It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Traveling is a kind of torment, it keeps anyone of you from his sleep, food and drink. When anyone of you has fulfilled the purpose for which he traveled, let him hasten to return to his family.”
ہم سے ہشام بن عمار، ابو مصعب الزہری اور سوید بن سعید نے بیان کیا: ہم سے مالک بن انس نے ابو صالح الثمان کی سند سے ابو بکر بن عبدالرحمٰن کے آزاد کردہ غلام سمی کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے ( کی سہولتوں ) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کر لے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that Fadl رضی اللہ عنہم said – or vice verse:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever intends to perform Hajj, let him hasten to do so, for he may fall sick, lose his mount, or be faced with some need.’”
ہم سے علی بن محمد اور عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے بیان کیا: ہم سے اسماعیل ابو اسرائیل نے فضیل بن عمرو سے، سعید بن جبیر سے، عبداللہ بن عباس، فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں یا ان میں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کا قصد کرے تو اسے جلدی سے انجام دے لے، اس لیے کہ کبھی آدمی بیمار پڑ جاتا ہے یا کبھی کوئی چیز گم ہو جاتی ہے، ( جیسے سواری وغیرہ ) یا کبھی کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے ۔
It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
“When the following was revealed: “And Hajj (pilgrimage to Makkah) to the House (Ka’bah) is a duty that mankind owes to Allah, for whoever can bear the way.” [3:97] They asked: ‘O Messenger of Allah, is Hajj every year?’ He remained silent. They asked: ‘Is it every year?’ He said: ‘No. If I had said yes, it would have become obligatory.’ Then the following was revealed: “O you who believe! Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble.’” [5:101]
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے منصور بن وردان نے بیان کیا , ہم سے علی بن عبد الاعلی نے اپنے والد سے اور ابو البختری کی سند سے بیان کیا, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت کریمہ: «ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا» اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہوں ( سورۃ آل عمران: ۹۷ ) نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، لوگوں نے پھر سوال کیا: کیا ہر سال حج فرض ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں، ہاں، کہہ دیتا تو ( ہر سال ) واجب ہو جاتا ، اس پر آیت کریمہ: «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» اے ایمان والو! تم ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہارے لیے بار خاطر ہوں گی ( سورۃ المائدہ: ۱۰۱ ) نازل ہوئی ۔
It was narrated that Anas bin Malik said:
“They said: ‘O Messenger of Allah, is Hajj (required) every year?’ He said: ‘If I were to say yes, it would have become obligatory, and if it were to become obligatory, you would not (be able to) do it, and if you did not do it you would be punished.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن ابی عبیدہ نے بیان کیا، وہ اپنے والد سے، انہوں نے العمش سے اور ابو سفیان سے,انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اگر میں ہاں کہہ دوں تو وہ ( ہر سال ) واجب ہو جائے گا، اور اگر ( ہر سال ) واجب ہو گیا تو تم اسے انجام نہ دے سکو گے، اور اگر انجام نہ دے سکے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
Aqra’ bin Habis رضی اللہ عنہ asked the Prophet (ﷺ): “O Messenger of Allah, is Hajj (required) every year, or just once” He said: “Rather it is just once. And whoever can perform Hajj voluntarily, let him do so.”
ہم سے یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں سفیان بن حسین نے، زہری کی سند سے اور ابو سنان کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے، یا صرف ایک بار ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف ایک مرتبہ فرض ہے، البتہ جو ( مزید کی ) استطاعت رکھتا ہو تو وہ اسے بطور نفل کرے ۔
It was narrated from ‘Umar رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Perform Hajj and ‘Umrah, one after the other, for performing them one after the other removes poverty and sin as the bellows removes impurity from iron.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، عاصم بن عبید اللہ سے اور عبداللہ بن عامر کی سند سے, عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “From one ‘Umrah to another is an expiation for the sins that came in between them, and Hajj Mabrur (an accepted Hajj) brings no less a reward than Paradise.”
