It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If a person prays in public and does it well, and he prays in secret and does it well, then Allah says: ‘This man is truly My slave.’”
ہم سے کثیر بن عبید الحمصی نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیہ نے بیان کیا، ان سے ورقہ بن عمر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن ذکوان ابو الزناد نے العرج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب بندہ سب کے سامنے نماز پڑھتا ہے تو اچھی طرح پڑھتا ہے، اور تنہائی میں نماز پڑھتا ہے تو بھی اچھی طرح پڑھتا ہے، ( ایسے ہی بندے کے متعلق ) اللہ عزوجل فرماتا ہے: یہ حقیقت میں میرا بندہ ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Be moderate and adhere to moderation, for there is no one among you who will be saved by his deeds.” They said: “Not even you, O Messenger of Allah?” He said: “Not even me. Unless Allah encompasses me with mercy and grace from Him.”
ہم سے عبداللہ بن عامر بن زرارہ اور اسماعیل بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے شریک بن عبداللہ نے الاعمش کی سند سے اور ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو، اور سیدھے راستے پر رہو، کیونکہ تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات دلانے والا نہیں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مجھے بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت وفضل سے مجھے ڈھانپ لے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah says: ‘I am the Most Self-Sufficient and I have no need for an associate. Thus he who does an action for someone else’s sake as well as Mine will have that action renounced by Me to him whom he associated with Me.’”
ہم سے ابو مروان عثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی اور بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا، اور اس میں میرے علاوہ کسی اور کو شریک کیا، تو میں اس سے بری ہوں، اور وہ اسی کے لیے ہے جس کو اس نے شریک کیا ۔
It was narrated from Abu Sa’d bin Abu Fadalah Al-Ansari رضی اللہ عنہ, who was one of the Companions, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When Allah assembles the first and the last on the Day of Resurrection, a day concerning which there is no doubt, a caller will cry out: ‘Whoever used to associate anyone else in an action that he did for Allah, let him seek his reward from someone other than Allah, for Allah is so self-sufficient that He has no need of any associate.’”
ہم سے محمد بن بشار، ہارون بن عبداللہ الحمال اور اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن بکر البرسانی نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے خبر دی، کہا: مجھ سے میرے والد نے زیاد بن مینا کی روایت سے بیان کیا, سعد بن ابی فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بے نیاز ہے ۔
It was narrated that Abu Sa’eed رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us when we were discussing Dajjal (False Christ) and said: ‘Shall I not tell you of that which I fear more for you than Dajjal?’ We said: ‘Yes.’ He said: ‘Hidden polytheism, when a man stands to pray and makes it look good because he sees a man looking at him.’”
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، ان سے کثیر بن زید نے بیان کیا، ان سے روبیح بن عبدالرحمٰن بن ابی سعید الخدری نے اپنے والد سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نکل کر آئے، ہم مسیح دجال کا تذکرہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسی چیز کے بارے میں نہ بتا دوں جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے ؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پوشیدہ شرک ہے جو یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، تو اپنی نماز کو صرف اس وجہ سے خوبصورتی سے ادا کرتا ہے کہ کوئی آدمی اسے دیکھ رہا ہے ۔
It was narrated from Shaddad bin Aws رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The thing that I fear most for my nation is associating others with Allah. I do not say that they will worship the sun or the moon or idols, but deeds done for the sake of anyone other than Allah, and hidden desires.”
ہم سے محمد بن خلف عسقلانی نے بیان کیا، کہا: ہم سے رواد بن الجراح نے عامر بن عبد اللہ کی سند سے، حسن بن ذکوان سے، عبادہ بن نسی کی سند سے, شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک سب سے زیادہ خطرناک چیز جس کا مجھ کو اپنی امت کے بارے میں ڈر ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج، چاند یا بتوں کی پوجا کریں گے، بلکہ وہ غیر اللہ کے لیے عمل کریں گے، اور دوسری چیز مخفی شہوت ہے ۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever wants to be heard of, Allah will make him heard of, and whoever wants to be seen, Allah will show him (i.e., make known to the people his true motives and intentions).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بکر بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن مختار نے، محمد بن ابی لیلیٰ کی سند سے، عطیہ العوفی کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں میں شہرت و ناموری کے لیے کوئی نیک کام کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو ذلیل و رسوا کرے گا، اور جس نے ریاکاری کی تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کر دکھائے گا ۔
It was narrated from Jundab رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wants to be heard of, Allah will make him heard of, and whoever wants to be seen, Allah will show him (i.e., expose his real motives).”
ہم سے ہارون بن اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن عبد الوہاب نے بیان کیا، وہ سفیان سے اور سلمہ بن کلہیل سے, جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ریاکاری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری لوگوں کے سامنے نمایاں اور ظاہر کرے گا، اور جو شہرت کے لیے کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو رسوا اور ذلیل کرے گا ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no (permissible) envy except in two cases: A man whom Allah has given wealth and caused him to dispose of it in a proper manner, and a man to whom Allah has given wisdom, and he acts in accordance with it and teaches it (to others).”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد اور محمد بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک و حسد کے لائق صرف دو لوگ ہیں: ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، اور پھر اس کو راہ حق میں لٹا دینے کی توفیق دی، دوسرا وہ جس کو علم و حکمت عطا کی تو وہ اس کے مطابق عمل کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے ۔
It was narrated from Salim that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is no envy except in two cases. A man to whom Allah has given (knowledge of) the Qur’an, so he recites it night and day, and a man to whom Allah has given wealth, so he spends it night and day.’”
