یعلی بن مُرّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ناحق کچھ زمین حاصل کرتا ہے تو اسے حکم دیا جائے گا کہ وہ حشر کے میدان میں اس کی مٹی اٹھائے رکھے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
یعلی بن مُرّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے ناحق بالشت برابر زمین پر قبضہ کیا تو اللہ عزوجل اسے حکم دے گا کہ ساتوں زمینوں تک اسے کھودے ، پھر روزِ قیامت تک ، حتی کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جانے تک ، اسے اس کا طوق پہنا دیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر منقسم چیز کے متعلق شفعہ کا فیصلہ فرمایا ، اور جب حد بندی ہو جائے اور راستے مختلف ہو جائیں تو پھر کوئی شفعہ نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر منقسم ہر مشترکہ چیز میں شفعہ کا فیصلہ دیا ، وہ مکان ہو یا باغ :’’ اس شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شراکت دار کو اطلاع کیے بغیر اسے فروخت کر دے ، پھر اگر وہ چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو ترک کر دے ، پھر اگر وہ فروخت کرتے وقت اسے اطلاع نہ کرے تو وہ (دوسرا شراکت دار) اس کا زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر شہتیر رکھنے سے منع نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب راستے (کے عرض) کے بارے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو پھر اس کا عرض سات ہاتھ رکھا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
سعید بن حُریث ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تم میں سے جو شخص کوئی گھر یا کوئی زمین فروخت کرے تو ممکن ہے کہ اس (کی بیع) کے لیے برکت نہ رکھی جائے الاّ یہ کہ وہ (رقم) کو اسی طرح کی چیز میں لگائے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پڑوسی اپنے شفعہ کا زیادہ حق دار ہے ۔ اگر وہ کہیں گیا ہوا ہے تو اس کا انتظار کیا جائے گا جبکہ ان دونوں کا راستہ ایک ہی ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابن عباس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ شراکت دار شفعہ کر سکتا ہے اور شفعہ ہر چیز میں ہو سکتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن حُبیش ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بیری کا درخت کاٹ ڈالے تو اللہ تعالیٰ اسے سر کے بل جہنم میں ڈالے گا ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور فرمایا : یہ حدیث مختصر ہے ، یعنی :’’ جس نے ناحق طور پر کسی جنگل سے بیری کا درخت کاٹ ڈالا جس کے نیچے مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں ، تو اللہ تعالیٰ اسے سر کے بل جہنم میں ڈالے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، جب زمین کی حدود متعین ہو جائیں تو پھر اس میں شفعہ نہیں ، اور اسی طرح کنوئیں اور پیوند لگی کھجور میں شفعہ نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے یہود کو خیبر کے نخلستان اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اپنے اموال سے ان میں کام کریں ، اور اس کی پیداوار کا نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہو گا ۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر یہودیوں کو دیا کہ وہ کام کریں اور کاشت کاری کریں اور اس کی پیداوار کا نصف انہیں ملے گا ۔ رواہ مسلم و البخاری ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم مخابرت کیا کرتے تھے اور ہم اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ، حتی کہ رافع بن خدیج ؓ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے منع فرمایا ہے ۔ لہذا ہم نے اس وجہ سے ترک کر دیا ۔ رواہ مسلم ۔
حنظلہ بن قیس ، رافع بن خدیج ؓ سے روایت کرتے ہیں ، میرے دو چچا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں زمین کرائے پر دیا کرتے تھے ، لیکن وہ برساتی نالے کے آس پاس اگنے والی کھیتی یا کوئی اور چیز مستثنی کر لیا کرتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا ، میں نے رافع ؓ سے کہا : وہ درہم و دینار کے بدلے دینے میں کیا حکم رکھتی ہے ؟ انہوں نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ، اور جس وجہ سے ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے اگر حلال و حرام کے متعلق جاننے والا صاحب فہم و فراست اس کا جائزہ لے تو وہ بھی اس میں موجود دھوکے کے پیش نظر اسے جائز قرار نہ دے ۔ متفق علیہ ۔
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم اہل مدینہ زیادہ تر کاشتکار تھے ، ہم میں سے کوئی اپنی زمین کرائے پر دیتا تو یوں کہتا : یہ قطعہ زمین میرا ہے اور یہ تیرا ، بسا اوقات یہ قطعہ زمین پیداوار دیتا ، اور یہ نہ دیتا ، لہذا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا ۔ متفق علیہ ۔
عمرو بیان کرتے ہیں ، میں نے طاؤس سے کہا : کاش کہ آپ مخابرہ چھوڑ دیں ، کیونکہ عام گمان یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ، انہوں نے فرمایا : عمرو ! میں انہیں زمین دیتا ہوں اور ان کی مدد بھی کرتا ہوں ، اور بے شک ان میں بڑے عالم یعنی ابن عباس ؓ نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا : لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو بطور احسان مفت زمین دے دے تو وہ اس کے لیے معین مقدار میں اجرت لینے سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کی زمین ہو تو وہ اسے کاشت کرے یا بطور احسان اسے اپنے بھائی کو دے دے ، اگر ایسا نہیں کر سکتا تو وہ اپنی زمین اپنے پاس رکھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ہل یا کوئی آلہ زراعت دیکھا تو کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کسی قوم کے جس گھر میں یہ چیزیں گھس آتی ہیں ، تو اللہ انہیں ذلت سے دوچار کر دیتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