ہم سے ابو مصعب نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، وہ ابو صالح السمان کی سند سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے آزاد کردہ غلام سمی سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرے سے دوسرے عمرے تک جتنے گناہ ہوں ان سب کا کفارہ یہ عمرہ ہوتا ہے، اور حج مبرور ( مقبول ) کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ اور نہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever performs Hajj to this House, and does not have sexual relations nor commit any disobedience, will go back like the day his mother bore him.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے مسعر اور سفیان سے، منصور نے ابوحازم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس گھر ( کعبہ ) کا حج کیا، اور نہ ( ایام حج میں ) جماع کیا، اور نہ گناہ کے کام کئے، تو وہ اس طرح واپس آئے گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) performed Hajj on an old saddle, wearing a cloak that was worth four Dirham or less. Then he said: ‘O Allah, a Hajj in which there is no showing off nor reputation sought.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ربیع بن صبیح نے یزید بن ابان کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پرانے کجاوے پر سوار ہو کر ایک ایسی چادر میں حج کیا جس کی قیمت چار درہم کے برابر رہی ہو گی، یا اتنی بھی نہیں، پھر فرمایا: اے اللہ! یہ ایسا حج ہے جس میں نہ ریا کاری ہے اور نہ شہرت ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) between Makkah and Al-Madinah, and we passed through a valley. He said: ‘What valley is this?’ They said: ‘Azraq Valley.’ He said: ‘It is as if I can see Musa (as) – and he mentioned something about the length of his hair, which Dawud (one of the narrators) did not remember – ‘putting his fingers in his ears and raising his voice to Allah reciting the Talbiyah, passing through this valley.’ Then we traveled on until we came to a narrow pass, and he said: ‘What pass is this?’ They said: ‘Thaniyyat Harsha’ or ‘Laft.’ He said: ‘It is as if I can see Yunus, on a red she-camel, wearing a woollen cloak and holding the reins of his she-camel, woven from palm fibres, passing through this valley, reciting the Talbiyah.’”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، انہوں نے داؤد بن ابی ہند کی سند سے اور ابو العالیہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: وادی ازرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے بالوں کی لمبائی کا تذکرہ کیا ( جو راوی داود کو یاد نہیں رہا ) اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالے ہوئے بلند آواز سے، لبیک کہتے ہوئے، اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس وادی سے گزرے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: «هرشى أو لفت» کی وادی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں جو بالوں کا جبہ پہنے ہوئے، سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے پتوں کی رسی کی ہے، اور وہ اس وادی سے لبیک کہتے ہوئے گزر رہے ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The pilgrims performing Hajj and ‘Umrah are a delegation to Allah. If they call upon Him, He will answer them; and if they ask for His forgiveness, He will forgive them.”
ہم سے ابراہیم بن المنذر الحزامی نے بیان کیا، ہم سے بنو عامر کے آزاد کردہ غلام صالح بن عبداللہ بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یعقوب بن یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن الزبیر نے ابو صالح السمان کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجاج اور معتمرین ( حج اور عمرہ کرنے والے ) اللہ کے وفد ( مہمان ) ہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے، اور اگر وہ اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں تو وہ انہیں معاف کر دیتا ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “The one who fights in the cause of Allah, and the pilgrim performing Hajj and ‘Umrah are a delegation to Allah. He invited them, so they responded to Him, and they ask Him and He gives to them.”
