Chapter on Supplication
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 49
Abu Ad-Darda’ narrated that : the Messenger of Allah (ﷺ) said: “It used to be from the supplication of Dawud that he would say: ‘O Allah, indeed, I ask You for Your love and the love of those who love You, and for the action that will cause me to attain Your love, O Allah, make Your love more beloved to me than myself, my family and cold water (Allāhumma innī as’aluka ḥubbaka wa ḥubba man yuḥibbuka wal-`amalalladhī yuballighunī ḥubbak. Allāhummaj`al ḥubbaka aḥabba ilaiyya min nafsī, wa ahlī wa minal-mā’il-bārid) He said: “And when the Prophet (ﷺ) would mention Dawud, he would narrate about him, saying: “He was the best in worship out of all men.”
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی: «اللهم إني أسألك حبك وحب من يحبك والعمل الذي يبلغني حبك اللهم اجعل حبك أحب إلي من نفسي وأهلي ومن الماء البارد» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور میں اس شخص کی بھی تجھ سے محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ایسا عمل چاہتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے، اے اللہ! تو اپنی محبت کو مجھے میری جان اور میرے گھر والوں سے زیادہ محبوب بنا دے، اے اللہ! اپنی محبت کو ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی زیادہ کر دے“، ( راوی ) کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب داود علیہ السلام کا ذکر کرتے تو ان کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے: وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔
`Abdullah bin Yazid Al-Khatmi Al-Ansari narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say in his supplication: “O Allah grant me Your love and the love of those whose love will benefit me with You. O Allah, whatever you have provided me of that which I love, then make it strength for me for that which You love. O Allah, and what you have kept from me of that which I love, then make it for me a period of rest in that which You love. (Allāhummarzuqnī ḥubbuka, wa ḥubba man yanfa`unī ḥubbuhū `indak. Allāhumma mā razaqtanī mimmā uḥibbu faj`alhu quwwatan lī fīmā tuḥibb. Allāhumma wa mā zawaita `annī mimmā uḥibbu faj`alhu farāghan lī fīmā tuḥibb). “
عبداللہ بن یزید اخطمی انصاری سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں کہتے تھے: «اللهم ارزقني حبك وحب من ينفعني حبه عندك اللهم ما رزقتني مما أحب فاجعله قوة لي فيما تحب اللهم وما زويت عني مما أحب فاجعله فراغا لي فيما تحب» ”اے اللہ! تو مجھے اپنی محبت عطا کر، اور مجھے اس شخص کی بھی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیرے دربار میں فائدہ دے، اے اللہ! جو بھی تو مجھے میری پسندیدہ و پاکیزہ رزق عطا کرے اس رزق کو اپنی پسندیدہ چیزوں میں استعمال کے لیے قوت و طاقت کا ذریعہ بنا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Shakal bin Humaid said: I came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah, teach me a way of seeking refuge so that I may seek refuge by it. He said: So he took my hand and said: 'Say: O Allah, indeed I seek refuge in You from the evil of my hearing and the evil of my sight, and the evil of my tongue and the evil of my heart, and the evil of my semen (Allāhumma innī a`ūdhu bika min sharri sam`ī wa min sharri baṣarī, wa min sharri lisānī, wa min sharri qalbī, wa min sharri maniyyī).'
