It was narrated from Abu Ya’la Shaddad bin Aws رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The wise man is the one who takes account of himself and strives for that which is after death. And the helpless man is the one who follows his own whims then indulges in wishful thinking about Allah.”
ہم سے ہشام بن عبد الملک الحمصی نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیع بن ولید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن ابی مریم نے، ضمرہ بن حبیب کی سند سے بیان کیا, ابو یعلیٰ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگا دے، پھر اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرے۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) entered upon a young man who was dying and said: “How do you feel?” He said: “I have hope in Allah, O Messenger of Allah, but I fear my sins.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “These two things (hope and fear) do not coexist in the heart of a person in a situation like this, but Allah will give him that which he hopes for and keep him safe from that which he fears.”
ہم سے عبداللہ بن الحکم بن ابی زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے سیار نے بیان کیا، ہم سے جعفر نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس آئے جو مرض الموت میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو ؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت کی امید کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بندے کے دل میں ایسے وقت میں یہ دونوں کیفیتیں جمع ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز دے گا جس کی وہ امید کرتا ہے، اور جس چیز سے ڈرتا ہے، اس سے محفوظ رکھے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Angels come to the dying person, and if the man was righteous, they say: ‘Come out, O good soul that was in a good body, come out praiseworthy and receive glad tidings of mercy and fragrance and a Lord Who is not angry.’ And this is repeated until it comes out, then it is taken up to heaven, and it is opened for it, and it is asked: ‘Who is this?’ They say: ‘So-and-so.’ It is said: ‘Welcome to the good soul that was in a good body. Enter praiseworthy and receive the glad tidings of mercy and fragrance and a Lord Who is not angry.’ And this is repeated until it is brought to the heaven above which is Allah. But if the man was evil, they say: ‘Come out O evil soul that was in an evil body. Come out blameworthy, and receive the tidings of boiling water and the discharge of dirty wounds,’ and other torments of similar kind, all together. And this is repeated until it comes out, then it is taken up to heaven and it is not opened for it. And it is asked: ‘Who is this?’ It is said: ‘So-and-so.’ And it is said: ‘No welcome to the evil soul that was in an evil body. Go back blameworthy, for the gates of heaven will not be opened to you.’ So it is sent back down from heaven, then it goes to the grave.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی ذہب کی سند سے، محمد بن عمرو بن عطا سے سعید بن یسار سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرنے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں، اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتے ہیں: نکل اے پاک جان! جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، نکل، تو لائق تعریف ہے، اور خوش ہو جا، اللہ کی رحمت و ریحان ( خوشبو ) سے اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناراض نہیں ہے، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل پڑتی ہے، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا کر لے جایا جاتا ہے، اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ یہ فلاں ہے، کہا جاتا ہے: خوش آمدید! پاک جان جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، تو داخل ہو جا، تو نیک ہے اور خوش ہو جا اللہ کی رحمت و ریحان ( خوشبو ) سے، اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناخوش نہیں، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ روح اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے جس کے اوپر اللہ عزوجل ہے، اور جب کوئی برا شخص ہوتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: نکل اے ناپاک نفس، جو ایک ناپاک بدن میں تھی، نکل تو بری حالت میں ہے، خوش ہو جا گرم پانی اور پیپ سے، اور اس جیسی دوسری چیزوں سے، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل جاتی ہے، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا کر لے جایا جاتا ہے، لیکن اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا، پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ جواب ملتا ہے: یہ فلاں ہے، کہا جاتا ہے: ناپاک روح کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، جو کہ ناپاک بدن میں تھی، لوٹ جا اپنی بری حالت میں، تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، اس کو آسمان سے چھوڑ دیا جاتا ہے پھر وہ قبر میں آ جاتی ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “If the appointed time of death of anyone of you is in a certain land, some need will cause him to go there, then when he reaches the furthest point that it is decreed he will reach, Allah takes (his soul). And on the Day of Resurrection the earth will say: ‘My Lord, this is what You entrusted to me.’”
ہم سے احمد بن ثابت الجہدری اور عمر بن شبہ بن عبیدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا، مجھے اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم کی سند سے خبر دی , عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی موت کسی زمین میں لکھی ہوتی ہے تو ضرورت اس کو وہاں لے جاتی ہے، جب وہ اپنے آخری نقش قدم کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کر لیتا ہے، زمین قیامت کے دن کہے گی: اے رب! یہ تیری امانت ہے جو تو نے میرے سپرد کی تھی ۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him.” It was said to him: “O Messenger of Allah, does hating to meet Allah mean hating to meet death? For all of us hate death.” He said: “No. Rather that is only at the moment of death. But if he is given the glad tidings of the mercy and forgiveness of Allah, he loves to meet Allah and Allah loves to meet him; and if he is given the tidings of the punishment of Allah, he hates to meet Allah and Allah hates to meet him.”
