It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
A man from among the Ansar came to the Prophet (ﷺ) and begged from him. He said, Do you have anything in your house? He said: Yes, a blanket, part of which we cover ourselves with and part we spread beneath us, and a bowl from which we drink water. He said: Givethem to me. So he brought them to him, and the Messenger of Allah (ﷺ) took them in his hand and said, Who will by these two things? A man said: I will by them for one Dirham. He said: Who will offer more than a Dirham? two or three times. A man said: I will buy them for two Dirham. So he gave them to him and took the two Dirham, which he gave to the Ansari and said: Buy food with one of them and give it to your family, and buy an axe with the other and bring it to me. So he did that, and the Messenger of Allah (ﷺ) took it and fixed a handle to it, and said: Go and gather firewood, and I do not want to see you for fifteen days. So he went and gathered firewood and sold it, then he came back, and he had earned ten Dirham. (The Prophet (ﷺ)) said: Buy food with some of it and clothes with some. Then he said: This is better for you than coming with begging (appearing) as a spot on your face on the Day of Resurrection. Begging is only appropriate for one who is extremely poor or who is in severe debt, or one who must pay painful blood money.”[1]
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے الاخضر بن عجلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انصار کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ آپ سے کوئی چیز چاہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے ؟، اس نے عرض کیا: جی ہاں! ایک کمبل ہے جس کا ایک حصہ ہم اوڑھتے اور ایک حصہ بچھاتے ہیں، اور ایک پیالہ ہے جس سے ہم پانی پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ ، وہ گیا، اور ان کو لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا پھر فرمایا: انہیں کون خریدتا ہے ؟ ایک شخص بولا: میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک درہم پر کون بڑھاتا ہے ؟ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار فرمایا، ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں لیتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں چیزیں اس شخص کے ہاتھ بیچ دیں، پھر دونوں درہم انصاری کو دئیے اور فرمایا: ایک درہم کا اناج خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دو، اور دوسرے کا ایک کلہاڑا خرید کر میرے پاس لاؤ ، اس نے ایسا ہی کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلہاڑے کو لیا، اور اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی جما دی اور فرمایا: جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کر لاؤ ( اور بیچو ) اور پندرہ دن تک میرے پاس نہ آؤ ، چنانچہ وہ لکڑیاں کاٹ کر لانے لگا اور بیچنے لگا، پھر وہ آپ کے پاس آیا، اور اس وقت اس کے پاس دس درہم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ کا غلہ خرید لو، اور کچھ کا کپڑا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم قیامت کے دن اس حالت میں آؤ کہ سوال کرنے کی وجہ سے تمہارے چہرے پر داغ ہو، یاد رکھو سوال کرنا صرف اس شخص کے لیے درست ہے جو انتہائی درجہ کا محتاج ہو، یا سخت قرض دار ہو یا تکلیف دہ خون بہا کی ادائیگی میں گرفتار ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever agrees with a Muslim to cancel a transaction Allah will forgive his sins on the Day of Resurrection.
ہم سے زیاد بن یحییٰ ابو الخطاب نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن سعیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے ابوصالح کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کے اقالے کو مان لے ( یعنی اس کے ساتھ بیع کے فسخ پر راضی ہو جائے ) تو اللہ تعالیٰ ( اس احسان کے بدلہ میں ) قیامت کے دن اس کے گناہوں کو مٹا دے گا ۔
It was nanated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
Prices rose during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and they said: 'O Messenger of Allah, prices have risen, so fix the prices for us.' He said: 'Indeed Allah is the Musa'ir, [1] the Qabid, (Restrainer) the Basit,[2] the Razzaq (Provider). And I am hopeful that I meet my Lord and none of you are seeking (recompense from) me for an injustice involving blood or wealth.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد بن سلمہ نے قتادہ، حمید اور ثابت کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک دفعہ قیمتیں چڑھ گئیں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے ایک نرخ ( بھاؤ ) مقرر کر دیجئیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، کبھی کم کر دیتا ہے اور کبھی زیادہ کر دیتا ہے، وہی روزی دینے والا ہے، اور مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ کوئی مجھ سے جان یا مال میں کسی ظلم کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو ۔
It was narrated that Abu Sa'eed رضی اللہ عنہ said:
Prices rose at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and they said: 'Why do you not fix the food prices, O Messenger of Allah?' He said: 'I hope that when I leave you, no one among you will be demanding restitution for a wrong that I have done to him. '
ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے، قتادہ کی سند سے، وہ ابو نضرہ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مہنگائی بڑھ گئی، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ نرخ مقرر کر دیں تو اچھا رہے گا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ میں تم سے اس حال میں جدا ہوں کہ کوئی مجھ سے کسی زیادتی کا جو میں نے اس پر کی ہو مطالبہ کرنے والا نہ ہو ۔
Uthman bin 'Affan رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah will admit to Paradise a man who was lenient when he sold and when he bought.
