It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Dying in a strange land is martyrdom.”
ہم سے جمیل بن الحسن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو المنذر الحذیل بن الحکم نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبد العزیز بن ابی رواد نے عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پردیسی کی موت شہادت ہے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما said:
“A man died in Al- Madinah, and he was one of those who were born in Al-Madinah. The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for him and said: “Would that he had died somewhere other than his birthplace.” A man among the people said: “Why, O Messenger of Allah?” He said: “If a man dies somewhere other than his birthplace, a space will be measured for him in Paradise (as big as the distance) from the place where he was born to the place where he died.”
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھ سے حی بن عبداللہ المعفیری نے ابوعبدالرحمٰن حبلی کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever dies from a sickness dies as a martyr. He is protected from the torment of the grave and he is granted provision from Paradise morning and evening.”
ہم سے احمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی اور ہم سے ابو عبیدہ بن ابی السفر نے بیان کیا، کہا: ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے ابراہیم بن محمد بن ابی عطاء نے خبر دی, موسیٰ بن وردان کی طرف سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی ۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Breaking the bones of the deceased is like breaking his bones when he is alive.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن محمد الدروردی نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعد بن سعید نے عمرہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردے کی ہڈی کو توڑنا زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے ۔
It was narrated from Umm Salamah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) said: “Breaking the bones of the deceased is, in sin, like breaking his bones when he is alive.”
ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو عبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ نے اپنی والدہ سے بیان کیا, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردہ کی ہڈی کے توڑنے کا گناہ زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے ۔
It was narrated that ‘Ubaidullah bin ‘Abdullah said:
“I asked ‘Aishah رضی اللہ عنہا : ‘O mother! Tell me about the sickness of the Messenger of Allah (ﷺ).’ She said: ‘He felt pain and started to spit (over his body), and we began to compare his spittle to the spittle of a person eating raisins. Like a person eating raisins and spitting out the seeds. He used to go around among his wives, but when he became ill, he asked them permission to stay in the house of ‘Aishah and that they should come to him in turns.’ She said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me, (supported) between two men, with his feet making lines along the ground. One of them was ‘Abbas.’ I told Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہا this Hadith and he said: ‘Do you know who the other man was whom ‘Aishah رضی اللہ عنہا did not name? He was ‘Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ .’”
ہم سے سہل بن ابی سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، زہری کی سند سے , عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اماں جان! مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا حال بیان کیجئے تو انہوں نے بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ( اپنے بدن پر ) پھونکنا شروع کیا، ہم نے آپ کے پھونکنے کو انگور کھانے والے کے پھونکنے سے تشبیہ دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کا باری باری چکر لگایا کرتے تھے، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو بیویوں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہنے کی اجازت مانگی، اور یہ کہ بقیہ بیویاں آپ کے پاس آتی جاتی رہیں گی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس دو آدمیوں کے سہارے سے آئے، اس حال میں کہ آپ کے پیر زمین پہ گھسٹ رہے تھے، ان دو میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے۔ عبیداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا، جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Prophet (ﷺ) used to seek refuge using the following words: ‘Adhhibil-ba’s, Rabbin-nas, washfi Antash-shafi, la shifa’a illa shifa’uka, shifa’an la yughadiru saqaman (Take away the affliction, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer and there is no healing that leaves no sickness).’ When the Prophet (ﷺ) fell sick with the sickness that would be his last, I took his hand and wiped it over his body and recited these words. He withdrew his hand from mine and said: ‘O Allah, forgive me and let me meet the exalted companions (i.e., those who occupy high positions in Paradise).’ Those were the last words of his that I heard.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے الاعمش کی سند سے، مسلم کی سند سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ حفاظت و عافیت کی دعا کرتے تھے «أذهب الباس رب الناس. واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب! بیماری دور کر دے، اور شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء تو بس تیری ہی شفاء ہے، تو ایسی شفاء عنایت فرما کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بیماری سخت ہو گئی جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی تھی، اور یہ کلمات کہتی جاتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکال لیا، اور فرمایا: «اللهم اغفر لي وألحقني بالرفيق الأعلى» اے اللہ! مجھے بخش دے، اور رفیق اعلیٰ سے ملا دے ) یہی آخری کلمہ تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘There is no Prophet who fell sick but he was given the choice between this world and the Hereafter.’ She said: ‘When he became sick with the illness that would be his last, (his voice) became hoarse and I heard him say, “In the company of those on whom Allah has bestowed His grace, of the Prophets, the true believers, the martyrs, and the righteous.’” [4:69] Then I knew that he had been given the choice.”
