Back to Mishkat Al-Masabih

Business Transactions

كتاب البيوع

Chapter 11

Hadith 2979
sahih
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

رافع بن خدیج ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کاشت کرے تو زرعی پیداوار سے اسے کچھ نہیں ملے گا ، وہ صرف خرچے کا حقدار ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 2980
sahih
عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ: مَا بِالْمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتِ هِجْرَةٍ إِلَّا يَزْرَعُونَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَزَارَعَ عَلِيٌّ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعُمَرُ ابْن عبد الْعَزِيز وَالقَاسِم وَعُرْوَة وَآل أبي بَكْرٍ وَآلُ عُمَرَ وَآلُ عَلِيٍّ وَابْنُ سِيرِينَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ: كُنْتُ أُشَارِكُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ فِي الزَّرْعِ وَعَامَلَ عُمَرُ النَّاسَ عَلَى: إِنْ جَاءَ عُمَرُ بِالْبَذْرِ من عِنْده فَلهُ الشّطْر. وَإِن جاؤوا بالبذر فَلهم كَذَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

قیس بن مسلم ، ابوجعفر سے بیان کرتے ہیں ، تمام مہاجر مدینہ میں تہائی یا چوتھائی حصے پر زراعت کرتے تھے ، علی ، سعد بن مالک ، عبداللہ بن مسعود ، عمر بن عبدالعزیز ، قاسم ، عروہ ، آل ابوبکر ، آل عمر ، اور آل علی اور ابن سرین نے زراعت کی ، اور عبدالرحمن بن اسود بیان کرتے ہیں ، میں زراعت میں عبدالرحمن بن یزید کے ساتھ شراکت کیا کرتا تھا ، اور عمر ؓ نے لوگوں سے معاملہ کیا کہ اگر عمر بیج مہیا کرے گا تو نصف پیداوار وہ لے گا اور اگر وہ بیج مہیا کریں گے تو ان کے لیے اتنا حصہ ہو گا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2981
sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: زَعَمَ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، ثابت بن ضحاک نے کہا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا اور مؤاجرت (ٹھیکے) پر کام کرنے کا حکم فرمایا ، اور فرمایا :’’ اس میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2982
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فَأَعْطَى الْحَجَّامَ أجره واستعط
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچھنے لگوائے تو پچھنے لگانے والے کو اس کی اجرت دی اور ناک میں دوائی ڈلوائی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2983
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ» . فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ كُنْتُ أَرْعَى عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں ۔‘‘ آپ کے صحابہ نے عرض کیا : آپ نے بھی ؟ فرمایا :’’ ہاں ! میں بھی چند قراط پر مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2984
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ روزِ قیامت میں خود ان سے جھگڑوں گا : ایک وہ آدمی جو میرا نام لے کر عہد کرے پھر اسے توڑ ڈالے ، وہ شخص جو کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھا جائے اور ایک وہ آدمی جو کسی مزدور کو اجرت پر رکھے تو اس سے پورا کام لے لیکن اسے اجرت نہ دے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2985
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ فبهم لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ إِن فِي المَاء لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَة الْكتاب على شَاءَ فبرئ فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ فَكَرِهُوا ذَلِكَ وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ: «أَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا»
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چند صحابہ کا پانی (کے گھاٹ) کے پاس سے گزر ہوا تو وہاں ایک آدمی تھا جسے بچھو یا سانپ نے ڈس لیا تھا ، اس پانی پر آباد لوگوں میں سے ایک آدمی آیا تو اس نے کہا : کیا تم میں کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے ؟ کیونکہ ہماری آبادی میں ایک آدمی ہے جسے بچھو یا سانپ نے ڈس لیا ہے ، ان (صحابہ کرام) میں سے ایک آدمی گیا اور کچھ بکریوں کے عوض اس پر سورۂ فاتحہ پڑھی اور بکریاں لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو انہوں نے اسے ناپسند کیا ، اور کہا : کیا تم نے اللہ کی کتاب پر اجرت لے لی ؟ حتی کہ وہ مدینہ پہنچ گئے ، تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس چیز پر تم اجرت لینے کے سب سے زیادہ حق دار ہو ، وہ اللہ کی کتاب ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری حدیث میں ہے :’ تم نے ٹھیک کیا ، تقسیم کرو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ مقرر کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2986
sahih
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا عَلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا: إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ قَدْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ؟ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُود فَقُلْنَا: نعم فجاؤوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً أَجْمَعُ بُزَاقِي ثُمَّ أَتْفُلُ قَالَ: فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا فَقُلْتُ: لَا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلْ فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
Urdu

