It was narrated from Abu Dharr Al-Ghifari رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Indifference towards this world does not mean forbidding what is permitted, or squandering wealth, rather indifference towards this world means not thinking that what you have in your hand is more reliable than what is in Allah’s Hand, and it means feeling that the reward for a calamity that befalls you is greater than that which the calamity makes you miss out on.’” Hisham said: "Abu Idris Al-Khawani said: 'The likeness of this Hadith compared to other Ahadith is like that of pure gold compared to ordinary gold.'"
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن واقد القرشی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن میسرہ بن حلبس نے بیان کیا، وہ ابو ادریس خولانی کی سند سے, ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں زہد آدمی کے حلال کو حرام کر لینے، اور مال کو ضائع کرنے میں نہیں ہے، بلکہ دنیا میں زہد ( دنیا سے بے رغبتی ) یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور دنیا میں جو مصیبت تم پر آئے تو تم اس پر خوش ہو بہ نسبت اس کے کہ مصیبت نہ آئے، اور آخرت کے لیے اٹھا رکھی جائے ۔ ہشام کہتے ہیں: کہ ابوادریس خولانی کہتے تھے کہ حدیثوں میں یہ حدیث ایسی ہے جیسے سونے میں کندن۔
It was narrated that Abu Khallad رضی اللہ عنہ , who was one of the Companions of the Prophet (ﷺ), said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If you see a man who has been given indifference with regard to this world and who speaks little, then draw close to him for he will indeed offer wisdom.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے الحکم بن ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ابو فروہ کی سند سے, ابوخلاد رضی اللہ عنہ جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو دنیا کی طرف سے بے رغبت ہے، اور کم گو بھی تو اس سے قربت اختیار کرو، کیونکہ وہ حکمت و دانائی کی بات بتائے گا ۔
It was narrated that Sahl bin Sa’d As-Sa’idi رضی اللہ عنہ said:
“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, show me a deed which, if I do it, Allah will love me and people will love me. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Be indifferent towards this world, and Allah will love you. Be indifferent to what is in people’s hands, and they will love you.”
ہم سے ابو عبیدہ بن ابی السفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عمرو قرشی نے بیان کیا، سفیان ثوری نے ابو حازم کی سند سے, سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے میں کروں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے، اور لوگ بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے بے رغبتی رکھو، اللہ تم کو محبوب رکھے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، تو لوگ تم سے محبت کریں گے ۔
It was narrated from Abu Wa’il that:
A man from his people – Samurah bin Sahm – said: “We stopped with Abu Hashim bin ‘Utbah رضی اللہ عنہ , who had been stabbed, and Mu’awiyah رضی اللہ عنہ came to visit him. Abu Hashim رضی اللہ عنہ wept and Mu’awiyah رضی اللہ عنہ said to him: ‘Why are you weeping, O maternal uncle? Is there some pain bothering you, or is it because of this world, the best of which has already passed?’ He said: ‘It is not for any of these reasons. But the Messenger of Allah (ﷺ) gave me some advice and I wish that I had followed it. He (ﷺ) said: “There may come a time when you will see wealth divided among the people, and all you will need of that is a servant and a mount to ride in the cause of Allah.” That time came, but I accumulated wealth.’”