ہم سے محمد بن طریف نے بیان کیا، کہا ہم سے عمران بن عیینہ نے بیان کیا، عطا بن سائب نے مجاہد کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہ (from ‘Umar) that:
He asked the Prophet (ﷺ) for permission to perform ‘Umrah, and he gave him permission and said to him: “O younger brother, give us a share of your supplication, and do not forget us.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، عاصم بن عبید اللہ سے، سلیم کی سند سے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے, عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی، اور ان سے فرمایا: اے میرے بھائی! ہمیں بھی دعاؤں میں شریک رکھنا، اور ہمیں نہ بھولنا ۔
It was narrated from Safwan bin ‘Abdullah bin Safwan رضی اللہ عنہ said that:
He was married to a daughter of Abu Darda’ رضی اللہ عنہ . He came to her and found Umm Darda’ there, but he did not find Abu Darda’. She said to him: “Do you intend to perform Hajj this year?” He said: “Yes.” She said: “Pray to Allah for us to grant us goodness, for the Prophet (ﷺ) used to say: ‘The supplication of a man for his brother in his absence will be answered. By his head there is an angel who says Amin to his supplication, and every time he prays for his brother, he says: “Amin, and the same for you.’” He said: “Then I went out to the marketplace where I met Abu Darda’, and he told me something similar from the Prophet (ﷺ).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے عبد الملک بن ابی سلیمان سے اور ابو الزبیر کی سند سے, صفوان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ان کی زوجیت میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں، وہ ان کے پاس گئے، وہاں ام الدرداء یعنی ساس کو پایا، ابو الدرداء کو نہیں، ام الدرداء نے ان سے پوچھا: کیا تمہارا امسال حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، تو انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنا، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: آدمی کی وہ دعا جو وہ اپنے بھائی کے لیے اس کے غائبانے میں کرتا ہے قبول کی جاتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کی دعا پر آمین کہتا ہے، جب وہ اس کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو وہ آمین کہتا ہے، اور کہتا ہے: تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو ۔ صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں بازار کی طرف چلا گیا، تو میری ملاقات ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے بھی مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“A man stood up and said to the Prophet (ﷺ): ‘O Messenger of Allah! What makes Hajj obligatory?’ He said: ‘Provision and a mount.’ He said: ‘O Messenger of Allah, what is the (real) Hajj?’ He said: ‘The one with disheveled hair and no perfume.’ Another (man) stood up and said: ‘O Messenger of Allah, what is the (real) Hajj?’ He said: ‘Raising one’s voice and slaughtering the sacrificial animal.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا اور ہم سے علی بن محمد اور عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن یزید مکی نے بیان کیا، وہ محمد بن عباد بن جعفر المخزومی کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی چیز حج کو واجب کر دیتی ہے،؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: زاد سفر اور سواری ( کا انتظام ) اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! حاجی کیسا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پراگندہ سر اور خوشبو سے عاری ایک دوسرا شخص اٹھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عج» اور «ثج» ۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عج» کا مطلب ہے لبیک پکارنا، اور «ثج» کا مطلب ہے خون بہانا یعنی قربانی کرنا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Provision and a mount,” meaning, about Allah’s saying: “Whoever can bear the way.” [3:97]
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشام بن سلیمان القرشی نے ابن جریج کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: انہوں نے مجھے ابن عطاء کی سند سے، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے فرمان: «من استطاع إليه سبيلا» کا مطلب زاد سفر اور سواری ہے ۔
It was narrated from Abu Sa’eed رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No woman should travel the distance of three days or more, unless she is with her father, brother, son, husband or a Mahram.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے الاعمش نے بیان کیا، ابوصالح کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت تین یا اس سے زیادہ دنوں کا سفر باپ یا بھائی یا بیٹے یا شوہر یا کسی محرم کے بغیر نہ کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel for more than one day’s distance without a Mahram.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے شبابہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی ذہب کی سند سے اور سعید مقبری کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ درست نہیں ہے کہ وہ ایک دن کی مسافت کا سفر کرے، اور اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“A Bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘I have enlisted for such and such a military campaign and my wife is going for Hajj.’ He said: ‘Go back with her.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ انہوں نے ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ابو معبد کو سنا,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں جانے کے لیے درج کر لیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جاؤ اس کے ساتھ حج کرو ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, is Jihad obligatory for women?’ He said: “Yes: Upon them is a Jihad in which there is no fighting: Al-Hajj and Al-‘Umrah.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، انہوں نے حبیب بن ابی عمرہ سے اور عائشہ بنت طلحہ رضی اللہ عنہا سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن ان پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں ہے اور وہ حج اور عمرہ ہے ۔