Chapter on Supplication
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 49
`Abdullah said: “When he reached the evening, the Prophet (ﷺ) used to say, ‘We have reached the evening, and the Dominion has reached the evening, while belonging to Allah. And all praise belongs to Allah. None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner. (Amsaina wa amsal-mulku lillāh, wal-ḥamdullilāh, wa lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu)’ – I think he said [in it]: - ‘To Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He is capable of all things. I ask You for the good that is in this night, and the good of what is after it, and I seek refuge in You from the evil of this night, and the evil of what is after it, and I seek refuge in You from laziness and helpless old age. And I seek refuge in You from the punishment of the Fire and the punishment of the grave (Lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Asa'luka khaira mā fī hādhihil-lailah, wa khaira mā ba`dahā, wa a`ūdhu bika min sharri hādhihil-lailati wa sharri mā ba`dahā, wa a`ūdhu bika minal-kasali wa sū'il-kibar, wa a`ūdhu bika min `adhābin-nāri wa `adhābil-qabr).’ And when he reached the morning, he (ﷺ) used to say, ‘We have reached the morning, and the Dominion has reached the morning, while belonging to Allah. And all praise belongs to Allah (Aṣbaḥnā wa aṣbaḥal-mulku lillāh, wal-ḥamdulillāh).’”
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب شام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له أراه قال فيها له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها وأعوذ بك من الكسل وسوء الكبر وأعوذ بك من عذاب النار وعذاب القبر» ”ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی نے شام کی اللہ کے حکم سے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس رات میں جو خیر ہے، اس کا میں طالب ہوں، اور رات کے بعد کی بھی جو بھلائی ہے اس کا بھی میں خواہاں ہوں، اور اس رات کی برائی اور رات کے بعد کی بھی برائی سے میں پناہ مانگتا ہوں، اور پناہ مانگتا ہوں میں سستی اور کاہلی سے، اور پناہ مانگتا ہوں بوڑھا پے کی تکلیف سے، اور پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے“، اور جب صبح ہوتی تو اس وقت بھی یہی دعا پڑھتے، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ «أمسينا» کی جگہ «أصبحنا» اور «أمسى» کی جگہ «أصبح» کہتے «وأصبح الملك لله والحمد لله» ”صبح کی ہم نے، اور صبح کی ساری بادشاہی نے، اور ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، شعبہ نے یہ حدیث اسی سند سے ابن مسعود سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
Abu Hurairah (ra) said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach his Companions, saying: “When one of you reached the morning, then let him say: ‘O Allah, by You we enter the morning, and by You we enter the evening, and be You we live, and by You we died, and to You is the Return (Allāhumma bika aṣbaḥnā wa bika amsainā wa bika naḥyā wa bika namūtu wa ilaikal-maṣīr). And when he reaches the evening let him say: ‘O Allah, by You we enter the evening, and by You we enter the morning, and by You we live, and by You we die, and to You is the Resurrection (Allāhumma bika amsainā wa bika aṣbaḥnā wa bika naḥyā wa bika namūtu wa ilaikan-nushūr).’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو سکھاتے ہوئے کہتے تھے کہ جب تمہاری صبح ہو تو کہو «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك المصير» ”اے اللہ! تیرے حکم سے ہم نے صبح کی اور تیرے ہی حکم سے ہم نے شام کی، تیرے حکم سے ہم زندہ ہیں اور تیرے ہی حکم سے ہم مریں گے“، اور آپ نے اپنے صحابہ کو سکھایا جب تم میں سے کسی کی شام ہو تو اسے چاہیئے کہ کہے «اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» ”ہم نے تیرے ہی حکم سے شام کی اور تیرے ہی حکم سے صبح کی تھی، تیرے ہی حکم سے ہم زندہ ہیں اور تیرا جب حکم ہو گا، ہم مر جائیں گے اور تیری ہی طرف ہمیں اٹھ کر جانا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, said: “Abu Bakr said: ‘O Messenger of Allah, command me with something that I may say when I reach morning and evening.’ He said: ‘Say: “O Allah Knower of the Unseen and the Seen, Originator of the heavens and the earth, Lord of everything and its Possessor, I bear witness that there is none worthy of worship except You, I seek refuge from You from the evil of my soul and from the evil of Shaitan and his Shirk (Allāhumma `ālimal-ghaibi wash-shahādati fāṭiras-samāwāti wal-arḍ, rabba kulli shai’in wa malīkahu, ash-hadu an lā ilāha illā anta, a`ūdhu bika min sharri nafsī wa min sharrish-shaiṭāni washirkihi).’” He said: ‘Say it when you reach morning, and evening, and when you go to bed.