ہم سے یحییٰ بن خلف ابو سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلی نے سعید کی سند سے، قتادہ سے، زرارہ بن اوفی سے، سعد بن ہشام کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات پسند کرتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات ناپسند کرتا ہے ، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ سے ملنے کو برا جاننا یہ ہے کہ موت کو برا جانے، اور ہم میں سے ہر شخص موت کو برا جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ موت کے وقت کا ذکر ہے، جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اس سے ملنا پسند کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے، اور جب اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے نہیں ملنا چاہتا ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “None of you should wish for death because of some harm that befalls him. If he must wish for death, let him say: ‘O Allah, keep me alive so long as living is good for me and cause me to die when death is good for me.’”
ہم سے عمران بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی مصیبت کی وجہ سے جو اس کو پیش آئے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی خواہش کی ضرورت پڑ ہی جائے تو یوں کہے: اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک جینا میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دے اگر مرنا میرے لیے بہتر ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no part of man that will not disintegrate, apart from a single bone at the base of the coccyx, from which he will be recreated on the Day of Resurrection.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے العمش نے، وہ ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے جسم کی ہر چیز سڑ گل جاتی ہے، سوائے ایک ہڈی کے اور وہ ریڑھ کی ہڈی ہے، اور اسی سے قیامت کے دن انسان کی پیدائش ہو گی ۔
It was narrated that Hani’ the freed slave of ‘Uthman bin ‘Affan رضی اللہ عنہ , said:
“When ‘Uthman bin ‘Affan رضی اللہ عنہ stood beside a grave, he would weep until his beard became wet. It was said to him: ‘You remember Paradise and Hell, and you do not weep, but you weep for this?’ He said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The grave is the first stage of the Hereafter. Whoever is delivered from it, what comes after it is easier. If he is not delivered from it, then what comes after it is harder.’” He said that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “I have never seen any horrible scene but the grave is more horrible.”
ہم سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن بُحیر کی سند سے, حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام حضرت ہانی سے روایت ہے,انہوں نے کہا
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو رونے لگتے یہاں تک کہ ان کی ڈاڑھی تر ہو جاتی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر وہ اس منزل پر نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں آسان ہوں گی، اور اگر یہاں اس نے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے سخت ہیں ، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے کبھی قبر سے زیادہ ہولناک کوئی چیز نہیں دیکھی ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “The dead person ends up in his grave, then the righteous man is made to sit up in his grave with no fear or panic. Then it is said to him: ‘What religion did you follow?’ He said: ‘I was in Islam.’ It is said to him: ‘Who is this man?’ He says: ‘Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ). He brought us clear signs from Allah and we believed him.’ It is said to him: ‘Have you seen Allah?’ He says: ‘No one is able to see Allah.’ Then a window to Hell is opened for him, and he sees it, parts of it destroying others. Then it is said to him: ‘Look at what Allah has saved you from.’ Then a window to Paradise is opened to him, and he looks at its beauty and what is in it. It is said to him: ‘This is your place.’ And it is said to him: ‘You had certain faith and you died in that state, and in that state you will be resurrected if Allah wills.’ And the evil man is made to sit up in his grave with fear and panic. It is said to him: ‘What religion did you follow?’ He says: ‘I do not know.’ It is said to him: ‘Who is this man?’ He says: ‘I heard the people saying something and I said it too.’ Then a window to Paradise is opened to him, and he looks at its beauty and what is in it. It is said to him: ‘Look at what Allah has diverted away from you.’ Then a window to Hell is opened for him, and he sees it, parts of it destroying others, and it is said to him: ‘This is your place. You were doubtful; in this state you died and in this state you will be resurrected, if Allah wills.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی ذہب کی سند سے، وہ محمد بن عمرو بن عطا کی سند سے، وہ سعید بن یسار سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرنے والا قبر میں جاتا ہے، نیک آدمی تو اپنی قبر میں بیٹھ جاتا ہے، نہ کوئی خوف ہوتا ہے نہ دل پریشان ہوتا ہے، اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں اسلام پر تھا، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں؟ وہ کہتا ہے: یہ محمد اللہ کے رسول ہیں، یہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے دلیلیں لے کر آئے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ جواب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بھلا کون دیکھ سکتا ہے؟ پھر اس کے لیے ایک کھڑکی جہنم کی جانب کھولی جاتی ہے، وہ اس کی شدت اشتعال کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے: دیکھ، اللہ تعالیٰ نے تجھ کو اس سے بچا لیا ہے، پھر ایک دوسرا دریچہ جنت کی طرف کھولا جاتا ہے، وہ اس کی تازگی اور لطافت کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے، اور اس سے کہا جاتا ہے کہ تو یقین پر تھا، یقین پر ہی مرا، اور یقین پر ہی اٹھے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ اور برا آدمی اپنی قبر میں پریشان اور گھبرایا ہوا اٹھ بیٹھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہا، اس کے لیے جنت کا ایک دریچہ کھولا جاتا ہے، وہ اس کی لطافت و تازگی کو دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ دیکھ! اس سے اللہ تعالیٰ نے تجھے محروم کیا، پھر جہنم کا دریچہ کھولا جاتا ہے، وہ اس کی شدت اور ہولناکی کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے، تو شک پر تھا، شک پر ہی مرا اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔
It was narrated from Bara’ bin ‘Azib رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm.” [14:27] This has been revealed concerning the torment of the grave. It will be said to him: ‘Who is your Lord?’ He will say: ‘My Lord is Allah, and my Prophet is Muhammad.’ This is what Allah says: Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world (i.e. they will keep on worshipping Allah Alone and none else), and in the Hereafter (i.e., at the time of questioning in the grave).’” [14:27]
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے علقمہ بن مرثد نے اور سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آیت: «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، اس ( مردے ) سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے، اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہی مراد ہے اس آیت: «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول پر ثابت رکھتا ہے دنیوی زندگی میں بھی آخرت میں بھی ( سورة ابراهيم: 72 ) سے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “When anyone of you dies, he is shown his place morning and evening. If he is one of the people of Paradise, then he will be shown his seat in Paradise, and if he is one of the people of Hell, then he will be shown his seat in Hell. And it is said: ‘This is your place until you are raised on the Day of Resurrection.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن عمر نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے، تو اس کے سامنے اس کا ٹھکانا صبح و شام پیش کیا جاتا ہے، اگر اہل جنت میں سے تھا تو اہل جنت کا ٹھکانا، اور اگر جہنمی تھا تو جہنمیوں کا ٹھکانا، اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ ۔
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Ka’b Al-Ansari رضی اللہ عنہ that his father used to narrate that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The believer’s soul is a bird that eats from the trees of Paradise, until it will be returned to his body on the Day when he is resurrected.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک بن انس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، وہ عبداللہ بن کعب الانصاری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے انہیں خبر دی کہ ان کے والد روایت کیا کرتے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی روح ایک پرندے کی شکل میں جنت کے درخت میں لٹکتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنے اصلی بدن میں لوٹ جائے گی ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “When the deceased enters the grave, the sun is made to appear as if it is setting. He sits up, wipes his eyes and says: ‘Let me pray.’”
