It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“They (the martyrs) were brought to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Uhud, and he started to offer the funeral prayer for them, ten by ten. Hamzah رضی اللہ عنہ lay where he lay, and they were taken away but he was left where he was.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ابی زیاد سے، انہوں نے مقسم کی سند سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا
غزوہ احد کے دن شہداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے، تو آپ دس دس آدمیوں پر نماز جنازہ پڑھنے لگے، اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش اسی طرح رکھی رہی اور باقی لاشیں نماز جنازہ کے بعد لوگ اٹھا کر لے جاتے رہے، لیکن حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش جیسی تھی ویسی ہی رکھی رہی۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to put two or three of the slain of Uhud in one shroud. He would ask: “Which of them had memorized more Qur’an?” And if one of them was pointed out to him, he would put him in the niche-grave first. And he said: “I am a witness over them.” He commanded that they should be buried with their blood, and that the funeral prayer should not be offered for them and they should not be washed.
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ ابن شہاب کی سند سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کی سند سے,جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے، پھر پوچھتے: ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے ؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا، تو اسے قبر ( قبلہ کی طرف ) میں آگے کرتے، اور فرماتے: میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں،، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اور نہ غسل دلایا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) commanded that the weapons and armor should be removed from the slain of Uhud, and they should be buried in their clothes stained with blood.
ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن عاصم نے بیان کیا، عطا بن سائب نے سعید بن جبیر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے ہتھیار اور پوستین اتار لی جائے، اور ان کو انہیں کپڑوں میں خون سمیت دفنایا جائے۔
It was narrated from Aswad bin Qais رضی اللہ عنہما that:
He heard Nubaih Al-‘Anazi رضی اللہ عنہ say: “I heard Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) commanded that the slain of the battle of Uhud should be returned to the battlefield; they had been moved to Al-Madinah.’”
ہم سے ہشام بن عمار اور سہل بن ابی سہل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے اسود بن قیس کی سند سے بیان کیا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے نوبیح عنزی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اپنی شہادت گاہوں کی جانب لوٹا دئیے جائیں، لوگ انہیں مدینہ لے آئے تھے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever offers the funeral prayer in the mosque will have nothing (i.e., no reward).’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ ابن ابی ذہب کی سند سے، وہ التوءمہ کے آزاد کردہ غلام صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے تو اس کے لیے کچھ نہیں ہے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“By Allah! The Messenger of Allah (ﷺ) did not offer the funeral prayer for Suhail bin Baida’ رضی اللہ عنہ anywhere but in the mosque.” Ibn Majah said: The Hadith of Aishah رضی اللہ عنہا is stronger.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے فلیح بن سلیمان نے، صالح بن عجلان سے، انہوں نے عباد بن عبد اللہ بن زبیر کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث زیادہ قوی ہے۔
‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani رضی اللہ عنہ said:
“There are three times during the day when the Messenger of Allah (ﷺ) forbade us to offer the funeral prayer or bury our dead: When the sun has fully risen (until it is higher up in the sky); when it is overhead at noon, until it has passed the meridian: and when it is starting to set until it has set.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا اور ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، وہ سب موسیٰ بن علی بن رباح سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا, عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تین اوقات میں نماز پڑھنے، اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے: ایک تو جب سورج نکل رہا ہو، اور دوسرے جب کہ ٹھیک دوپہر ہو، یہاں تک کہ زوال ہو جائے یعنی سورج ڈھل جائے، تیسرے جب کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) placed a man in his grave at night, and he lit a lamp in his grave.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن الیمان نے خبر دی، انہیں منہال بن خلیفہ نے عطاء کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو رات میں دفن کیا، اور اس کی قبر کے پاس ( روشنی کے لیے ) چراغ جلایا ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Do not bury your dead at night unless you are forced to.”
ہم سے عمرو بن عبداللہ الاودی نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے ابراہیم بن یزید مکی کی سند سے اور ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا, جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو رات میں دفن نہ کرو، مگر یہ کہ تم مجبور کر دئیے جاؤ ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “Offer the funeral prayer for your dead by night or by day.”
ہم سے عباس بن عثمان الدمشقی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ولید بن مسلم نے ابن لہیعہ سے اور ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کی نماز جنازہ رات اور دن میں جس وقت چاہو پڑھو ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہ said:
“When ‘Abdullah bin Ubayy died, his son came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, give me your shirt so that I may shroud him in it.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Notify me when he is ready (i.e., when he has been washed and shrouded).’ When the Prophet (ﷺ) wanted to offer the funeral prayer for him: ‘You should not do that.’ The Prophet (aw) offered the funeral prayer for him, and the Prophet (ﷺ) said to him: ‘I have been given two choices: “...ask forgiveness for them (hypocrites) or ask not forgiveness for them...’” [9:80] Then Allah revealed: ‘And never pray (the funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave.’” [9:84]
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب ( منافقین کے سردار ) عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا تو اس کے ( مسلمان ) بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اپنا کرتہ دے دیجئیے، میں اس میں اپنے والد کو کفناؤں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اس کا جنازہ تیار کر کے ) مجھے اطلاع دینا ، جب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: یہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے، بہرحال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مجھے دو باتوں میں اختیار دیا گیا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ( سورة التوبة: 80 ) تم ان کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ( سورة التوبة: 84 ) منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The leader of the hypocrites in Al- Madinah died, and left instructions that the Prophet (ﷺ) should offer the funeral prayer for him and shroud him in his shirt. He offered the funeral prayer for him and shrouded him in his shirt, and stood by his grave. Then Allah revealed the words: ‘And never pray (the funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave.” [9:84]
ہم سے عمار بن خالد واسطی اور سہل بن ابی سہل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے مجالد کی سند سے اور عامر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
منافقین کا سردار ( عبداللہ بن ابی ) مدینہ میں مر گیا، اس نے وصیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں، اور اس کو اپنی قمیص میں کفنائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اسے اپنے کرتے میں کفنایا، اور اس کی قبر پہ کھڑے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں، اور اس کی قبر پہ مت کھڑے ہوں۔
It was narrated from Wathilah bin Asqa’ رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Offer prayer for everyone who dies, and strive in Jihad under every chief.”