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ابوبکر رضی الله عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئیے جسے میں صبح و شام میں پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: ”کہہ لیا کرو: «اللهم عالم الغيب والشهادة فاطر السموات والأرض رب كل شيء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه» ”اے اللہ! غائب و حاضر، موجود اور غیر موجود کے جاننے والے، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں شیطان کے شر اور اس کی دعوت شرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، آپ نے فرمایا: ”یہ دعا صبح و شام اور جب اپنی خواب گاہ میں سونے چلو پڑھ لیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Shaddad bin Aws narrated that: The Prophet (ﷺ) said to him: “Should I not direct you to the chief of supplications for forgiveness? ‘O Allah, You are my Lord, there is none worthy of worship except You, You created me and I am Your slave. I am adhering to Your covenant and Your promise as much as I am able to, I seek refuge in You from the evil of what I have done. I admit to You your blessings upon me, and I admit to my sins. So forgive me, for there is none who can forgive sins except You (Allāhumma anta rabbī lā ilāha illā anta, khalaqtanī wa ana `abduka, wa ana `alā `ahdika wa wa`dika ma-staṭa`tu. A`ūdhu bika min sharri ma ṣana`tu, wa abū'u ilayka bini`matika `alayya wa a`tarifu bidhunūbī faghfirlī dhunūbī innahu lā yaghfirudh-dhunūba illā ant).’ None of you says it when he reaches the evening, and a decree comes upon him before he reaches morning, except that Paradise becomes obligatory upon him. And none says it when he reaches the morning, and a decree comes upon him before he reaches evening, except that Paradise becomes obligatory for him.”
شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں «سيد الاستغفار» ( طلب مغفرت کی دعاؤں میں سب سے اہم دعا ) نہ بتاؤں؟ ( وہ یہ ہے ) : «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت وأبوء لك بنعمتك علي وأعترف بذنوبي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ”اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں، میں اپنی استطاعت بھر تجھ سے کیے ہوئے وعدہ و اقرار پر قائم ہوں، اور میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے کئے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں تو نے مجھے جو نعمتیں دی ہیں، ان کا اقرار اور اعتراف کرتا ہوں، میں اپنے گناہوں کو تسلیم کرتا ہوں تو میرے گناہوں کو معاف کر دے، کیونکہ گناہ تو بس تو ہی معاف کر سکتا ہے“، شداد کہتے ہیں: آپ نے فرمایا: ”یہ دعا تم میں سے کوئی بھی شام کو پڑھتا ہے اور صبح ہونے سے پہلے ہی اس پر «قدر» ( موت ) آ جاتی ہے تو جنت اس کے لیے واجب ہو جاتی ہے، اور کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو اس دعا کو صبح کے وقت پڑھے اور شام ہونے سے پہلے اسے «قدر» ( موت ) آ جائے مگر یہ کہ جنت اس پر واجب ہو جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے شداد بن اوس رضی الله عنہ کے واسطہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عمر، ابن مسعود، ابن ابزی اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Al-Bara' bin `Azib narrated that: The Prophet (ﷺ) said to him: “Should I not teach you some words to say when you go to your bed, so if you died, you will die upon the Fitrah, and if you reach the morning, you will reach it in good? You say: ‘O Allah, verily, I submit myself to You, and I turn my face to You, and I entrust my affair to You, hoping in You and fearing in You. And I lay myself down depending upon You, there is no refuge [nor escape] from You except to You. I believe in Your Book which You have revealed, and in Your Prophet whom You have sent (Allāhumma innī aslamtu nafsī ilaika wa wajjahtu wajhī ilaika, wa fawwaḍtu amrī ilaika, raghbatan wa rahbatan ilaika wa alja'tu ẓahrī ilaika, lā malja'a [wa lā manjā] minka illā ilaik. Āmantu bikitābikal-ladhī anzalta wa binabiyyikal-ladhī arsalt).’” Al-Bara' said: “So I said: ‘And in Your Messenger whom you have sent.’” He said: “So he (ﷺ) struck his hand upon my chest, then said: “And in Your Prophet whom You have sent. (Wa binabiyyikal-ladhī arsalt).”
