Prophet counting the Tasbih on his hand.”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح کا شمار اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، یعنی اعمش کی روایت سے جسے وہ عطاء بن سائب سے روایت کرتے ہیں، ۲- شعبہ اور ثوری نے یہ پوری حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے، ۲- اس باب میں یسیرہ بنت یاسر رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! تم تسبیحات کا شمار انگلیوں کے پوروں سے کر لیا کرو، کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کی جائے گی“۔
Anas bin Malik narrated that: The Prophet (ﷺ) visited a man who was so emaciated that he had become like a baby bird. He (ﷺ) said to him: “And did you not used to supplicate? Did you not used to ask Your Lord for sound health?” He said: “I used to say: “O Allah, whatever You are going to punish me with in the Hereafter, then hasten it for me in this world.” So the Prophet (ﷺ) said: “Glory is to Allah, you are not capable of that” – or – “you are not able to stand that. Would you not say: ‘O Allah, give us good in this world, and good in the Hereafter, and spare us the punishment of the Fire (Allāhumma ātinā fid-dunyā ḥasanatan wa fil ākhirati ḥasanatan wa qinā `adhāban-nār).’”
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سخت لاغر اور سوکھ کر چڑیا کے بچے کی طرح ہو گئے تھے عیادت کی، آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! پاک ہے اللہ کی ذات، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے: «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ”اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی، اچھائی و بھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ، نیکی بھلائی و اچھائی دے، اور بچا لے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے“ ( البقرہ: ۲۰۱ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس بن مالک کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر کئی اور سندوں سے بھی آئی ہے۔
Hisham bin Hassan narrated from Al-Hasan : concerning the saying of Allah: O our Lord, give us good in this world, and good in the Hereafter. He said: “Knowledge and worship in this world, and Paradise in the Hereafter.”
اللہ تعالیٰ کی اس آیت: «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة» کے بارے میں حسن سے مروی ہے، دنیا میں «حسنہ» سے مراد علم اور عبادت ہے، اور آخرت میں «حسنہ» سے مراد جنت ہے۔
`Abdullah narrated that : the Prophet (ﷺ) used to supplicate: “O Allah, indeed, I ask You for guidance, piety, chastity, and sufficiency (Allāhumma innī as’alukal-hudā wat-tuqā, wal-`afāfa wal-ghinā).”
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