شکل بن حمید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا تعویذ ( پناہ لینے کی دعا ) سکھا دیجئیے جسے پڑھ کر میں اللہ کی پناہ حاصل کر لیا کروں، تو آپ نے میرا کندھا پکڑا اور کہا: کہو ( پڑھو ) : «اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي ومن شر بصري ومن شر لساني ومن شر قلبي ومن شر منيي يعني فرجه» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے، اور اپنی شرمگاہ کے شر سے“ ( منی سے مراد شرمگاہ ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند یعنی «سعد بن أوس عن بلال بن يحيى» کے طریق سے جانتے ہیں۔
Aishah narrated: “I was sleeping at the side of the Messenger of Allah (ﷺ), then I lost him during the night. So I felt around for him, and my hand fell upon his feet while he was prostrating, and he was saying: ‘I seek refuge in Your pleasure from Your anger, and in Your pardon from Your punishment. I cannot count Your praises. You are as You have praised Yourself (A`ūdhu biriḍāka min sakhaṭika wa bi mu`āfātika min `uqūbatika, lā uḥṣi thanā’an `alaika anta kamā athnaita `alā nafsik).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی، رات میں نے آپ کو اپنی جگہ نہ پا کر آپ کو ادھر ادھر تلاش کیا، ٹٹولا، میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، اس وقت آپ سجدے میں تھے، اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں تیری رضا و خوشنودی کے ذریعہ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے عفو درگزر کے سہارے تیری سزا و عذاب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری ثناء، تیری تعریف کی گنتی اور اس کا احصاء و احاطہٰ نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود آپ اپنی ذات کی تعریف کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ حدیث کئی سندوں سے عائشہ رضی الله عنہا سے آئی ہے۔
`Abdullah bin `Abbas narrated: that the Messenger of Allah (ﷺ) used [to teach them this supplication as he used] to teach them a Surat of the Quran: “O Allah, indeed, I seek refuge in you from the punishment of Hell, and from the punishment of the grave, and I seek refuge in You from the trial of the false Masih, and I seek refuge in You from the trial of living and dying. (Allāhumma innī a`ūdhu bika min `adhābi jahannam, wa min `adhābil-qabr, wa a`ūdhu bika min fitnatil-masīḥid-dajjāl, wa a`ūdhu bika min fitnatil-maḥyā wal-mamāt)”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ( صحابہ کو ) یہ دعا سکھایا کرتے تھے جیسا کہ انہیں قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں حیات و موت کے فتنے ( کشمکش ) سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Aishah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) used to supplicate with these words: “O Allah, indeed, I seek refuge in You from the trial of the Fire, and the punishment of the Fire, and the punishment of the grave, and the trial of the grave, and from the evil of the trial of the grave, and from the evil of the trials of riches, and from the evils of the trials of poverty, and from the evil of the trial of the false Masih. O Allah, wash my sins with water of ice and hail, and cleanse my heart of sins, as You cleansed a white garment of filth, and distance me and my sins as You distanced between the east and the west. O Allah, indeed, I seek refuge in You from laziness, senility, sin and debt. (Allāhumma innī a`ūdhu bika min fitnatin-nār, wa `adhābin-nār, wa `adhābil-qabr, wa fitnatil-qabr, wa min sharri fitnatil-ghinā, wa min sharri fitnatil-faqr, wa min sharri fitnatil- masīḥid-dajjāl. Allāhummaghsil khaṭāyāya bi-mā’ith-thalji wal-bardi, wa anqi qalbī minal-khaṭāyā kamā anqaitath-thawbal-abyaḍa minad-danas, wa bā`id bainī wa baina khaṭāyāya kama bā`adta bainal-mashriqi wal maghrib, Allāhumma innī a`ūdhu bika min al-kasali wal-harami wal-ma’thami wal-maghram).”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار وفتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى ومن شر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد وأنق قلبي من الخطايا كما أنقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنے سے، ( جہنم میں لے جانے والے اعمال سے ) جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ سے، ( منکر نکیر کے سوال سے جس کا جواب نہ پڑے ) مالداری کے فتنے کے شر سے ( تکبر اور کسب حرام سے ) اور محتاجی کے فتنے کے شر سے، ( حسد اور طمع سے ) اور مسیح دجال کے شر سے، اے اللہ! ہمارے گناہوں کو دھل دے برف اور اولوں کے پانی سے، اور میرے دل کو گناہوں سے صاف کر دے جس طرح کہ تو سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کرتا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری پیدا کر دے جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان پیدا کر دی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کاہلی سے، بڑھاپے سے، گناہ سے اور تاوان و قرض کے بوجھ سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Aishah said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying at his death: ‘O Allah, forgive me and have mercy on me, and join me with the Highest Company (Allāhummaghfirlī warḥamnī wa alḥiqnī bir-rafīqil a`lā).