خارجہ بن صلت اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے واپس آ رہے تھے ، تو ہم ایک عرب قبیلے کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : ہمیں پتہ چلا کہ تم اس آدمی سے خیر (یعنی قرآن) لے کر آ رہے ہو ، کیا تمہارے پاس کوئی دوائی یا دم ہے کیونکہ ہمارے پاس ایک مجنون شخص جکڑا ہوا ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں ، وہ اس جکڑے ہوئے دیوانے کو لے آئے تو میں نے تین روز صبح و شام سورۂ فاتحہ کا دم کیا ، میں اپنی تھوک (منہ میں) جمع کر لیتا پھر اسے (اس مجنون پر) تھوک دیتا ، راوی بیان کرتے ہیں ، اس کی بیماری اور دیوانگی جاتی رہی تو انہوں نے مجھے اجرت دی تو میں نے کہا : : نہیں ، (میں اسے نہیں لوں گا) حتی کہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھ لوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری عمر کی قسم ! کھاؤ ، کچھ ایسے ہیں جو جھوٹے دم کے ذریعے کھاتے ہیں ، جبکہ تم نے اچھے دم سے کھایا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

Hadith 2987
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أعْطوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مزدور کو اس کی اجرت ، اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 2988
sahih
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَفِي المصابيح: مُرْسل
Urdu

حسین بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سائل کا حق ہے خواہ وہ گھوڑے پر آئے ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ۔ اور مصابیح میں مرسل روایت ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

Hadith 2989
sahih
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ الْمُنْذِرِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ: (طسم) حَتَّى بَلَّغَ قِصَّةَ مُوسَى قَالَ: «إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ آجَرَ نَفْسَهُ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ عَشْرًا عَلَى عِفَّةِ فَرْجِهِ وَطَعَامِ بَطْنِهِ» . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
Urdu

عتبہ بن منذر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے ’’ سورہ طٰسٓمٓ ‘‘ تلاوت فرمائی حتی کہ آپ موسی ؑ کے قصہ پر پہنچے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ موسی ؑ نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت اور شکم سیری کی خاطر اپنے آپ کو آٹھ یا دس سال مزدوری پر لگائے رکھا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔

Hadith 2990
sahih
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ وَلَيْسَتْ بِمَالٍ فَأَرْمِي عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
Urdu

عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ایک آدمی نے ایک کمان مجھے بطور ہدیہ دی ہے اور یہ اس لیے ہے کہ میں اسے کتاب اور قرآن کی تعلیم دیا کرتا تھا ، اور وہ کوئی مال نہیں ، میں اس سے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کروں گا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر تو پسند کرتا ہے کہ تجھے آگ کا طوق ڈال دیا جائے تو پھر اسے قبول کر لے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 2991
sahih
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ» . قَالَ عُرْوَةُ: قَضَى بِهِ عُمَرُ فِي خِلَافَتِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

عائشہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی بنجر (بے آباد) زمین کو ، جو کہ کسی کی ملکیت نہ ہو ، آباد کرے تو وہ (اس کا) زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ عروہ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے اپنی خلافت میں اسی کے مطابق فیصلہ کیا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2992
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صعب بن جثامہ ؓ نے بیان کیا ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ چراگاہ تو صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2993
sahih
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي شِرَاجٍ مِنَ الْحَرَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ» . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ» فَاسْتَوْعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ حِينَ أحفظه الْأنْصَارِيّ وَكَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا بِأَمْرٍ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ
Urdu

