It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There will come a time when there will be no one left who does not consume usury (interest), and whoever does not consume it will nevertheless be affected by it.
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے داؤد بن ابی ہند نے بیان کیا، سعید بن ابی الخیرہ کی سند سے انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی ایسا نہ بچے گا جس نے سود نہ کھایا ہو، جو نہیں کھائے گا اسے بھی اس کا غبار لگ جائے گا ۔
It was narrated from Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: There is no one who deals in usury a great deal (to increase his wealth) but he will end up with little (i.e., his wealth will be decreased).
ہم سے عباس بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی زیدہ نے بیان کیا، بنی اسرائیل کی سند سے، رکوین بن ربیع بن امیہ سے اپنے والد سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھی سود سے مال بڑھایا، اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کا مال گھٹ جاتا ہے ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said:
When the Prophet (ﷺ) came (to Al-Madinah), they used to pay in advance for dates, two or three years in advance. He said: 'Whoever pays in advance for dates, let him pay for a known amount or a known weight, to be delivered at a known time.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی نجیح کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن کثیر کی سند سے، وہ ابو المنہال کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، اس وقت اہل مدینہ دو سال اور تین سال کی قیمت پہلے ادا کر کے کھجور کی بیع سلف کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھجور میں بیع سلف کرے یعنی قیمت پیشگی ادا کر دے تو اسے چاہیئے کہ یہ بیع متعین ناپ تول اور مقررہ میعاد پر کرے ۔
It was narrated from Muhammad bin Hamzah bin Yusuf bin 'Abdullah bin Salam, from his father, that his grandfather 'Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ said:
A man came to the Prophet (ﷺ) and said, 'The tribe of Banu so-and- so, who were descended from the Jews, have become Muslim, and they are starving, and I am afraid that they may apostatize.' The Prophet (ﷺ) said: 'Who has something with him?' A Jewish man said: 'I have such and such, and he named it, and I think he said three hundred Dinar for such and such 'an amount (of produce) from the garden of the tribe of Banu so-and-so.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'For such and such a price at such and such a time, but not from the garden of the tribe of Banu so-and- so. '
ہم سے یعقوب بن حمید بن کسب نے بیان کیا، کہا: ہم سے ولید بن مسلم نے، محمد بن حمزہ بن یوسف بن عبداللہ بن سلام سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے آ کر عرض کیا: فلاں قبیلہ کے یہودی مسلمان ہو گئے ہیں، اور وہ بھوک میں مبتلا ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ مرتد نہ ہو جائیں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے پاس کچھ نقدی ہے ( کہ وہ ہم سے بیع سلم کرے ) ؟ ایک یہودی نے کہا: میرے پاس اتنا اور اتنا ہے، اس نے کچھ رقم کا نام لیا، میرا خیال ہے کہ اس نے کہا: میرے پاس تین سو دینار ہیں، اس کے بدلے میں بنی فلاں کے باغ اور کھیت سے اس اس قیمت سے غلہ لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیمت اور مدت کی تعیین تو منظور ہے لیکن فلاں کے باغ اور کھیت کی جو شرط تم نے لگائی ہے وہ منظور نہیں ۔
It was narrated that Abu Mujalid said:
Abdullah bin Shaddad and Abu Barzah رضی اللہ عنہما had a dispute about paying in advance. They sent me to 'Abdullah bin Abu Awfa رضی اللہ عنہ to ask him about it. He said: 'We used to make payments in advance at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and the time of Abu Bakr and 'Umar رضی اللہ عنہما , for wheat, barley, raisins and dates, to people who did not yet possess those things.' I asked Ibn Abza رضی اللہ عنہ, and he said something similar.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور یحییٰ نے کہا, عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن شداد اور ابوبرزہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بیع سلم کے سلسلہ میں جھگڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں نے جا کر ان سے اس کے سلسلے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں گیہوں، جو، کشمش اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے جن کے پاس اس وقت مال نہ ہوتا، پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا۔
It was narrated from Abu Sa'eed that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When you have paid in advance for something, do not exchange it for something else. (Da'if)Another chain with similar wording.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے شجاع بن ولید نے بیان کیا، کہا: ہم سے زیاد بن خیثمہ نے سعد سے اور عطیہ کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چیز میں بیع سلف کرو تو اسے کسی اور چیز کی طرف نہ پھیرو ۔
