شرید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنے والے مال دار شخص کی بے عزتی کرنا اور اسے سزا دینا جائز ہے ۔‘‘ ابن مبارک ؒ نے فرمایا : اس کی بے عزتی کرنے سے یہ مراد ہے کہ اس سے سخت کلامی کرنا جائز ہے ، اور اس کو سزا دینے سے مراد ہے کہ اسے قید کرنا جائز ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہارے ساتھی پر قرض ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا :’’ کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی مال چھوڑا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ، فرمایا :’’ تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھو ۔‘‘ علی بن ابی طالب ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس کا قرض میرے ذمے رہا ، تو پھر آپ آگے بڑھے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھی ، اور ایک دوسری روایت میں اسی کا ہم معنی مفہوم روایت کیا گیا ہے ، اور فرمایا :’’ اللہ نے تمہاری گردن کو آگ سے آزاد کر دیا جیسے تم نے اپنے مسلمان بھائی کی گردن کو آزاد کرا دیا ۔ جو کوئی مسلمان بندہ اپنے بھائی کی طرف سے اس کا قرض ادا کرتا ہے تو روزِ قیامت اللہ اس کی گردن کو (آگ سے) آزاد فرمائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ کبر و خیانت اور قرض سے بَری ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابوموسی ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کبیرہ گناہوں کے بعد ، اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ بندہ مرنے کے بعد اپنے رب سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ذمہ قرض ہو اور وہ اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز نہ چھوڑے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
عمرو بن عوف مزنی ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے ، ایسی صلح کے سوا جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال کر دے ، اور اس شرط کے سوا جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال کر دے ، مسلمان اپنی شرطوں پر ثابت ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، ابوداؤد اور ان کی روایت ((عَلیٰ شُرُوْطِھِمْ)) تک ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
سوید بن قیس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اور مخرفہ عبدی تجارت کے لیے ہجر سے کپڑا لے کر مکہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چلتے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے ایک شلوار کے کپڑے کی ہم سے قیمت طے کی تو ہم نے آپ کو فروخت کر دیا ، وہاں ایک آدمی تھا جو اُجرت پر وزن کیا کرتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ وزن کر اور جھکتا وزن کر ۔‘‘ (یعنی پورے سے کچھ زیادہ) ۔ احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میرا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کچھ قرض تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مجھے ادا کیا اور مجھے مزید عطا کیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن ابی ربیعہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے چالیس ہزار درہم قرض لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال آیا تو آپ نے وہ مجھے واپس کر دیا ، اور فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ تمہارے اہل و مال میں برکت فرمائے ، قرض کی جزا ہی شکریہ ادا کرنا اور قرض ادا کرنا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ النسائی ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی کا کسی شخص پر کوئی حق ہو ، اور وہ (حق لینے والا) اسے مہلت دے تو ہر روز کے بدلے اسے صدقہ کا ثواب ملے گا ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد ۔
سعد بن اطول ؓ بیان کرتے ہیں ، میرا بھائی فوت ہو گیا اور اس نے تین سو دینار اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے ، میں نے ارادہ کیا کہ میں (یہ رقم) ان پر خرچ کروں ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ تیرا بھائی اپنے قرض کی وجہ سے محبوس ہے ، (پہلے) اس کی طرف سے قرض ادا کرو ۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ۔ میں گیا اور اس کی طرف سے قرض ادا کیا ، پھر میں واپس آیا تو عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے اس کی طرف سے سارا قرض ادا کر دیا ہے ، صرف ایک عورت باقی رہ گئی ہے جو دو دینار کا مطالبہ کرتی ہے ۔ جبکہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے دے دو کیونکہ وہ سچی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
