Back to Mishkat Al-Masabih

Business Transactions

كتاب البيوع

Chapter 11

Hadith 2879
sahih
عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ قَالَ: ابْتَعْتُ غُلَامًا فَاسْتَغْلَلْتُهُ ثُمَّ ظَهَرْتُ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ فَخَاصَمْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَضَى لِي بِرَدِّهِ وَقَضَى عَلَيَّ بِرَدِّ غَلَّتِهِ فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: أَرُوحُ إِلَيْهِ الْعَشِيَّةَ فَأُخْبِرُهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي مِثْلِ هَذَا: أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ فَرَاحَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ فَقَضَى لِي أَنْ آخُذَ الْخَرَاجَ مِنَ الَّذِي قَضَى بِهِ عَلَيِّ لَهُ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
Urdu

مخلد بن خُفاف بیان کرتے ہیں ، میں نے ایک غلام خریدا تو میں نے اس سے آمدنی حاصل کی ، پھر مجھے اس کے ایک نقص کا پتہ چلا تو میں اس کا مقدمہ عمر بن عبدالعزیز ؒ کے پاس لے گیا تو انہوں نے اسے واپس کرنے کا فیصلہ میرے حق میں کیا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی واپس لوٹانے کا فیصلہ میرے خلاف کیا ، میں عروہ ؒ کے پاس گیا ، اور انہیں سارا واقعہ بیان کیا تو انہوں نے فرمایا : میں پچھلے پہر ان کے پاس جاؤں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ عائشہ ؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح کے معاملے کا فیصلہ کیا کہ خراج ، ضمان کے بدلے میں ہے ، عروہ ؒ پچھلے پہر ان کے پاس گئے (اور انہیں بتایا) تو انہوں نے میرے حق میں فیصلہ کیا کہ میں اس شخص سے وہ خراج کی رقم واپس لے لوں جو انہوں نے مجھ سے لے کر اسے دلوائی تھی ۔ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 2880
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيِّ قَالَ: «الْبَيِّعَانِ إِذَا اخْتَلَفَا وَالْمَبِيعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَو يترادان البيع»
Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب خریدو فروخت کرنے والوں کے درمیان اختلاف ہو جائے تو بیچنے والے کی بات معتبر ہو گی ، جبکہ خریدار کو اختیار حاصل ہو گا ۔ ترمذی ، ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں ہے ۔ فرمایا :’’ جب خریدو فروخت کرنے والوں کے درمیان اختلاف ہو جائے جبکہ فروخت شدہ چیز ویسے ہی موجود ہو اور ان دونوں کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو تو بیچنے والے کی بات معتبر ہو گی ، یا پھر وہ بیع واپس کر دیں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 2881
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أقاله اللَّهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» بِلَفْظِ «الْمَصَابِيحِ» عَن شُرَيْح الشَّامي مُرْسلا
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مسلمان کی بیع واپس کر دے تو روز قیامت اللہ تعالیٰ اس کی لغزشیں معاف فرما دے گا ۔‘‘ ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ جبکہ شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ کے ساتھ شریح شامی ؒ سےمرسل روایت ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و فی شرح السنہ ۔

Hadith 2882
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: اشْترى رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ عَقَارًا مِنْ رَجُلٍ فَوَجَدَ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ: خُذْ ذَهَبَكَ عَنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ الْعَقَارَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ. فَقَالَ بَائِعُ الْأَرْضِ: إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ: أَلَكُمَا وَلَدٌ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لي غُلَام وَقَالَ الآخر: لي جَارِيَة. فَقَالَ: أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَيْهِمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقُوا
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پہلے زمانے میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے زمین خریدی تو جس شخص نے زمین خریدی تھی اس نے زمین میں ایک گھڑا پایا جس میں سونا تھا ، جس شخص نے زمین خریدی تھی اس نے اسے کہا : تم اپنا سونا مجھ سے لے لو کیونکہ میں نے تو تم سے صرف زمین خریدی تھی ، سونا نہیں خریدا تھا ۔ زمین بیچنے والے نے کہا : میں نے زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب تمہیں بیچ دیا تھا ، وہ دونوں اپنا مقدمہ ایک آدمی کے پاس لے گئے ، تو جس آدمی کے پاس وہ مقدمہ لے کر گئے تھے ، اس نے کہا : کیا تمہاری اولاد ہے ؟ ان میں سے ایک نے کہا : میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا : میری ایک لڑکی ہے ، تو اس آدمی نے کہا : لڑکے کی لڑکی سے شادی کر دو ، اور اس (مال) کو ان دونوں پر خرچ کر دو اور اس میں سے کچھ صدقہ کر دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2883
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَقَالَ: «مَنْ سلف فِي شَيْءٍ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُوم إِلَى أجل مَعْلُوم»
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہ لوگ پھلوں کے بارے میں ، سال ، دو سال اور تین سال کے لیے بیع سلم کیا کرتے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی چیز میں بیع سلم کرے تو وہ طے شدہ ناپ و وزن اور طے شدہ مدت کے لیے بیع سلم (کسی چیز کی پیشگی رقم دے کر) کرے ۔

