Back to Mishkat Al-Masabih

Business Transactions

كتاب البيوع

Chapter 11

Hadith 2819
sahih
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ» . رَوَاهُ الشَّافِعِي
Urdu

عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سونے کو سونے کے بدلے میں ، چاندی کو چاندی ، گندم کو گندم ، جو کو جو ، کھجور کو کھجور اور نمک کو نمک کے بدلے میں فروخت نہ کرو ، ہاں یہ کہ وہ برابر برابر ، نقد بنقد اور دست بدست ہوں ۔ اور سونے کو چاندی کے بدلے میں ، چاندی کو سونے کے بدلے میں ، گندم کو جو کے بدلے میں ، جو کو گندم کے بدلے میں ، کھجور کو نمک اور نمک کو کھجور کے بدلے میں دست بدست جیسے تم چاہو بیچو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الشافعی ۔

Hadith 2820
sahih
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» فَقَالَ: نَعَمْ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه
Urdu

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ، آپ سے تازہ کھجوروں کے بدلے میں چھوہارے خریدنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کھجور خشک ہو جاتی ہے تو کیا وہ (وزن میں) کم ہو جاتی ہے ؟‘‘ تو اس شخص نے عرض کی ، جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اس سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

Hadith 2821
sahih
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نهى عَن بَيْعِ اللَّحْمِ بِالْحَيَوَانِ قَالَ سَعِيدٌ: كَانَ مِنْ مَيْسِرِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
Urdu

سعید بن مسیّب ؒ سے مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حیوان کے بدلے گوشت کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔ سعید ؒ نے فرمایا : یہ جاہلیت کے جوئے کی ایک صورت تھی ۔ صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔

Hadith 2822
sahih
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حیوان کے بدلے حیوان کی ادھار بیع سے منع فرمایا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 2823
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَن يُجهِّزَ جَيْشًا فنفدتِ الإِبلُ فأمرَهُ أَن يَأْخُذَ عَلَى قَلَائِصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں لشکر تیار کرنے کا حکم فرمایا تو اونٹ کم پڑ گئے ، پھر آپ نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ صدقہ کی جوان سال اونٹنیوں کے وعدہ پر اونٹ لے لیں ، چنانچہ وہ ایک اونٹ دو اونٹنیوں کے بدلے صدقہ کے اونٹ آنے تک کے وعدہ پر لے رہے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2824
sahih
عَنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يدا بيد»
Urdu

اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سود ادھار میں ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو نقد بنقد ہو اس میں سود نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2825
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِرْهَمُ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زِنْيَةً» . رَوَاهُ أَحْمَدُ والدراقطني وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَادَ: وَقَالَ: «مَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنَ السُّحت فَالنَّار أولى بِهِ»
Urdu

غسیل الملائکہ حنظلہ ؓ کے بیٹے عبداللہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جانتے ہوئے ایک درہم سود کھاتا ہے تو یہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔‘‘ اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ، اور یہ اضافہ نقل کرتے ہوئے فرمایا :’’ جس شخص کا گوشت حرام سے تیار ہوا ہو تو آگ اس کی زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد و الدارقطنی و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 2826
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرِّبَا سَبْعُونَ جُزْءًا أيسرها أَن الرجل أمه»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سود کے (گناہ کے) ستر حصے ہیں ، ان میں سے کم تر گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح (جماع) کرے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 2827
sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِ الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ فإِنَّ عاقبتَه تصيرُ إِلى قُلِّ: رَوَاهُمَا ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَرَوَى أَحْمد الْأَخير
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک سود خواہ کتنا بھی زیادہ ہو جائے لیکن اس کا انجام فقرو ذلت ہے ۔‘‘ ان دونوں روایات کو ابن ماجہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں جبکہ آخری حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان و احمد ۔

Hadith 2828
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ معراج کی رات میں ایک قوم کے پاس آیا جن کے پیٹ گھروں کی مانند تھے جن میں سانپ ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آ رہے تھے ، میں نے کہا : جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا :’’ سود خور ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔

Hadith 2829
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لعن آكِلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَكَانَ ينْهَى عَن النوح. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
Urdu

علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا آپ نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، اس کے لکھنے والے اور زکوۃ نہ دینے والے پر لعنت فرمائی ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نوحہ کرنے سے منع کیا کرتے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔

Hadith 2830
sahih
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا لَنَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه والدارمي
Urdu