احمد بن یوسف السلمی نے روایت کیا، انہوں نے کہا: مسلم بن ابراہیم نے روایت کیا، انہوں نے کہا: حارث بن نبھان نے روایت کیا، انہوں نے کہا: عتبہ بن یقظان نے، ابو سعید کی سند سے، مکحول کی سند سے, واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر میت کی نماز پڑھو، اور ہر امیر ( حاکم ) کے ساتھ ( مل کر ) جہاد کرو ۔
It was narrated from Jabir bin Samurah that:
A man from among the Companions of the Prophet (ﷺ) was wounded, and the wound caused him a great deal of pain. He went and took a spearhead, and slaughtered himself with it. The Prophet (ﷺ) did not offer the funeral prayer for him, and that was as an admonition for others
ہم سے عبداللہ بن عامر بن زرارہ نے بیان کیا، ہم سے شریک بن عبداللہ نے سماک بن حرب کی سند سے بیان کیا, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص زخمی ہوا، اور زخم نے اسے کافی تکلیف پہنچائی، تو وہ آہستہ آہستہ تیر کی انی کے پاس گیا، اور اس سے اپنے کو ذبح کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
A black woman used to sweep the mosque. The Messenger of Allah (ﷺ) noticed she was missing and he asked about her after a few days. He was told that she had died. He said: “Why did you not tell me?” Then he went to her grave and offered the funeral prayer for her.
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم کو حماد بن زید نے خبر دی، ہم سے ثابت نے بیان کیا، ابو رافع کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں دیکھا، کچھ روز کے بعد اس کے متعلق پوچھا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ اس کا انتقال ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے خبر کیوں نہ دی، اس کے بعد آپ اس کی قبر پہ آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی ۔
Kharijah bin Zaid bin Thabit narrated that Yazid bin Thabit رضی اللہ عنہ , who was older than Zaid, said:
“We went out with the Prophet (ﷺ) and when we reached Al-Baqi’, we saw a new grave. He asked about it and they said: ‘(It is) so-and-so (a woman).’ He recognized the name and said: ‘Why did you not tell me about her?’ They said: ‘You were taking a nap and you were fasting, and we did not like to disturb you.’ He said: ‘Do not do that; I do not want to see it happen again that one of you dies, while I am still among you, and you do not tell me, for my prayer for him is a mercy.’ Then he went to the grave and we lined up in rows behind him, and he said four Takbir (i.e. for the funeral prayer).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے خارجہ بن زید بن ثابت نے بیان کیا,یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ (وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی) کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: فلاں عورت کی ہے، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی؟ ، لوگوں نے کہا: آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے، اور روزے سے تھے، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ایسا نہ کرنا، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص مر جائے تو جب تک میں تم میں زندہ ہوں مجھے خبر کرتے رہو، اس لیے کہ اس پر میری نماز اس کے لیے رحمت ہے، پھر آپ اس کی قبر کے پاس آئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amir bin Rabi’ah رضی اللہ عنہ , from his father, that:
A black woman died and the Prophet (ﷺ) was not told about that. Then he was informed of it, and he said: “Why did you not tell me?” Then he said to his Companions: “Line up in rows to pray for her,” and he offered the funeral prayer for her.
ہم سے یعقوب بن حمید بن کاسب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمد الدر اوردی نے بیان کیا، وہ محمد بن زید بن المہاجر بن قنفذ نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ کی سند سے اپنے والد کی سند سے, عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک کالی عورت کا انتقال ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی ؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا: اس پہ صف باندھو، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“A man died whom the Messenger of Allah (ﷺ) used to visit, and they buried him at night. When morning came, they told him. He said: ‘What kept you from telling me?’ They said: ‘It was night and it was dark, and we did not like to cause you any inconvenience.’ Then he went to the grave and offered the funeral prayer for him.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے ابواسحاق الشیبانی سے اور شعبی کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک ایسے شخص کا انتقال ہو گیا، جس کی عیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے، لوگوں نے اسے رات میں دفنا دیا، جب صبح ہوئی اور لوگوں نے ( اس کی موت کے بارے میں ) آپ کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی ؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور تاریکی تھی، ہم نے آپ کو تکلیف دینا اچھا نہیں سمجھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے پاس آئے، اور اس کی نماز جنازہ پڑھی ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer at a grave after the burial.
ہم سے عباس بن عبد العظیم العنبری اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا, ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا, ہم سے غندر نے شعبۃ کی سند سے، حبیب بن شہید کی سند سے، ثابت کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر دفن کیے جانے کے بعد اس میت کی نماز جنازہ پڑھی۔
It was narrated from Ibn Buraidah رضی اللہ عنہ from his father that:
The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for a deceased person after he had been buried.
ہم سے محمد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے مہران بن ابی عمر نے بیان کیا، وہ ابو سنان کی سند سے، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے, بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کی اس کے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