ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کی قیمت اور گانے والی (گلوکارہ یا زانیہ) کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ گانے والیوں کو بیچو نہ انہیں خریدو اور نہ ہی انہیں تربیت دو ، اور ان کی قیمت حرام ہے ۔ ایسے مسائل کے متعلق یہ حکم نازل ہوا :’’ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو بیہودہ باتیں خریدتے ہیں ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور علی بن یزید ، راوی حدیث میں ضعیف ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔ اور ہم جابر سے مروی حدیث : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلی کھانے سے منع فرمایا ۔ ان شاءاللہ تعالیٰ باب ما یحل اکلہ میں ذکر کریں گے ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ فرائض کے بعد کسب حلال کی تلاش بھی فرض ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ان سے قرآن کریم کی کتابت کی اجرت کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ، وہ تو (حروف کے) مصور ہی ہیں ، اور وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی ہی کھاتے ہیں ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کون سا کسب سب سے پاکیزہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر اچھی تجارت ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ابوبکر بن ابومریم بیان کرتے ہیں ، مقدام بن معدیکرب ؓ کی ایک لونڈی دودھ بیچا کرتی تھی اور مقدام ؓ اس کی قیمت وصول کرتے تھے ، ان سے کہا گیا ، سبحان اللہ ! کیا وہ دودھ بیچتی ہے اور تم اس کی قیمت وصول کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، اس میں کوئی حرج نہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگوں پر ایسا وقت بھی آئے گا جس میں درہم و دینار ہی انہیں فائدہ پہنچائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
نافع بیان کرتے ہیں ، میں شام اور مصر کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا ، چنانچہ اب میں نے عراق کی طرف سامان بھیجنے کی تیاری کی تو میں ام المومنین عائشہ ؓ کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا ، ام المومنین ! میں شام کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا ، لیکن اب میں نے عراق کے لیے تیاری کی ہے ، انہوں نے فرمایا : ایسے نہ کرو ، تمہارے تجارتی مرکز کو کیا ہوا ؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کی روزی کا کوئی سبب بنائے تو وہ اسے نہ چھوڑے جب تک کہ (عدم منافع کی وجہ سے) اس میں تبدیلی رونما نہ ہو یا اسے اس میں نقصان ہونے لگے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ابوبکر ؓ کا ایک غلام تھا ، وہ آپ کو خراج دیا کرتا تھا ، اور ابوبکر ؓ اس کے خراج میں سے کھایا کرتے تھے ، ایک روز وہ کچھ لے کر آیا تو ابوبکر ؓ نے اس میں سے کھایا ۔ غلام نے آپ سے کہا : کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا تھا ؟ تو ابوبکر ؓ نے فرمایا : وہ کیا تھا ؟ اس نے کہا : میں جاہلیت میں ایک انسان کے لیے کہانت کیا کرتا تھا ، حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی ، میں نے تو اسے صرف دھوکہ ہی دیا تھا ، وہ مجھے ملا ہے تو اس نے مجھے یہ عطا کیا ہے جس میں سے آپ نے کھایا ہے ، وہ بیان کرتی ہیں ، ابوبکر ؓ نے اپنا ہاتھ (منہ میں) ڈالا اور پیٹ کی ہر چیز قے کر ڈالی ۔ رواہ البخاری ۔
ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حرام سے پرورش پانے والا جسم جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
زید بن اسلم ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے دودھ پیا اور انہیں خوشگوار محسوس ہوا ۔ جس شخص نے دودھ پلایا تھا اس سے دریافت کیا کہ تو نے یہ دودھ کہاں سے حاصل کیا ؟ اس نے بتایا کہ وہ ایک تالاب پر گیا جس کا اس نے نام لیا ۔ وہاں زکوۃ کے اونٹ تھے جن کو وہ پانی پلا رہے تھے ، انہوں نے مجھے بھی ان کا دودھ دھو کر دیا میں نے دودھ کو اپنے مشکیزے میں ڈال لیا یہ وہ دودھ تھا ۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور دودھ کی قے کر دی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جو شخص دس درہم میں کوئی کپڑا خریدے اور ان میں ایک درہم حرام کا ہو تو جب تک وہ کپڑا اس پر رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا ، پھر انہوں نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈال کر فرمایا : اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنی ہو تو یہ دونوں (کان) بہرے ہو جائیں ۔ احمد ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور فرمایا : اس کی اسناد ضعیف ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اس آدمی پر رحم فرمائے جو بیچتے ، خریدتے اور تقاضا کرتے وقت نرمی اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم سے پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا ، فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لیے اس کے پاس آیا تو اس سے پوچھا گیا : کیا تم نے کوئی نیکی کا کام کیا ہے ؟ اس نے کہا : مجھے پتہ نہیں ، پھر اسے کہا گیا : دیکھ لو اس نے کہا : مجھے اس کے علاوہ تو کوئی اور بات یاد نہیں کہ میں دنیا میں لوگوں کے ساتھ بیع کیا کرتا تھا ، اور میں ان سے اچھے انداز سے تقاضا کیا کرتا تھا ، میں مال دار شخص کو مہلت دے دیتا تھا جبکہ تنگدست کو ویسے ہی معاف کر دیا کرتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرما دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
اور صحیح مسلم کی روایت بھی اسی طرح ہے جو کہ عقبہ بن عامر ؓ اور ابومسعود انصاری ؓ سے مروی ہے :’’ میں اس کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں ، (فرشتو !) میرے بندے سے درگزر فرماؤ ۔‘‘ رواہ ،مسلم ۔
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بیع کرتے وقت زیادہ قسمیں اٹھانے سے بچو ، کیونکہ اس سے تجارت کو فروغ تو ملتا ہے لیکن پھر وہ ختم ہو جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قسم سودے کو رواج دیتی ہے لیکن برکت ختم ہو جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوذر ؓ نبی سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ روز قیامت تین قسم کے لوگوں سے کلام فرمائے گا نہ (نظر رحمت سے) اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی ان کا تزکیہ فرمائے گا اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہو گا ۔‘‘ ابوذر ؓ نے عرض کیا ، وہ تو ناکام و نامراد ہو گئے ، اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا :’’ ازار لٹکانے والا ، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنا سودا بیچنے والا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سچا امانت دار تاجر انبیا علیہم السلام ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی و الدارقطنی ۔
ابن ماجہ نے اسے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے ، اور ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
قیس بن ابی غرزہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ہم (تاجروں) کو ’’ بروکر ‘‘ (دلال) کہا جاتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو کہ اس سے بہتر تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تاجروں کی جماعت ! بیع کرتے وقت لغو باتیں ہو جاتی ہیں اور قسمیں بھی ہوتی ہیں ، لہذا تم اس کے ساتھ صدقہ کو شامل کر لیا کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