Abu Hurairah رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Take on only as much as you can do of good deeds, for the best of deeds is that which is done consistently, even if it is little
ہم سے عباس بن عثمان الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن لہیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن العرج نے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خود کو اتنے ہی کام کا مکلف کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ بہترین عمل وہ ہے جس پر مداومت کی جائے، خواہ وہ کم ہی ہو ۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) passed by a man who was praying on a rock, and he went towards Makkah and stayed a while, then he left and found the man still praying as he had been. He stood up and clasped his hands, then said: “O people, you should observe moderation,” three times, “for Allah does not get tired (of giving reward) but you get tired.”
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبد اللہ اشعری نے بیان کیا، عیسیٰ بن جریہ کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان پر نماز پڑھ رہا تھا، آپ مکہ کے ایک جانب گئے، اور کچھ دیر ٹھہرے، پھر واپس آئے، تو اس شخص کو اسی حالت میں نماز پڑھتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنے دونوں ہاتھوں کو ملایا، پھر فرمایا: لوگو! تم میانہ روی اختیار کرو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے ( ثواب دینے سے ) یہاں تک کہ تم خود ہی ( عمل کرنے سے ) اکتا جاؤ ۔
It was narrated that ‘Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“We said: ‘O Messenger of Allah, will we be taken to task for what we did in the Ignorance period?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever does good in Islam (i.e., after becoming a Muslim) he will not be taken to task for what he did in the Ignorance period, but whoever does evil (i.e., after entering Islam) he will be taken to task for both the former and the latter.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، وکیع نے اور ہم سے میرے والد نے الاعمش کی سند سے اور شقیق کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم سے ان گناہوں کا بھی مواخذہ کیا جائے گا، جو ہم نے ( زمانہ ) جاہلیت میں کئے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہد اسلام میں نیک کام کئے ( دل سے اسلام لے آیا ) اس سے جاہلیت کے کاموں پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا، اور جس نے اسلام لا کر بھی برے کام کئے، ( کفر پر قائم رہا ہے ) تو اس سے اول و آخر دونوں برے اعمال پر مواخذہ کیا جائے گا ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: ‘O ‘Aishah, beware of (evil) deeds that are regarded as insignificant, for they have a pursuer from Allah. (i.e. accountability).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن مسلم بن بانک نے بیان کیا، میں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: مجھ سے عوف بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا،حقیر و معمولی گناہوں سے بچو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا بھی مواخذہ ہو گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:14]
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل اور ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن عجلان نے قعقا بن حکیم کی سند سے اور ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
It was narrated from Thawban رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “I certainly know people of my nation who will come on the Day of Resurrection with good deeds like the mountains of Tihamah, but Allah will make them like scattered dust.” Thawban رضی اللہ عنہ said: “O Messenger of Allah, describe them to us and tell us more, so that we will not become of them unknowingly.” He said: “They are your brothers and from your race, worshipping at night as you do, but they will be people who, when they are alone, transgress the sacred limits of Allah.”
ہم سے عیسیٰ بن یونس الرملی نے بیان کیا، انہیں عقبہ بن علقمہ بن خدیج المعافری نے ارطاہ بن المنذر کی سند سے، وہ ابو عامر الہانی کی سند سے, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو فضا میں اڑتے ہوئے ذرے کی طرح بنا دے گا ، ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے اور کھول کر بیان فرمایئے تاکہ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے ہم ان میں سے نہ ہو جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جان لو کہ وہ تمہارے بھائیوں میں سے ہی ہیں، اور تمہاری قوم میں سے ہیں، وہ بھی راتوں کو اسی طرح عبادت کریں گے، جیسے تم عبادت کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب تنہائی میں ہوں گے تو حرام کاموں کا ارتکاب کریں گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) was asked: ‘What most admits people to Paradise?’ He said: ‘Piety and good manners.’ And he was asked: ‘What most leads people to Hell?’ He said: ‘The two hollow ones: The mouth and the private part.’”
ہم سے ہارون بن اسحاق اور عبداللہ بن سعید نے بیان کیا: ہم سے عبداللہ بن ادریس نے اپنے والد اور اپنے چچا سے اور اپنے دادا کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے کام لوگوں کو زیادہ تر جنت میں داخل کریں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تقویٰ ( اللہ تعالیٰ کا خوف ) اور حسن خلق ( اچھے اخلاق ) ، اور پوچھا گیا: کون سے کام زیادہ تر آدمی کو جہنم میں لے جائیں گے؟ فرمایا: دو کھوکھلی چیزیں: منہ اور شرمگاہ ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Allah rejoiced more over the repentance of anyone of you, then you rejoice over your lost animal when you find it.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، ہم سے ورقاہ نے بیان کیا، ابو الزیناد نے عرج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ تم اپنی گمشدہ چیز پانے سے خوش ہوتے ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “If you were to commit sin until your sins reach the heaven, then you were to repent, your repentance would be accepted.”