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں ایسے کچھ کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جانے لگو تو کہہ لیا کرو، اگر تم اسی رات میں مر جاؤ تو فطرت پر ( یعنی اسلام پر ) مرو گے اور اگر تم نے صبح کی تو صبح کی، خیر ( اجر و ثواب ) حاصل کر کے، تم کہو: «اللهم إني أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك وألجأت ظهري إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے حوالے کر دی، میں اپنا رخ تیری طرف کر کے پوری طرح متوجہ ہو گیا، میں نے اپنا معاملہ تیری سپردگی میں دے دیا، تجھ سے امیدیں وابستہ کر کے اور تیرا خوف دل میں بسا کر، میری پیٹھ تیرے حوالے، تیرے سوا نہ میرے لیے کوئی جائے پناہ ہے اور نہ ہی تجھ سے بچ کر تیرے سوا کوئی ٹھکانا میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے، میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے“۔ براء کہتے ہیں: میں نے «نبيك الذي أرسلت» کی جگہ «برسولك الذي أرسلت» کہہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنے ہاتھ سے کونچا، پھر فرمایا: «ونبيك الذي أرسلت» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث براء رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اس حدیث کو منصور بن معتمر نے سعد بن عبیدہ سے اور سعد نے براء کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، البتہ ان کی روایت میں اتنا فرق ہے کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ اور تم وضو سے ہو تو یہ دعا پڑھا کرو، ۴- اس باب میں رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Rafi` bin Khadij narrated that: The Prophet said: “When one of you lies down on his right side, then says: ‘O Allah, I have submitted myself to You, and I have turned my face to You, and I lay myself down relying upon You, and I have entrusted my affair to You, there is no refuge [nor escape] from You except to You. I believe in Your Book and Your Messengers (Allāhumma innī aslamtu nafsī ilaika wa wajjahtu wajhī ilaika, wa alja’tu ẓahrī ilaika, wa fawwaḍtu amrī ilaika, lā malja'a [wa lā manjā] minka illā ilaik, ūminu bikitābika wa birusulika)’ – then if he dies that night, he shall enter Paradise.”
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی داہنی کروٹ لیٹے پھر پڑھے: «اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك أومن بكتابك وبرسولك» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی، میں نے اپنا منہ ( اوروں کی طرف سے پھیر کر ) تیری طرف کر دیا، میں نے اپنی پیٹھ تیری طرف ٹیک دی، میں نے اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، تجھ سے بچ کر تیرے سوا اور کوئی جائے پناہ و جائے نجات نہیں ہے، میں تیری کتاب اور تیرے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں“، پھر اسی رات میں مر جائے، تو وہ جنت میں جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث رافع بن خدیج رضی الله عنہ کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Anas bin Malik (ra) narrated that : when he went to his bed, the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: “All praise is due to Allah, who has fed us and given us to drink, and has sufficed and granted us refuge, and how many are they who have none to suffice them and none to grant them refuge (Al-ḥamdulillāhi alladhi aṭ`amanā wa saqānā wa kafānā wa āwānā, wakam mimman lā kāfiya lahu wa lā mu'wiy).”
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے آتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مؤوي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو ( مخلوق کے شر سے ) اور ہم کو ( رہنے سہنے کے لیے ) ٹھکانا دیا، جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Abu Sa`eed (ra) narrated that : the Prophet (ﷺ) said: “Whoever says, when he goes to his bed: ‘I seek forgiveness from Allah, [the Magnificent] the One whom there is none worthy of worship except for Him, the Living, the Sustainer, and I repent to Him (Astaghfirullāha [al-`Aẓim] alladhi lā ilāha illā huw, al-Ḥayyul-Qayyūm, wa atūbu ilaihi)’ three times, Allah shall forgive him his sins if they were like the foam of the sea, even if they were the number of leaves of the trees, even if they were the number of sand particles of `Alij, even if they were the number of the days of the world.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے ہوئے تین بار کہے: «أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» ”میں اس عظیم ترین اللہ سے استغفار کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ ہمیشہ زندہ اور تا ابد قائم و دائم رہنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں“، اللہ اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ وہ گناہ سمندر کی جھاگ کی طرح ( بےشمار ) ہوں، اگرچہ وہ گناہ درخت کے پتوں کی تعداد میں ہوں، اگرچہ وہ گناہ اکٹھا ریت کے ذروں کی تعداد میں ہوں، اگرچہ وہ دنیا کے دنوں کے برابر ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اس سند سے عبیداللہ بن ولید وصافی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Hudhaifah bin Al-Yaman (ra) narrated that: When the Prophet (ﷺ) would sleep, he would put his hand under his head then say: “O Allah, safeguard me from Your Punishment the Day You gather [Your slaves] (Allāhumma qinī `adhābaka yawma tajma`u [`ibādak])” or “you resurrect your slaves (tab`athu `ibādak).”
