ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کوئی شخص کسی آدمی کی اجازت کے بغیر اس کے جانور کا دودھ نہ دھوئے ، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے کمرے میں جا کر گودام کا تالا توڑ دیا جائے اور اس کا اناج وغیرہ نکال لیا جائے ، اسی طرح ان کے جانوروں کے تھن ان کے کھانے کو جمع و محفوظ رکھتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس تھے تو آپ کی کسی زوجہ محترمہ نے پلیٹ میں کھانا بھیجا تو جن کے گھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے انہوں نے خادم کے ہاتھ پر مارا تو وہ پلیٹ گر کر ٹوٹ گئی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پلیٹ کے ٹکڑے اکٹھے کیے ، اور بکھرے ہوئے کھانے کو اٹھایا ، ساتھ میں کہنے لگے :’’ تمہاری ماں نے غیرت کھائی ۔‘‘ پھر آپ نے خادم کو روکا حتی کہ اسے زوجہ محترمہ کے گھر سے ، جن کے گھر آپ تشریف فرما تھے ، صحیح پلیٹ دی اور وہ ٹوٹی ہوئی پلیٹ اس زوجہ محترمہ کے گھر رکھ دی جنہوں نے توڑی تھی ۔ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن یزید ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈاکہ ڈالنے اور مثلہ کرنے (میت کے اعضا کاٹنے) سے منع فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی وفات کے دن سورج گرہن ہوا تو آپ نے چھ رکوعوں اور چار سجدوں سے صحابہ کو (دو رکعت) نماز پڑھائی ، آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج اپنی اصلی (چمک دار) حالت پر آ چکا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا میں نے اپنی اس نماز میں اسے دیکھ لیا ، جہنم میرے سامنے لائی گئی اور یہ اس وقت تھی جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں ، اس اندیشے کے پیش نظر کہ کہیں اس کی حرارت مجھے اپنی لپیٹ میں نہ لے لے ، پیچھے ہٹ گیا ، حتی کہ میں نے کھونڈی والے شخص کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے دیکھا ، وہ اپنی کھونڈی سے حاجیوں کی چیزیں چرایا کرتا تھا اگر پتہ چل جاتا تو کہتا : یہ چیزیں کھونڈی سے لٹک گئیں تھیں ، اور اگر پتہ نہ چلتا تو وہ اسے لے جاتا ، اور حتی کہ میں نے اس میں بلی والی خاتون بھی دیکھی جس نے اسے باندھ رکھا تھا ، وہ اسے خود کھلاتی نہ اسے چھوڑ دیتی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی ، حتی کہ وہ بھوک سے مر گئی ، پھر جنت پیش کی گئی ، اور یہ اس وقت تھا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا ، حتی کہ میں اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میں اس کا پھل لینا چاہتا تھا کہ تم اسے دیکھ لو ، لیکن پھر مجھے ظاہر ہوا کہ میں (ایسے) نہ کروں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا : مدینہ میں (دشمن کی آمد کا) شور سا اٹھا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوطلحہ ؓ سے مندوب نامی گھوڑا مستعار لیا اور اس پر سوار ہو گئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے تو فرمایا :’’ ہم نے کوئی چیز نہیں دیکھی ، البتہ ہم نے (تیز رفتاری میں) اسے سمندر پایا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سعید بن زید ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کی ہے جبکہ رگ ظالم کا کوئی حق نہیں ۔‘‘ (غیر کی زمین میں کاشتکاری کا کوئی حق نہیں) اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
امام مالک نے عروہ سے مرسل روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ مالک ۔
ابوحرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! ظلم نہ کرو ، کسی مسلمان کا مال اس کی خوشی کے بغیر حلال نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان و الدار قطنی ۔
عمران بن حصین ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسلام میں جلب ، جنب اور شغار نہیں اور جو شخص کوئی لوٹ مار کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
سائب بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی لاٹھی ہنسی مذاق کے طور پر اسے غصہ دلانے کے لیے نہ لے ، جو شخص اپنے بھائی کی لاٹھی لے لے تو وہ اسے واپس کر دے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، اور ابوداؤد کی روایت ((جَادًّا)) تک ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
سمرہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اپنا مال مسروقہ بالکل اسی حالت میں کسی شخص کے پاس پائے تو وہ شخص اس (کو حاصل کرنے) کا زیادہ حق دار ہے ، اور خریدار اس بیچنے والے کا پیچھا کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی ۔
سمرہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاتھ پر واجب ہے کہ اس نے جو لیا ہے وہ واپس کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
حرام بن سعد محّیصہ ؓ سے روایت ہے کہ براء بن عازب ؓ کی اونٹنی ایک باغ میں داخل ہو گئی تو اس نے وہاں نقصان کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا :’’ باغبانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دن کے وقت ان کی حفاظت کریں ، البتہ جو جانور رات کے وقت نقصان کر دیں تو پھر اس (نقصان) کے ذمہ دار اس کے مالک ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ مالک و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (جانور کے) پاؤں سے ہونے والا نقصان ضائع ہے (اس کا کوئی معاوضہ نہیں) ۔‘‘ اور فرمایا :’’ آگ (کسی نے اپنی جگہ میں آگ جلائی ، اور پھر آندھی اس آگ کو اڑا کر کسی اور جگہ لے گئی اور وہاں آگ لگ گئی تو اس) کا نقصان ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
حسن ، سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی جانوروں کے پاس آئے اور اگر وہاں ان کے مالک کو پائے تو اس سے اجازت طلب کرے اور اگر وہ وہاں نہ ہو تو تین دفعہ آواز دے ، اگر کوئی شخص اسے جواب دے تو اس سے اجازت طلب کرے اور اگر کوئی اسے جواب نہ دے تو وہ خود دودھ دھو کر پی لے لیکن وہ اپنے ساتھ نہ لائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی باغ میں جائے تو ضرورت کے تحت وہاں سے کھا لے لیکن کپڑے میں ڈال کر ساتھ نہ لائے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
امیہ بن صوان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر اس سے کچھ زریں مستعار لیں تو اس نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! غصب کے طور پر لینا چاہتے ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ قابل واپسی ، ادھار کے طور پر ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عاریۃ ‘‘ لی ہوئی چیز واپس کی جائے ، عطا کے طور پر ملی ہوئی چیز (دودھ دینے والا جانور) واپس لوٹا دی جائے ، قرض ادا کیا جائے اور ضامن تاوان بھرنے والا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
رافع بن عمرو غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں چھوٹا سا لڑکا تھا اور میں انصار کے کھجوروں کے درختوں پر پتھر پھینک رہا تھا ، تو مجھے (پکڑ کر) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لڑکے ! تم نے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں پھینکے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، کھجوریں کھانے کے لیے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پتھر نہ مارو ، جو نیچے گری ہوں ان میں سے کھاؤ ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور دعا کی :’’ اے اللہ ! اس کے پیٹ کو بھر دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔ وَسَنَذْکُرُ حَدِیْثَ عَمْرِ وبْنِ شُعَیْبِ فِیْ بَابِ اللُّقْطَۃِ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالیٰ ۔ اور عمرو بن شعیب کی حدیث کو ہم انشاءاللہ ’’ باب اللقطۃ ‘‘ میں ذکر کریں گے ۔
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص تھوڑی سی بھی زمین ناحق وصول کرے گا تو روزِ قیامت اسے سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