ہم سے اسماعیل بن حفص الابلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے العمش سے اور ابو سفیان کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مردہ قبر میں جاتا ہے تو اسے ایسا لگتا ہے کہ سورج ڈوبنے کا وقت قریب ہے، وہ بیٹھتا ہے اپنی دونوں آنکھوں کو ملتے ہوئے، اور کہتا ہے: مجھے نماز پڑھنے کے لیے چھوڑ دو ۔
It was narrated from Abu Sa’eed that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The two who are entrusted with the Trumpet have two horns in their hands, waiting until they will be commanded (to blow them).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد بن العوام نے حجاج کی سند سے اور عطیہ رضی اللہ عنہ سے, ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک «صور» والے دونوں فرشتے اپنے ہاتھوں میں «صور» لیے برابر دیکھتے رہتے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“A Jewish man said in the marketplace of Al-Madinah: ‘By the One Who chose Musa above all of mankind.’ An Ansari man raised his hand and slapped him. He said: ‘How dare you say this when the Messenger of Allah (ﷺ) is among us?’ Mention of that was made to the Messenger of Allah (ﷺ), and he said: ‘Allah says: “And the trumpet will be blown, and all who are in the heavens and all who are on the earth will swoon away, except him whom Allah wills. Then it will be blown a second time, and behold they will be standing, looking on (waiting).” [39:68] I will be the first one to raise his head, and I will see Musa holding on to one of the pillars of the Throne, and I do not know whether he will have raised his head before me, or he will be one of those whom Allah exempts. And whoever says that I am better than Yunus bin Matta, he is lying.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن عمرو کی سند سے، وہ ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام لوگوں سے برگزیدہ بنایا، یہ سن کر ایک انصاری نے اس کو ایک طمانچہ مارا، اور کہا: تم ایسا کہتے ہو جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: «ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون» اور صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان والے سب بیہوش ہو جائیں گے، سوائے اس کے جس کو اللہ چاہے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تب وہ سب کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے ( سورۃ الزمر: ۶۸ ) ، میں سب سے پہلے اپنا سر اٹھاؤں گا، تو دیکھوں گا کہ موسیٰ ( علیہ السلام ) عرش کا ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں، میں نہیں جانتا کہ انہوں نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا، یا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کر دیا ہے، اور جس نے یہ کہا: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں تو اس نے غلط کہا ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say on the pulpit: ‘The Compeller (Al-Jabbar) will seize His heavens and His earths in His Hand’ – and he clenched his hand and started to open and close it – ‘Then He will say: “I am the Compeller, I am the King. Where are the tyrants? Where are the arrogant?” And the Messenger of Allah (ﷺ) was leaning to his right and his left, until I could see the pulpit shaking at the bottom, and I thought that it would fall along with the Messenger of Allah (ﷺ).”
ہم سے ہشام بن عمار اور محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے عبید اللہ بن مقسم کی روایت سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: جبار ( اللہ ) آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا، ( آپ نے مٹھی بند کی پھر اس کو بند کرنے اور کھولنے لگے ) پھر فرمائے گا: میں جبار ہوں، میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں دوسرے جبار؟ کہاں ہیں دوسرے متکبر؟ یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھک رہے تھے، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ منبر کچھ نیچے سے ہل رہا تھا، حتیٰ کہ میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر نہ پڑے۔
It was narrated that Qasim said:
‘Aishah said: “I said: ‘O Messenger of Allah, how will the people be gathered on the Day of Resurrection?’ He said: ‘Barefoot and naked.’ I said: ‘And the women?’ He said: ‘And the women.’ I said: ‘O Messenger of Allah, will we not feel embarrassed?’ He said: ‘O ‘Aishah, the matter will be too serious for them to look at one another
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، ان سے حاتم بن ابی صغیرہ نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، وہ القاسم کی سند سے، انہوں نے کہا
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا،میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگ قیامت کے دن کیسے اٹھائے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ننگے پاؤں، ننگے بدن ، میں نے کہا: عورتیں بھی اسی طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتیں بھی ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! پھر شرم نہیں آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! معاملہ اتنا سخت ہو گا کہ ( کوئی ) ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھے گا ۔
It was narrated from Abu Musa Al-Ash’ari رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The people will be presented (before Allah) three times on the Day of Resurrection. The first two times will be for disputes and excuses, and the third time will be when the scrolls (of deeds) fly into their hands; some will take it in the right hand and some in the left.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے علی بن علی بن رفاعہ کی سند سے اور حسن رضی اللہ عنہ سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی، دوبار کی پیشی میں بحث و تکرار اور عذر و بہانے ہوں گے اور تیسری بار میں اعمال نامے ہاتھوں میں اڑ رہے ہوں گے، تو کوئی اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں اور کوئی بائیں ہاتھ میں پکڑے ہو گا ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “The Day when (all) mankind will stand before the Lord of all that exists.” [83:6] One of them will stand in his sweat up to halfway up his ears.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عیسیٰ بن یونس اور ابو خالد الاحمر نے ابن عون کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ( سورۃ المطففین: ۶ ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: لوگ اس طرح کھڑے ہوں گے کہ نصف کان تک اپنے پسینے میں غرق ہوں گے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“I asked the Messenger of Allah (ﷺ): “On the Day when the earth will be changed to another earth and so will be the heavens.” [14:48] – where will the people be on that Day?’ He said: ‘On the Sirat (the Bridge across Hell-fire).’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے علی بن مشیر نے داؤد کی سند سے، شعبی کی سند سے، مسروق کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات» جس دن زمین اور آسمان بدل دئیے جائیں گے ( سورة إبراهيم: 48 ) سے متعلق پوچھا کہ لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط پر ۔