ہم سے یعقوب بن حمید بن کاسب المدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن برقان نے بیان کیا، وہ یزید بن الاعصم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ کرو یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تم توبہ کرو تو ( اللہ تعالیٰ ) ضرور تمہاری توبہ قبول کرے گا ۔
It was narrated from Abu Sa’eed رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah rejoices more over the repentance of His slave, than a man who loses his mount in a barren land, and he searches for it until he gets tired and covers his face with his garment, and while he is like that, he heard the footsteps of his mount where he lost it, so he lifts the garment from his face and there is his mount.”
ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے فضیل بن مرزوق سے اور عطیہ کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے ایسے ہی خوش ہوتا ہے جیسے کسی آدمی کی سواری چٹیل میدان میں کھو جائے، وہ اس کو تلاش کرے یہاں تک کہ جب وہ تھک جائے تو کپڑے سے اپنا منہ ڈھانک کر لیٹ جائے، اسی حالت میں اچانک وہ اپنی سواری کے قدموں کی چاپ وہاں سے آتی سنے جہاں اسے کھویا تھا، وہ اپنے چہرے سے اپنا کپڑا اٹھائے تو دیکھے کہ اس کی سواری موجود ہے ۔
It was narrated from Abu ‘Ubadah bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہ , that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The one who repents from sin is like one who did not sin.’”
ہم سے احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبد اللہ الرقاشی نے بیان کیا، ہم سے وہب بن خالد نے بیان کیا، ہم سے معمر نے، وہ عبدالکریم کی سند سے، وہ ابو عبیدہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every son of Adam commits sin, and the best of those who commit sin are those who repent.’”
ہم سے احمد بن منیع نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن الحباب نے بیان کیا، ہم سے علی بن مسعدہ نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سارے بنی آدم ( انسان ) گناہ گار ہیں اور بہترین گناہ گار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں ۔
It was narrated that Ibn Ma’qil said:
“I entered with my father upon ‘Abdullah رضی اللہ عنہ , and I heard him say: ‘The messenger of Allah (ﷺ) said: “Regret is repentance.” My father said: ‘Did you hear the Prophet (ﷺ) say: “Regret is repentance?” He said: ‘Yes.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبد الکریم جزری نے، زیاد بن ابی مریم سے, عبداللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں کہ
میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ندامت ( شرمندگی ) توبہ ہے ، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت توبہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “Allah accepts the repentance of His slave so long as the death rattle has not yet reached his throat.”
ہم سے رشید بن سعید رملی نے بیان کیا، کہا ہم کو ولید بن مسلم نے خبر دی، وہ ابن ثوبان سے، اپنے والد سے، مکحول سے، جبیر بن نفیر سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ ( عزوجل ) اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے جب تک اس کی جان حلق میں نہ آ جائے ۔
It was narrated from Ibn Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
A man came to the Prophet (ﷺ) and said that he had kissed a woman, and he started to ask about expiation, but he (the Prophet (ﷺ)) did not say anything to him. Then Allah revealed the Verse: “And perform prayers at the two ends of the day and in some hours of the night. Verily, the good deeds remove the evil deeds. That is a reminder for the mindful.” [11:114] The man said: “O Messenger of Allah, is this (the Verse) just for me?” He said: “It is for whoever acts upon it among my nation.”
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن حبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، ہم سے ابو عثمان نے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بتایا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے، وہ اس کا کفارہ پوچھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں کہا تو اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں ( صبح و شام ) میں اور رات کے ایک حصے میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ذکر کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے ( سورۃ ہود: ۱۱۴ ) ، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ( خاص ) میرے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “A man went to extremes in committing sins. When death came to him, he left instructions to his sons, saying: ‘When I die, burn me, then grind me into powder, then scatter me in the wind and in the sea, for by Allah, if my Lord has power over me, He will subject me to a punishment that He has never subjected anyone to.’ So they did that to him, then (Allah) said to the earth: ‘Return what you have taken,’ and there he was, standing. He said to him: ‘What made you do what you have done?’ He said: ‘Fear of You, O Lord.’ So He forgave him because of that (fear).”