Hadith 2884
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: اشْتَرَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا من يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيد
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک یہودی سے ایک مدت کے لیے غلہ لیا اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2885
sahih
وَعَنْهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعا من شعير. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو آپ کی زرہ تیس صاع جو کے عوض ایک یہودی کے پاس گروی تھی ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2886
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَعَلَى الَّذِي يركب وَيشْرب النَّفَقَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب سواری کا جانور گروی ہو تو بقدر خرچ اس پر سواری کی جاسکتی ہے اور اگر دودھ والا جانور گروی ہو تو بقدر خرچ اس کا دودھ پیا جا سکتا ہے ، اور جو شخص سواری کرتا ہے اور دودھ پیتا ہے ، اسی کے ذمہ خرچہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2887
sahih
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ الرَّهْنَ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي رَهَنَهُ لَهُ غنمه وَعَلِيهِ غرمه» . رَوَاهُ الشَّافِعِي مُرْسلا
Urdu

سعد بن مسیّب ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ رہن ، مرہونہ چیز کو اس کے مالک سے ، جس نے اسے رہن رکھا ہے ، نہیں روک سکتا ، اس کا فائدہ بھی اسی (مالک) کو ہو گا اور اس کا نقصان بھی اسی کو ہو گا ۔‘‘ امام شافعی ؒ نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الشافعی ۔

Hadith 2888
sahih
وَرُوِيَ مثله أَو مثل مَعْنَاهُ لَا يُخَالف عَنهُ عَن أبي هُرَيْرَة مُتَّصِلا
Urdu

اس روایت کی مثل یا اس کے معنی کا مثل جو اس کے مخالف نہیں ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے متصل روایت بھی ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 2889
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَالْمِيزَانُ مِيزَانُ أَهْلِ مَكَّةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ناپ اہل مدینہ کا معتبر ہے جبکہ وزن اہل مکہ کا معتبر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 2890
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْكَيْلِ وَالْمِيزَانِ: «إِنَّكُمْ قَدْ وُلِّيتُمْ أَمْرَيْنِ هَلَكَتْ فِيهِمَا الْأُمَمُ السَّابِقَة قبلكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ناپ تول والوں کو فرمایا :’’ بلاشبہ دو کام تمہارے ذمہ ایسے لگائے گئے ہیں ، جن (میں کمی بیشی) کی وجہ سے تم سے پہلی قومیں ہلاکت کا شکار ہوئیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 2891
sahih
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَلَا يَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی چیز کے بارے میں بیع سلم کرے تو وہ اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے کسی اور کو نہ دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 2892
sahih
عَن معمر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ احْتَكَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ» فِي بَابِ الْفَيْءِ إِنْ شَاءَ الله تَعَالَى
Urdu

معمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ذخیرہ اندوزی کرتا ہے وہ گناہ گار ہے ۔‘‘ اور ہم عمر ؓ سے مروی حدیث :’’ بنو نضیر کے اموال ‘‘ کو ان شاء اللہ تعالیٰ باب الفی میں ذکر کریں گے ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2893
sahih
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْجَالِبُ مَرْزُوقٌ والمحتكر مَلْعُون» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه والدارمي
Urdu

عمر ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ (بازار میں) غلہ لانے والوں کو رزق دیا جاتا ہے ، جبکہ ذخیرہ اندوز ملعون ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 2894
sahih
وَعَن أنس قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعِّرْ لَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أحد مِنْكُم يطلبنني بمظلة بِدَمٍ وَلَا مَالٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں قیمتیں چڑھ گئیں تو صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ ہمارے لیے قیمتیں مقرر فرما دیں ، تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ ہی قیمتیں مقرر کرنے والا ہے ، وہی تنگی و کشادگی کا مالک اور رزق دینے والا ہے ، اور میں امید کرتا ہوں کہ میں اس حال میں اپنے رب سے ملاقات کروں کہ تم میں سے کوئی خون اور مال کے متعلق مجھ سے مطالبہ نہ کرتا ہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 2895
sahih
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ وَالْإِفْلَاسِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَرَزِينٌ فِي كِتَابِهِ
Urdu

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص مسلمانوں پر غلہ روک دے (ذخیرہ اندوزی کرے) تو اللہ اس پر جذام کا مرض اور افلاس مسلط کر دیتا ہے ۔‘‘ ابن ماجہ ، بیہقی فی شعب الایمان ، اور رزین نے اسے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ، والبیھقی و رزین ۔

Hadith 2896
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ احْتَكَرَ طَعَامًا أَرْبَعِينَ يَوْمًا يُرِيدُ بِهِ الْغَلَاءَ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ اللَّهِ وَبَرِئَ اللَّهُ مِنْهُ» . رَوَاهُ رَزِينٌ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قیمت بڑھانے کے لیے چالیس روز تک ذخیرہ اندوزی کرتا ہے تو وہ اللہ سے لاتعلق ہوا ، اور اللہ تعالیٰ اس سے لاتعلق ہوا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ رزین ۔

Hadith 2897
sahih
وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بِئْسَ الْعَبْدُ الْمُحْتَكِرُ: إِنْ أَرْخَصَ اللَّهُ الْأَسْعَارَ حَزِنَ وَإِنْ أَغْلَاهَا فَرِحَ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَرَزِينٌ فِي كِتَابِهِ
Urdu

معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ذخیرہ اندوز شخص بہت برا ہے ، اگر اللہ قیمتیں کم کر دیتا ہے تو وہ غمگین ہو جاتا ہے ، اور اگر وہ انہیں بڑھا دیتا ہے تو خوش ہو جاتا ہے ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ، اور رزین نے اسے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی و رزین ۔

Hadith 2898
sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ احْتَكَرَ طَعَامًا أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثمَّ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ كَفَّارَةً» . رَوَاهُ رزين
Urdu

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص چالیس روز تک غلہ ذخیرہ کرے اور پھر وہ اسے صدقہ بھی کر دے تو وہ اس کا کفارہ نہیں ہو سکتا ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