It was narrated that Najrani said:
I said to 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہما: 'Can I pay in advance for a date palm before it bears fruit?' He said: 'No.' I said: 'Why not?' He said: 'A man paid in advance for a grove of trees during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), before they had produced any fruit, and they did not bear anything that year. The purchaser said: 'They belong to me until they produce but the seller said: 'I only sold the trees to you for this year! They referred their dispute to the Messenger of Allah who said to the seller: 'Did he take anything from your date palms?' He said: 'No.' He said: 'Then why do you regard his wealth as lawful for You? Give back what you took from him, and do not take payment in advance for date palms until their usefulness appears. '
ہم سے ہناد بن السری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، ابواسحاق سے, نجرانی کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا میں کسی درخت کے کھجور کی ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کروں؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: کیوں؟ کہا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کھجور کے ایک باغ کے پھلوں میں ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کی، لیکن اس سال کھجور کے درخت میں پھل آیا ہی نہیں، تو خریدار نے کہا: یہ درخت میرے رہیں گے جب تک ان میں کھجور نہ پھلے، اور بیچنے والے نے کہا: میں نے تو صرف اسی سال کا کھجور تیرے ہاتھ بیچا تھا، چنانچہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معاملہ لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے کہا: کیا اس نے تمہارے کھجور کے درختوں سے کچھ پھل لیے ؟ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرو گے، جو تم نے اس سے لیا ہے، اسے واپس کرو اور آئندہ کھجور کے درختوں میں بیع سلم اس وقت تک نہ کرو جب تک اس کے پھل استعمال کے لائق نہ ہو جائیں ۔
It was narrated from Abu Rafi' رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) asked a man to give as a loan a young camel and said: “When the camels of the Sadaqah come, we will pay you back.” When the camels came, he said: O Abu Rafi' رضی اللہ عنہ , pay this man back for his Young camel. But all I could find was a seven-year-old camel or that which is better. I told the Prophet (ﷺ) and he said: Give it to him, for the best of People are those who are best in repaying.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن اسلم نے بیان کیا، عطا بن یسار سے, ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے ایک جوان اونٹ کی بیع سلم کی یعنی اسے قرض کے طور پر لیا، اور فرمایا: جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو ہم تمہارا اونٹ کا قرض ادا کر دیں گے ، چنانچہ جب صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابورافع! اس کے اونٹ کا قرض ادا کر دو ، ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ڈھونڈا تو مجھے ویسا اونٹ نہیں ملا، سوائے ایک ایسے اونٹ کے جس نے اپنے سامنے کے چاروں دانت گرا رکھے تھے، جو اس کے اونٹ سے بہتر تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو دے دو کیونکہ لوگوں میں بہتر وہ ہے جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۔
Sa'eed bin Hani' رضی اللہ عنہ said:
I heard 'Irbad bin Sariyah رضی اللہ عنہ say: 'I was with the Prophet (ﷺ) and a Bedouin said: Pay me back for my young camel, and he gave him an older (i.e., better) camel. He said: 'O Messenger of Allah! It is older (i.e., better) than my camel.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The best of people are those who are best in repaying. '
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، مجھ سے سعید بن ہانی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو ایک اعرابی نے کہا: مجھے میری چھوٹی اونٹنی واپس کر دو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک پرانا (یعنی بہتر) اونٹ دیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرے اونٹ سے پرانا (یعنی بہتر) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو ادا کرنے میں سب سے بہتر ہو۔ '
It was narrated that Sa'ib رضی اللہ عنہ :
He said to the Prophet (ﷺ): You were my partner during the Ignorance period and you were the best of partners, you did not contend or dispute.
ہم سے ابو شیبہ کے بیٹوں عثمان اور ابوبکر نے بیان کیا: ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے سفیان کی سند سے، ابراہیم بن مہاجر کی سند سے، مجاہد کی سند سے، قائد السائب کی سند سے,سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمانہ جاہلیت میں آپ میرے شریک تھے، تو آپ بہت بہترین شریک ثابت ہوئے نہ آپ میری مخالفت کرتے تھے نہ جھگڑتے تھے ۔
It was narrated that 'Abdullah رضی اللہ عنہ said:
Sa'd, 'Ammar and I entered into a partnership on the day of Badr, (agreeing to share) whatever was allotted to us. 'Ammar and I did not get anything, but Sa'd got two men (slaves).