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھتے، پھر پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تجمع أو تبعث عبادك» ”اے اللہ! مجھے تو اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا یا اٹھائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Al-Bara' bin `Azib (ra) narrated that: The Messenger of Allah (ﷺ) used to lay his head upon his right hand when going to sleep, then say: “My Lord, safeguard me from Your punishment the Day You resurrect Your slaves (Rabbi qinī `adhābaka yawma tab`athu `ibādak).
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناتے تھے، پھر پڑھتے تھے: «رب قني عذابك يوم تبعث عبادك» ”اے میرے رب! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن کہ تو مردوں کو اٹھا کر زندہ کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ( امام ) ثوری نے ابواسحاق سے روایت کی، اور ابواسحاق نے براء سے، اور امام ثوری نے ان دونوں یعنی ابواسحاق و براء کے بیچ میں کسی اور راوی کا ذکر نہیں کیا، ۳- روایت کی شعبہ نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ سے، اور ایک دوسرے شخص نے براء سے، ۴- اسرائیل نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے عبداللہ بن یزید کے واسطہ سے براء سے روایت کی ہے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ اور ابوعبیدہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح روایت کی۔
Abu Hurairah (ra) said: “The Messenger of Allah (ﷺ) used to order that when one of us went to sleep, he should say: ‘O Allah, Lord of the heavens and Lord of the earths, and our Lord, and the Lord of everything, splitter of the seed-grain and date-stone, and Revealer of the Tawrah and the Injil and the Qur’an. I seek refuge in You from the evil of every evil that You are holding by the forelock. You are the First, there is nothing before You, You are the Last, there is nothing after You, and Az-Zahir, there is nothing above you, and Al-Batin, there is nothing below You. Relieve me of my debt, and enrich me from poverty (Allāhumma rabbas-samāwati wa rabbal-arḍīna wa rabbanā, wa rabba kulli shai’in, fāliqal-ḥabbi wan-nawā, wa munzilat-Tawrāti wal-Injīli wal-Qur’ān. A`ūdhu bika sharri kulli dhi sharrin anta ākhidhun bināṣiyatihi, antal-Awwalu falaisa qablaka shai’un, wa antal-Ākhiru falaisa ba`daka shai’un, waẓ-Ẓāhiru falaisa fauqaka shai'un wal-Bātinu falaisa dūnaka shai’un, iqḍi `annid-daina wa aghninī minal-faqr).’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کہے: «اللهم رب السموات ورب الأرضين وربنا ورب كل شيء وفالق الحب والنوى ومنزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء والظاهر فليس فوقك شيء والباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہر چیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے، توراۃ، انجیل اور قرآن نازل کرنے والے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر والی چیز کے شر سے، تو ہی ہر شر و فساد کی پیشانی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو ہی سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے ظاہر ( اوپر ) ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو باطن ( نیچے و پوشیدہ ) ہے تیرے سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے، مجھ پر جو قرض ہے اسے تو ادا کر دے اور تو مجھے محتاجی سے نکال کر غنی کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah (ra) narrated that : the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When one of you leaves his bed then returns to it, then let him brush it off with the edge of his Izar three times, for indeed, he does not know what succeeded him upon it after him. When he lies down, let him say: ‘In Your Name, my Lord, I lay my side down, and in Your Name I raise it. And if You take my soul, then have mercy upon it, and if You release it, then protect it with that which You protect Your righteous worshipers (Bismika rabbī waḍa`tu janbī wa bika arfa`uhu, fa’in amsakta nafsī farḥamhā wa in arsaltahā faḥfaẓhā bimā taḥfaẓu bihī `ibādakaṣ-ṣāliḥīn)’ And when he awakens, let him say: All praise is due to Allah, Who healed me in my body, and returned to me my soul, and permitted me to remember Him (Al-ḥamdulillāh alladhī `āfānī fī jasadī wa radda `alayya rūḥī wa adhina lī bidhikrih).’