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ آخری آیت سود کے بارے میں نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہو گئے لیکن آپ نے اس کی ہمیں تفسیر نہیں بتائی تھی ، تم سود اور مثل سود ترک کر دو ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 2831
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَي إِلَيْهِ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهُ وَلَا يَقْبَلْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کسی کو قرض دے ، پھر وہ (مقروض) شخص اس کو کوئی تحفہ دے یا اسے سواری پر بٹھائے تو وہ اس پر سوار ہو نہ اس تحفہ کو قبول کرے ۔ البتہ اگر ان کے درمیان یہ کام (تحائف کا تبادلہ وغیرہ) پہلے سے ہی جاری ہو تو جائز ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 2832
sahih
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَقْرَضَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلَا يَأْخُذُ هَدِيَّةً» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهِ هَكَذَا فِي الْمُنْتَقى
Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی ، آدمی کو قرض دے تو پھر وہ ہدیہ قبول نہ کرے ۔‘‘ امام بخاری نے اسے تاریخ میں روایت کیا ، اور المنتقی میں بھی اسی طرح ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ البخاری فی تاریخہ ۔

Hadith 2833
sahih
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: قدمت الْمَدِينَة فَلَقِيت عبد الله بن سلا م فَقَالَ: إِنَّك بِأَرْض فِيهَا الرِّبَا فَاش إِذا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تَبْنٍ أَو حِملَ شعيرِ أَو حَبْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ فَإِنَّهُ رِبًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

ابوبردہ بن ابوموسی ٰ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ گیا تو میں نے عبداللہ بن سلام ؓ سے ملاقات کی تو انہوں نے فرمایا : تم ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں سود عام ہے ، جب تمہارا کسی آدمی پر کوئی حق ہو اور وہ گھاس کا ایک گٹھا یا جو یا جنگلی ہرے چارے کا ایک گٹھا بطور ہدیہ بھیجے تو اسے نہ لو کیونکہ وہ سود ہے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2834
sahih
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ: أَنْ يَبِيع تمر حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلَا وَإِنْ كَانَ كرْماً أنْ يَبيعَه زبيبِ كَيْلَا أَوْ كَانَ وَعِنْدَ مُسْلِمٍ وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ نَهَى عَنْ ذلكَ كُله. مُتَّفق عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ قَالَ: والمُزابنَة: أنْ يُباعَ مَا فِي رُؤوسِ النَّخلِ بتمْرٍ بكيلٍ مُسمَّىً إِنْ زادَ فعلي وَإِن نقص فعلي)
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ’’مزابنہ ‘‘ سے منع فرمایا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنے باغ کا پھل ، اگر کھجور ہو تو معلوم شدہ مقدار خشک کھجور کے ساتھ ، اگر انگور ہو تو اسے منقی کے ساتھ ناپ کر ، اور مسلم میں ہے : اگر کھیتی ہو تو اناج کے ساتھ ناپ کر بیچنا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سب صورتوں سے منع فرمایا ہے ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور صحیحین ہی کی روایت میں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے ، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجوروں کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجوروں کے ساتھ مقررہ پیمانے سے بیچنا ، اور یوں کہے کہ اگر زیادہ ہو تو میرا اور اگر کم ہو تو میں دوں گا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2835
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقٍ حِنطةً والمزابنةُ: أنْ يبيعَ التمْرَ فِي رؤوسِ النَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقٍ وَالْمُخَابَرَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ والرُّبُعِ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مخابرہ ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ محاقلہ یہ ہے کہ آدمی سو فرق (وزن کا پیمانہ) گندم کے بدلے کھیتی فروخت کر دے ، مزابنہ یہ ہے کہ وہ سو فرق کھجور کے بدلے میں کھجوروں کو درختوں پر فروخت کر دے ، اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو تہائی یا چوتھائی حصے پر کاشت کرنے کو دیا جائے ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2836
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَعَنِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محاقلہ ، مزابنہ ، مخابرہ ، باغ کو کئی سال پر ٹھیکے پر دینے اور استثنا سے منع کیا ہے ، البتہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اندازہ لگانے کی اجازت فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2837
sahih
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بيعِ التمْر بالتمْرِ إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا
Urdu

سہل بن ابی حشمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خشک کھجور کے بدلے تازہ کھجور بیچنے سے منع فرمایا ، البتہ آپ نے اندازہ لگانے کی اجازت دی ، وہ یہ ہے کہ اس کو اندازہ سے خشک کھجوروں کے عوض بیچ دیا جائے ، تاکہ اس کے مالک تازہ کھجوریں کھا سکیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2838
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ فِيمَا دُونَ خَمْسَة أوسق أَو خَمْسَة أوسق شكّ دَاوُد ابْن الْحصين
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم خشک کھجور کے اندازہ سے تازہ کھجوروں کو بیچنے کی اجازت فرمائی ۔‘‘ داؤد بن حصین راوی کو پانچ یا پانچ سے کم میں شک ہوا ۔ متفق علیہ ۔