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات کے وقت ( یہ دعا ) پڑھتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلى» ”اے اللہ! بخش دے مجھ کو اور رحم فرما مجھ پر اور مجھ کو رفیق اعلیٰ ( انبیاء و ملائکہ ) سے ملا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said: “None of you should say: ‘O Allah forgive me if You wish. O Allah have mercy on me if You wish.’ Let him be firm in asking, for there is none that can compel Him to do things.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( کوئی شخص دعا مانگے تو ) اس طرح نہ کہے: ”اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما“ ۱؎ بلکہ زور دار طریقے سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا تو ہے نہیں ( کہ کہا جائے: اگر تو چاہے ) ، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said: “Our Lord descends every night to the nearest heaven, until the last third of the night remains, so He says: ‘Who is calling upon Me so that I may answer him? Who is asking from Me so that I may give him? And who is seeking forgiveness from Me, so that I may forgive him.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر آخری تہائی رات میں اترتا ہے اور کہتا ہے: ”کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی دعا قبول کر لوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کر دوں؟ اور کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے کہ میں اسے بخش دوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اور ابوعبداللہ الاغر کا نام سلمان ہے، ۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، ابوسعید، جبیر بن مطعم، رفاعہ جہنی، ابودرداء اور عثمان بن ابوالعاص رضی الله عنہم سے بھی روایتیں ہیں۔
Abu Umamah narrated: “It was said: ‘O Messenger of Allah, which supplication is most likely to be listened to?’ He said: ‘(During) the last part of the night, and at the end of the obligatory prayers.’”
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”آدھی رات کے آخر کی دعا ( یعنی تہائی رات میں مانگی ہوئی دعا ) اور فرض نمازوں کے اخیر میں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”رات کے آخری حصہ میں دعا سب سے بہتر ہے، یا اس کے قبول ہونے کی امیدیں زیادہ ہیں یا اسی جیسی کوئی اور بات آپ نے فرمائی“۔
Abu Hurairah narrated that a man said: “O Messenger of Allah, I heard your supplication last night, and the part of it that reached me of it, was that you said: ‘O Allah, forgive me my sin, and expand for me my abode, and bless for me that which You have provided me’ (Allāhummaghfirlī dhanbī, wa wassi` lī fī dārī, wa bārik lī fīmā razaqtanī). He said: ‘Do you see that they leave off anything?’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی: «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ”اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے“، آپ نے فرمایا: ”کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا؟ ( یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Anas narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever says in the morning: ‘O Allah we have reached morning, calling You to witness, and calling the carriers of Your Throne to witness, and Your angels, and all of Your creation, that You are Allah, none has the right to be worshipped but You, Alone, without partner, and that Muhammad (ﷺ) is Your slave and Your Messenger. (Allāhumma aṣbaḥnā nush-hiduka wa nush-hidu ḥamalata `arshika wa malā’ikataka wa jamī`a khalqika bi-annaka Allāh, lā ilāha illā anta, waḥdaka lā sharīka laka, wa anna Muḥammadan `abduka wa rasūluk)’ Allah will forgive him for whatever he does that day, and if he says it in the evening, Allah will forgive him for whatever sin he commits that night.”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح میں یہ کلمات کہے گا: «اللهم أصبحنا نشهدك ونشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك بأنك الله لا إله إلا أنت الله وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! ہم نے صبح کی اور ہم تجھے گواہ بناتے ہیں اور تیرا عرش اٹھائے رہنے والوں، تیرے فرشتوں کو تیری ساری مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا اللہ ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں“، تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ ہوں گے انہیں اللہ بخش دے گا اور اگر وہ یہ دعا شام کے وقت پڑھے گا تو اس رات اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوں گے اللہ انہیں بخش دے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Ibn `Umar said: “Rarely would the Messenger of Allah (ﷺ) stand from a sitting until he supplicated with these words for his Companions: ‘O Allah, apportion for us, fear of You, that shall come between us and disobedience of You, and of obedience to You, which shall cause us to obtain Your Paradise, and of certainty, which shall make the afflictions of the world easy for us, and enjoyment of our hearing, and our seeing, and our strength as long as You keep us alive, and make it the inheritor of us. And let our vengeance be upon those who have wronged us, and aid us against those who show enmity towards us, and do not make our affliction in our religion, and do not make this world our greatest concern, nor the limit of our knowledge, and do not give power over us to those who will not have mercy on us. (Allāhumma-qsim lanā min khashyatika mā yaḥūlu, bainanā wa baina ma`āṣīka wa min ṭā`atika mā tuballighuna bihī jannatak, wa minal-yaqīni mā tuhawwinu bihī `alainā muṣībatid-dunyā, wa matti`na bi-asmā`inā wa abṣārina wa quwwatina mā aḥyaytanā, waj`alhul-wāritha minnā, waj`al tha’ranā `alā man ẓalamanā, wanṣurna `alā man `ādānā, wa lā taj`al muṣībatanā fī dīninā, wa lā taj`alid-dunyā akbara hamminā wa lā mablagha `ilminā, wa lā tusalliṭ `alainā man lā yarḥamunā).’”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا کیے بغیر اٹھے ہوں: «اللهم اقسم لنا من خشيتك ما يحول بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا» ”اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے، اور ہمارے درمیان اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دیدے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اور آسان ہو جائیں، اور جب تک تو زندہ رکھ ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کو ( ہماری موت تک ) باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما، اور دنیا کو ہمارا برا مقصد نہ بنا دے، اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا ( کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھانا صرف دنیا کی خاطر ہو ) اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض محدثین نے یہ حدیث خالد بن ابوعمران سے اور خالد نے نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے۔
Muslim bin Abi Bakrah said: “My father heard me while I was saying: “O Allah, I seek refuge in You from sadness and laziness and the punishment of the grave (Allāhumma, innī a`ūdhu bika minal-hammi wal-kasali wa `adhābil-qabr).’ He said: ‘O my son, from who did you hear this?’” He said: “I said: ‘I heard you saying them.’ He said: ‘Stick to them, for indeed, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying them.’”
مسلم بن ابوبکرہ کہتے ہیں کہ
میرے باپ نے مجھے: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والكسل وعذاب القبر» ”اے اللہ میں غم و فکر اور سستی و کاہلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: اے بیٹے تو نے یہ دعا کس سے سنی؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنی ہے، انہوں نے کہا: انہیں پابندی سے پڑھتے رہا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Ali [may Allah be pleased with him] said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: ‘Should I not teach you some words that if you say them, Allah will forgive you, even if you were already forgiven?’ He said: ‘Say: None has the right to be worshipped by Allah, the Most High, the Magnificent. None has the right to be worshipped by Allah, the Forbearing, the Generous. None has the right to be worshipped but Allah. Glory to Allah, the Lord of the Magnificent Throne. (Lā ilāha illallāhul-`aliyul-`aẓīm, lā ilāha illallāhul-ḥalīmul-karīm, lā ilāha illallāh, subḥān Allāhi rabbil-`arshil-`aẓīm.)’”
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ ان کلمات کو جب تم کہو گے تو تمہارے گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا، اگرچہ تم ان لوگوں میں سے ہو جن کے گناہ پہلے ہی معاف کئے جا چکے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”کہو: «لا إله إلا الله العلي العظيم لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله سبحان الله رب العرش العظيم» ”اللہ جو بلند و بالا ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، حلیم و کریم ( بردبار مہربان ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے“۔
Ibrahim bin Muhammad bin Sa`d narrated from his father, from Sa`d that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The supplication of Dhun-Nun (Prophet Yunus) when he supplicated, while in the belly of the whale was: ‘There is none worthy of worship except You, Glory to You, Indeed, I have been of the transgressors. (Lā ilāha illā anta subḥānaka innī kuntu minaẓ-ẓālimīn)’ So indeed, no Muslim man supplicates with it for anything, ever, except Allah responds to him.”
