It was narrated from ‘Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best of shrouds is the Hullah (two-piecer).”
ہم سے یونس بن عبد الاعلی نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن سعد نے خبر دی، وہ حاتم بن ابی نصر کی سند سے,عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین کفن جوڑا ہے ۔
It was narrated from Abu Qatadah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If anyone of you is charged with taking care of his brother (after death), let him shroud him well.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا، وہ ہشام بن حسان سے، وہ محمد بن سیرین کی سند سے,ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار ہو، تو اسے اچھا کفن دے ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“When Ibrahim the son of the Prophet (ﷺ) died, the Prophet (ﷺ) said to them: ‘Do not wrap him in his shroud until I look at him.’ He came to him, bent over and wept.”
ہم سے محمد بن اسماعیل بن سمرہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن الحسن نے بیان کیا، ہم سے ابو شیبہ نے بیان کیا,انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: انہیں کفن میں داخل نہ کرنا جب تک کہ میں دیکھ نہ لوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ان کے اوپر جھک کر روئے۔
It was narrated that Bilal bin Yahya said:
“If one of the members of his family died, Hudhaifah رضی اللہ عنہ would say: ‘Do not inform anyone of it, for I am afraid that that would be a public death announcement. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) with these two ears of mine forbidding making public death announcements.’”
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، حبیب بن سلیم کی سند سے, بلال بن یحییٰ کہتے ہیں کہ
جب حذیفہ رضی اللہ عنہ کا کوئی رشتہ دار انتقال کر جاتا تو کہتے: کسی کو اس کے انتقال کی خبر مت دو، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ «نعی» ۱؎ نہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان کانوں سے «نعی» سے منع فرماتے سنا ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Hasten with the funeral (procession), for if the person was righteous then you are advancing him towards good, and if he was otherwise then it is evil which you are taking off of your necks.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہشام بن عمار نے بیان کیا, ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے اور سعید بن المسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو نیکی کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر بد ہے تو بدی کو اپنی گردن سے اتار پھینکو گے ۔
It was narrated that Abu ‘Ubaidah said:
“ ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ said: ‘Whoever follows a funeral (procession), let him carry all (four) corners of it (in turn), for that is Sunnah. Then if he wishes let him voluntarily carry it, and if he wishes let him not do so.’”
ہم سے حمید بن مسعود نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، منصور کی سند سے اور عبید بن نسطَاس نے, ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو کوئی جنازہ کے ساتھ جائے تو ( باری باری ) چارپائی کے چاروں پایوں کو اٹھائے، اس لیے کہ یہ سنت ہے، پھر اگر چاہے تو نفلی طور پر اٹھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
It was narrated from Abu Musa رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) saw a funeral (procession) with which the people were rushing. He said: “You should move with tranquility.”
ہم سے محمد بن عبید بن عقیل نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن ثابت نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، لیث نے ابو بردہ سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ دیکھا جسے لوگ دوڑتے ہوئے لے جا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اطمینان سے چلو ۔
It was narrated that Thawban رضی اللہ عنہ, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) saw some people riding on their animals in a funeral (procession). He said: ‘Do you not feel ashamed that the angels of Allah are walking on foot and you are riding?’
ہم سے کثیر بن عبید الحمصی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بقیہ بن ولید نے ابو بکر بن ابی مریم سے اور راشد بن سعد کی سند سے بیان کیا, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ میں کچھ لوگوں کو جانوروں پر سوار دیکھا، تو فرمایا: تمہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم سوار ہو ۔
Al-Mughirah bin Shu’bah رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘The rider should travel behind the funeral (procession) but the one who is walking may walk wherever he wants.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے رو ح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید بن عبید اللہ بن جبیر بن حیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے زیاد بن جبیر بن حیا نے بیان کیا, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: سوار شخص جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل شخص ( آگے پیچھے، دائیں، بائیں ) جہاں چاہے چلے ۔
It was narrated from Salim that his father said:
“I saw the Prophet (ﷺ), Abu Bakr and ‘Umar رضی اللہ عنہما walking ahead of the funeral (procession).”
ہم سے علی بن محمد، ہشام بن عمار اور سہل بن ابی سہل نے بیان کیا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے، سالم نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جنازہ کے آگے چلتے تھے۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, ‘Umar and ‘Uthman رضی اللہ عنہم used to walk ahead of the funeral (procession).”
ہم سے نصر بن علی الجہضمی اور ہارون بن عبداللہ الحمال نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن بکر البرسانی نے بیان کیا، جنہیں یونس بن یزید العیلی نے الزہری کی سند سے خبر دی, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جنازہ کے آگے چلتے تھے۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The funeral should be followed and should not follow. There should be no one with it who walks ahead of it.”
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبد الواحد بن زیاد نے خبر دی، وہ یحییٰ بن عبد اللہ التیمی نے ابو ماجدہ حنفی کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیئے، جو کوئی جنازہ کے آگے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں ہے ۔
It was narrated that ‘Imran bin Husain and Abu Barzah رضی اللہ عنہما said:
“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) to attend a funeral, and he saw some people who had cast aside their upper sheets and were walking in their shirts only. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Are you adopting the practice of the days of ignorance?’ or; ‘Are you imitating the behaviour of the days of ignorance? I was about to supplicate against you that you would return in a different form.’ So they put their sheets back on and never did that again.”