ہم سے ابو مروان عثمانی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے، عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو نبی بھی بیمار ہوا اسے دنیا یا آخرت میں رہنے کا اختیار دیا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو آپ کو ہچکی آنے لگی، میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے: «مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين» ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے احسان کیا، انبیاء، صدیقین شہداء، اور صالحین میں سے تو اس وقت میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The wives of the Prophet (ﷺ) gathered together and not one of them lagged behind. Fatimah رضی اللہ عنہا came, and her gait was like that of the Messenger of Allah (ﷺ). He said, ‘Welcome to my daughter.’ Then he made her sit to his left, and he whispered something to her, and she smiled. I said to her: ‘What made you weep?’ She said: ‘I will not disclose the secret of the Messenger of Allah (ﷺ).’ I said: ‘I never saw joy so close to grief as I saw today.’ When she wept I said: ‘Did the Messenger of Allah (ﷺ) tell you some special words that were not for us, then you wept?’ And I asked her about what he had said. She said: ‘I will not disclose the secret of the Messenger of Allah (ﷺ).’ After he died I asked her what he had said, and she said: ‘He told me that Jibra’il used to review the Qur’an with him once each year, but he had reviewed it with him twice that year, (and he said:) “I do not think but that my time is near. You will be the first of my family to join me, and what a good predecessor I am for you.” So I wept. Then he whispered to me and said: “Will you not be pleased to be the leader of the women of this Ummah?” So I smiled.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے زکریا سے، وہ فراس سے، عامر کے واسطہ سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہی، اتنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کی طرح تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بیٹی! خوش آمدید پھر انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا، اور چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر چپکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیوں روئیں؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتی، میں نے کہا: آج جیسی خوشی جو غم سے قریب تر ہو میں نے کبھی نہیں دیکھی، جب فاطمہ روئیں تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خاص بات تم سے فرمائی ہے، جو ہم سے نہیں کہی کہ تم رو رہی ہو، اور میں نے پوچھا: آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد میں نے ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ جبرائیل مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن کا دور کراتے تھے اب کی سال دو بار دور کرایا، تو میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے، اور تم میرے رشتہ داروں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی، اور میں تمہارے لیے کیا ہی اچھا پیش رو ہوں یہ سن کر میں روئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے مجھ سے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی، یہ سن کر میں ہنسی ۔
‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“I never saw anyone suffer more pain than the Messenger of Allah (ﷺ).”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مصعب بن مقدام نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے العمش کی سند سے، شقیق سے اور مسروق کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا:ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے کسی پر مرض الموت کی تکلیف اتنی سخت نہیں دیکھی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیکھی ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was dying, and there was a bowl of water next to him. He put his hand in the vessel and wiped his face with the water, and said: ‘O Allah, help me to bear the agonies of death.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، وہ یزید بن ابی حبیب سے، موسیٰ بن سرجس نے قاسم بن محمد کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کے وقت دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالہ میں داخل کرتے، اور پانی اپنے منہ پر ملتے، پھر فرماتے: اے اللہ! موت کی سختیوں میں میری مدد فرما ۔
It was narrated that Zuhri heard Anas bin Malik رضی اللہ عنہ say:
“The last glance that I had of the Messenger of Allah (ﷺ) was when he drew back the curtain on Monday, and I saw his face as if it was a page of the Mushaf (Qur’an), and the people were praying behind Abu Bakr رضی اللہ عنہ . He (Abu Bakr رضی اللہ عنہ) wanted to move, but he (the Prophet (ﷺ)) gestured to him to stand firm. Then he let the curtain fall, and he died at the end of that day.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، زہری کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار مجھے دوشنبہ کے دن ہوا، آپ نے ( اپنے حجرہ کا ) پردہ اٹھایا، میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا، تو گویا مصحف کا ایک ورق تھا، لوگ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا، پھر اسی دن کی شام کو آپ کا انتقال ہو گیا ۔
It was narrated from Umm Salamah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to say, during the illness that would be his last: “The prayer, and those whom your hands possess.”* And he kept on saying it until his tongue could no longer utter any words.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے، صالح ابو الخلیل سے اور سفینہ رضی اللہ عنہ سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس مرض میں کہ جس میں آپ کا انتقال ہو گیا، فرما رہے تھے: «الصلاة وما ملكت أيمانكم» نمسش کا، اور لونڈیوں اور غلاموں کا خیال رکھنا آپ برابر یہی جملہ کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی زبان مبارک رکنے لگی ۔
It was narrated that Aswad said:
