It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “I know a word – (one of the narrators) ‘Uthman said: “a Verse” – which if all the people followed it, it would suffice them.” They said: “O Messenger of Allah, which Verse?” He said: “And whosoever fears Allah, He will make a way out for him.” [65:2]
ہم سے ہشام بن عمار اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا: ہم سے المعطمیر بن سلیمان نے کہمس بن الحسن کی سند سے اور ابو السلیل ذریب بن نقیر کی سند سے بیان کیا, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں، ( راوی عثمان بن ابی شیبہ نے کلمہ کی جگہ آیت کہا ) اگر تمام لوگ اس کو اختیار کر لیں تو وہ ان کے لیے کافی ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! کون سی آیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نجات کا راستہ نکال دے گا ( سورۃ الطلاق: ۲ - ۳ ) ۔
It was narrated from Abu Bakr bin Abu Zuhair Ath-Thaqafi رضی اللہ عنہ , that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us in Nabawah” or Banawah – he (one of the narrators) said: “Nabawah is near Ta’if” – “And said: ‘Soon you will be able to tell the people of Paradise from the people of Hell.’ They said: ‘How O Messenger of Allah?’ He said: ‘By praise and condemnation. You are Allah’s witnesses over one another.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں نافع بن عمر الجمحِی نے امیہ بن صفوان کی سند سے, ابوزہیر ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نباوہ یا بناوہ ( طائف کے قریب ایک مقام ہے ) میں خطبہ دیا، اور فرمایا: تم جلد ہی جنت والوں کو جہنم والوں سے تمیز کر لو گے ، لوگوں نے سوال کیا: کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی تعریف اور بری تعریف کرنے سے تم ایک دوسرے کے اوپر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو ۔
It was narrated that Kulthum Al-Khuza’i رضی اللہ عنہ said:
“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, how can I know, when I have done something good, that I have done well, and if I have done something bad, that I have done a bad deed?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If your neighbors say that you have done something good, then you have done well, and if they say that you have done something bad, then you have done something bad.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے العمش نے، وہ جامع بن شداد کی سند سے, کلثوم خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں اچھا کام کروں تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میں نے اچھا کام کیا، اور جب برا کروں تو کیسے سمجھوں کہ میں نے برا کام کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جب تمہارے پڑوسی کہیں کہ تم نے اچھا کام کیا ہے تو سمجھ لو کہ تم نے اچھا کیا ہے، اور جب وہ کہیں کہ تم نے برا کام کیا ہے تو سمجھ لو کہ تم نے برا کیا ہے ۔
It was narrated that ‘Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“A man said to the Messenger of Allah (ﷺ): ‘How can I know when I have done well and when I have done something bad?’ The Prophet (ﷺ) said: ‘If you hear your neighbors saying that you have done well, then you have done well, and if you hear them saying that you have done something bad, then you have done something bad.’”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے، منصور سے اور ابو وائل سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: جب میں کوئی اچھا کام کروں تو کیسے سمجھوں کہ میں نے اچھا کام کیا ہے؟ اور جب برا کام کروں تو کیسے جانوں کہ میں نے برا کام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسیوں کو کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، اور جب تمہارے پڑوسی کہیں کہ تم نے برا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے برا کام کیا ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The people of Paradise are those whose ears Allah fills with the praise of people when they are listening, and the people of Hell- fire are those whom He fills their ears with condemnation when they are listening.”
