علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرموت (یمن) کے علاقے میں انہیں جاگیر دی ، وہ بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاویہ ؓ کو میرے ساتھ بھیجا اور فرمایا :’’ وہ انہیں دے آؤ ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
ابیض بن حمال ماربی سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ سے مارب کی نمک کی کان بطور جاگیر طلب کی تو آپ نے وہ اسے عطا کر دی ، جب وہ آدمی واپس مڑا تو ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے تو اسے دائمی چیز عطا فرما دی ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس سے واپس لے لیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا پیلو کے درختوں کی زمین کس قدر دور جا کر گھیر لی جائے ؟ فرمایا :’’ جہاں اونٹ نہ پہنچ پائیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسلمان تین چیزوں : پانی ، گھاس اور آگ میں ، حصہ دار ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
اسمر بن مُضَرس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کی بیعت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی ایسے پانی (چشمے) پر ، جہاں کوئی مسلمان نہ پہنچا ہو ، پہلے پہنچ جائے تو وہ پانی اسی کا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
طاؤس ؒ سے مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بنجر زمین کو آباد کر لے تو وہ اسی کی ہے ۔ اور قدیم بنجر زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے ، پھر وہ میری طرف سے تمہارے لیے ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الشافعی ۔
شرح السنہ میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود ؓ کو مدینہ میں کچھ گھر بطور جاگیر عطا کیے ، وہ انصار کے گھروں اور نخلستان کے درمیان تھے ، بنوعبد بن زہرہ نے کہا : ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کو ہم سے دور کر دیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ تب اللہ نے مجھے مبعوث ہی کیوں کیا ہے ، بے شک اللہ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں ان کے ضعیف شخص کو اس کا حق نہ دلایا جائے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیل مہزور کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اس کو روکا جائے حتی کہ وہ (پانی) ٹخنوں تک پہنچ جائے ، پھر بالائی حصے سے نشیبی حصے کو پانی چھورا جائے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ ان کے کھجوروں کے کچھ درخت ایک انصاری شخص کے باغ میں تھے ، اور اس کے بچے بھی اس شخص کے ساتھ (باغ میں) تھے ، سمرہ ؓ جب اس شخص کے پاس جاتے تو وہ ان سے تکلیف محسوس کرتا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ساری بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمرہ ؓ کو اپنے پاس بلایا تاکہ وہ اسے فروخت کر دیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا ، آپ نے مطالبہ کیا کہ ان درختوں کے بدلہ میں کسی اور جگہ لے لو ، لیکن انہوں نے انکار کر دیا ، فرمایا :’’ اسے ہبہ کر دو ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترغیب کے انداز میں فرمایا کہ :’’ تمہیں (جنت میں) یہ کچھ ملے گا ۔‘‘ انہوں نے پھر بھی انکار کر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم تکلیف پہنچانے والے ہو ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاری شخص سے فرمایا :’’ جاؤ اور اس کے کھجوروں کے درخت کاٹ دو ۔‘‘ اور جابر سے مروی حدیث :’’ جس نے بنجر زمین کو آباد کیا ۔‘‘ سعید بن زید ؓ کی روایت سے ’’ باب الغصب ‘‘ میں ذکر کی گئی ہے ۔ اور ہم ابوصرمہ ؓ سے مروی حدیث :’’ جس نے کسی کو تکلیف پہنچائی تو اللہ اسے تکلیف پہنچائے گا ۔‘‘ ’’ باب ما ینھی عن التھاجر ‘‘ میں ذکر کریں گے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ کون سی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پانی ، نمک اور آگ ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! پانی کی اہمیت و ضرورت کا تو ہمیں پتہ ہے ، لیکن نمک اور آگ کی تو وہ صورت نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حمیراء ! جس شخص نے آگ دی تو گویا اس نے اس آگ سے پکنے والی تمام چیزیں ، صدقہ کیں ۔ اور جس نے نمک دیا تو گویا اس نمک نے جن چیزوں کو لذیذ بنایا وہ تمام چیزیں اس نے صدقہ کیں ۔ جس شخص نے پانی کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کو ایک گھونٹ پانی پلایا تو گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا ، اور جس نے پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں کسی مسلمان کو پانی کا گھونٹ پلا دیا تو گویا اس نے اسے زندگی عطا کر دی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ خیبر کی کچھ زمین عمر ؓ کے حصے میں آئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے خیبر کی جو زمین ملی ہے اس سے پہلے اتنا نفیس مال مجھے کبھی نہیں ملا ، آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم چاہو تو اس کا اصل مال تم رکھ لو اور اس کی پیداوار صدقہ کر دو ۔‘‘ عمر ؓ نے اس شرط پر اسے صدقہ کیا کہ اس کے اصل کو بیچا جائے گا نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ ہی وراثت میں تقسیم ہو گا اور اس کی پیداوار کو فقراء ، رشتہ داروں ، غلاموں کو آزاد کرانے ، اللہ کی راہ میں ، مسافر پر اور مہمانوں پر خرچ کیا جائے گا ، اور اس کی سرپرستی و نگرانی کرنے والے پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اس میں سے بھلے طریقے سے کھائے ذخیرہ نہ کرتے ہوئے دوسروں (اہل خانہ وغیرہ) کو بھی کھلائے ۔‘‘ ابن سرین ؒ نے فرمایا : مال جمع کرنے والا نہ ہو ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عمریٰ (عمر بھر کا عطیہ) جائز ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عمریٰ ، عمریٰ لینے والے وارثوں کی میراث ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص اور اس کی اولاد کو عمریٰ دیا گیا تو وہ انہی کا ہے جن کو دیا گیا ، وہ دینے والے کو واپس نہیں ہو گا ، کیونکہ اس نے ایک ایسا عطیہ دیا ہے جس میں میراث واقع ہو گئی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، عمریٰ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نافذ کیا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص کہے : یہ (عمریٰ) تمہارے اور تمہاری اولاد کے لیے ہے ، اور اگر وہ کہے کہ جب تک تو زندہ رہے یہ چیز تیری ہے ، تو پھر (اس کی وفات کے بعد) یہ اس کے مالک کو واپس مل جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم رقبیٰ کے طور پر کوئی چیز دو نہ عمریٰ کے طور پر ، جس شخص کو رقبیٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی یا عمریٰ کے طور پر تو وہ اس کے وارثوں کی ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عمریٰ ، جس شخص کو عمریٰ دیا جائے اس کے اہل خانہ کے لیے نافذ ہو گا اور رقبیٰ ، جس شخص کو رقبیٰ دیا جائے وہ اس کے اہل خانہ کے لیے نافذ ہو گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے اموال کی حفاظت کرو اور انہیں خراب نہ کرو ، کیونکہ جس شخص نے عمریٰ دیا تو وہ اسی شخص کا ہے جس کو عمریٰ دیا گیا اس کی زندگی میں بھی ، اس کے مرنے کے بعد بھی اور اس کے ورثا کا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ وہ ہلکا سا احسان اور اچھی خوشبو ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشبو (کے تحفے) کو واپس نہیں کیا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہبہ واپس لینے والا ، قے کر کے اسے چاٹنے والے کتے کی طرح ہے ۔ ہمارے لیے بری مثال نہیں ؟‘‘ رواہ البخاری ۔