ہم سے یحییٰ بن حکیم اور محمد بن عبداللہ بن یزید نے بیان کیا, ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے، سالم نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک و حسد کے لائق صرف دو لوگ ہیں: ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا، تو وہ اسے دن رات پڑھتا ہے، دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، تو وہ اسے دن رات ( نیک کاموں میں ) خرچ کرتا ہے ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Envy consumes good deeds just as fire consumes wood, and charity extinguishes bad deeds just as water extinguishes fire. Prayer is the light of the believer and fasting is a shield against the Fire.”
ہم سے ہارون بن عبداللہ الحمال اور احمد بن الازہر نے بیان کیا , ہم سے ابن ابی فدیک نے عیسیٰ بن ابی عیسیٰ الحناط کی سند سے اور ابو الزناد کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو اور صدقہ و خیرات گناہوں کو اسی طرح بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو، نماز مومن کا نور ہے اور روزہ آگ سے ڈھال ہے ۔
It was narrated from Abu Bakrah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no sin more deserving that Allah hasten the punishment in this world, in addition to what is stored up for him in the Hereafter – than injustice and severing the ties of kinship.”
ہم سے حسین بن الحسن المروازی نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک اور ابن الیاس نے عیینہ بن عبدالرحمٰن سے اپنے والد کی سند سے خبر دی, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کے کرنے پر آخرت کے عذاب کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تیار کر رکھا ہے دنیا میں بھی سزا دینی زیادہ لائق ہو سوائے بغاوت اور قطع رحمی کے ۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا, the Mother of the Believers, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The most quickly rewarded of good deeds are kindness and upholding the ties of kinship, and the most quickly punished evil deeds are injustice and severing the ties of kinship.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے صالح بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے معاویہ بن اسحاق سے اور عائشہ بنت طلحہ رضی اللہ عنہا سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے جلدی جن نیکیوں کا ثواب ملتا ہے وہ نیکی اور صلہ رحمی ہے، اور سب سے جلدی جن برائیوں پر عذاب آتا ہے وہ بغاوت و سرکشی اور قطع رحمی ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “It is sufficient evil for a man to look down on his Muslim brother.”
ہم سے یعقوب بن حمید مدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، وہ داؤد بن قیس سے، وہ بنی عامر کے آزاد کردہ غلام ابو سعید کے واسطہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شر سے آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلم بھائی کی تحقیر کرے ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah has revealed to me that you should be humble towards one another and should not wrong one another.”
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں یزید بن ابی حبیب نے سنان بن سعد کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع اختیار کرو، اور تم ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو ۔
It was narrated from ‘Atiyyah As-Sa’di رضی اللہ عنہ , who was one of the Companions of the Prophet (ﷺ), that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “A person will not reach the status of being one of those who have piety until he refrains from doing something in which there is no sin, for fear of falling into something in which there is sin.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہاشم بن القاسم نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو عقیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ربیعہ بن یزید اور عطیہ بن قیس نے بیان کیا, عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ جو (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ متقیوں کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اس بات کو جس میں کوئی مضائقہ نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لیے نہ چھوڑ دے جس میں برائی ہے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما said:
“It was said to the Messenger of Allah (ﷺ): ‘Which of the people is best?’ He said: ‘Everyone who is pure of heart and sincere in speech.’ They said: ‘Sincere in speech, we know what this is, but what is pure of heart?’ He said: ‘It is (the heart) that is pious and pure, with no sin, injustice, rancor or envy in it.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن واقد نے بیان کیا، ہم سے مغیث بن سمی نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر صاف دل، زبان کا سچا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں، صاف دل کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پرہیزگار صاف دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “O Abu Hurairah, be cautious, and you will be the most devoted of people to Allah. Be content, and you will be the most grateful of people to Allah. Love for people what you love for yourself, and you will be a (true) believer. Be a good neighbor to your neighbors, and you will be a (true) Muslim. And laugh little, for laughing a lot deadens the heart.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے ابورجاہ کی سند سے، برد بن سنان سے، مکحول کی سند سے، وہ واثلہ بن اسقع کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! ورع و تقویٰ والے بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے، قانع بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ شکر کرنے والے ہو جاؤ گے، اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، مومن ہو جاؤ گے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو، مسلمان ہو جاؤ گے، اور کم ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کر دیتی ہے ۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no wisdom like reflection, no caution like restrain, and no honor like good manners.”
ہم سے عبداللہ بن محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے الماضی بن محمد سے، علی بن سلیمان کی سند سے، القاسم بن محمد کی سند سے، وہ ابو ادریس الخولانی کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ہے، اور ( حرام سے ) رک جانے جیسی کوئی پرہیزگاری نہیں ہے، اور اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی عالیٰ نسبی ( حسب و نسب والا ہونا ) نہیں ہے ۔
It was narrated from Samurah bin Jundab رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Being honorable is wealth and noble character is piety.’
ہم سے محمد بن خلف عسقلانی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ہم سے سالم بن ابی مطیع نے بیان کیا، قتادہ کی سند سے اور حسن کی سند سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عالیٰ نسبی ( اچھے حسب و نسب والا ہونا ) مال ہے، اور کرم ( جود و سخا اور فیاضی ) تقویٰ ہے ۔