It was narrated from Salim that his father said:
“A Bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, my father used to uphold the ties of kinship, and so and so forth, where is he?’ He said: ‘In the Fire.’ It was as if he found that difficult to bear. Then he said: ‘O Messenger of Allah. Where is your father?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whenever you pass by the grave of an idolater, give him the tidings of Hell-fire.’ The Bedouin later became Muslim, and he said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) gave me a difficult task. I never passed the grave of an idolater but I gave him the tidings of Hell-fire.’”
ہم سے محمد بن اسماعیل بن البختری الوصطی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یزید بن ہارون نے ابراہیم بن سعد سے، وہ زہری سے، سالم سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے، تو اب وہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں ہیں اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو اس کے بعد وہ اعرابی ( دیہاتی ) مسلمان ہو گیا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Hassan bin Thabit رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) cursed women who visit graves.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے قبیصہ نے بیان کیا اور ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ہم سے عبید بن سعید نے بیان کیا۔ اور ہم سے محمد بن خلف عسقلانی نے بیان کیا: ہم سے الفریابی اور قبیصہ نے سفیان کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی سند سے، عبدالرحمٰن بن بہمن کی سند سے، عبدالرحمٰن بن حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سند سے، اپنے والد کی سند سے، جنہوں نے کہا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) cursed women who visit graves.”
ہم سے ازہر بن مروان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جحادہ نے ابوصالح کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) cursed women who visit graves.”
ہم سے محمد بن خلف عسقلانی نے ابو نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن طالب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، وہ عمر بن ابی سلمہ سے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
It was narrated that Umm ‘Atiyyah رضی اللہ عنہا said:
“We were prevented from following the funeral, but that was not made binding on us.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے ہشام سے اور حفصہ رضی اللہ عنہا سے, ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ۔
It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) went out and saw some women sitting, and he said: ‘What are you sitting here for?’ They said: ‘We are waiting for the funeral.’ He said: ‘Are you going to wash the deceased?’ They said: ‘No.’ He said: ‘Are you going to lower him into the grave?’ They said: ‘No.’ He said: ‘Then go back with a burden of sin and not rewarded.’”
ہم سے محمد بن المصفی الحمصی نے بیان کیا، کہا: ہم سے احمد بن خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسرائیل نے اسماعیل بن سلمان سے، دینار ابو عمر سے، ابن الحنفیہ کی سند سے بیان کیا, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا: تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اسے اٹھاؤ گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ ( اپنے گھروں کو ) واپس جاؤ ۔
It was narrated from Umm Salamah رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) regarding: “And that they will not disobey you in Ma’ruf (all that is good in Islam);” he said: “(It is about) wailing.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ صحابہ کے آزاد کردہ غلام یزید بن عبداللہ سے شہر بن حوشب کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ولا يعصينك في معروف» ( سورة الممتنحة: 12 ) نیک باتوں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: اس سے مراد نوحہ ہے ۔
Jarir, the freed slave of Mu’awiyah رضی اللہ عنہ , said:
“Mu’awiyah رضی اللہ عنہ delivered a sermon in Hims, and in his sermon he mentioned that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade wailing.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام حریز کہتے ہیں کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے حمص میں خطبہ دیا تو اپنے خطبہ میں یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ ( چلّا کر رونے ) سے منع فرمایا ہے
It was narrated from Abu Malik Ash’ari رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Wailing is one of the affairs of the Days of Ignorance, and if the woman who wails dies without having repented, Allah will cut a garment of pitch (tar) for her and a shirt of flaming fire.’”
ہم سے عباس بن عبد العظیم العنبری اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہمیں معمر نے، یحییٰ بن ابی کثیر نے، ابن معنق یا ابی معانق سے, ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نوحہ ( ماتم ) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ ( ماتم ) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول ( ڈامر ) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Wailing over the dead is one of the affairs of the Days of Ignorance and if the woman who wails does not repent before she dies, she will be resurrected on the Day of Resurrection wearing a shirt of pitch (tar), over which she will wear a shirt of flaming fire.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن راشد الیمامی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مر جائے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہو گی، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade following a funeral that was accompanied by a wailing woman.”
ہم سے احمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو عبید اللہ نے بیان کیا، ہم کو اسرائیل نے خبر دی، ابو یحییٰ نے مجاہد کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی عورت ہو ۔
It was narrated from ‘Abdullah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “He is not one of us who tears his garments, strikes his cheeks, and cries with the cry of the Days of Ignorance.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن دونوں نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، زبید سے، ابراہیم کی سند سے، مسروق کی سند سے, ہم سے علی بن محمد اور ابوبکر بن خلاد نے بیان کیا : ہم سے وکیع نے بیان کیا : ہم سے عماش نے عبداللہ بن مرہ کی سند سے اور مسروق کی سند سے بیان کیا ,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( نوحہ میں ) گریبان پھاڑے، منہ پیٹے، اور جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
It was narrated from Abu Umamah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) cursed the woman who scratches her face and rends her garment and cries that she is doomed (i.e. because of the death of this person).
