It was narrated that Ubayy bin Ka’b رضی اللہ عنہ said:
“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and we all had a single focus, but when he passed away we started to look here and there (i.e., have different interests).”
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہیں عبد الوہاب بن عطاء العجلی نے ابن عون کی سند سے اور حسن کی سند سے, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ہم سب ایک رخ تھے، لیکن جب آپ کا انتقال ہو گیا تو پھر ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے۔
It was narrated that Umm Salamah bint Abi Umayyah رضی اللہ عنہا, the wife of the Prophet (ﷺ), said:
“At the time of the Messenger of Allah (ﷺ), if a person stood to pray, his gaze would not go beyond his feet. When the Messenger of Allah (ﷺ) died, if a person stood to pray, his gaze would not go beyond the place where he put his forehead when prostrating. Then Abu Bakr رضی اللہ عنہ died and it was ‘Umar رضی اللہ عنہ (the caliph). So, when any person stood to pray his gaze would not go beyond the Qiblah. Then came the time of ‘Uthman bin ‘Affan رضی اللہ عنہ, and there was Fitnah (tribulation, turmoil), and the people started to look right and left.”
ہم سے ابراہیم بن المنذر الحزامی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے ماموں محمد بن ابراہیم بن المطلب بن السائب بن ابی وداع الصہمی نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عبداللہ بن ابی امیہ المخزومی نے بیان کیا، مجھ سے مصعب بن عبداللہ نے بیان کیا, ام المؤمنین ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب مصلی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ اس کے قدموں کی جگہ سے آگے نہ بڑھتی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جب کوئی ان میں سے نماز پڑھتا تو اس کی نگاہ پیشانی رکھنے کے مقام سے آگے نہ بڑھتی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ان میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلہ کے سوا کسی اور طرف نہ جاتی تھی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور مسلمانوں میں فتنہ برپا ہوا تو لوگوں نے دائیں بائیں مڑنا شروع کر دیا۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
“After the Messenger of Allah (ﷺ) had died, Abu Bakr رضی اللہ عنہ said to ‘Umar رضی اللہ عنہ : ‘Let us go and visit Umm Ayman رضی اللہ عنہا as the Messenger of Allah (ﷺ) used to visit her.’ He said: ‘When we reached her she wept.’ They said: ‘Why are you weeping? What is with Allah is better for His Messenger.’ She said: ‘I know that what is with Allah is better for His Messenger, but I am weeping because the Revelation from heaven has ceased.’ She moved them to tears and they started to weep with her.”
ہم سے حسن بن علی الخلال نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن مغیرہ نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: چلئے، ہم ام ایمن ( برکہ ) رضی اللہ عنہا سے ملنے چلیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے جایا کرتے تھے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، تو وہ رونے لگیں، ان دونوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، انہوں نے کہا: میں جانتی ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ بند ہو گیا، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو بھی رلا دیا، وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۔
It was narrated from Aws bin Aws رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The best of your days is Friday. On it Adam was created; on it shall be the Nafakhah,* on it all creation will swoon. So send a great deal of blessing upon me on this day, for your blessing will be presented to me.’ A man said: “O Messenger of Allah! How will our blessing be presented to you when you have disintegrated?” He said: “Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر کے واسطہ سے اور ابو اشعث الصنعانی کی سند سے, اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا ہوئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن لوگ بیہوش ہوں گے، لہٰذا اس دن کثرت سے میرے اوپر درود ( صلاۃ و سلام ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ جب کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے ۔
It was narrated from Abu Darda’ رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ہم سے عمرو بن سواد المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث سے، سعید بن ابی ہلال سے، زید بن ایمن سے، عبادہ بن نصیٰ سے, ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۔