It was narrated that Abu Sa’eed رضی اللہ عنہ said:
“There was a black woman who used to sweep the mosque, and she passed away at night. The following morning the Messenger of Allah (ﷺ) was told of her death. He said: ‘Why did you not call me?’ Then he went out with his Companions and stood at her grave, and said Takbir over her, with the people behind him, and he supplicated for her, then he went away.’”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن شرہبیل نے بیان کیا، انہوں نے ابن لہیعہ سے، انہوں نے عبید اللہ بن المغیرہ سے اور ابو الہیثم کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، ایک رات اس کا انتقال ہو گیا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مرنے کی اطلاع دی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے خبر کیوں نہ دی ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے اور اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تکبیر کہی، اور لوگ آپ کے پیچھے تھے، آپ نے اس کے لیے دعا کی پھر آپ لوٹ آئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Najashi has died.’ The Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions went out to Al-Baqi’, and we lined up in rows behind him, and the Messenger of Allah (ﷺ) went forward, then he said four Takbir.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، انہوں نے معمر کی سند سے، وہ زہری کی سند سے، وہ سعید بن المسیب سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مقبرہ بقیع کی طرف گئے، ہم نے صف باندھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، پھر آپ نے چار تکبیریں کہیں۔
It was narrated from ‘Imran bin Husain رضی اللہ عنہما :
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Your brother Najashi has died, so offer the funeral prayer for him.” Then he stood and we prayed behind him. I was in the second row and two rows prayed for him.”
ہم سے یحییٰ بن خلف اور محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا اور ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا, ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سب نے یونس کی سند سے، ابو قلابہ سے اور ابو المحلب کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ( دینی ) بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، ان کی نماز جنازہ پڑھو عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، میں دوسری صف میں تھا، تو دو صفوں نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی.
It was narrated from Mujammi’ bin Jariyah Al-Ansari رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Your brother Najashi has died, so stand and pray for him.” So we formed two rows behind him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، حمران بن اعیان نے ابو طفیل سے, مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ( دینی ) بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، تم لوگ کھڑے ہو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں لگائیں ۔
It was narrated from Hudhaifah bin Asid رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) led them out and said: “Pray for a brother of yours who has died in a land other than yours.” They said: “Who is he?” He said: “Najashi.”
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، وہ المثنیٰ بن سعید نے، قتادہ کی سند سے اور ابو طفیل کی سند سے, حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر نکلے تو فرمایا: اپنے ( دینی ) بھائی پر نماز جنازہ پڑھو جن کی موت تمہارے علاقہ سے باہر ہو گئی ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نجاشی ہیں ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for Najashi and said four Takbir.
ہم سے سہل بن ابی سہل نے بیان کیا، کہا: ہم سے مکی بن ابراہیم ابو السکن نے مالک کی سند سے، نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی، تو چار تکبیرات کہیں۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever offers the funeral prayer will have one Qirat and whoever awaits until (the burial) is finished will have two Qirat.” They said: ‘What are these two Qirat?’ He said: ‘Like two mountains.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الاعلی نے معمر کی سند سے، زہری نے سعید بن مسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا، اسے دو قیراط ثواب ہے لوگوں نے عرض کیا: دو قیراط کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو پہاڑ کے برابر ۔
It was narrated from Thawban رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever offers the funeral prayer will have one Qirat and whoever attends the burial will have two Qirat.” The Prophet (ﷺ) was asked about the Qirat and he said: “(It is) like Uhud.”
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، وہ قتادہ کی سند سے، مجھ سے سالم بن ابی الجعد نے بیان کیا، وہ معدن بن ابی طلحہ کی سند سے, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن میں بھی شریک رہا، تو اس کو دو قیراط برابر ثواب ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے ۔
It was narrated from Ubayy bin Ka’b رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever offers the funeral prayer will have one Qirat; and whoever attends until the burial is over, will have two Qirat. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad! The Qirat is greater than this (mountain of) Uhud.”
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن المحاربی نے بیان کیا، انہوں نے حجاج بن ارطاہ سے، عدی بن ثابت کی سند سے، وہ زر بن حبیش کی سند سے, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن تک جنازہ میں حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، قیراط اس احد پہاڑ سے بڑا ہے ۔
It was narrated from ‘Amir bin Rabi’ah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “When you see a funeral (procession) stand up for it until it has passed by or it is placed on the ground.”
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا: ہمیں لیث بن سعد نے نافع کی سند سے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے, عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“A funeral has passed by the Prophet (ﷺ) and he stood up and said: ‘Stand up out of recognition of the enormity of death.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہناد بن السری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے محمد بن عمرو کی سند سے اور ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کھڑے ہو جاؤ! اس لیے کہ موت کی ایک گھبراہٹ اور دہشت ہے ۔
It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) stood up for a funeral, and we stood up, until he sat down, then we sat down.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے شعبہ کی سند سے، محمد بن المنکدر سے، مسعود بن الحکم سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوئے، پھر آپ بیٹھ گئے، تو ہم بھی بیٹھ گئے۔
It was narrated that ‘Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) followed a funeral, he would not sit down until it had been placed in the niche-grave. A rabbi came to him and said: ‘This is what we do, O Muhammad!’ So the Messenger of Allah (ﷺ) sat down and said: ‘Be different from them.’”