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو جریر نے منصور کی سند سے اور ابووائل کی سند سے
سمرہ بن سہم سے روایت ہے کہ ان کے قبیلے کے ایک آدمی نے کہا:میں ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ برچھی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے، معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کو آئے تو ابوہاشم رضی اللہ عنہ رونے لگے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ماموں جان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا درد کی شدت سے رو رہے ہیں یا دنیا کی کسی اور وجہ سے؟ دنیا کا تو بہترین حصہ گزر چکا ہے، ابوہاشم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نصیحت کی تھی، کاش! میں اس پر عمل کئے ہوتا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: شاید تم ایسا زمانہ پاؤ، جب لوگوں کے درمیان مال تقسیم کیا جائے، تو تمہارے لیے اس میں سے ایک خادم اور راہ جہاد کے لیے ایک سواری کافی ہے، لیکن میں نے مال پایا، اور جمع کیا ۔
It was narrated from Thabit that Anas رضی اللہ عنہ said:
“Salman رضی اللہ عنہ felt sick and Sa’d رضی اللہ عنہ came to visit him, and when he saw him he wept. Sa’d رضی اللہ عنہ said to him: ‘Why are you weeping, my brother? Are you not a Companion of the Messenger of Allah (ﷺ)? Are you not? Are you not?’ Salman رضی اللہ عنہ said: ‘I am only weeping for one reason: I am not weeping because of longing for this world or for dislike of the Hereafter. But the Messenger of Allah (ﷺ) gave me some advice and I think that I have transgressed.’ He said: ‘What was his advice to you?’ He said: ‘He advised me that something like the provision of a rider is sufficient for anyone of you, and I think that I have transgressed that. As for you, O Sa’d, fear Allah when you pass a verdict, and when you distribute (spoils of war), and when you decide to do anything.’” Thabit said: "I heard that he only left behind twenty-odd Dirham, from the expenses that he had."
ہم سے حسن بن ابی الربیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہم سے جعفر بن سلیمان نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے آئے اور ان کو روتا ہوا پایا، سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے بھائی آپ کس لیے رو رہے ہیں؟ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض نہیں اٹھایا؟ کیا ایسا نہیں ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے؟ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان دونوں میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا، نہ تو دنیا کی حرص کی وجہ سے اور نہ اس وجہ سے کہ آخرت کو ناپسند کرتا ہوں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نصیحت کی تھی، جہاں تک میرا خیال ہے میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے، سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا نصیحت تھی؟ سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: تم میں سے کسی کے لیے بھی دنیا میں اتنا ہی کافی ہے جتنا کہ مسافر کا توشہ، لیکن میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے، اے سعد! جب آپ فیصلہ کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، جب کچھ تقسیم کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، اور جب کسی کام کا قصد کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر کرنا۔ ثابت ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ مجھے پتہ چلا کہ سلمان رضی اللہ عنہ نے بیس سے چند زائد درہم کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑا، وہ بھی اپنے خرچ میں سے۔
‘Abdur-Rahman bin Aban bin ‘Uthman bin ‘Affan narrated that his father said:
“Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ departed from Marwan at mid-day. I said: ‘He has not sent him out at this time of the day except for something he asked.’ So I asked him, and he said: ‘He asked me about some things we heard from the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Whoever is focused only on this world, Allah will confound his affairs and make him fear poverty constantly, and he will not get anything of this world except that which has been decreed for him. Whoever is focused on the Hereafter, Allah will settle his affairs for him and make him feel content with his lost, and his provision and worldly gains will undoubtedly come to him.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، عمر بن سلیمان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن ابان بن عثمان بن عفان کو اپنے والد سے سنا، انہوں نے کہا
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مروان کے پاس سے ٹھیک دوپہر کے وقت نکلے، میں نے کہا: اس وقت مروان نے ان کو ضرور کچھ پوچھنے کے لیے بلایا ہو گا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مروان نے ہم سے کچھ ایسی چیزوں کے متعلق پوچھا جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: جس کو دنیا کی فکر لگی ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو پراگندہ کر دے گا، اور محتاجی کو اس کی نگاہوں کے سامنے کر دے گا، جب اس کو دنیا سے صرف وہی ملے گا جو اس کے حصے میں لکھ دیا گیا ہے، اور جس کا مقصود آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو ٹھیک کر دے گا، اس کے دل کو بے نیازی عطا کرے گا، اور دنیا اس کے پاس ناک رگڑتی ہوئی آئے گی ۔
‘Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“I heard your Prophet (ﷺ) say: ‘Whoever focuses all his concerns on one thing, the Hereafter, Allah will relieve him of worldly concerns, but whoever has disparate concerns scattered among a number of worldly issues, Allah will not care in which of its valleys he died.’”