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن نعمان نے بیان کیا، ہم سے علی بن حزور نے بیان کیا، وہ نفیع کی سند سے,عمران بن حصین اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں، اور دوبارہ ایسا نہ کیا۔
It was narrated from ‘Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Do not delay the funeral once it is ready.”
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعید بن عبداللہ الجہنی نے خبر دی، کہا کہ ان سے محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب نے اپنے والد سے اور اپنے دادا کی سند سے,علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنازہ تیار ہو تو اس ( کے دفنانے ) میں دیر نہ کرو.
It was narrated from Abu Hariz that Abu Burdah رضی اللہ عنہ said:
“Abu Musa Ash’ari رضی اللہ عنہ left instructions, when he was dying, saying: ‘Do not follow me with a censer.’* They said to him: ‘Did you hear something concerning that?’ He said: ‘Yes, from the Messenger of Allah (ﷺ).’”
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی الصنعانی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں معتمر بن سلیمان نے خبر دی، کہا: میں نے ابو حارث رضی اللہ عنہ سے فضیل بن میسرہ کو پڑھا, ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت ہوا، تو انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جانا، لوگوں نے پوچھا: کیا اس سلسلے میں آپ نے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever has the funeral prayer offered for him by one hundred Muslims, he will be forgiven.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، کہا: ہمیں شیبان نے العمش کی سند سے اور ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی نماز جنازہ سو مسلمانوں نے پڑھی اسے بخش دیا جائے گا ۔
It was narrated that Kuraib the freed slave of ‘Abdullah bin ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“A son of ‘Abdullah bin ‘Abbas رضی اللہ عنہما died, and he said to me: ‘O Kuraib! Get up and see if anyone has assembled (to pray) for my son.’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘Woe to you, how many do you see? Forty?’ I said: ‘No, rather there are more.’ He said: ‘Take my son out, for I bear witness that I hear the Messenger of Allah (ﷺ) say: “No (group of) forty believers intercede for a believer, but Allah will accept their intercession.”
ہم سے ابراہیم بن المنذر الحزامی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بکر بن سلیم نے بیان کیا، کہا: مجھ سے حمید بن زیاد الخر اط نے بیان کیا، کہا: ہم سے شریک نے عبداللہ بن عباس کے آزاد کردہ غلام کریب سے بیان کیا، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے کریب! جاؤ، دیکھو میرے بیٹے کے جنازے کے لیے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے، ان کی تعداد کتنی سمجھتے ہو؟ کیا وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اس سے زیادہ ہیں، تو انہوں نے کہا: تو پھر میرے بیٹے کو نکالو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اگر چالیس مومن کسی مومن کے لیے شفاعت کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول کرے گا ۔
Malik bin Hubairah Ash-Shami رضی اللہ عنہ , who was a Companion of the Prophet (ﷺ), said:
“If a funeral procession was brought and the number of people who followed it was considered to be small, they would be organized into three rows, then the funeral prayer would be offered.” He said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘No three rows of Muslims offer the funeral prayer for one who has died, but he will be guaranteed (Paradise).’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن نمیر نے، محمد بن اسحاق سے، یزید بن ابی حبیب کی سند سے، مرثد بن عبداللہ الیزانی کی سند سے, مالک بن ہبیرہ شامی رضی اللہ عنہ (انہیں صحبت رسول کا شرف حاصل تھا) کہتے ہیں کہ
جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، اور وہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم محسوس کرتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیتے، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کسی میت پہ مسلمانوں کی تین صفوں نے صف بندی کی، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“A funeral (procession) passed by the Prophet (ﷺ) and they praised (the deceased) and spoke well of him. He said: ‘(Paradise is) guaranteed for him.’ Then another funeral passed by and they spoke badly of him, and he (the Prophet (ﷺ)) said: ‘(Hell is) guaranteed for him.’ It was said: ‘O Messenger of Allah, you said that (Paradise was) guaranteed for this one and that (Hell was) guaranteed for the other one.’ He said: ‘It is the testimony of the people, and the believers are the witnesses of Allah on earth.’”
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ثابت کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر ( جنت ) واجب ہو گئی پھر آپ کے سامنے سے ایک اور جنازہ لے جایا گیا، تو لوگوں نے اس کی برائی کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر ( جہنم ) واجب ہو گئی ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے لیے بھی فرمایا: واجب ہو گئی ، اور اس کے لیے بھی فرمایا: واجب ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی گواہی واجب ہو گئی، اور مومن زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“A funeral passed by the Prophet (ﷺ) and they praised (the deceased) and spoke well of him and mentioned his good characteristics. He said: ‘(Paradise is) guaranteed for him.’ Then another funeral passed by and they spoke badly of him and mentioned his bad characteristics, and he (the Prophet (ﷺ)) said: ‘(Hell is) guaranteed for him. You are the witnesses of Allah on earth.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن عمرو کی سند سے اور ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی خصلتوں کی تعریف کی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر ( جنت ) واجب ہو گئی پھر آپ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا، اس کی بری خصلتوں کا تذکرہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر ( جہنم ) واجب ہو گئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو ۔