“They said in ‘Aishah’s presence that ‘Ali رضی اللہ عنہ was appointed (by the Prophet (ﷺ) before he died), and she said: ‘When was he appointed? He (the Prophet (ﷺ)) was resting against my bosom, or in my lap, and he called for a basin, then he became limp in my lap and died, and I did not realize it. So when did he (ﷺ) appoint him?’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن الیاس نے ابن عون کی سند سے اور ابراہیم کی سند سے, اسود کہتے ہیں کہ
لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی تھے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے ان کو کب وصیت کی؟ میں تو آپ کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی، یا گود میں لیے ہوئے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طشت منگوایا، پھر آپ میری گود میں لڑھک گئے، اور وفات پا گئے، مجھے محسوس تک نہ ہوا، پھر آپ نے وصیت کب کی؟۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) passed away, Abu Bakr رضی اللہ عنہ was with his wife, the daughter of Kharijah, in villages surrounding Al-Madinah. They started to say: ‘The Prophet (ﷺ) has not died, rather he has been overcome with what used to overcome him at the time of Revelation.’ Then Abu Bakr رضی اللہ عنہ came and uncovered his (the Prophet’s (ﷺ)) face, kissed him between the eyes and said: ‘You are too noble before Allah for Him to cause you to die twice. By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) has indeed died.’ ‘Umar رضی اللہ عنہ was in a corner of the mosque saying: ‘By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) has not died and he will never die until the hands and feet of most of the hypocrites are cut off.’ Then Abu Bakr رضی اللہ عنہ stood up, ascended the pulpit and said: ‘Whoever used to worship Allah, Allah is alive and will never die. Whoever used to worship Muhammad, Muhammad is dead. “Muhammad is no more than a Messenger, and indeed (many) Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then turn back on your heels (as disbelievers)? And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will give reward to those who are grateful.’” [3:144] ‘Umar said: ‘It was as if I had never read (that Verse) before that day.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کی سند سے اور ابن ابی ملیکہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ساتھ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھیں عوالی مدینہ میں تھے، لوگ کہنے لگے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وحی کے وقت جو حال آپ کا ہوا کرتا تھا ویسے ہی ہو گیا ہے، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور کہا: آپ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز و محترم ہیں کہ آپ کو دو بار موت دے ، قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک گوشہ میں یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں ہیں، اور نہ آپ مریں گے، یہاں تک کہ بہت سے منافقوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، منبر پر چڑھے اور کہا: جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، مرا نہیں، اور جو کوئی محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد وفات پا گئے، ( پھر یہ آیت پڑھی ) : «وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاكرين» ( سورة آل عمران: 144 ) محمد صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول آئے، اگر آپ کا انتقال ہو جائے یا قتل کر دئیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو پھر جائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس دن سے پہلے کبھی اس آیت کو میں نے پڑھا ہی نہیں تھا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“When they wanted to dig a grave for the Messenger of Allah (ﷺ), they sent for Abu ‘Ubaidah bin Jarrah رضی اللہ عنہ, who used to dig graves in the manner of the people of Makkah, and they sent for Abu Talhah رضی اللہ عنہ, who used to dig graves for the people of Al-Madinah, and he used to make a niche in the grave. They sent two messengers to both of them, and they said: ‘O Allah, choose what is best for Your Messenger.’ They found Abu Talhah رضی اللہ عنہ and brought him, but they did not find Abu ‘Ubaidah رضی اللہ عنہ. So he dug a grave with a niche for the Messenger of Allah (ﷺ). When they had finished preparing him, on Tuesday, he was placed on his bed in his house. Then the people entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) in groups and offered the funeral prayer for him, and when they finished the women entered, and when they finished the children entered, and no one led the people in offering the funeral prayer for the Messenger of Allah (ﷺ). The Muslims differed concerning the place where he should be buried. Some said that he should be buried in his mosque. Others said that he should be buried with his Companions. Then Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: ‘I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “No Prophet ever passed away but he was buried where he died.” So they lifted up the bed of the Messenger of Allah (ﷺ) on which he had died, and dug the grave for him, then he (ﷺ) was buried in the middle of Tuesday night. ‘Ali bin Abu Talib, Fadl bin ‘Abbas and his brother Qutham, and Shuqran the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ) went down in his grave. Aws bin Khawli رضی اللہ عنہ, who was Abu Laila, said to ‘Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ: ‘I adjure you by Allah! Give us our share of the Messenger of Allah (ﷺ).’ So ‘Ali said to him: ‘Come down.’ Shuqran, his freed slave, had taken a Qatifah which the Messenger of Allah (ﷺ) used to wear. He buried it in his grave and said, ‘By Allah, no one will ever wear it after you.’ So it was buried with the Messenger of Allah (ﷺ).”
