Back to Mishkat Al-Masabih

Business Transactions

كتاب البيوع

Chapter 11

Hadith 2799
sahih
وَعَن عبيد بنِ رفاعةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه
Urdu

عبید بن رفاعہ اپنے والد سے اور وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تاجروں کو فاجروں کے زمرے میں جمع کیا جائے گا بجز اس کے جس نے تقوی اختیار کیا ، نیکی کی اور صدقہ کیا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 2800
sahih
وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. عَنِ الْبَرَاءِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ مِنَ الْفَصْلِ الثَّالِثِ
Urdu

امام بیہقی نے براء ؓ سے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 2801
sahih
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَّفَرَقَا إِلَّا بيع الْخِيَار» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِذَا كانَ بيعُهما عَن خيارٍ فقد وَجَبَ» وَفَى رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَخْتَارَا» . وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اخْتَرْ «بَدَلَ» أَوْ يختارا
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بیع خیار کے علاوہ خریدو فروخت کرنے والے میں سے ہر ایک کو ، جُدا نہ ہونے سے پہلے تک (بیع کو پختہ کرنے یا فسخ کرنے کا) اختیار ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے ’’ جب دو بیع کرنے والے بیع کرتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے تک اپنی بیع کے بارے میں اختیار ہوتا ہے ، یا پھر ان کی بیع خیار ہو ، پس جب ان کی بیع اختیار ہو گی تو وہ واجب ہو جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو ایک دوسرے سے جدُا ہونے سے پہلے تک اختیار باقی رہتا ہے ، یا پھر انہوں نے بیع خیار کی ہو ۔ اور صحیحین کی روایت میں ہے :’’ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی سے کہے کہ تجھے اختیار حاصل ہے ۔ ((یختارا)) کے بجائے ((اِختَر)) ’’ اختیار کی شرط کر ‘‘ کا لفظ ہے ۔

Hadith 2802
sahih
وَعَن حَكِيم بن حزَام قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُوِرَكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا»
Urdu

حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو جُدا ہونے تک اختیار باقی رہتا ہے ، اگر انہوں نے سچ بولا اور (مال کے بارے میں) وضاحت کی تو ان دونوں کے لیے ان کی بیع میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اگر انہوں نے (مال کے نقص وغیرہ کو) چھپایا اور جھوٹ بولا تو ان کی بیع سے برکت ختم ہو جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2803
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خلابة فَكَانَ الرجل يَقُوله
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فرمایا : بیع میں میرے ساتھ دھوکہ ہو جاتا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم بیع کرو تو کہا کرو : دھوکہ فریب نہیں چلے گا ۔‘‘ وہ آدمی یہ الفاظ کہا کرتا تھا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2804
sahih
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو جُدا ہونے سے پہلے تک اختیار ہوتا ہے الا یہ کہ بیع اختیار ہو ، اور اس کے لیے اس اندیشے کے پیش نظر اپنے ساتھی سے جُدا ہونا جائز نہیں کہ وہ اس (بیع) کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 2805
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَتَفَرَّقَنَّ اثْنَانِ إِلَّا عنْ تراضٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابوہریرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دونوں باہمی رضا مندی کے بغیر ایک دوسرے سے جُدا نہ ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2806
sahih
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم خيَّرَ أعرابيَّاً بَعْدَ الْبَيْعِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اعرابی کو بیع کے بعد اختیار دیا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 2807
sahih
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ، اور فرمایا :’’ (گناہ میں) وہ سب برابر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2808
sahih
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْملح بالملح مثلا بِمثل سَوَاء بسَواءٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سونے کے بدلے سونا ، چاندی کے بدلے چاندی ، گندم کے بدلے گندم ، جو کے بدلے جو ، کھجور کے بدلے کھجور ، اور نمک کے بدلے نمک ایک دوسرے کے برابر ہوں اور نقد بنقد ہوں ، جب یہ اصناف بدل جائیں تو پھر اگر وہ نقد ہوں تو جیسے چاہو بیچو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2809
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سونا سونے کے بدلے ، چاندی چاندی کے بدلے ، گندم گندم کے بدلے ، جو جو کے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے ، اور نمک نمک کے بدلے برابر برابر اور نقد بنقد ہوں ، جس شخص نے زیادہ دیا یا جس نے زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سودی کام کیا ، اور اس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2810
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تبِيعُوا مِنْهَا غَائِبا بناجز» وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرق بالورق إِلَّا وزنا بِوَزْن»
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سونے کو سونے کے برابر ہی فروخت کرو ، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو ، چاندی کو چاندی کے برابر ہی فروخت کرو اور ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو ، اور اس میں سے غیر موجود چیز کو موجود چیز کے بدلے فروخت نہ کرو ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں باہم برابر وزن میں فروخت کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2811
sahih
وَعَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنْتُ أسمع رَسُول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلاً بمثْلٍ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