ہم سے محمد بن بشار اور عقبہ بن مکرم نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن رافع نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن سلیمان بن جنادہ بن ابی امیہ نے اپنے والد سے اور اپنے دادا کی سند سے, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا، اور کہا: اے محمد! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنا شروع کر دیا، اور فرمایا: ان کی مخالفت کرو ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“I could not find him, meaning the Prophet (ﷺ), and he was in Al-Baqi’. He said: “As-salamu ‘alaykum dara qawmin mu’minin. Antum lana faratun wa inna bikum lahiqun. Allahumma la tahrimna ajrahum wa la taftinna ba’dahum. (Peace be upon you, O abode of believing people. You have gone ahead of us and verily we will join you soon. O Allah, do not deprive us of their reward and do not put us to trial after them).”
ہم سے اسماعیل بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے شریک بن عبد اللہ نے عاصم بن عبید اللہ سے اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے انہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( ایک رات ) غائب پایا، پھر دیکھا کہ آپ مقبرہ بقیع میں ہیں، اور آپ نے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين أنتم لنا فرط وإنا بكم لاحقون اللهم لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم» اے مومن گھر والو! تم پر سلام ہو، تم لوگ ہم سے پہلے جانے والے ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے ثواب سے محروم نہ کرنا، اور ان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈالنا ۔
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach them, when they went out to the graveyard, to say: As-salamu ‘alaykum ahlad-diyar minal-mu’minina wal- muslimin, wa inna insha’ Allah bikum lahiqun, nas’alul-laha lana wa lakumul-‘afiyah (Peace be upon you, O inhabitants of the abodes, believers and Muslims, and we will join you soon if Allah wills. We ask Allah for well-being for us and for you).’”
ہم سے محمد بن عباد بن آدم نے بیان کیا، ہم سے احمد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے علقمہ بن مرثد نے، سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہیں: «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون نسأل الله لنا ولكم العافية» اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلام ہو، ہم تم سے ان شاءاللہ ملنے والے ہیں، اور ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
It was narrated that Bara’ bin ‘Azib رضی اللہ عنہما said:
“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) for a funeral, and he sat facing the Qiblah (prayer direction).”
ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، وہ یونس بن خباب کی سند سے، وہ منہال بن عمرو کی سند سے، وہ زادان کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے۔
It was narrated that Bara’ bin ‘Azib رضی اللہ عنہما said:
“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) for a funeral, and we came to a grave. He sat down and we sat down, as if there were birds on our heads.”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، وہ عمرو بن قیس سے، وہ منہال بن عمرو نے زادان کے واسطہ سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے، اور ہم بھی بیٹھ گئے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“When the deceased was placed in the grave, the Prophet (ﷺ) would say: ‘Bismillah, wa ‘ala millati rasul-illah (In the Name of Allah and according to the religion of the Messenger of Allah).’” Abu Khalid said on one occasion, when the deceased was placed in the grave: “Bismillah wa ‘ala sunnati rasul- illah (In the Name of Allah and according to the Sunnah of the Messenger of Allah).” Hisham said in his narration: “Bismillah, wa fi sabil-illah, wa ‘ala millati rasul-illah (In the Name of Allah, for the sake of Allah and according to the religion of the Messenger of Allah).”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ہم سے لیث بن ابی سلیم نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب مردے کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «بسم الله وعلى ملة رسول الله» اور ابوخالد نے اپنی روایت میں ایک بار یوں کہا: جب میت کو اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا تو آپ «بسم الله وعلى سنة رسول الله» کہتے، اور ہشام نے اپنی روایت میں «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» کہا ہے۔
It was narrated that Abu Rafi’ رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) placed Sa’d رضی اللہ عنہ gently in his grave and sprinkled water on it.”
ہم سے عبد الملک بن محمد الرقاشی نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن الخطاب نے بیان کیا، ہم سے مندل بن علی نے بیان کیا، انہیں محمد بن عبید اللہ ابن ابی رافع نے اپنے والد داؤد بن حصین کی سند سے بیان کیا,ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو ان کی قبر کے پائتانے سے سر کی طرف سے قبر میں اتارا، اور ان کی قبر پہ پانی چھڑکا ۔
It was narrated from Abu Sa’eed رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) was brought into his grave from the direction of the Qiblah, and he was placed in his grave gently.
ہم سے ہارون بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے محاربی نے بیان کیا، وہ عمرو بن قیس سے، انہوں نے عطیہ کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف سے ( قبر میں ) اتارا گیا، اور کھینچ لیا گیا، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا۔