ہم سے محمد بن یحییٰ اور زید بن اخزم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو ہلال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عقبہ بن ابی ثبیت نے ابو الجوزا کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی اچھی تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو، اور جہنمی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی بری تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو ۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
“I said to the Prophet (ﷺ): ‘(What do you say about when) a man does a deed for the sake of Allah, and people love him for it?’ He said: ‘That is the immediate glad tidings of the believer.’”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے ابوعمران الجونی کی سند سے، وہ عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ایک شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام کرتا ہے تو کیا اس کی وجہ سے لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو مومن کے لیے نقد ( جلد ملنے والی ) خوشخبری ( بشارت ) ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“A man said: ‘O Messenger of Allah, I do a good deed, then others find out about it and that pleases me.’ He said: ‘You will have two rewards, the reward for doing it in secret and the reward for doing it openly (so that others may follow your example).’”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن سنان ابو سنان الشیبانی نے بیان کیا، وہ حبیب بن ابی ثابت کی سند سے، وہ ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں کوئی عمل کرتا ہوں، لوگوں کو اس کی خبر ہوتی ہے، تو وہ میری تعریف کرتے ہیں، تو مجھے اچھا لگتا ہے، ( اس کے بارے میں فرمائیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے دو اجر ہیں: پوشیدہ عمل کرنے کا اجر اور اعلانیہ کرنے کا اجر ۔
‘Alqamah bin Waqqas رضی اللہ عنہ (said) that:
He heard ‘Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ, when he was addressing the people, saying: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Actions are but by the intention and every man will have but that which he intended. So he whose emigration was for Allah and His Messenger, his emigration was for Allah and His Messenger. But he whose emigration was for some worldly benefit or to take some woman in marriage, his emigration was for that which he migrated.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن رومہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں لیث بن سعد نے خبر دی، کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے خبر دی، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا کہ میں نے علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا
انہوں نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سنا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہے، تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہی ہو گی، اور جس کی ہجرت کسی دنیاوی مفاد کے لیے یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے ۱؎۔
It was narrated that Abu Kabshah Al-Anmari رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The likeness of this nation is that of four people: A man to whom Allah gives wealth and knowledge, so he acts according to his knowledge with regard to his wealth, spending it as it should be spent; a man to whom Allah gives knowledge, but he does not give him wealth, so he says: “If I had been given (wealth) like this one, I would have done what (the first man) did.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘They will be equal in reward. And a man to whom Allah gives wealth but does not give knowledge, so he squanders his wealth and spends it in inappropriate ways; and a man to whom Allah gives neither knowledge nor wealth, and he says: “If I had (wealth) like this one, I would do what (the third man) did.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘They are equal in their burden (of sin).’” A similar report (as above) was narrated from Ibn Abu Kabshah, from his father, from the Prophet (ﷺ).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے بیان کیا, ہم سے اعمش نے سالم بن ابی الجعد کی سند سے بیان کیا, ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کی مثال چار لوگوں جیسی ہے: ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال اور علم عطا کیا، تو وہ اپنے علم کے مطابق اپنے مال میں تصرف کرتا ہے، اور اس کو حق کے راستے میں خرچ کرتا ہے، ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا اور مال نہ دیا، تو وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ دونوں اجر میں برابر ہیں، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا لیکن علم نہیں، دیا وہ اپنے مال میں غلط روش اختیار کرتا ہے، ناحق خرچ کرتا ہے، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ نے نہ علم دیا اور نہ مال، تو وہ کہتا ہے: کاش میرے پاس اس آدمی کے جیسا مال ہوتا تو میں اس ( تیسرے ) شخص کی طرح کرتا یعنی ناحق خرچ کرتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔ ابن ماجہ نے یہی روایت کی ہے کہ دوسری دوسندوں سے بهی بواسطہ ابوبشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (مزکوره حدیث) کی ہم معنی بیان کی ہے
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “People will be resurrected (and judged) according to their intentions
ہم سے احمد بن سنان اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے شریک کی سند سے، لیث کی سند سے، طاؤس کی سند سے بیان کیا , ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “People will be gathered (on the Day of Resurrection) according to their intentions.”
ہم سے زہیر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن عدی نے بیان کیا، کہا ہم سے شر یک نے بیان کیا، العمش کی سند سے، ابو سفیان سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اپنی اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) drew a square, and a line in the middle of the square, and lines to the side of the line in the middle of the square, and a line outside the square, and he said: “Do you know what this is?” They said: “Allah and His Messenger know best.” He said: “Man is the line in the middle, and these lines to his side are the sicknesses and problems that assail him from all places. If one misses him, another will befall him. The square is his life span, at his neck; and the line outside it is (his) hope.”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف اور ابوبکر بن خلاد باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا: مجھ سے میرے والد نے ابو یعلٰی سے اور ربیع بن خثیم کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چوکور لکیر کھینچی، اور اس کے بیچ میں ایک لکیر کھینچی، اور اس بیچ والی لکیر کے دونوں طرف بہت سی لکیریں کھینچیں، ایک لکیر چوکور لکیر سے باہر کھینچی اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ درمیانی لکیر انسان ہے، اور اس کے چاروں طرف جو لکیریں ہیں وہ عوارض ( بیماریاں ) ہیں، جو اس کو ہر طرف سے ڈستی یا نوچتی اور کاٹتی رہتی ہیں، اگر ایک سے بچتا ہے تو دوسری میں مبتلا ہو جاتا ہے، چوکور لکیر اس کی عمر ہے، جس نے احاطہٰ کر رکھا ہے اور باہر والی لکیر اس کی آرزو ہے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ narrated:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “This is the son of Adam, and this is his life span at his neck,’ then he spread his hand in front of him and said: ‘And there is his hope.”