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالنون ( یونس علیہ السلام ) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی: «لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين» ”تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، میں ہی ظالم ( خطاکار ) ہوں“، کیونکہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محمد بن یحییٰ نے کہا: محمد بن یوسف کبھی ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کرتے ہیں اور اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے، ۲- دوسرے راویوں نے یہ حدیث یونس بن ابواسحاق سے، اور یونس نے ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «عن أبيه» کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- بعض نے یونس بن ابواسحاق سے روایت کی ہے، اور ان لوگوں نے ابن یوسف کی روایت کی طرح ابراہیم بن محمد بن سعد سے روایت کرتے ہوئے «عن أبيه عن سعد» کہا ہے اور یونس بن ابواسحاق کی عادت تھی کہ کبھی تو وہ اس حدیث میں «عن أبيه» کہہ کر روایت کرتے اور کبھی «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے تھے۔
Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] narrated the the Prophet said: “Indeed Allah has ninety-nine Names, one hundred less one, whoever counts them shall enter Paradise.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ۱؎ نام ہیں، سو میں ایک کم، جو انہیں یاد رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۲؎۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Indeed, Allah has ninety-nine Names, one hundred less one, whoever counts them shall enter Paradise. He is Allah, the one whom there is none worthy of worship except for Him (Allāhu Lā Ilāha Illā Huwa), the Most Merciful (to the creation) (Ar-Raḥmān), the Most Beneficent (to the believers) (Ar-Raḥīm), the King (Al-Malik), the Free of Deficiencies (Al-Quddūs), the Granter of Safety (As-Salām), the Granter of Security (Al-Mu’min), the Watcher (Al-Muhaimin), the Mighty (Al-`Azīz), the Compeller (Al-Jabbār), the Supreme (Al-Mutakabbir), the Creator (Al-Khāliq), the Originator (Al-Bāri’), the Fashioner (Al-Muṣawwir), the Pardoner (Al-Ghaffār), the Overwhelming (Al-Qahhār), the Giving (Al-Wahhāb), the Provider (Ar-Razzāq), the Opener (Al-Fattāḥ), the Knowing (Al-`Alīm), the Taker (Al-Qābiḍ), the Giver (Al-Bāsiṭ), the Abaser (Al-Khāfiḍ), the Exalter (Ar-Rāfi`), the One who grants honor (Al-Mu`izz), the One who humiliates (Al-Mudhil), the Hearing (As-Samī`), the Seeing (Al-Baṣīr), the Judge (Al-Ḥakam), the Just (Al-`Adl), the Kind (Al-Laṭīf), the Aware (Al-Khabīr), the Forbearing (Al-Ḥalīm), the Magnificent (Al-`Aẓīm), the Oft-Forgiving (Al-Ghafūr), the Grateful (Ash-Shakūr), the Most High (Al-`Aliyy), the Great (Al-Kabīr), the Guardian (Al-Ḥafīẓ), the Powerful (Al-Muqīt), the Reckoner (Al-Ḥasīb), the Glorious (Al-Jalīl), the Generous (Al-Karīm), the Watcher (Ar-Raqīb), the Responder (Al-Mujīb), the Liberal Giver (Al-Wāsi`), the Wise (Al-Ḥakīm), the Loving (Al-Wadūd), the Majestic (Al-Majīd), the Reviver (Al-Bā`ith), the Witness (Ash-Shahīd), the Truth (Al-Ḥaqq), the Guarantor (Al-Wakīl), the Strong (Al-Qawiyy), the Firm (Al-Matīn), the One Who Aids (Al-Waliyy), the Praiseworthy (Al-Ḥamīd), the Encompasser (Al-Muḥṣi), the One Who Begins things (Al-Mubdi’), the One Who brings things back (Al-Mu`īd), the One Who gives life (Al-Muḥyi), the One Who causes death (Al-Mumīt), the Living (Al-Ḥayyu), the Self-Sufficient (Al-Qayyūm), the One Who brings into existence (Al-Wājid), the Illustrious (Al-Mājid), the One (Al-Wāḥid), the Master (Aṣ-Ṣamad), the Able (Al-Qādir), the Powerful (Al-Muqtadir), the One who hastens (Al-Muqaddim), the One who delays (Al-Mu’akhkhir), the First (Al-Awwal), the Last (Al-Ākhir), the Apparent (Aẓ-Ẓāhir), the Inner (Al-Bāṭin), the Owner (Al-Wāli), the Exalted (Al-Muta`āli), the Doer of Good (Al-Barr), the Acceptor of repentance (At-Tawwāb), the Avenger (Al-Muntaqim), the Pardoning (Al-`Afuww), the Kind (Ar-Ra’ūf), the Owner of Dominion (Mālikul-Mulk), the Possessor of Glory and Generosity (Dhul Jalāli wal Ikrām), the One who does justice (Al-Muqsiṭ), the Gatherer (Al-Jāmi`), the Rich (Al-Ghaniyy), the Enricher (Al-Mughni), the Preventer (Al-Māni`), the Harmer (Aḍ-Ḍār), the One who benefits (An-Nāfi`), the Light (An-Nūr), the Guide (Al-Hādi), the Originator (Al-Badī`), the Lasting (Al-Bāqi), the Inheritor (Al-Wārith), the Guide (Ar-Rashīd), the Tolerant (Aṣ-Ṣabūr).”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام ہیں جو انہیں شمار کرے ( گنے ) گا وہ جنت میں جائے گا، اور اللہ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف و اعلی، «الرحمن» ”بہت رحم کرنے والا“، «الرحيم» ”مہربان“، «الملك» ”بادشاہ“، «القدوس» ”نہایت پاک“، «السلام» ”سلامتی دینے والا“، «المؤمن» ”یقین والا“، «المهيمن» ”نگہبان“، «العزيز» ”غالب“، «الجبار» ”تسلط والا“، «المتكبر» ”بڑائی والا“، «الخالق» ”پیدا کرنے والا“، «البارئ» ”پیدا کرنے والا“، «المصور» ”صورت بنانے والا“، «الغفار» ”بہت بخشنے والا ‘، «القهار» ”قہر والا“، «الوهاب» ”بہت دینے والا“، «الرزاق» ”روزی دینے والا“، «الفتاح» ”فیصلہ چکانے والا“، «العليم» ”جاننے والا“، «القابض» ”روکنے والا“، «الباسط» ”چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا“، «الخافض» ”پست کرنے والا“، «الرافع» ”بلند کرنے والا“، «المعز» ”عزت دینے والا“، «المذل» ”ذلت دینے والا“، «السميع» ”سننے والا“، «البصير» ”دیکھنے والا“، «الحكم» ”فیصلہ کرنے والا“، «العدل» ”انصاف والا“، «اللطيف» ”بندوں پر شفقت کرنے والا“، «الخبير» ”خبر رکھنے والا“، «الحليم» ”بردبار“، «العظيم» ”بزرگی والا“، «الغفور» ”بہت بخشنے والا“، «الشكور» ”قدر کرنے والا“، «العلي» ”اونچا“، «الكبير» ”بڑا“، «الحفيظ» ”نگہبان“، «المقيت» ”طاقت و قوت والا“، «الحسيب» ”حساب لینے والا“، «الجليل» ”بزرگ“، «الكريم» ”کرم والا“، «الرقيب» ”مطلع رہنے والا“، «المجيب» ”قبول کرنے والا“، «الواسع» ”کشادگی اور وسعت والا“، «الحكيم» ”حکمت والا“، «الودود» ”بہت چاہنے والا“، «المجيد» ”بزرگی والا“، «الباعث» ”زندہ کر کے اٹھانے والا“، «الشهيد» ”نگراں، حاضر“، «الحق» ”سچا“، «الوكيل» ”کار ساز“، «القوي» ”طاقتور“، «المتين» ”مضبوط“، «الولي» ”مددگار و محافظ“، «الحميد»، «المحصي»، «المبدئ» ”پہلے پہل