ہم سے علی بن محمد اور حسین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا: ہم سے عبداللہ بن نمیر نے معاویہ الناصری کی سند سے، نہشال کی سند سے، ضحاک کی سند سے, اسود بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
میں نے تمہارے محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے سارے غموں کو آخرت کا غم بنا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے غم کے لیے کافی ہے، اور جو دنیاوی معاملات کے غموں اور پریشانیوں میں الجھا رہا، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوا ۔
(Abu) Khalid Al-Walibi narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ and he (one of the narrators) said:
“I do not know except that he attributed it to the Prophet (ﷺ)” – “Allah says: ‘O son of Adam, devote yourself to My worship, and I will fill your heart with contentment and take care of your poverty; but if you do not do that, then I will fill your heart with worldly concerns and will not take care of your poverty.’”
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن داؤد نے، عمران بن زایدہ سے، اپنے والد سے اور ابو خالد الوالیبی کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا ۔
Mustawrid رضی اللہ عنہ , a brother of Banu Fihr, said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘The likeness of this world in comparison to the Hereafter is that of anyone of you dipping his finger into the sea: let him see what he brings forth.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد اور محمد بن بشر نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا:مستورد رضی اللہ عنہ (جو بنی فہر کے ایک فرد تھے) کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، اور پھر دیکھے کہ کتنا پانی اس کی انگلی میں واپس آتا ہے ۔
It was narrated that ‘Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) lay down on a reed mat, and it left marks on his skin. I said: ‘May my father and mother be ransomed for you, O Messenger of Allah! If you had told us we would have provided you with something that would save you this trouble.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘What is there between myself and the world? This world and I are just like a rider who stops to rest beneath the shade of a tree then goes and leaves it.’”
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعودی نے بیان کیا، مجھے عمرو بن مرہ نے ابراہیم کی سند سے، وہ علقمہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے تو آپ کے بدن مبارک پر اس کا نشان پڑ گیا، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں حکم دیتے تو ہم آپ کے لیے اس پر کچھ بچھا دیتے، آپ اس تکلیف سے بچ جاتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو دنیا میں ایسے ہی ہوں جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے میں آرام کرے، پھر اس کو چھوڑ کر وہاں سے چل دے ۔
It was narrated that Sahl bin Sa’d رضی اللہ عنہ said:
“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in Dhul-Hulaifah, when we saw a dead sheep lifting its leg (because of bloating). He said: ‘Don’t you think this is worthless to its owner? By the One in Whose hand is my soul, this world is more worthless to Allah than this (dead sheep) is to its owner. If this world was worth the wing of a mosquito to Allah, the disbeliever would not have a drop to drink from it.’”
ہم سے ہشام بن عمار، ابراہیم بن المنذر الحزامی اور محمد الصباح نے بیان کیا: ہم سے ابو یحییٰ زکریا بن منظور نے بیان کیا: ہم سے ابو حازم نے بیان کیا, سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذو الحلیفہ میں تھے کہ وہاں ایک مردہ بکری اپنے پاؤں اٹھائے ہوئے پڑی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو کیا تم یہ جانتے ہو کہ یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک ذلیل و بے وقعت ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک بے قیمت ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ بے وقعت ہے، اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ اس سے کافر کو ایک قطرہ بھی نہ چکھاتا ۔
Mustawrid bin Shaddad رضی اللہ عنہ said:
“I was riding with the Messenger of Allah (ﷺ) when he came across a dead lamb that had been thrown out.’ He said: ‘Don’t you think that this is worthless to its owners?’ It was said: ‘O Messenger of Allah, it is because it is worthless that they have thrown it out, - or words to that effect. He said: ‘By the One in Whose Hand is my soul, this world is more worthless to Allah than this is to its owners.’”
ہم سے یحییٰ بن حبیب بن عربی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے مجالد بن سعید ہمدانی نے قیس بن ابی حازم ہمدانی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا:مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک قافلے میں تھا کہ آپ بکری کے ایک پڑے ہوئے مردہ بچے کے پاس آئے، اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بے وقعت ہے ؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس کی بے وقعتی ہی کی وجہ سے اس کو یہاں ڈالا گیا ہے، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہے جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بے وقعت ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: ‘This world is cursed and what is in it is cursed, except the remembrance of Allah (dhikr) and what is conducive to that, or one who has knowledge or who acquires knowledge.’”