معمر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سن رہاتھا :’’ اناج ، اناج (غلہ غلے) کے برابر برابر ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2812
sahih
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بالبُرَّ إِلَّا هَاء وهاء وَالشعِير بِالشَّعِيرِ رَبًّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وهاء»
Urdu

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سونے کی سونے کے بدلے ، چاندی کی چاندی کے بدلے ، گندم کی گندم کے بدلے ، جو کی جو کے بدلے اور کھجور کی کھجور کے بدلے ادھار بیع کرنا سود ہے لیکن اگر دست بدست ہو تو جائز ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2813
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ: «أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟» قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثِ فَقَالَ: «لَا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا» . وَقَالَ: «فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذَلِكَ»
Urdu

ابوسعید ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو خیبر پر عامل مقرر کیا ، تو وہ اچھی قسم کی کھجوریں لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح کی ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ! ہم دو صاع کے بدلے یہ ایک صاع اور تین صاع کے بدلے دو صاع لے لیتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایسے نہ کیا کرو ، ساری کھجوریں درہموں کے حساب سے بیچ دیا کرو اور پھر درہموں کے بدلے عمدہ قسم کی کھجوریں خرید لیا کرو ۔‘‘ اور فرمایا :’’ وزن کی جانے والی تمام چیزوں میں بھی یہی اصول ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2814
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيْنَ هَذَا؟» قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ رَدِيءٌ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَقَالَ: «أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعِ التَّمرَ ببَيْعٍ آخر ثمَّ اشْتَرِ بِهِ»
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، بلال ؓ برنی (بڑی عمدہ قسم کی) کھجوریں لے کر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا :’’ یہ کہاں سے لائے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہمارے پاس نکمی کھجوریں تھیں میں نے ان کے دو صاع کے عوض ان کا ایک صاع لیا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ افسوس ! افسوس ! یہ تو بالکل سود ہے ، بالکل سود ہے ، ایسے نہ کرو ، بلکہ جب تم خریدنا چاہو تو ان کھجوروں کو فروخت کرو ، پھر اس (قیمت) کے عوض انہیں خریدو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2815
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بِعَيْنِه» فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدَهُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ أَوْ حُرٌّ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک غلام آیا تو اس نے ہجرت پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی ، جبکہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو معلوم نہ تھا کہ وہ غلام ہے ، اتنے میں اس کا مالک آیا اور اس کا مطالبہ کرنے لگا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ اسے مجھے بیچ دو ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو حبشی غلاموں کے بدلے میں اسے خرید لیا ، اس کے بعد آپ کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے حتی کہ آپ اس سے پوچھ لیتے کیا وہ غلام ہے یا آزاد ؟‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2816
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلَتُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معلوم شدہ وزن کھجور کے بدلے میں غیر معلوم وزن کھجوروں کے ڈھیر کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2817
sahih
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفصَّلَ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

فضالہ بن ابی عُبید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے خیبر کے دن بارہ دینار کے بدلے میں ایک ہار خریدا جس میں سونا اور گھونگھے تھے ، میں نے اس ہار کو کھول دیا تو میں نے اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا پایا ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کو نہ بیچا جائے حتی کہ اسے کھول کر الگ کر لیا جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2818
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ» . وَيُرْوَى مِنْ «غُبَارِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

ابوہریرہ ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ تمام لوگ سود کھانے والے ہوں گے ، اگر کوئی اسے نہیں بھی کھائے گا تو اس کا اثر اس تک پہنچ جائے گا ۔‘‘ اور اس طرح بھی مروی ہے کہ ’’ اس کا غبار پہنچ جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