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے اپنے بستر پر سے اٹھ جائے پھر لوٹ کر اس پر ( لیٹنے، بیٹھنے ) آئے تو اسے چاہیئے کہ اپنے ازار ( تہبند، لنگی ) کے ( پلو ) کو نے اور کنارے سے تین بار بستر کو جھاڑ دے، اس لیے کہ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کے اٹھ کر جانے کے بعد وہاں کون سی چیز آ کر بیٹھی یا چھپی ہے، پھر جب لیٹے تو کہے: «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”اے میرے رب! میں تیرا نام لے کر ( اپنے بستر پر ) اپنے پہلو کو ڈال رہا ہوں یعنی سونے جا رہا ہوں، اور تیرا ہی نام لے کر میں اسے اٹھاؤں گا بھی، پھر اگر تو میری جان کو ( سونے ہی کی حالت میں ) روک لیتا ہے ( یعنی مجھے موت دے دیتا ہے ) تو میری جان پر رحم فرما، اور اگر تو سونے دیتا ہے تو اس کی ویسی ہی حفاظت فرما جیسی کہ تو اپنے نیک و صالح بندوں کی حفاظت کرتا ہے“، پھر نیند سے بیدار ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ کہے: «الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد علي روحي وأذن لي بذكره» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے بدن کو صحت مند رکھا، اور میری روح مجھ پر لوٹا دی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت ( اور توفیق ) دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حدیث حسن ہے، ۲- بعض دوسرے راویوں نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «فلينفضه بداخلة إزاره» کا لفظ استعمال کیا ہے «بداخلة إزاره» سے مراد تہبند کا اندر والا حصہ ہے، ۳- اس باب میں جعفر اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Aishah narrated that: Every night, when the Prophet (ﷺ) would go to his bed, he would join his hands, then blow in them, as he recited in them: “Say: He is Allah, the One.” And “Say: I seek refuge in the Lord of Al-Falaq” and “Say: I seek refuge in the Lord of mankind.” Then he would wipe as much as he was able to of his body with them, beginning with them first of his head and face, and the front of his body. He would do this three times.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کرتے، پھر ان دونوں پر یہ سورتیں: «قل هو الله أحد»، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» ۱؎ پڑھ کر پھونک مارتے، پھر ان دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک وہ پہنچتیں پھیرتے، اور شروع کرتے اپنے سر، چہرے اور بدن کے اگلے حصے سے، اور ایسا آپ تین بار کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Farwah bin Nawfal (ra) narrated that: He came to the Prophet (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah, teach me something that I may say when I go to my bed.” So he said: “Recite: Say: ‘O you disbelievers’ for verily it is a disavowal of Shirk.” Shu`bah said: “Sometimes he would say: ‘One time’ and sometime he would not say it.” (Another chain) from Farwah bin Nawfal, from his father: That he came to the Prophet (ﷺ) then he mentioned similar in meaning. And this is more correct. [Abu `Eisa said:] And Zubair reported this hadith from Ishaq, from Farwah bin Nawfal, from his father from the Prophet (ﷺ), with similar wording. This is more appropriate and more correct than the narration of Shu`bah. The companions of Abu Ishaq were confused in the narration of this hadith. This hadith has been reported through routes other than this. `Abdur-Rahman is the brother of Farwah bin Nawfal.
فروہ بن نوفل رضی الله عنہ ۱؎ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے کہا: اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں جب اپنے بستر پر جانے لگوں تو پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھ لیا کرو، کیونکہ اس سورۃ میں شرک سے برأۃ ( نجات ) ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: ( ہمارے استاذ ) ابواسحاق کبھی کہتے ہیں کہ سورۃ «قل يا أيها الكافرون» ایک بار پڑھ لیا کرو، اور کبھی ایک بار کا ذکر نہیں کرتے۔
Jabir said: “The Prophet would not sleep until he reached Tanzil as-Sajdah and Tabarak.”
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک سوتے نہ تھے جب تک کہ سونے سے پہلے آپ سورۃ «سجدہ» اور سورۃ «تبارک الذی» ( یعنی سورۃ الملک ) پڑھ نہ لیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان ( ثوری ) اور کچھ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث لیث سے، لیث نے ابوالزبیر سے، ابوالزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۲- زہیر نے بھی یہ حدیث ابوالزبیر سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے یہ حدیث جابر سے ( خود ) سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث جابر سے نہیں سنی ہے، میں نے یہ حدیث صفوان یا ابن صفوان سے سنی ہے، ۳- شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے، مغیرہ نے ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر سے لیث کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔
`A'isha (ra) said: “The Prophet (ﷺ) would not sleep until he recited Az-Zumar and Banu Isra’il.” Muhammad bin Ismail informed me: “This Abu Lubabah’s (a narrator in the chain) name is Marwan, the freed slave of Abdur-Rahman bin Ziyad. He heard from Aisha, and Hammad bin Zaid heard from him.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الزمر اور سورۃ بنی اسرائیل جب تک پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی ہے کہ ابولبابہ کا نام مروان ہے، اور یہ عبدالرحمٰن بن زیاد کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے سنا ہے اور ان ( ابولبابہ ) سے حماد بن زید نے سنا ہے۔
Ar-Irbad bin Sariyah (ra) narrated that: The Prophet (ﷺ) would not sleep until he had recited Al-Musabbihat, and he would say: “In them is an Ayah that is better than a thousand Ayah.”