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے نضر بن شمائل نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں حماد بن سلمہ نے عبید اللہ بن ابی بکر سے روایت کی، انہوں نے کہا: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ابن آدم ( انسان ) ہے اور یہ اس کی موت ہے، اس کی گردن کے پاس، پھر اپنا ہاتھ آگے پھیلا کر فرمایا: اور یہاں تک اس کی آرزوئیں اور خواہشات بڑھی ہوئی ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The heart of an old man is young in the love of two things: Love of life and much wealth.”
ہم سے ابو مروان محمد بن عثمان العثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی زیادتی کی محبت میں ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The son of Adam grows old but two things remain young in him: His craving for wealth and his craving for a long life.”
ہم سے بشر بن معاذ الضدر نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو عوانہ نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم ( انسان ) بوڑھا ہو جاتا ہے، اور اس کی دو خواہشیں جوان ہو جاتی ہیں: مال کی ہوس، اور عمر کی زیادتی کی تمنا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If the son of Adam had two valleys of wealth, he would love to have a third along with them. Nothing could satisfy him except dust. And Allah accepts the repentance of the one who repents.”
ہم سے ابو مروان عثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم ( انسان ) کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ یہ تمنا کرے گا کہ ایک تیسری وادی اور ہو، مٹی کے علاوہ اس کے نفس کو کوئی چیز نہیں بھر سکتی، اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اس کی توبہ قبول کرتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The ages of (the people in) my nation will be between sixty and seventy, and few of them will exceed that
ہم سے حسن بن عرفہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن محمد المحاربی نے بیان کیا، وہ محمد بن عمرو کی سند سے اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر لوگوں کی عمر ساٹھ سال سے ستر کے درمیان ہو گی، اور بہت کم لوگ اس سے آگے بڑھیں گے ۔
It was narrated that Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
“By the One Who took his (ﷺ) soul, he did not die until most of his prayers were offered sitting down. And the most beloved of deeds to him was a righteous deed which a person persists in doing, even if it is something small.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحوص نے بیان کیا، ابو اسحاق کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
قسم ہے اس ( اللہ ) کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( دنیا سے ) لے گیا! آپ جب فوت ہوئے تو آپ زیادہ نماز ( تہجد ) بیٹھ کر ادا فرماتے تھے۔ اور آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ نیک عمل تھا جس پر بندہ ہمیشگی کرے اگرچہ تھوڑا ہو۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“There was a woman with me, and the Prophet (ﷺ) entered upon me and said: ‘Who is that?’ I said: ‘So-and-so; she does not sleep,’” – she mentioned her excessive praying. “The Prophet (ﷺ) said: ‘Keep quiet. You should do what you are able to, for by Allah, Allah does not get tired (of giving reward) but you get tired.’” She said: “The most beloved of religious deed to him was that in which a person persists.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے پاس ایک عورت ( بیٹھی ہوئی ) تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور پوچھا: یہ کون ہے ؟ میں نے کہا: یہ فلاں عورت ہے، یہ سوتی نہیں ہے ( نماز پڑھتی رہتی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو! تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے کی تمہیں طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو آدمی ہمیشہ پابندی سے کرتا ہے ۔
It was narrated that Hanzalah Tamimi Al-Usaiyidi رضی اللہ عنہ , the scribe, said:
“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and we spoke of Paradise and Hell until it was as if we could see them. Then I got up and went to my family and children, and I laughed and played (with them). Then I remembered how we had been, and I went out and met Abu Bakr, and said: ‘I have become a hypocrite!’ Abu Bakr said: ‘We all do that.’” So Hanzalah went and mentioned that to the Prophet (ﷺ), who said: “O Hanzalah, if you were (always) as you are with me, the angels would shake hands with you in your beds and in your streets. O Hanzalah, there is a time for this and a time for that.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, حنظلہ الکاتب التمیمی السیدی رضی اللہ عنہ کی سند پر انہوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور ہم نے جنت اور جہنم کا ذکر اس طرح کیا گویا ہم اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہے ہیں، پھر میں اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا، اور ان کے ساتھ ہنسا کھیلا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، میں گھر سے نکلا، راستے میں مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ مل گئے، میں نے کہا: میں منافق ہو گیا، میں منافق ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہی ہمارا بھی حال ہے، حنظلہ رضی اللہ عنہ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کیفیت کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حنظلہ! اگر ( اہل و عیال کے ساتھ ) تمہاری وہی کیفیت رہے جیسی میرے پاس ہوتی ہے تو فرشتے تمہارے بستروں ( یا راستوں ) میں تم سے مصافحہ کریں، حنظلہ! یہ ایک گھڑی ہے، وہ ایک گھڑی ہے ۔