ہم سے محمد بن جابر المحاربی اور محمد بن کرامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر نے مکحول اور القاسم کی سند سے بیان کیا, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا ( نوحہ میں ) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے۔
‘Abdur-Rahman bin Yazid and Abu Burdah رضی اللہ عنہما said:
“When Abu Musa رضی اللہ عنہ fell sick, his wife Umm ‘Abdullah started to wail loudly. He woke up and said to her: ‘Do you not know that I am innocent of those whom the Messenger of Allah (ﷺ) declared innocence of?’ And he told her that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I am innocent of those who shave their heads, raise their voices and tear their garments (at times of calamity).’”
ہم سے احمد بن عثمان بن حکیم العودی نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن عون نے ابو العمیس کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نےعبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا: کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) was attending a funeral. ‘Umar رضی اللہ عنہ saw a woman and shouted at her, but the Prophet (ﷺ) said, “Leave her alone, O ‘Umar, for the eye weeps and the heart is afflicted, and the bereavement is recent.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہشام بن عروہ نے، وہب بن کیسان سے اور محمد بن عمرو بن عطاء سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو ( روتے ) دیکھا تو اس پر چلائے، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے، جان مصیبت میں ہے، اور ( صدمہ کا ) زمانہ قریب ہے ۱؎۔
Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہما said:
“The son of one of the daughters of the Messenger of Allah (ﷺ) was dying. She sent for him, asking him to come to her, and he sent word to her, saying: ‘To Allah belongs what He has taken and to Him belongs what He has given. Everything has an appointed time with Him, so be patient and seek reward.’ But she sent for him again, adjuring him to come. So the Messenger of Allah (ﷺ) got up, and I got up with him, as did Mu’adh bin Jabal, Ubayy bin Ka’b and ‘Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہم . When we entered they handed the child to the Messenger of Allah (ﷺ), and his soul was rattling in his chest.” I think he was that it was like a water skin. “The Messenger of Allah (ﷺ) wept, and ‘Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ said to him: ‘What is this, O Messenger of Allah?’ He said: ‘It is compassion which Allah has created in the son of Adam. Allah only shows mercy to those of His slaves who are compassionate.’”
ہم سے محمد بن عبد الملک بن ابی الشوارب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے عاصم الاحول نے بیان کیا، ابو عثمان کی سند سے, اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا: جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے، اور جو دے دیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے، انہیں چاہیئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں لڑکی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ بلا بھیجا، اور قسم دلائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور تشریف لائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی تھے، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی، ( راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا: ) گویا وہ پرانی مشک ہے ( اور اس میں پانی ہل رہا ہے ) : یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے ۔
It was narrated that Asma’ bint Yazid رضی اللہ عنہما said:
“When Ibrahim, the son of the Messenger of Allah (ﷺ), died, the Messenger of Allah (ﷺ) wept. The one who was consoling him, either Abu Bakr or ‘Umar, said to him: ‘You are indeed the best of those who glorify Allah with what is due to him.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The eye weeps and the heart grieves, but we do not say anything that angers the Lord. Were it not that death is something that inevitably comes to all, and that the latter will surely join the former, then we would have been more than we are, verily we grieve for you.’”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا، انہوں نے ابن خثیم کی سند سے اور شہر بن حوشب کی سند سے, اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، آپ سے تعزیت کرنے والے نے ( وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما ) کہا: آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا، تو اے ابراہیم! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں ۔
It was narrated from Hamnah bint Jahsh رضی اللہ عنہا that:
It was said to her: “Your brother has been killed.” She said: “May Allah have mercy on him. Inna lillahi wa inna ilayhi raji’un (Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return).” They said: “Your husband has been killed.” She said: “O grief!” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The woman has a strong love for her husband, which she does not have for anything else.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن محمد الفروی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن محمد بن عبداللہ بن جحش نے اپنے والد کی سند سے, حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ان سے کہا گیا: آپ کا بھائی قتل کر دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، «إنا لله وإنا إليه راجعون» ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں لوگوں نے بتایا: آپ کے شوہر قتل کر دئیے گئے، یہ سنتے ہی انہوں نے کہا: ہائے غم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی کو شوہر سے ایک ایسا قلبی لگاؤ ہوتا ہے جو دوسرے کسی سے نہیں ہوتا ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) passed by some women of ‘Abdul-Ashhal who were weeping for their slain on the Day of Uhud. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “But there is no one to weep for Hamzah رضی اللہ عنہما .” So the women of Ansar started to weep for Hamzah. The messenger of Allah (ﷺ) woke up and said, ‘Woe to them, have they not gone home yet? Tell them to go home and not to weep for anyone who dies after this day.’”
ہم سے ہارون بن سعید المصری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا: ہمیں اسامہ بن زید نے نافع کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( قبیلہ ) عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ غزوہ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں ، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں، اور حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، تو فرمایا: ان عورتوں کا برا ہو، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں ۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade eulogies.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابراہیم الہجری کی سند سے, عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے ۔