Back to Mishkat Al-Masabih

Business Transactions

كتاب البيوع

Chapter 11

Hadith 2899
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ رَجُلٌ مَالَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَق بِهِ من غَيره»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مفلس ہو جائے اور کوئی آدمی اپنا مال بالکل اسی صورت میں پا لے تو یہ (مال والا) شخص دوسروں کی نسبت اس مال کا زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2900
sahih
وَعَن أبي سعيد قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دينه فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ» فَتَصَّدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِك وَفَاء دينه فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ «خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِك» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ایک آدمی کو پھلوں کی تجارت میں خسارہ ہوا تو اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا ، اس صورت میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس پر صدقہ کرو ۔‘‘ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن وہ اس کے قرض کی ادائیگی کے برابر نہ ہوا ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا :’’ جو ملتا ہے لے لو ، تمہارے لیے بس یہی کچھ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2901
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رجل يدائن النَّاسَ فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا تجَاوز عَنهُ لَعَلَّ الله أَن يَتَجَاوَزُ عَنَّا قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایک آدمی قرض دیا کرتا تھا ، وہ اپنے ملازم سے کہا کرتا تھا : جب تم کسی تنگدست کے پاس جاؤ تو اس کو (قرض) معاف کر دیا کرو ، شاید کہ اللہ ہمیں معاف فرما دے ۔ فرمایا : اس نے اللہ سے ملاقات کی تو اس نے اسے معاف فرما دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2902
sahih
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللَّهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ اسے روزِ قیامت کی تکلیفوں سے نجات دے دے تو وہ تنگدست کو مہلت دے یا اسے (قرض) معاف کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2903
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَنْجَاهُ اللَّهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے یا اسے قرض معاف کر دے تو اللہ اسے روزِ قیامت کی تکلیفوں سے نجات دے دے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2904
sahih
وَعَنْ أَبِي الْيَسَرِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوالیسر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے یا اسے قرض معاف کر دے تو اللہ اسے اپنے (عرش کے) سایہ میں سایہ عطا فرمائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2905
sahih
وَعَن أبي رَافع قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ قَالَ: أَبُو رَافِعٍ فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ فَقُلْتُ: لَا أَجِدُ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطِهِ إِيَّاهُ فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک نو عمر اونٹ قرض لیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اس آدمی کو اس کے نو عمر اونٹ کا قرض اتار دوں ، میں نے عرض کیا : تمام اونٹ بہترین قسم کے سات سال کی عمر کے ہیں ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے یہی دے دو ، کیونکہ بہترین شخص وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں اچھا ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2906
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا تَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ أَصْحَابُهُ فَقَالَ: «دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا وَاشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ» قَالُوا: لَا نَجِدُ إِلَّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ قَالَ: «اشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أحسنكم قَضَاء»
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرض کی واپسی کا تقاضا کیا تو اس نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سختی کی تو آپ کے صحابہ نے اسے مارنے کا ارادہ کیا ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو ، کیونکہ صاحب حق (قرض خواہ) باتیں کرنے کا حق رکھتا ہے ، تم ایک اونٹ خرید کر اسے دے دو ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اس سے بڑی عمر کا اونٹ ملتا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے ہی خرید کر اسے دے دو ، کیونکہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو تم میں سے قرض ادا کرنے میں بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2907
sahih
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ فَإِذَا أُتْبِعَ أحدكُم على مَلِيء فَليتبعْ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مال دار شخص کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ، اگر تم میں سے کسی کو کسی مال دار شخص (یعنی ضامن) کے پیچھے لگا دیا جائے (کہ اس سے قرض وصول کر لو) تو لگ جانا چاہیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2908
sahih
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: «يَا كَعْبُ» قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «قُمْ فاقضه»
Urdu

