It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) was more modest than a virgin in her chamber. If he disliked something, that could be seen in his face.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے، قتادہ کی سند سے، انہوں نے انس بن مالک کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن ابی عتبہ کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باپردہ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، اور جب آپ کو کوئی چیز ناگوار لگتی تو آپ کے چہرے پر اس کا اثر ظاہر ہو جاتا تھا۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every religion has its distinct characteristic, and the distinct characteristic of Islam is modesty.”
ہم سے اسماعیل بن عبد اللہ الرقی نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے معاویہ بن یحییٰ سے اور زہری کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every religion has its distinct characteristic, and the distinct characteristic of Islam is modesty.’”
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن محمد وراق نے بیان کیا، کہا ہم سے صالح بن حسان نے بیان کیا، وہ محمد بن کعب القرظِی کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے، اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے ۔
It was narrated from ‘Uqbah bin ‘Amr, Abu Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Among the words that people learned from the earlier Prophets are: ‘If you feel no shame, then do as you wish.’”
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، کہا: ہم سے جریر نے منصور کی سند سے، ربیع بن حراش سے، عقبہ بن عمرو ابو مسعود رضی اللہ عنہ کی سند سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ کلام نبوت میں سے جو باتیں لوگوں کو ملی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تم میں حیاء نہ ہو تو جو چاہے کرو ۔
It was narrated from Abu Bakrah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Modesty is part of faith, and faith will be in Paradise. Obscenity in speech is part of harshness and harshness will be in Hell.’”
ہم سے اسماعیل بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشیم نے منصور سے اور حسن کی سند سے بیان کیا, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء ایمان سے ہے، اور ایمان کا بدلہ جنت ہے، اور فحش گوئی «جفا» ( ظلم و زیادتی ) ہے اور «جفا» ( ظلم زیادتی ) کا بدلہ جہنم ہے ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is never any obscenity in a thing, but it mars it, and there is never any modesty in a thing, but it adorns it.”
ہم سے حسن بن علی الخلال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، ہم کو معمر نے، ثابت کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بےحیائی جس چیز میں بھی ہو اس کو عیب دار بنا دے گی، اور حیاء جس چیز میں ہو اس کو خوبصورت بنا دے گی ۔
It was narrated from Sahl bin Mu’adh bin Anas رضی اللہ عنہ , from his father, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever restrains his anger when he is able to implement it, Allah will call him before all of creation on the Day of Resurrection, and will give him his choice of any houri that he wants.”
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، وہ ابو مرحم کے واسطہ سے، سہل بن معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے، وہ اپنے والد سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غصے پر قابو پا لیا اس حال میں کہ وہ اس کے کر گزرنے پر قادر تھا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا، اور اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے اپنے لیے چن لے ۔
Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“We were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: ‘The delegations of ‘Abdul-Qais have come to you,’ and no one had seen anyone. While we were like that, they came and alighted. They came to the Messenger of Allah (ﷺ) and Ashajj ‘Ansari was left behind. He came afterwards, and halted at the halting-place, made his she-camel kneel down, and changed of his traveling clothes, then he came to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘O Ashajj, you have two characteristics that Allah likes: Forbearance and deliberation.’ He said: ‘O Messenger of Allah, was I born with them or are they acquired?’ He said: ‘No, rather it is something that you were born with.’”
ہم سے ابو کریب محمد بن العلاء الہمدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن دینار شیبانی نے بیان کیا، وہ عمرہ العبدی کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس قبیلہ عبدالقیس کے وفود آئے ہیں، اور کوئی اس وقت نظر نہیں آ رہا تھا، ہم اسی حال میں تھے کہ وہ آ پہنچے، اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، اشج عصری رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے، وہ بعد میں آئے، ایک مقام پر اترے، اپنی اونٹنی کو بٹھایا، اپنے کپڑے ایک طرف رکھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اشج! تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے: ایک تو حلم و بردباری، دوسری طمانینت و سہولت، اشج رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صفات میری خلقت میں ہے یا نئی پیدا ہوئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ پیدائشی ہیں ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said to Ashajj ‘Ansari رضی اللہ عنہ : “You have two characteristics that Allah likes: Forbearance and modesty.”
ہم سے ابو اسحاق ہروی نے بیان کیا، کہا ہم سے عباس بن الفضل انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو جمرہ نے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج انصاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں: ایک حلم اور دوسری حیاء ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no gulp that brings greater reward with Allah than a gulp of anger that a man swallows (suppresses), seeking thereby the Face of Allah.”
