It was narrated that Abu Bishr Ja'far bin Abu Iyas said:
“I heard 'Abbad bin Shurahbil رضی اللہ عنہ , a man from Banu Ghubar, say: ‘We suffered a year of famine, and I came to Al-Madinah. I came to one of its gardens and took an ear of corn, I rubbed it, ate some and put the rest in my garment. The owner of the garden came and beat me and took my garment. I came to the Prophet (ﷺ) and told him (what had happened). He said to the man: You did not feed him when he was hungry and you did not teach him when he was ignorant. ' Then the Prophet (ﷺ) told him to give back his garment and ordered that a Wasq or half a Wasq of food be brought to him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ بن سوار نے بیان کیا، اور ہم سے محمد بن بشار اور محمد بن ولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابوبشر جعفر بن أبی ایاس کہتے ہیں
میں نے عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جو بنی غبر کے ایک فرد ہیں کو کہتے سنا کہ ایک سال قحط ہوا تو میں مدینہ آیا، وہاں اس کے باغوں میں سے ایک باغ میں گیا، اور اناج کی ایک بالی اٹھا لی، اور مل کر اس میں سے کچھ کھایا، اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ والے سے کہا: تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا، اور نہ تم نے اس کو تعلیم دی جبکہ یہ جاہل تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کپڑے واپس کرنے اور ساتھ ہی ایک وسق یا نصف وسق غلہ دینے کا حکم دیا ۔
It was narrated that Rafi' bin 'Amr Al-Ghifari رضی اللہ عنہ said:
When I was a boy, I used to throw stones at our date-palm trees [1] - or he said: the date-palm trees of the Ansar. I was brought to the Prophet (ﷺ) and he said: 'O boy' - (one of the narrators) Ibn Kasib said: He said: 'O my son - why are you throwing stones at the date-palm trees?' I said: 'So I can eat.' He said: 'Do not throw stones at the date-palm trees. Eat from what falls to the ground from them.' Then he patted me on the head and said: 'O Allah give him enough to eat.'”
ہم سے محمد بن الصباح اور یعقوب بن حمید بن کاسب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا: میں نے ابن ابی الحکم الغفاری کو کہتے سنا: مجھ سے میری دادی نے اپنے چچا رافع بن عمرو غفاری کی روایت سے کہا:میری دادی نے مجھ سے کہا, رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! ( ابن کاسب کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: میرے بیٹے! ) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو ؟، رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ( کھجور ) کھاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اسے آسودہ کر دے ۔
It was narrated from Abu Sa'eed رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: When you come to a shepherd, call him three times. If he answers (all well and good), otherwise drink (milk from the flock) without taking advantage. And when you come to a garden call the owner of the garden three times. If he answers (all well and good), otherwise eat (from the produce of the garden) without taking advantage.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا: ہم کو الجریری نے ابو نضرہ سے خبر دی ہے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چرواہے کے پاس آؤ تو تین بار اسے آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق بغیر خراب کئے دودھ دوہ کر پی لو، اور جب تم کسی باغ میں آؤ تو باغ والے کو تین بار آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق پھل توڑ کر کھا لو، البتہ خراب مت کرو ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When anyone of you passes by a garden let him eat therefrom, but he should not carry any away in his garment. '
ہم سے ہدیہ بن عبد الوہاب، ایوب بن حسن الواسطی اور علی بن سلمہ نے بیان کیا: ہم سے یحییٰ بن سلم الطائفی نے عبید اللہ بن عمر کی سند سے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی باغ سے گزرے تو ( پھل ) کھائے، اور کپڑے میں نہ باندھے ۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) stood up and said: No one of you should milk from the livestock of another man without his permission. Would anyone of you like someone to break into his storeroom and take his food? The udders of their livestock store food for them, so none of you should milk the livestock of another man without his permission.
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا: ہمیں لیث بن سعد نے نافع کی سند سے خبر دی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: کوئی کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے، کیا کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے بالاخانہ میں کوئی جائے، اور اس کے غلہ کی کوٹھری کا دروازہ توڑ کر غلہ نکال لے جائے؟ ایسے ہی ان کے جانوروں کے تھن ان کے غلہ کی کوٹھریاں ہیں، تو کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“While we were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, we saw some camels with their udders tied, among some thorny trees. We rushed towards it, but the Messenger of Allah (ﷺ) called us and we came back to him. He said: 'These camels belong to a family of Muslims, and this is their support (and blessing) after Allah. Would you be happy if you went back to your vessels and found that what was in them had been taken away? Do you think that is fair?' They said: 'No.' He said: 'This is like that.' We said: 'What do you think if we are in need of food and drink?' He said: 'Eat but do not carry any away: drink but do not carry any away. '
ہم سے اسماعیل بن بشر بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن علی نے حجاج کی سند سے، سلیط بن عبداللہ الطحاوی سے، ذہیل بن عوف بن شماخ الطحوی سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں ہم نے خاردار درختوں کی آڑ میں ایک اونٹنی دیکھی، جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تو اس ہم ( کا دودھ دوہنے کے لیے ) اس کی طرف لپکے، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو آواز دی تو ہم آپ کی طرف پلٹ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹنی کسی مسلمان گھرانے کی ہے، اور یہی ان کی روزی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے بعد یہی ان کے لیے خیر و برکت کی چیز ہے، کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ تم اپنے توشہ دانوں کے پاس واپس آؤ تو جو کچھ ان میں ہے اس سے ان کو خالی پاؤ، کیا تم اس کو انصاف سمجھو گے ؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس یہ بھی ایسا ہی ہے ، ہم نے عرض کیا: اگر ہم کھانے پینے کے حاجت مند ہوں تو کیا تب بھی یہی حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ایسی حالت میں ) کھا پی لو لیکن اٹھا کر نہ لے جاؤ ۔
It was narrated from Umm Hani' رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) said to her: Keep sheep, for in them is blessing!'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم بکریاں پالو، اس لیے کہ ان میں برکت ہے ۔
It was narrated that 'Urwah Al-Bariqi said in a Marfu’ report:
Camels are the pride of their owners, and sheep are a blessing, and goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، ان سے حصین نے، وہ عامر سے، انہوں نے عروہ بارقی سے روایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اونٹ ان کے مالکوں کے لیے قوت کی چیز ہے، اور بکریاں باعث برکت ہیں، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے بھلائی بندھی ہے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Sheep are among the animals of Paradise. '
ہم سے اسماء بن الفضل النیسابوری اور محمد بن فراس ابو ہریرہ الصیرفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ہشام بن حسن کی مسجد کے امام غربی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سیرین محمد نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) commanded the rich to keep sheep, and he commanded the poor to keep chickens, and he said: 'When the rich keep chickens, then Allah will give permission for the town to be destroyed. '
ہم سے محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ہم سے علی بن عروہ نے مقبوری کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالدار لوگوں کو بکریاں اور محتاج لوگوں کو مرغیاں رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا ہے: جب مالدار مرغیاں پالنے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بستی کو تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے ۔