کعب بن مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ابن ابی حدرد ؓ سے مسجد میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں حتی کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اپنے گھر میں سن لیا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دونوں کی طرف آئے حتی کہ آپ نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھا کر کعب بن مالک ؓ کو آواز دی ، فرمایا :’’ کعب !‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! حاضر ہوں ، آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس کا آدھا قرض معاف کر دو ۔ کعب ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے کر دیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (ابن ابی حدرد ؓ سے) فرمایا :’’ کھڑا ہو اور اس کا قرض ادا کر ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2909
sahih
وَعَن سَلمَة بن الْأَكْوَع قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالُوا: صَلِّ عَلَيْهَا فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: لَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى فَقَالَ: «هَل عَلَيْهِ دين؟» قَالُوا: نعم فَقَالَ: «فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثمَّ أُتِي بالثالثة فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ قَالَ: «هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «صلوا على صَاحبكُم» قَالَ أَبُو قَتَادَة: صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا ، صحابہؓ نے عرض کیا : اس کی نماز جنازہ پڑھائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس پر کوئی قرض ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ۔ تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ، پھر آپ کے پاس ایک اور جنازہ لایا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس پر کوئی قرض ہے ؟‘‘ عرض کیا گیا : جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس نے کوئی چیز ترکہ چھوڑی ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : تین دینار ، آپ نے اُس کی نمازِ جنازہ پڑھی ، پھر تیسرا جنازہ لایا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس پر کوئی قرض ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : تین دینار ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ، فرمایا :’’ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو ۔‘‘ ابوقتادہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور اس کا قرض میرے ذمہ رہا (میں ادا کروں گا) تب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2910
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بطور قرض لوگوں کا مال حاصل کرتا ہے اور وہ اسے ادا کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ادا کرنے کی توفیق سے نوازتا ہے ، اور جو شخص اسے تلف کرنے کے لیے حاصل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تلف فرما دے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2911
sahih
وَعَن أبي قَتَادَة قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقبلا غير مُدبر يكفر اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» . فَلَمَّا أَدْبَرَ نَادَاهُ فَقَالَ: «نَعَمْ إِلَّا الدَّيْنَ كَذَلِكَ قَالَ جِبْرِيلُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں اگر میں ثابت قدمی سے ، ثواب کی امید سے اللہ کی راہ میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو جاؤں تو کیا اللہ میرے گناہ معاف فرما دے گا ؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ جب وہ واپس چلا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے آواز دی ، فرمایا :’’ ہاں ، البتہ قرض معاف نہیں ہو گا ، جبریل ؑ نے اسی طرح کہا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2912
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كل ذَنْب إِلَّا الدّين» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قرض کے سوا شہید کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2913
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدِّينُ فَيَسْأَلُ: «هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ قَضَاءً؟» فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» . فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَامَ فَقَالَ: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دينا فعلي قَضَاؤُهُ وَمن ترك فَهُوَ لوَرثَته»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی مقروض کا جنازہ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا جاتا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے :’’ کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے ؟‘‘ اگر آپ کو بتایا جاتا کہ اس نے جو کچھ چھوڑا ہے اس سے قرض ادا ہو جائے گا تو آپ نمازِ جنازہ پڑھاتے ، ورنہ (نہ پڑھاتے) مسلمانوں سے کہتے :’’ اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھو ۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتوحات نصیب فرمائیں تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :’’ میں مومنوں کا ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق دار ہوں ، جو مومن فوت ہو جائے اور وہ مقروض ہو تو اس کا قرض میرے ذمہ ہے ، اور جو شخص مال چھوڑ جائے تو وہ اُس کے ورثا کے لیے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2914
sahih
عَنْ أَبِي خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ قَالَ: جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَفْلَسَ فَقَالَ: هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِه» . رَوَاهُ الشَّافِعِي وَابْن مَاجَه
Urdu

ابوخلدہ زرقی بیان کرتے ہیں ، ہم اپنے ایک ساتھی ، جو کہ مفلس ہو گیا تھا ، کے بارے میں ابوہریرہ ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : یہ اس طرح کا معاملہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا :’’ جو شخص فوت ہو جائے یا مفلس ہو جائے تو مال کا مالک اس مال کا زیادہ حق دار ہے جبکہ وہ اس مال کو بالکل اسی حالت میں پائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الشافعی و ابن ماجہ ۔

Hadith 2915
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مومن کی روح اپنے قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے حتی کہ وہ (قرض) اس کی طرف سے ادا کر دیا جائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الشافعی و احمد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 2916
sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَاحِبُ الدَّيْنِ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ يَشْكُو إِلَى رَبِّهِ الْوَحْدَةَ يَوْمَ الْقِيَامَة» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
Urdu

براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مقروض شخص اپنے قرض کی وجہ سے محبوس ہے ، وہ روزِ قیامت اپنے رب سے تنہائی کی شکایت کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 2917
sahih
وَرُوِيَ أَنَّ مُعَاذًا كَانَ يَدَّانُ فَأَتَى غُرَمَاؤُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَهُ كُلَّهُ فِي دَيْنِهِ حَتَّى قَامَ مُعَاذٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ. مُرْسَلٌ هَذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ. وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الْأُصُول إِلَّا فِي الْمُنْتَقى
Urdu

مروی ہے کہ معاذ ؓ قرض لیا کرتے تھے ، ان کے قرض خواہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے (اور قرض کا مطالبہ کیا) تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے قرض کی ادائیگی میں ان کا سارا مال فروخت کر دیا حتی کہ معاذ ؓ کے پاس کوئی چیز باقی نہ رہی ۔ روایت مرسل ہے ۔ یہ الفاظ مصابیح کے ہیں ۔ میں نے مثقیٰ کے سوا اسے اصول کی کتابوں میں نہیں پایا ۔ ضعیف ۔

Hadith 2918
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ شَابًّا سَخِيًّا وَكَانَ لَا يُمْسِكُ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ يُدَانُ حَتَّى أَغَرَقَ مَالَهُ كُلَّهُ فِي الدَّيْنِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ لِيُكَلِّمَ غُرَمَاءَهُ فَلَوْ تَرَكُوا لِأَحَدٍ لَتَرَكُوا لِمُعَاذٍ لِأَجْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم مَالَهُ حَتَّى قَامَ مُعَاذٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ. رَوَاهُ سعيد فِي سنَنه مُرْسلا
Urdu

عبدالرحمن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں ، معاذ بن جبل ؓ بڑے صابر اور سخی انسان تھے ، وہ کوئی چیز پاس نہیں رکھتے تھے اور ہمیشہ مقروض رہتے تھے حتی کہ ان کا سارا مال قرض کی ادائیگی میں جاتا رہا ، وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا کہ آپ اس کے قرض خواہوں سے سفارش کریں ، اگر وہ (قرض خواہ) کسی کو چھوڑتے تو وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاطر معاذ کو چھوڑتے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان (قرض خواہوں) کی خاطر معاذ ؓ کا سارا مال بیچ دیا ، حتی کہ معاذ کے پاس کوئی چیز نہ بچی ۔ سنن سعید بن منصور ، یہ روایت مرسل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