ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ زائد از ضرورت پانی فروخت نہ کیا جائے تاکہ اس کے ذریعے گھاس فروخت کی جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو آپ کی انگلیاں نم ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اناج والے ! یہ کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس پر بارش ہو گئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اسے اناج کے اوپر کیوں نہ کیا تاکہ لوگ جان لیتے ، (جان لو) جس شخص نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (غیر معین اشیاء میں) استثنا کرنے سے منع فرمایا ، البتہ اگر وہ (مستثنیٰ چیز) معلوم ہو تو جائز ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ (پک کر) سیاہ ہو جائیں اور دانوں (غلہ اناج وغیرہ) کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ (پک کر) سخت ہو جائیں ۔‘‘ امام ترمذی اور ابوداؤد نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے ، ان دونوں کے ہاں (انس ؓ) سے مروی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا : حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔ البتہ ابن عمر ؓ سے مروی روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔ اور یہ اضافہ جو مصابیح میں ہے وہ یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔ البتہ ان دونوں کی ابن عمر ؓ سے مروی روایت میں مذکورہ الفاظ موجود ہیں :’’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرض کے ساتھ قرض کی بیع کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارقطنی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعانہ لے کر بیع کرنے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ امالک و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجبورو بے بس شخص کی بیع سے ، دھوکے کی بیع سے اور پھلوں کی بیع سے اس سے پہلے کہ وہ پک جائیں منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں کلاب قبیلے کے ایک آدمی نے نر سے جفتی کرانے کی اجرت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے اسے منع کیا ، تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم تو جفتی کراتے ہیں لیکن (بن مانگے) ہدیہ کے طور پر ہمیں نوازا جاتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ہدیۃً رکھنے کی اجازت دے دی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی چیز بیچنے سے مجھے منع فرمایا جو میرے پاس موجود نہ ہو ۔ ترمذی ۔ ترمذی کی ایک دوسری روایت اور ابوداؤد اور نسائی کی ایک روایت میں ہے ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کوئی آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے ، لیکن وہ میرے پاس نہیں ہوتی تو میں اسے بازار سے خرید دیتا ہوں ، (تو کیا یہ جائز ہے ؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو چیز تیرے پاس نہ ہو اسے نہ بیچ ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی مرتبہ دو بیع سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرض اور بیع (ایک ساتھ) جائز ہے نہ ایک بیع میں دو شرطیں ، اور نہ ہی اس چیز کا منافع جائز ہے جس کا ضامن نہیں اور اس چیز کی بیع بھی جائز نہیں جو تیرے پاس نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤ ، نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مقام نقیع پر اونٹوں کو دیناروں کے بدلے بیچا کرتا تھا اور ان کی جگہ درہم وصول کرتا تھا ، اور کبھی درہموں میں بیچتا اور ان کی جگہ دینار وصول کرتا تھا ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم اسی روز کی قیمت وصول کرو ، اور جب تم دونوں جدا ہو تو تمہارے درمیان لین دین باقی نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
عدّاء بن خالد بن ہوذہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے ایک تحریر نکالی ، (جس کی عبارت یوں تھی) یہ تحریر اس چیز سے متعلق ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے اللہ کے رسول ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غلام یا لونڈی خریدی ، اس میں کوئی بیماری ہے نہ اسے کوئی بُری عادت ہے اور نہ کوئی اخلاقی برائی ، اور یہ مسلمان کی مسلمان سے بیع ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کمبل اور پیالہ بیچنے کا ارادہ کیا تو فرمایا :’’ اس کمبل اور پیالے کو کون خریدتا ہے ؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، میں ان دونوں کو ایک درہم میں خریدتا ہوں ، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے ؟‘‘ چنانچہ ایک آدمی نے دو درہم کے عوض انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خرید لیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص کوئی عیب و نقص والی چیز بیچتا ہے اور اس کے متعلق بتاتا نہیں تو وہ اللہ کی ناراضی میں رہتا ہے یا فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص تابیر (پیوند) کے بعد کھجور کا درخت خریدے تو اگر خریدار شرط قائم نہ کرے تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے ، اور جو شخص کوئی غلام بیچے اور اس کا کچھ مال ہو تو وہ مال بیچنے والے کا ہے ، اِلاّ یہ کہ خریدار اس کی شرط قائم کر لے ۔‘‘ مسلم ، اور امام بخاری ؒ نے صرف پہلا حصہ ہی بیان کیا ہے ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک ذاتی اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو کہ تھک چکا تھا ، اسی اثنا میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے اسے مارا تو وہ یوں چلنے لگا کہ وہ پہلے کبھی ایسے نہیں چلتا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے ایک اوقیہ کے بدلے میں مجھے بیچ دو ۔‘‘ جابر ؓ نے عرض کیا ، میں نے اسے بیچ دیا البتہ میں نے اپنے اہل و عیال تک پہنچنے کی مہلت لے لی ، جب میں مدینہ پہنچا تو میں اونٹ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اس کی قیمت مجھے ادا کر دی ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے : میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی قیمت بھی ادا کر دی اور وہ اونٹ بھی واپس کر دیا ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال ؓ کو فرمایا :’’ اسے قیمت ادا کر دو اور زیادہ بھی دو ۔‘‘ انہوں نے مجھے قیمت بھی ادا کی اور ایک قراط مزید عطا کیا ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، بریرہ ؓ آئیں تو انہوں نے کہا : میں نے نو اوقیہ پر (آزادی حاصل کرنے کے لیے) کتابت کی ہے ۔ اور ہر سال ایک اوقیہ دینا ہے ، لہذا آپ ؓ میری مدد فرمائیں ، عائشہ ؓ نے فرمایا : اگر تمہارے مالک پسند کریں تو میں یہ رقم ایک ہی مرتبہ ادا کر دیتی ہوں ، اور تمہیں آزاد کرا دیتی ہوں ، لیکن تمہاری ولا (وراثت) میری ہو گی ، وہ اپنے مالکوں کے پاس گئیں تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ ولا ان کے لیے ہو گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے خرید کر آزاد کر دو ۔‘‘ پھر آپ لوگوں سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا :’’ اما بعد ! لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں ، اور جو شرط اللہ کی کتاب میں نہ ہو ، خواہ وہ سو شرطیں ہوں ، تو وہ باطل ہیں ، اللہ کی قضا زیادہ حق رکھتی ہے ، اور اللہ کی شرط زیادہ معتبر ہے ، اور ولا آزاد کرنے والے کا حق ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ولا کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ متفق علیہ ۔