Back to Mishkat Al-Masabih

Business Transactions

كتاب البيوع

Chapter 11

Hadith 2959
sahih
وَعَن يعلى بن مرّة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا الْمَحْشَرَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
Urdu

یعلی بن مُرّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ناحق کچھ زمین حاصل کرتا ہے تو اسے حکم دیا جائے گا کہ وہ حشر کے میدان میں اس کی مٹی اٹھائے رکھے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 2960
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ كَلَّفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرَضِينَ ثُمَّ يُطَوَّقَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاس» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

یعلی بن مُرّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے ناحق بالشت برابر زمین پر قبضہ کیا تو اللہ عزوجل اسے حکم دے گا کہ ساتوں زمینوں تک اسے کھودے ، پھر روزِ قیامت تک ، حتی کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جانے تک ، اسے اس کا طوق پہنا دیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 2961
sahih
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غیر منقسم چیز کے متعلق شفعہ کا فیصلہ فرمایا ، اور جب حد بندی ہو جائے اور راستے مختلف ہو جائیں تو پھر کوئی شفعہ نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2962
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَرِكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ: «لَا يَحِلُّ لَهُ أَن يَبِيع حَتَّى يُؤذن شَرِيكه فَإِن شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غیر منقسم ہر مشترکہ چیز میں شفعہ کا فیصلہ دیا ، وہ مکان ہو یا باغ :’’ اس شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شراکت دار کو اطلاع کیے بغیر اسے فروخت کر دے ، پھر اگر وہ چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو ترک کر دے ، پھر اگر وہ فروخت کرتے وقت اسے اطلاع نہ کرے تو وہ (دوسرا شراکت دار) اس کا زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2963
sahih
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے (شفعہ کا) زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2964
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَمْنَعْ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَاره»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر شہتیر رکھنے سے منع نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2965
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ جُعِلَ عرضه سَبْعَة أَذْرع» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب راستے (کے عرض) کے بارے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو پھر اس کا عرض سات ہاتھ رکھا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2966
sahih
عَن سعيد بن حُرَيْث قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَاعَ مِنْكُمْ دَارًا أَوْ عَقَارًا قَمِنٌ أَنْ لَا يُبَارَكُ لَهُ إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهُ فِي مِثْلِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ والدارمي
Urdu

سعید بن حُریث ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تم میں سے جو شخص کوئی گھر یا کوئی زمین فروخت کرے تو ممکن ہے کہ اس (کی بیع) کے لیے برکت نہ رکھی جائے الاّ یہ کہ وہ (رقم) کو اسی طرح کی چیز میں لگائے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 2967
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ يُنْتَظَرُ لَهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ. والدارمي
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پڑوسی اپنے شفعہ کا زیادہ حق دار ہے ۔ اگر وہ کہیں گیا ہوا ہے تو اس کا انتظار کیا جائے گا جبکہ ان دونوں کا راستہ ایک ہی ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 2968
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشَّرِيكُ شَفِيعٌ وَالشُّفْعَةُ فِي كل شَيْء» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ قَالَ:
Urdu

ابن عباس ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شراکت دار شفعہ کر سکتا ہے اور شفعہ ہر چیز میں ہو سکتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 2969
sahih
وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَهُوَ أصح
Urdu

ابن ابی ملیکہ کی سند سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مرسل مروی ہے اور وہ زیادہ صحیح ہے ۔ حسن ، انظر الحدیث السابق ۔

Hadith 2970
sahih
وَعَن عبد الله بن جحش قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: هَذَا الْحَدِيثُ مُخْتَصَرٌ يَعْنِي: مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً فِي فَلَاةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ وَالْبَهَائِمُ غَشْمًا وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٍّ يَكُونُ لَهُ فِيهَا صَوَّبَ الله رَأسه فِي النَّار
Urdu

عبداللہ بن حُبیش ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بیری کا درخت کاٹ ڈالے تو اللہ تعالیٰ اسے سر کے بل جہنم میں ڈالے گا ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور فرمایا : یہ حدیث مختصر ہے ، یعنی :’’ جس نے ناحق طور پر کسی جنگل سے بیری کا درخت کاٹ ڈالا جس کے نیچے مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں ، تو اللہ تعالیٰ اسے سر کے بل جہنم میں ڈالے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2971
sahih
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فِي الْأَرْضِ فَلَا شُفْعَةَ فِيهَا. وَلَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحل النّخل. رَوَاهُ مَالك
Urdu

عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، جب زمین کی حدود متعین ہو جائیں تو پھر اس میں شفعہ نہیں ، اور اسی طرح کنوئیں اور پیوند لگی کھجور میں شفعہ نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک ۔

Hadith 2972
sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرُ ثَمَرِهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا ويزرعوها وَلَهُم شطر مَا يخرج مِنْهَا
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کے یہود کو خیبر کے نخلستان اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اپنے اموال سے ان میں کام کریں ، اور اس کی پیداوار کا نصف رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہو گا ۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر یہودیوں کو دیا کہ وہ کام کریں اور کاشت کاری کریں اور اس کی پیداوار کا نصف انہیں ملے گا ۔ رواہ مسلم و البخاری ۔

Hadith 2973
sahih
وَعنهُ قَالَ: كُنَّا نخبر وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ ابْن خَدِيجٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا فَتَرَكْنَاهَا مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم مخابرت کیا کرتے تھے اور ہم اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ، حتی کہ رافع بن خدیج ؓ نے کہا کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے منع فرمایا ہے ۔ لہذا ہم نے اس وجہ سے ترک کر دیا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2974
sahih
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خديج قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمَّايَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبَعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ فَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ هِيَ بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ وَكَأَنَّ الَّذِي نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيهِ ذَوُو الْفَهْمِ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ لَمْ يُجِيزُوهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ
Urdu

حنظلہ بن قیس ، رافع بن خدیج ؓ سے روایت کرتے ہیں ، میرے دو چچا نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں زمین کرائے پر دیا کرتے تھے ، لیکن وہ برساتی نالے کے آس پاس اگنے والی کھیتی یا کوئی اور چیز مستثنی کر لیا کرتے تھے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا ، میں نے رافع ؓ سے کہا : وہ درہم و دینار کے بدلے دینے میں کیا حکم رکھتی ہے ؟ انہوں نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ، اور جس وجہ سے ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے اگر حلال و حرام کے متعلق جاننے والا صاحب فہم و فراست اس کا جائزہ لے تو وہ بھی اس میں موجود دھوکے کے پیش نظر اسے جائز قرار نہ دے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2975
sahih
وَعَن رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَقْلًا وَكَانَ أَحَدُنَا يُكْرِي أَرْضَهُ فَيَقُولُ: هَذِهِ الْقِطْعَةُ لِي وَهَذِهِ لَكَ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ ذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ ذِهِ فَنَهَاهُمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Urdu

رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم اہل مدینہ زیادہ تر کاشتکار تھے ، ہم میں سے کوئی اپنی زمین کرائے پر دیتا تو یوں کہتا : یہ قطعہ زمین میرا ہے اور یہ تیرا ، بسا اوقات یہ قطعہ زمین پیداوار دیتا ، اور یہ نہ دیتا ، لہذا نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں منع فرما دیا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2976
sahih
وَعَن عَمْرو قَالَ: قلت لطاووس: لَوْ تُرِكَتِ الْمُخَابَرَةُ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَ: أَيْ عَمْرٌو إِنِّي أُعْطِيهِمْ وَأُعِينُهُمْ وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ أَخْبَرَنِي يَعْنِي ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ ينْه عَنهُ وَلَكِن قَالَ: «أَلا يَمْنَحْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَعْلُومًا»
Urdu

عمرو بیان کرتے ہیں ، میں نے طاؤس سے کہا : کاش کہ آپ مخابرہ چھوڑ دیں ، کیونکہ عام گمان یہ ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ، انہوں نے فرمایا : عمرو ! میں انہیں زمین دیتا ہوں اور ان کی مدد بھی کرتا ہوں ، اور بے شک ان میں بڑے عالم یعنی ابن عباس ؓ نے مجھے بتایا کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا : لیکن آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو بطور احسان مفت زمین دے دے تو وہ اس کے لیے معین مقدار میں اجرت لینے سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2977
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أرضه»
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کی زمین ہو تو وہ اسے کاشت کرے یا بطور احسان اسے اپنے بھائی کو دے دے ، اگر ایسا نہیں کر سکتا تو وہ اپنی زمین اپنے پاس رکھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2978
sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَرَأَى سِكَّةً وَشَيْئًا مِنْ آلَةِ الْحَرْثِ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ هَذَا بَيْتَ قوم إِلَّا أدخلهُ الذل» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ہل یا کوئی آلہ زراعت دیکھا تو کہا : میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کسی قوم کے جس گھر میں یہ چیزیں گھس آتی ہیں ، تو اللہ انہیں ذلت سے دوچار کر دیتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