ہم سے محمد بن ابان البلخی ابوبکر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، وہ یونس بن عبید سے اور عطاء بن فرخ نے کہا, عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں لے جائے جو نرمی کرنے والا ہو، خواہ بیچ رہا ہو یا خرید رہا ہو ۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: May Allah have mercy on a person who is lenient when he sells, lenient when he buys, and lenient when he asks for payment.
ہم سے عمرو بن عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار الحمصی نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو غسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، وہ محمد بن المنکر کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے، جو نرمی کرے جب بیچے، نرمی کرے جب خریدے، اور نرمی کرے جب تقاضا کرے ۔
It was narrated that Qailah Umm Bani Anmar رضی اللہ عنہا said:
I came to the Messenger of Allah (ﷺ), during one of his 'Umrah at Marwah and said: 'O Messenger of Allah, I am a woman who buys and sells. When I want to buy something, I state a price less than I want to pay, then I raise it gradually until it reaches the price I want to pay. And when I want to sell something, I state a price more than I want, then I lower it until it reaches the price I want.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do not do that, O Qailah. When you want to buy something, state the price you want, whether it is given or not. And when you want to sell something, state the price you want, whether it is given or not.'
ہم سے یعقوب بن حمید بن کسیب نے بیان کیا، کہا ہم سے یعلیٰ بن شبیب نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن عثمان بن خثیم رضی اللہ عنہ سے, قیلہ ام بنی انمار رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی عمرہ کے موقع پر مروہ پہاڑی کے پاس تھے، میں نے عرض کیا کہ میں ایک خرید و فروخت کرنے والی عورت ہوں، جب میں کوئی چیز خریدنا چاہتی ہوں تو پہلے اس کی قیمت اس سے کم لگاتی ہوں، جتنے میں خریدنا چاہتی ہوں، پھر تھوڑا تھوڑا بڑھاتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت تک پہنچ جاتی ہوں جو میں چاہتی ہوں، اور جب میں کسی چیز کو بیچنا چاہتی ہوں تو اس کی قیمت اس سے زیادہ لگاتی ہوں، جتنے میں بیچنا چاہتی ہوں، پھر تھوڑا تھوڑا کم کرتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت کو پہنچ جاتی ہوں جتنے میں اسے میں دینا چاہتی ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیلہ! ایسا نہ کرو جب تم کوئی چیز خریدنا چاہو تو وہی قیمت لگاؤ جو تمہارے پیش نظر ہو چاہے وہ چیز دی جائے یا نہ دی جائے، اور جب تم کوئی چیز بیچنا چاہو تو وہی قیمت کہو جو تمہارے پیش نظر ہے، چاہے تم دے سکو یا نہ دے سکو ۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما said:
I was with the Prophet (ﷺ) on a military campaign, and he said to me: 'Will you sell this camel of yours for a Dinar?' I said: 'O Messenger of Allah, it is yours when I get to Al-Madinah.' He said: 'Then sell it for two Dinar, may Allah forgive you.' And he kept increasing the price for me, saying: 'May Allah forgive you,' each time, until the amount reached twenty Dinar. When I came to Al-Madinah, I took hold of the camel's head and brought it to the Prophet (ﷺ) and he said: 'O Bilal, give him twenty Dinar from the spoils of war.' And he said: 'Take your camel away and go to your people with it.'
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، وہ الجریری کی سند سے، وہ ابو نادرہ سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا تم اپنے اس پانی ڈھونے والے اونٹ کو ایک دینار میں بیچتے ہو؟ اور اللہ تمہیں بخشے میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں مدینہ پہنچ جاؤں، تو آپ ہی کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا دو دینار میں بیچتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ اسی طرح ایک ایک دینار بڑھاتے گئے اور ہر دینار پر فرماتے رہے: اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے! یہاں تک کہ بیس دینار تک پہنچ گئے، پھر جب میں مدینہ آیا تو اونٹ پکڑے ہوئے اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! انہیں مال غنیمت میں سے بیس دینار دے دو اور مجھ سے فرمایا: اپنا اونٹ بھی لے جاؤ، اور اسے اپنے گھر والوں میں پہنچا دو ۔
It was narrated that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) forbade haggling before sunrise, and (he forbade) slaughtering animals that yield milk.