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، انہیں وہب بن جریر نے، انہیں میرے والد نے، محمد بن اسحاق سے، انہیں حسین بن عبداللہ نے عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا، تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے، اور دعا کی کہ اے اللہ! تو اپنے رسول کے لیے بہتر اختیار فرما، بالآخر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ملے، اور ان کو لایا گیا، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نہیں ملے، لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر کھودی گئی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا، لوگ نماز جنازہ پڑھتے جاتے تھے، جب سب مرد فارغ ہو گئے، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہو گئیں، تو بچے جانے لگے، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے آپ کے لیے قبر کھودی، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب، فضل بن عباس، ان کے بھائی قثم بن عباس، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام شقران رضی اللہ عنہم اترے۔ ابولیلیٰ اوس بن خولہ رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل ہے، ( مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں ) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اتر جاؤ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا اور کہا: قسم اللہ کی! اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے، چنانچہ اسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) suffered the agonies of death that he suffered, Fatimah رضی اللہ عنہا said: ‘O my father, what a severe agony!’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Your father will suffer no more agony after this day. There has come to your father that which no one can avoid, the death that everyone will encounter until the Day of Resurrection.’”
نصر بن علی نے روایت کیا، عبداللہ بن الزبیر ابو الزبیر نے روایت کیا، ثابت البنانی نے روایت کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی سختی محسوس کی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ہائے میرے والد کی سخت تکلیف ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے بعد تیرے والد پر کبھی سختی نہ ہو گی، اور تیرے والد پر وہ وقت آیا ہے جو سب پر آنے والا ہے، اب قیامت کے دن ملاقات ہو گی ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“Fatimah رضی اللہ عنہا said to me: ‘O Anas, how did you manage to scatter dust on the Messenger of Allah (ﷺ)?’” And Thabit narrated to us from Anas that Fatimah رضی اللہ عنہا said: “When the Messenger of Allah (ﷺ) passed away: ‘O my father! To Jibra’il we announce his death; O my father, how much closer he is now to his Lord; O my father, the Paradise of Firdaws is his abode; O my father, he has answered the call of his Lord.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حماد بن زید نے بیان کیا، مجھ سے ثابت نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! تمہارے دل کو کیسے گوارا ہوا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے میرے والد، میں جبرائیل کو ان کے مرنے کی خبر دیتی ہوں، ہائے میرے والد، اپنے رب کے کتنے نزدیک ہو گئے، ہائے میرے والد، جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے، ہائے میرے والد، اپنے رب کا بلانا قبول کیا۔ حماد نے کہا: میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
“On the day when the Messenger of Allah (ﷺ) entered Al-Madinah, everything was lit up, and on the day when he died, everything went dark, and no sooner had we dusted off our hands (after burying him) but we felt that our hearts had changed.”*
ہم سے بشر بن ہلال الصوف نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن سلیمان دبئی نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، اور جس وقت آپ کا انتقال ہوا ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا، اور ہم لوگوں نے ابھی آپ کے کفن دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑا تھا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بدلہ ہوا پایا۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“We used to be guarded in our speech even with our wives at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), fearing that Qur’an may be revealed amongst us, but when the Messenger of Allah (ﷺ) died, we began to speak freely.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، عبداللہ بن دینار کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بےتکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے۔