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «مسبحات» ۱؎ پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے ۲؎، آپ فرماتے تھے: ”ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
A man from Banu Hanzalah said: “I accompanied Shaddad bin Aws [may Allah be pleased with him] on a journey, so he said: ‘Should I not teach you what the Messenger of Allah used to teach us? That you say: “O Allah, I ask You for steadfastness in the affair and I ask You for determination upon guidance, and I ask You to make me grateful for Your favor, and excellence in worshiping You, and I ask You for a truthful tongue and a sound heart, and I seek refuge in You from the evil of what You know, and I ask You for the good of what You know, and I seek Your forgiveness for that which You know. Verily, You are the Knower of all that is hidden (Allāhumma innī as’alukath-thabāta fil-amri, wa as’aluka `azīmatar-rushdi, wa as’aluka shukra ni`matika, wa ḥusna `ibādatika, wa as’aluka lisānan ṣādiqan wa qalban salīman, wa a`ūdhu bika min sharri mā ta`lamu, wa as’aluka min khairi mā ta`lamu, wa astaghfiruka mimmā ta`lamu innaka anta `allāmul-ghuyūb).’” He said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no Muslim who lays down to sleep while reciting a Surat from Allah’s Book, except that Allah entrusts an angel, so that nothing approaches him to harm him until he awakens, whenever he awakens.”
بنی حنظلہ کے ایک شخص نے کہا کہ
میں شداد بن اوس رضی الله عنہ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جسے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سکھاتے تھے، آپ نے ہمیں سکھایا کہ ہم کہیں: «اللهم إني أسألك الثبات في الأمر وأسألك عزيمة الرشد وأسألك شكر نعمتك وحسن عبادتك وأسألك لسانا صادقا وقلبا سليما وأعوذ بك من شر ما تعلم وأسألك من خير ما تعلم وأستغفرك مما تعلم إنك أنت علام الغيوب» ”اے اللہ! میں تجھ سے کام میں ثبات ( جماؤ ٹھہراؤ ) کی توفیق مانگتا ہوں، میں تجھ سے نیکی و بھلائی کی پختگی چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ تو مجھے اپنی نعمت کے شکریہ کی توفیق دے، اپنی اچھی عبادت کرنے کی توفیق دے، میں تجھ سے لسان صادق اور قلب سلیم کا طالب ہوں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جو تیرے علم میں ہے اور اس خیر کا بھی میں تجھ سے طلب گار ہوں جو تیرے علم میں ہے اور تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں ان گناہوں کی جنہیں تو جانتا ہے تو بیشک ساری پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔
Ali [may Allah be pleased with him] said: “Fatimah complained to me about her hands blistering from grinding flour. So I said: ‘If you were to approach your father and ask him for a servant?’ So he (the Prophet) said: ‘Should I not direct the two of you, to that which is better for you than a servant? When the two of you lay down to sleep, say thirty-three, thirty-three, thirty-four, of At-Taḥmīd, At-Tasbīḥ, and At-Takbīr.”
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
فاطمہ رضی الله عنہا نے مجھ سے آٹا پیسنے کے سبب ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کی، میں نے ان سے کہا: کاش آپ اپنے ابو جان کے پاس جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لیے ایک خادم مانگ لیتیں، ( وہ گئیں تو ) آپ نے ( جواب میں ) فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتا دوں جو تم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ بہتر اور آرام دہ ہو، جب تم دونوں اپنے بستروں پر سونے کے لیے جاؤ تو ۳۳ بار الحمدللہ اور سبحان اللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عون کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے علی رضی الله عنہ سے آئی ہے۔
Ali [may Allah be pleased with him] said: “Fatimah went to the Prophet complaining of her hands blistering, so he ordered her to say At-Tasbīḥ, At-Takbīr, and At-Taḥmīd.”
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
( آپ کی بیٹی ) فاطمہ رضی الله عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کرنے آئیں تو آپ نے انہیں تسبیح ( سبحان اللہ ) تکبیر ( اللہ اکبر ) اور تحمید ( الحمدللہ ) پڑھنے کا حکم دیا۔