ہم سے علی بن محمد اور سہل بن ابی سہل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا: ہمیں ربیع بن حبیب نے نوفل بن عبد الملک سے اپنے والد کی سند سے خبر دی, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے سے پہلے مول بھاؤ کرنے سے، اور دودھ والے جانور کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, nor will He look at them or purify them, and theirs will be a painful torment: A man who has surplus water in the desert but refuses to give any to a wayfarer; a man who sells a product to a man after 'Asr and swears by Allah that he bought it for such and such amount, and he believes him, when that is not the case; and a man who swears allegiance to a ruler, and only does so for worldly gains, so if he gives him some of (these worldly benefits) he fulfills his oath of allegiance, and if he is not given anything he does not uphold his oath of allegiance.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن محمد اور احمد بن سنان نے بیان کیا, ہم سے ابو معاویہ نے الاعمش کی سند سے اور ابو صالح کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین آدمیوں سے اس قدر ناراض ہو گا کہ نہ تو ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا: ایک وہ شخص جس کے پاس چٹیل میدان میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ اسے مسافر کو نہ دے، دوسرے وہ شخص جو اپنا مال نماز عصر کے بعد بیچے اور اللہ کی قسم کھائے کہ اسے اس نے اتنے اتنے میں خریدا ہے، اور خریدار اسے سچا جانے حالانکہ وہ اس کے برعکس تھا، تیسرے وہ شخص جس نے کسی امام سے بیعت کی، اور اس نے صرف دنیا کے لیے بیعت کی، اگر اس نے اس کو کچھ دیا تو بیعت پوری کی، اور اگر نہیں دیا تو نہیں پوری کی ۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection nor will He look at them or purify them, and theirs will be a painful torment. I said: Who are they, O Messenger of Allah? For they are indeed losers. He said: The one who lets his garment hang beneath his ankles, the one who reminds another of what he has given him, and the one who sells his product by means of false oaths.
ہم سے علی بن محمد اور محمد بن اسماعیل نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے مسعودی کی سند سے، علی بن مدرک کی سند سے، خراشہ بن حریر کی سند سے بیان کیا, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ وہ نامراد ہوئے اور بڑے نقصان میں پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا تہمد ( لنگی ) ٹخنے سے نیچے لٹکائے، اور جو دے کر احسان جتائے، اور جو اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعہ رواج دے ۔
It was narrated from Abu Qatadah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ), said: Beware of swearing oaths when selling, for it may help you to make a sale but it destroys the blessing. '
ہم سے یحییٰ بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد العلا نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے محمد بن اسحاق نے معبد بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیع ( خرید و فروخت ) میں قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہو جاتی ہے اور برکت جاتی رہتی ہے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever buys a palm tree that has been pollinated, its fruits belong to the seller, unless the purchaser stipulated a condition. (Sahih) Another chain from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما , from the Prophet (ﷺ), with similar wording.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تابیر ( قلم ) کئے ہوئے کھجور کا درخت خریدے، تو اس میں لگنے والا پھل بیچنے والے کا ہو گا، الا یہ کہ خریدار خود پھل لینے کی شرط طے کر لے ۔ ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے نافع کی سند سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی خبر دی۔
It was narrated from Salim bin 'Abdullah, bin 'Umar رضی اللہ عنہما , from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما , that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever sells a palm tree that has been pollinated, its fruits belong to the seller, unless the purchaser stipulated a condition. And whoever buys a slave who has wealth, his wealth belongs to the seller, unless the purchaser stipulated a condition.
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، اور ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سب نے ابن شہاب الزہری کی سند سے اور سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تابیر ( قلم ) کئے ہوئے کھجور کا درخت بیچے تو اس میں لگنے والا پھل بیچنے والے کا ہو گا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کر لے، اور جو شخص کوئی غلام بیچے اور اس غلام کے پاس مال ہو تو وہ مال اس کا ہو گا، جس نے اس کو بیچا ہے سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کر لے کہ اسے میں لوں گا،،۔
It was narrated from Nafi' from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: Whoever sells a palm tree and sells a slave. Mentioning both of them together.[1]
ہم سے محمد بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ عبد ربیح بن سعید نے نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کھجور کا درخت بیچے، اور کوئی غلام بیچے تو وہ ان دونوں کو اکٹھا بیچ سکتا ہے ۔
It was narrated that 'Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the fruit of a palm tree belongs to the one who pollinated it, and that the wealth of a slave belongs to the one who sold him, unless the purchaser stipulated a condition.
ہم سے عبد ربہ بن خالد النمیری ابو المغلس نے بیان کیا، کہا ہم سے الفضیل بن سلیمان نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن عقبہ کی سند سے، مجھ سے اسحاق بن یحییٰ بن الولید بن عبادہ بن الصامت نے بیان کیا, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس شخص کا ہو گا جس نے اس کی تابیر ( پیوندکاری ) کی، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کر لے، اور جس نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کے پاس مال ہو تو غلام کا مال اس کا ہو گا جس نے اس کو بیچا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کر لے۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not sell fruits until they have ripened. And he forbade (both) the seller and the purchaser (to engage in such a transaction).
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں لیث بن سعد نے نافع کی سند سے خبر دی،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو، آپ نے اس سے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not sell fruits until they have ripened. '
ہم سے احمد بن عیسیٰ المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، وہ ابن شہاب کی سند سے، مجھ سے سعید بن المسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے نہ بیچو ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) forbade selling fruits until they have ripened.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج سے اور عطاء کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہو جانے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling fruits until they have changed the color, and selling grapes until they have turned black, and selling grains until they have hardened.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، حمید کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ پکنے کے قریب ہو جائے، اور انگور کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو جائے، اور غلے کی بیع سے ( بھی منع کیا ہے ) یہاں تک کہ وہ سخت ہو جائے۔