عروہ بیان کرتے ہیں ، زبیر کا حرّہ کے برساتی نالے میں ایک انصاری آدمی سے جھگڑا ہو گیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زبیر ! پہلے تم سیراب کر لو ، پھر اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ۔‘‘ انصاری بولنے لگا : کیونکہ وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا ، پھر فرمایا :’’ زبیر ! پہلے تم سیراب کرو ، پھر پانی روک رکھو حتی کہ وہ منڈیر تک پہنچ جائے ، پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دے ۔‘‘ یوں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صریح حکم میں (فی الحقیقت) زبیر ؓ کو پورا حق دے دیا ۔ جبکہ انصاری نے (قول فیصل پر معترض ہو کر) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غصہ دلایا ، حالانکہ آپ نے پہلے ایسا حکم دیا تھا جس میں دونوں کے لیے وسعت تھی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2994
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تمنعوا فضل المَاء لتمنعوا بِهِ فضل الْكلأ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زائد از ضرورت گھاس روکنے کے لیے زائد از ضرورت پانی مت روکو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2995
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أُعْطِيَ وَهُوَ كَاذِبٌ وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَيَقُولُ اللَّهُ: الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَاء لم تعْمل يداك « وَذُكِرَ حَدِيثُ جَابِرٍ فِي» بَابِ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا من الْبيُوع
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تین شخص ایسے ہیں ، جن سے اللہ روزِ قیامت کلام کرے گا نہ نظرِ رحمت سے ان کی طرف دیکھے گا : وہ آدمی جس نے مال پر قسم اٹھائی ہو کہ اسے تو اس سے ، جتنی تم دے رہے ہو ، زیادہ قیمت ملتی ہے ، حالانکہ وہ جھوٹا ہے ، دوسرا وہ شخص جو عصر کے بعد جھوٹی قسم اٹھائے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان شخص کا مال ہڑپ کر جائے ، اور تیسرا وہ شخص جس نے زائد از ضرورت پانی روک رکھا ہو ، اللہ فرمائے گا : آج میں تجھے اپنے فضل سے محروم رکھوں گا جیسا کہ تو نے زائد از ضرورت پانی روک لیا تھا ۔ حالانکہ اسے تیرے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔ وَذْکِرَ حَدِیْثُ جَابِر ؓ فِیْ ’’ بَابِ الْمَنْھِیِّ عَنْھَا مِنَ الْبُیُوْع ‘‘ ۔ اور جابر ؓ کی روایت باب المنھی عنھا من البیوع میں ذکر کی جا چکی ہے ۔

Hadith 2996
sahih
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى الْأَرْضِ فَهُوَ لَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

حسن ؒ سمرہ ؓ سے اور وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی (بنجر) زمین پر چار دیواری کر لے تو وہ قطعہ زمین اس کا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2997
sahih
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِلزُّبَيْرِ نخيلا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

اسماء بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زبیر ؓ کو جاگیر میں کچھ کھجوروں کے درخت عطا فرمائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2998
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِلزُّبَيْرِ حُضْرَ فَرَسِهِ فَأَجْرَى فَرَسَهَ حَتَّى قَامَ ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ فَقَالَ: «أَعْطُوهُ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زبیر ؓ کے لیے ان کے گھوڑے کی دوڑ تک مسافت کا رقبہ جاگیر میں عطا کیا ، انہوں نے اپنا گھوڑا دوڑایا حتی کہ وہ کھڑا ہو گیا ۔ پھر انہوں نے اپنا کوڑا پھینکا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جہاں تک کوڑا پہنچا ہے وہاں تک رقبہ اسے عطا کر دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