محمد بن عبداللہ بن جحش ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم مسجد کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے ، جہاں جنازے رکھے جاتے تھے ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا پھر نظر کو جھکایا اور اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ کر (تعجب سے) فرمایا :’’ سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! کیسی سختی نازل ہوئی ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم دن بھر اور پوری رات خاموش رہے ، اور ہم نے خیر ہی خیر دیکھی ، حتی کہ صبح ہو گئی ، محمد(راوی) بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا ، وہ کون سا عذاب ہے جو نازل ہوا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرض کے بارے میں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ! اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جائے ، وہ پھر زندہ ہو ، پھر اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جائے ، پھر زندہ ہو ، پھر اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جائے ، پھر زندہ ہو اور اس کے ذمے قرض ہو تو وہ جنت میں نہیں جائے گا ، حتی کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے ۔‘‘ احمد ۔ اور شرح السنہ میں اس کی مثل ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و فی شرح السنہ ۔
زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے دادا عبداللہ بن ہشام ؓ انہیں بازار لے جاتے اور غلہ خریدتے ، پھر ابن عمر ؓ اور ابن زبیر ؓ انہیں ملتے تو وہ انہیں (عبداللہ بن ہشام ؓ سے) کہتے : ہمیں بھی شریک کر لو ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے ، وہ انہیں شریک کر لیتے ، بسا اوقات انہیں پورے اونٹ کے سامان کا نفع ہو جاتا تو وہ اسے اپنے گھر کی طرف بھیج دیتے ، اور عبداللہ بن ہشام ؓ کو ان کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر گئی تھیں تو آپ نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا ، اور اس کے لیے برکت کی دعا کی تھی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، انصار نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ، آپ ہمارے اور ہمارے (مہاجر) بھائیوں کے درمیان کھجوروں کے درخت تقسیم فرما دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، (انہوں نے مہاجرین سے کہا) تم محنت کرو ، ہم تمہیں پیداوار میں شریک کر لیں گے ۔ انہوں (مہاجرین) نے کہا : ہم نے سن لیا اور ہم نے مان لیا ۔ رواہ البخاری ۔
عروہ بن ابی جعد البارقی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک دینار دیا تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک بکری خریدے ۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دو بکریاں خریدیں ، اور پھر ان میں سے ایک بکری ایک دینار میں فروخت کر دی ، اور ایک بکری اور ایک دینار آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بیع میں برکت کی دعا فرمائی ، پس اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں نفع کماتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ مرفوع روایت بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے :’’ جب دو شراکت داروں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی سے خیانت نہیں کرتا تو میں ان کا تیسرا ہوتا ہوں ، جب وہ اس سے خیانت کرتا ہے تو میں ان دونوں میں سے نکل جاتا ہوں ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ اور شیطان آ جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و رزین ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص تمہارے پاس امانت رکھے تو تم امانت واپس کر دو ، اور جو شخص تم سے خیانت کرے تو تم اس سے خیانت نہ کرو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے خیبر جانے کا ارادہ کیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کیا اور عرض کیا میں خیبر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میرے وکیل کے پاس جاؤ تو اس سے پندرہ وسق کھجوریں لے لینا ، اور اگر وہ تجھ سے کوئی نشانی طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کے حلق پر رکھ دینا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
صہیب ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین چیزوں میں برکت ہے ، ایک مدت تک (ادھار) بیع کرنا ، مضاربت کرنا ، اور گندم میں جو ملانا گھر میں استعمال کے لیے ، تجارت کے لیے نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک دینار دے کر بھیجا تاکہ وہ اس سے آپ کے لیے قربانی خریدے ، اس نے ایک دینار کا مینڈھا خریدا اور دو دینار میں بیچ دیا ، وہ پھر واپس گیا اور ایک دینار کی قربانی خریدی ، اور وہ قربانی کا جانور اور وہ دینار جو منافع ہوا تھا لے کر حاضر ہوا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دینار صدقہ کر دیا اور اس کے لیے دعا فرمائی ، کہ اس کی تجارت میں برکت ڈال دی جائے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
سعید بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ظلم سے بالشت برابر زمین حاصل کرتا ہے تو روزِ قیامت سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