ہم سے ابو السائب سالم بن جنادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد حفری نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، ابواسحاق کی سند سے، وہ ابو عبیدہ سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں سعد اور عمار تینوں بدر کے دن مال غنیمت میں شریک ہوئے، تو مجھ کو اور عمار کو کچھ نہ ملا، البتہ سعد کافروں کے دو آدمی پکڑ لائے۔
lt was narrated from Salih bin Suhaib رضی اللہ عنہ that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are three things in which there is blessing: A sale with deferred payment; Muqaradhah (profit sharing); and mixing wheat with barley for one's house, but not for sale. '
ہم سے حسن بن علی الخلال نے بیان کیا، کہا: ہم سے بشر بن ثابت البزار نے بیان کیا، کہا: ہم سے نصر بن قاسم نے، عبدالرحمٰن بن داؤد سے، صالح بن صہیب رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں برکت ہے: پہلی یہ کہ مقررہ مدت کے وعدے پر بیع کرنے میں، دوسری: مضاربت میں، تیسری: گیہوں اور جو ملانے میں جو کہ گھر کے کھانے کے لیے ہو، نہ کہ بیچنے کے لیے ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: The best of your provision is what you earn, and your children are part of what you earn.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی زیدہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، وہ عمارہ بن عمیر کی سند سے، وہ اپنی خالہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے کھانوں میں سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو تمہارے ہاتھ کی کمائی کا ہو، اور تمہاری اولاد بھی تمہاری ایک قسم کی کمائی ہے ۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما that:
A man said: O Messenger of Allah, I have wealth and a son, and my father wants to take all my wealth. He said: You and your wealth belong to your father.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے یوسف بن اسحاق نے بیان کیا، وہ محمد بن المنکدر کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال اور اولاد دونوں ہیں، اور میرے والد میرا مال ختم کرنا چاہتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے والد کے ہیں ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:
A man came to the Messenger of Allah (ﷺ), and said: 'My father is taking all my wealth.' He said: 'You and your wealth belong to your father.' And the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your children are among the best of your earnings, so eat from your wealth.’”
ہم سے محمد بن یحییٰ اور یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ہمیں حجاج نے عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میرے والد نے میری دولت ختم کر دی ( اس کے بارے میں فرمائیں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
'Hind رضی اللہ عنہا came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, Abu Sufyan is a stingy man and he does not give me enough for me and my child, except for what I take from his wealth without him realizing.' He said: Take what is sufficient for you and your child, on a reasonable basis.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن محمد اور ابو عمر الدار نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے بیان کیا, ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہیں، مجھے اتنا نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو سوائے اس کے جو میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں ( اس کے بارے میں فرمائیں؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مناسب انداز سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When a woman spends and my father said: - When a woman feeds (the poor) from her husband's house, without spending too much, she will have her reward, and he will be rewarded likewise because he earned it , and she will be rewarded for what she spent. The same applies to the storekeeper, without anything being detracted from their rewards.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد اور ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، ابو وائل سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے خرچ کرے ( کی روایت میں خرچ کرے کے بجائے جب عورت کھلائے ہے ) اور اس کی نیت مال برباد کرنے کی نہ ہو تو اس کے لیے اجر ہو گا، اور شوہر کو بھی اس کی کمائی کی وجہ سے اتنا ہی اجر ملے گا، اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے، اور خازن کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کچھ کمی ہو ۔
Shurahbil bin Muslim Al-Khawlani said:
I heard Abu Umamah Al-Bahili رضی اللہ عنہ say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: No woman should spend anything from her house without her husband's permission. They said: O Messenger of Allah, not even food? He said: That is among the best of our wealth.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ان سے شورابیل بن مسلم الخولانی نے بیان کیا، کہا
میں نے ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی کسی کو نہ دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کھانا بھی نہ دے، یہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر مال ہے ۔
It was narrated from Muslim Al-Mula'i that:
He heard Anas bin Malik رضی اللہ عنہ say: The Messenger of Allah (ﷺ) used to accept the invitation of a slave.
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، اور ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، وہ مسلم الملائی کی سند سے
انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلام کی دعوت قبول کرتے تھے۔
It was narrated that 'Umair, the freed slave of Aabi Lahm رضی اللہ عنہما, said:
My master used to give me food and I would feed others from it, then he stopped me, or he said: He beat me. So I asked the Prophet,” -or- he asked him and I said: 'I will not stop.' He said: 'Both of you will be rewarded. '
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے حفص بن غیاث نے محمد بن زید کی سند سے بیان کیا, عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا: انہوں نے مجھے مارا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا اسی مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں نے عرض کیا: میں اس سے باز نہیں آ سکتا، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا ( کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا ۔