ہم سے محمد بن یحییٰ اور اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، کہا: زہری نے کہا, کیا میں تمہیں دو حیرت انگیز حدیثیں نہ بتاؤں؟ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے اپنے اوپر بہت زیادتی کی تھی، ( یعنی گناہوں کا ارتکاب کیا تھا ) جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا ڈالنا، پھر مجھے پیس کر سمندر کی ہوا میں اڑا دینا، اللہ کی قسم! اگر میرا رب میرے اوپر قادر ہو گا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو کسی کو نہ دیا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے زمین سے کہا کہ جو تو نے لیا ہے اسے حاضر کر، اتنے میں وہ کھڑا ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: تجھے اس کام پر کس نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر اور خوف نے اے رب! تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اسی وجہ سے معاف کر دیا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “A woman entered Hell because of a cat which she tied up and did not feed, or let it loose to eat of the vermin of the earth, until it died.” (One of the narrators) Zuhri said: "So a man should neither rely completely [on the mercy of Allah (and become complacent)], nor should he despair (of the mercy of Allah)."
الزہری نے کہا اور مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, الزہری نے کہا اور مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت اس بلی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی جس کو اس نے باندھ رکھا تھا، وہ نہ اس کو کھانا دیتی تھی، اور نہ چھوڑتی ہی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ زہری کہتے ہیں: ( ان دونوں حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ ) کوئی آدمی نہ اپنے عمل پر بھروسہ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہی ہو۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah the Blessed and Exalted says: ‘O My slaves, all of you are sinners except those whom I have saved. So ask Me for forgiveness, I will forgive you. Whoever among you knows that I have the power to forgive and asks Me to forgive by My power, I will forgive him. All of you are astray except those whom I guide. Ask Me for guidance and I will guide you. All of you are poor except those whom I enrich (make independent of means). Ask of Me and I will grant you provision. Even if your living and your dead, your first and your last, your fresh and your dry, were all as pious as the most pious among My slaves, that would not increase my dominion as much as a gnat’s wing, and if they were to be as evil as the most evil among My slaves, that would not detract from My dominion as much as a gnat’s wing. Even if your living and your dead, your first and your last, your fresh and your dry, were to join together and each of them were to ask for all that he wishes for, that would only detract from My dominion as much as if one of you were to pass by the edge of the sea and dip a needle in it and withdraw it. That is because I am the Most Generous, Majestic. I give with a word; when I will something, all I do is say to it “Be!” – and it is.’
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدا بن سلیمان نے موسیٰ بن المسیب ثقفی نے شہر بن حوشب سے اور عبدالرحمٰن بن غنم کی سند سے بیان کیا, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندو! تم سب گناہ گار ہو سوائے اس کے جس کو میں بچائے رکھوں، تو تم مجھ سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں معاف کر دوں گا، اور تم میں سے جو جانتا ہے کہ میں مغفرت کی قدرت رکھتا ہوں اور وہ میری قدرت کی وجہ سے معافی چاہتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں، تم سب کے سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، تم مجھ ہی سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، تم سب کے سب محتاج ہو سوائے اس کے جس کو میں غنی ( مالدار ) کر دوں، تم مجھ ہی سے مانگو میں تمہیں روزی دوں گا، اور اگر تمہارے زندہ و مردہ، اول و آخر اور خشک و تر سب جمع ہو جائیں، اور میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہ ہو گا، اور اگر یہ سب مل کر میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ بدبخت کی طرح ہو جائیں تو میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہ ہو گی، اور اگر تمہارے زندہ و مردہ، اول و آخر اور خشک و تر سب جمع ہو جائیں، اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی آرزوئیں پہنچیں، تو میری سلطنت میں کوئی فرق واقع نہ ہو گا، مگر اس قدر جیسے تم میں سے کوئی سمندر کے کنارے پر سے گزرے اور اس میں ایک سوئی ڈبو کر نکال لے، یہ اس وجہ سے ہے کہ میں سخی ہوں، بزرگ ہوں، میرا دینا صرف کہہ دینا ہے، میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو کہتا ہوں ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Frequently remember the destroyer of pleasures,’ meaning death.”
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا: ہم سے الفضل بن موسیٰ نے، محمد بن عمرو سے اور ابو سلمہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو توڑنے والی ( یعنی موت ) کو کثرت سے یاد کیا کرو ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“I was with the Messenger of Allah (ﷺ) and a man from among the Ansar came to him and greeted the Prophet (ﷺ) with Salam. Then he said: ‘O Messenger of Allah, which of the believers is best?’ He said: ‘He who has the best manners among them.’ He said: ‘Which of them is wisest?’ He said: ‘The one who remembers death the most and is best in preparing for it. Those are the wisest.’
ہم سے الزبیر بن بکر نے بیان کیا، ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ہم سے نافع بن عبداللہ نے، فروہ بن قیس سے، عطاء بن ابی رباح کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ کے پاس ایک انصاری شخص آیا، اس نے آپ کو سلام کیا، پھر کہنے لگا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے ، اس نے کہا: ان میں سب سے عقلمند کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرے، وہی عقلمند ہے ۔