عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سونے کو سونے کے بدلے میں ، چاندی کو چاندی ، گندم کو گندم ، جو کو جو ، کھجور کو کھجور اور نمک کو نمک کے بدلے میں فروخت نہ کرو ، ہاں یہ کہ وہ برابر برابر ، نقد بنقد اور دست بدست ہوں ۔ اور سونے کو چاندی کے بدلے میں ، چاندی کو سونے کے بدلے میں ، گندم کو جو کے بدلے میں ، جو کو گندم کے بدلے میں ، کھجور کو نمک اور نمک کو کھجور کے بدلے میں دست بدست جیسے تم چاہو بیچو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الشافعی ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ، آپ سے تازہ کھجوروں کے بدلے میں چھوہارے خریدنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب کھجور خشک ہو جاتی ہے تو کیا وہ (وزن میں) کم ہو جاتی ہے ؟‘‘ تو اس شخص نے عرض کی ، جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
سعید بن مسیّب ؒ سے مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حیوان کے بدلے گوشت کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔ سعید ؒ نے فرمایا : یہ جاہلیت کے جوئے کی ایک صورت تھی ۔ صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حیوان کے بدلے حیوان کی ادھار بیع سے منع فرمایا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں لشکر تیار کرنے کا حکم فرمایا تو اونٹ کم پڑ گئے ، پھر آپ نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ صدقہ کی جوان سال اونٹنیوں کے وعدہ پر اونٹ لے لیں ، چنانچہ وہ ایک اونٹ دو اونٹنیوں کے بدلے صدقہ کے اونٹ آنے تک کے وعدہ پر لے رہے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سود ادھار میں ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو نقد بنقد ہو اس میں سود نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
غسیل الملائکہ حنظلہ ؓ کے بیٹے عبداللہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جانتے ہوئے ایک درہم سود کھاتا ہے تو یہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔‘‘ اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ، اور یہ اضافہ نقل کرتے ہوئے فرمایا :’’ جس شخص کا گوشت حرام سے تیار ہوا ہو تو آگ اس کی زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد و الدارقطنی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سود کے (گناہ کے) ستر حصے ہیں ، ان میں سے کم تر گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح (جماع) کرے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک سود خواہ کتنا بھی زیادہ ہو جائے لیکن اس کا انجام فقرو ذلت ہے ۔‘‘ ان دونوں روایات کو ابن ماجہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں جبکہ آخری حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان و احمد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ معراج کی رات میں ایک قوم کے پاس آیا جن کے پیٹ گھروں کی مانند تھے جن میں سانپ ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آ رہے تھے ، میں نے کہا : جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا :’’ سود خور ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا آپ نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، اس کے لکھنے والے اور زکوۃ نہ دینے والے پر لعنت فرمائی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ کرنے سے منع کیا کرتے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ آخری آیت سود کے بارے میں نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے لیکن آپ نے اس کی ہمیں تفسیر نہیں بتائی تھی ، تم سود اور مثل سود ترک کر دو ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کسی کو قرض دے ، پھر وہ (مقروض) شخص اس کو کوئی تحفہ دے یا اسے سواری پر بٹھائے تو وہ اس پر سوار ہو نہ اس تحفہ کو قبول کرے ۔ البتہ اگر ان کے درمیان یہ کام (تحائف کا تبادلہ وغیرہ) پہلے سے ہی جاری ہو تو جائز ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی ، آدمی کو قرض دے تو پھر وہ ہدیہ قبول نہ کرے ۔‘‘ امام بخاری نے اسے تاریخ میں روایت کیا ، اور المنتقی میں بھی اسی طرح ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ البخاری فی تاریخہ ۔
ابوبردہ بن ابوموسی ٰ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ گیا تو میں نے عبداللہ بن سلام ؓ سے ملاقات کی تو انہوں نے فرمایا : تم ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں سود عام ہے ، جب تمہارا کسی آدمی پر کوئی حق ہو اور وہ گھاس کا ایک گٹھا یا جو یا جنگلی ہرے چارے کا ایک گٹھا بطور ہدیہ بھیجے تو اسے نہ لو کیونکہ وہ سود ہے ۔ رواہ البخاری ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’مزابنہ ‘‘ سے منع فرمایا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنے باغ کا پھل ، اگر کھجور ہو تو معلوم شدہ مقدار خشک کھجور کے ساتھ ، اگر انگور ہو تو اسے منقی کے ساتھ ناپ کر ، اور مسلم میں ہے : اگر کھیتی ہو تو اناج کے ساتھ ناپ کر بیچنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب صورتوں سے منع فرمایا ہے ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور صحیحین ہی کی روایت میں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے ، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجوروں کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجوروں کے ساتھ مقررہ پیمانے سے بیچنا ، اور یوں کہے کہ اگر زیادہ ہو تو میرا اور اگر کم ہو تو میں دوں گا ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخابرہ ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ محاقلہ یہ ہے کہ آدمی سو فرق (وزن کا پیمانہ) گندم کے بدلے کھیتی فروخت کر دے ، مزابنہ یہ ہے کہ وہ سو فرق کھجور کے بدلے میں کھجوروں کو درختوں پر فروخت کر دے ، اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو تہائی یا چوتھائی حصے پر کاشت کرنے کو دیا جائے ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ ، مزابنہ ، مخابرہ ، باغ کو کئی سال پر ٹھیکے پر دینے اور استثنا سے منع کیا ہے ، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندازہ لگانے کی اجازت فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔
سہل بن ابی حشمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خشک کھجور کے بدلے تازہ کھجور بیچنے سے منع فرمایا ، البتہ آپ نے اندازہ لگانے کی اجازت دی ، وہ یہ ہے کہ اس کو اندازہ سے خشک کھجوروں کے عوض بیچ دیا جائے ، تاکہ اس کے مالک تازہ کھجوریں کھا سکیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم خشک کھجور کے اندازہ سے تازہ کھجوروں کو بیچنے کی اجازت فرمائی ۔‘‘ داؤد بن حصین راوی کو پانچ یا پانچ سے کم میں شک ہوا ۔ متفق علیہ ۔