پیدا کرنے والا“، «المعيد» ”دوبارہ پیدا کرنے والا“، «المحيي» ”زندہ کرنے والا“، «المميت» ”مارنے والا“، «الحي» ”زندہ“، «القيوم» ”قائم رہنے و قائم رکھنے والا“، «الواجد» ”پانے والا“، «الماجد» ”بزرگی والا“، «الواحد» ”اکیلا“، «الصمد» ”بے نیاز“، «القادر» ”قدرت والا“، «المقتدر» ”طاقتور پکڑنے والا“، «المقدم» ”پہلا“، «المؤخر» ”پچھلا“، «الأول» ”پہلا“، «الآخر» ”پچھلا“، «الظاهر» ”ظاہر“، «الباطن» ”پوشیدہ، مخفی“، «الوالي» ”مالک مختار، حکومت کرنے والا“، «المتعالي» ”برتر“، «البر» ”بھلائی والا“، «التواب» ”توبہ قبول کرنے والا“، «المنتقم» ”انتقام لینے والا“، «العفو» ”درگذر کرنے والا“، «الرءوف» ”شفقت والا، مہربان“، «مالك الملك» ”تمام جہاں کا مالک“، «ذو الجلال والإكرام» ”عزت و جلال والا“، «المقسط» ”انصاف کرنے والا“، «الجامع» ”جمع کرنے والا“، «الغني» ”تونگر و بے نیاز“، «المغني» ”بے نیاز“، «المانع» ”روکنے والا“، «الضار» ”نقصان پہنچانے والا“، «النافع» ”نفع پہنچانے والا“، «النور» ”روشن، ظاہر“، «الهادي» ”ہدایت بخشنے والا“، «البديع» ”از سر نو پیدا کرنے والا“، «الباقي» ”قائم رہنے والا“، «الوارث» ”وارث“، «الرشيد» ”خیر و بھلائی والا“، «الصبور» ”بردبار“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم سے کئی راویوں نے یہ حدیث صفوان بن ابوصالح کے واسطے سے بیان کی ہے، اور یہ حدیث ہم صرف صفوان بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں اور صفوان بن صالح محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، ۳- یہ حدیث کئی اور سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، اور ہم اکثر و بیشتر روایات کو جن میں اسماء الٰہی کا ذکر ہے، اس حدیث کے سوا کسی حدیث کو سند کے اعتبار سے صحیح نہیں پاتے، ۴- آدم ابن ابی ایاس نے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دو سری سند سے ابوہریرہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اس میں اسماء ( الٰہی ) کا ذکر کیا ہے، لیکن اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet said: “Indeed, Allah has ninety-nine Names, whoever counts them shall enter Paradise.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام ہیں جس نے انہیں شمار کیا ( یاد رکھا ) وہ جنت میں جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں اسماء ( الٰہی ) کا ذکر نہیں ہے، ۳- اسے ابوالیمان نے شعیب بن ابی حمزہ کے واسطہ سے ابوالزناد سے روایت کیا ہے اور اس میں اسمائے حسنیٰ کا ذکر نہیں کیا۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When you pass by the gardens of Paradise, then feast.” I said: “O Messenger of Allah, and what are the gardens of Paradise?” He said, “The Masajid.” I said: “And what is feasting, O Messenger of Allah?” He said: “‘Glory is to Allah, (Subḥān Allāh)’ and ‘All praise is due to Allah, (Al-Ḥamdulillāh)’ and ‘None has the right to be worshipped but Allah, (Lā Ilāha Illallāh)’ and ‘Allah is the Greatest (Allāhu Akbar).’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرو تو کچھ چر چگ لیا کرو“، میں پوچھا: اللہ کے رسول! «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «رياض الجنة» مساجد ہیں“، میں نے کہا اور «الرتع» کیا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنا «الرتع» ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