ہم سے زید بن اخزم نے بیان کیا، ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، وہ یونس بن عبید کی سند سے، انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی گھونٹ پینے کا ثواب اللہ تعالیٰ کے یہاں اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے غصہ کا گھونٹ پینے کا ہے ۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “I see what you do not see, and I hear what you do not hear. The heaven is creaking and it should creak, for there is no space in it the width of four fingers but there is an angel there, prostrating to Allah. By Allah, if you knew what I know, you would laugh little and weep much, and you would never enjoy women in your beds, and you would go out in the streets, beseeching Allah.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبید اللہ بن موسیٰ نے خبر دی، کہا: ہمیں اسرائیل نے ابراہیم بن مہاجر کی سند سے، مجاہد کی سند سے اور مورق العجلی کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، اور سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے، بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کو حق ہے کہ وہ چرچرائے، اس میں چار انگل کی بھی کوئی جگہ نہیں ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور سجدے میں رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور تم بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوتے، اور تم میدانوں کی طرف نکل جاتے اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے ، اللہ کی قسم! میری تمنا ہے کہ میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If you knew what I know, you would laugh little and weep much.”
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
‘Amir bin ‘Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہما narrated that his father told him that:
There was no more than four years between their becoming Muslim and the revelation of this Verse, by which Allah reprimanded them: “Lest they become as those who received the Scripture before, and the term was prolonged for them and so their hearts were hardened? And many of them were rebellious.” [57:16]
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی فدیک نے بیان کیا، انہیں موسیٰ بن یعقوب الزمعی نے، انہوں نے ابوحازم کی سند سے، کہ انہیں عامر بن عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے خبر دی
ان کے اسلام اور اس آیت «ولا يكونوا كالذين أوتوا الكتاب من قبل فطال عليهم الأمد فقست قلوبهم وكثير منهم فاسقون» اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتاب عطا کی گئی، ان پر مدت طویل ہو گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ( سورة الحديد: 16 ) کے نزول کے درمیان جس میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا ہے صرف چار سال کا وقفہ ہے ۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Do not laugh a lot, for laughing a lot deadens the heart.”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر الحنفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الحمید بن جعفر نے بیان کیا، وہ ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ نہ ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے ۔
It was narrated that ‘Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) said to me: ‘Recite Qur’an to me,’ so I recited Surat An-Nisa’ to him, and when I reached (the Verse): “How (will it be) then, when We bring forth from each nation a witness and We bring you as a witness against these people?” [4:41] I looked at him, and his eyes were filled with tears.”
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحوص نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، وہ علقمہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے سامنے قرآن کی تلاوت کرو ، تو میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» تو اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور پھر ہم تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے ( سورة النساء: 41 ) پر پہنچا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔
It was narrated that Bara’ رضی اللہ عنہ said:
“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at a funeral, and he sat at the edge of the grave weeping, until the ground became wet. Then he said: ‘O my brothers, prepare yourselves for something like this.’”
ہم سے القاسم بن زکریا بن دینار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابورجاہ خراسانی نے بیان کیا، وہ محمد بن مالک کی سند سے, براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازے میں تھے، آپ قبر کے کنارے بیٹھ گئے، اور رونے لگے یہاں تک کہ مٹی گیلی ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائیو! اس جیسی کے لیے تیاری کر لو ۔
It was narrated from Sa’d bin Abu Waqqas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Weep, and if you cannot weep then pretend to weep.”
ہم سے عبداللہ بن احمد بن بشیر بن ذکوان الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو رافع نے بیان کیا، وہ ابن ابی ملیکہ کی سند سے، وہ عبدالرحمٰن بن سائب کی سند سے, سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم رویا کرو، اگر رونا نہ آئے تو تکلف کر کے رؤو ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no believing slave who sheds tears, even if they are like the head of a fly, out of fear of Allah, and they roll down his cheeks, but Allah will forbid him to the Fire.”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی اور ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حماد بن ابی حمید الزرقی نے عون بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مومن کی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے آنسو بہہ نکلیں، خواہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، پھر وہ اس کے رخساروں پر بہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دے گا ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, ‘And those who give that (their charity) which they give (and also do other good deeds) with their hearts full of fear.” [23:60] Is this the one who commits adultery, steals and drinks alcohol?’ He said: ‘No, O daughter of Abu Bakr’ – O daughter of Siddiq – rather it is a man who fasts and gives charity and prays, but he fears that those will not be accepted from him.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، مالک بن مغول سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعید ہمدانی کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے کہا: اللہ کے رسول! «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ( سورة الومنون: 60 ) سے کیا وہ لوگ مراد ہیں جو زنا کرتے ہیں، چوری کرتے ہیں اور شراب پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں: ابوبکر کی بیٹی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزے رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے، اور نماز پڑھتا ہے، اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کا یہ عمل قبول نہ ہو ۔
Mu’awiyah bin Abu Sufyan رضی اللہ عنہما said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Deeds are like vessels. If the lower part is good then the upper part will be good, and if the lower part is bad then the upper part will be bad.’”
ہم سے عثمان بن اسماعیل بن عمران الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر نے بیان کیا، مجھ سے ابوعبدالرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال برتن کی طرح ہیں، جب اس میں نیچے اچھا ہو گا تو اوپر بھی اچھا ہو گا، اور جب نیچے خراب ہو گا تو اوپر بھی خراب ہو گا ۔