ہم سے علی بن میمون الرقی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوخالد عتبہ بن حماد الدمشقی نے ابن ثوبان سے، عطاء بن قرہ سے، عبداللہ بن ضمرہ السلولی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا:ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کی یاد کے، اور اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، یا عالم کے یا متعلم کے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “This world is a prison for the believer and a paradise for the disbeliever.’”
ہم سے ابو مروان محمد بن عثمان العثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا مومن کا جیل اور کافر کی جنت ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) took hold of some part of my body and said: ‘O ‘Abdullah, be in this world like a stranger, or one who is passing through, and consider yourself as one of the people of the graves.’”
ہم سے یحییٰ بن حبیب بن عربی نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد بن زید نے لیث کی سند سے اور مجاہد کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم کا بعض حصہ ( کندھا ) تھاما اور فرمایا: عبداللہ! دنیا میں ایسے رہو گویا تم اجنبی ہو یا مسافر، اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو ۔
It was narrated from Mu’adh bin Jabal رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Shall I not tell you about the kings of Paradise?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘A weak and oppressed man who wears tattered clothes and is not paid any heed. If he swears (an oath) by Allah, Allah fulfills it.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا: ہم سے سوید بن عبد العزیز نے بیان کیا، انہوں نے زید بن واقد سے، وہ بسر بن عبید اللہ سے اور ابو ادریس خولانی کی سند سے, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو جنت کے بادشاہوں کے بارے میں نہ بتا دوں ؟ میں نے کہا: جی ہاں، بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کمزور و ناتواں شخص دو پرانے کپڑے پہنے ہو جس کو کوئی اہمیت نہ دی جائے، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم ضرور پوری کرے ۔
Harithah bin Wahb رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Shall I not tell you about the people of Paradise? Every weak and oppressed one. Shall I not tell you about the people of Hell? Every harsh, haughty and arrogant one.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے معبد بن خالد سے بیان کیا، کہا: حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر وہ کمزور اور بے حال شخص جس کو لوگ کمزور سمجھیں، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ سخت مزاج، پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھنے، اور تکبر کرنے والا ۔
It was narrated from Abu Umamah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The one who most deserved to be envied, un my view, is the one who has the least burden, who prays a great deal and finds joy in prayer, and who is unknown among people and is not paid any heed. His provision will be sufficient, he will be content with it, his death will come quickly, his estate will be small and his mourners will be few.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن ابی سلمہ نے بیان کیا، وہ صدقہ بن عبداللہ سے، وہ ابراہیم بن مرہ سے اور ایوب بن سلیمان سے, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مومن ہے، جو مال و دولت آل و اولاد سے ہلکا پھلکا ہو، جس کو نماز میں راحت ملتی ہو، لوگوں میں گم نام ہو، اور لوگ اس کی پرواہ نہ کرتے ہوں، اس کا رزق بس گزر بسر کے لیے کافی ہو، وہ اس پر صبر کرے، اس کی موت جلدی آ جائے، اس کی میراث کم ہو، اور اس پر رونے والے کم ہوں ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Abi Umamah Al-Harithi رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Simplicity is part of faith.’” He (the narrator) said: Simplicity means an ascetic and rough life.
ہم سے کثیر بن عبید الحمصی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب بن سوید نے اسامہ بن زید سے، عبداللہ بن ابی امامہ حارثی سے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے ایمان کا ایک حصہ ہے، سادگی بے جا تکلف کے معنی میں ہے، یعنی زیب و زینت و آرائش سے گریز کرنا.
It was narrated from Asma’ bint Yazid رضی اللہ عنہا that:
She heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Shall I not tell you of the best of you?” They said: “Yes, O Messenger of Allah.” He said: “The best of you are those who, when they are seen, Allah the Mighty, the Majestic, is remembered.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا، انہوں نے ابن خثیم کی سند سے اور شہر بن حوشب کی سند سے, اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کیا میں تم کو یہ نہ بتا دوں کہ تم میں بہترین لوگ کون ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: ضرور، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ یاد آئے ۔