عبید بن رفاعہ اپنے والد سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تاجروں کو فاجروں کے زمرے میں جمع کیا جائے گا بجز اس کے جس نے تقوی اختیار کیا ، نیکی کی اور صدقہ کیا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
امام بیہقی نے براء ؓ سے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بیع خیار کے علاوہ خریدو فروخت کرنے والے میں سے ہر ایک کو ، جُدا نہ ہونے سے پہلے تک (بیع کو پختہ کرنے یا فسخ کرنے کا) اختیار ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے ’’ جب دو بیع کرنے والے بیع کرتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے تک اپنی بیع کے بارے میں اختیار ہوتا ہے ، یا پھر ان کی بیع خیار ہو ، پس جب ان کی بیع اختیار ہو گی تو وہ واجب ہو جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو ایک دوسرے سے جدُا ہونے سے پہلے تک اختیار باقی رہتا ہے ، یا پھر انہوں نے بیع خیار کی ہو ۔ اور صحیحین کی روایت میں ہے :’’ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی سے کہے کہ تجھے اختیار حاصل ہے ۔ ((یختارا)) کے بجائے ((اِختَر)) ’’ اختیار کی شرط کر ‘‘ کا لفظ ہے ۔
حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو جُدا ہونے تک اختیار باقی رہتا ہے ، اگر انہوں نے سچ بولا اور (مال کے بارے میں) وضاحت کی تو ان دونوں کے لیے ان کی بیع میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اگر انہوں نے (مال کے نقص وغیرہ کو) چھپایا اور جھوٹ بولا تو ان کی بیع سے برکت ختم ہو جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا : بیع میں میرے ساتھ دھوکہ ہو جاتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم بیع کرو تو کہا کرو : دھوکہ فریب نہیں چلے گا ۔‘‘ وہ آدمی یہ الفاظ کہا کرتا تھا ۔ متفق علیہ ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو جُدا ہونے سے پہلے تک اختیار ہوتا ہے الا یہ کہ بیع اختیار ہو ، اور اس کے لیے اس اندیشے کے پیش نظر اپنے ساتھی سے جُدا ہونا جائز نہیں کہ وہ اس (بیع) کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دونوں باہمی رضا مندی کے بغیر ایک دوسرے سے جُدا نہ ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعرابی کو بیع کے بعد اختیار دیا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ، اور فرمایا :’’ (گناہ میں) وہ سب برابر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سونے کے بدلے سونا ، چاندی کے بدلے چاندی ، گندم کے بدلے گندم ، جو کے بدلے جو ، کھجور کے بدلے کھجور ، اور نمک کے بدلے نمک ایک دوسرے کے برابر ہوں اور نقد بنقد ہوں ، جب یہ اصناف بدل جائیں تو پھر اگر وہ نقد ہوں تو جیسے چاہو بیچو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سونا سونے کے بدلے ، چاندی چاندی کے بدلے ، گندم گندم کے بدلے ، جو جو کے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے ، اور نمک نمک کے بدلے برابر برابر اور نقد بنقد ہوں ، جس شخص نے زیادہ دیا یا جس نے زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سودی کام کیا ، اور اس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سونے کو سونے کے برابر ہی فروخت کرو ، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو ، چاندی کو چاندی کے برابر ہی فروخت کرو اور ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو ، اور اس میں سے غیر موجود چیز کو موجود چیز کے بدلے فروخت نہ کرو ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں باہم برابر وزن میں فروخت کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
معمر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سن رہاتھا :’’ اناج ، اناج (غلہ غلے) کے برابر برابر ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سونے کی سونے کے بدلے ، چاندی کی چاندی کے بدلے ، گندم کی گندم کے بدلے ، جو کی جو کے بدلے اور کھجور کی کھجور کے بدلے ادھار بیع کرنا سود ہے لیکن اگر دست بدست ہو تو جائز ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر پر عامل مقرر کیا ، تو وہ اچھی قسم کی کھجوریں لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح کی ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ! ہم دو صاع کے بدلے یہ ایک صاع اور تین صاع کے بدلے دو صاع لے لیتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایسے نہ کیا کرو ، ساری کھجوریں درہموں کے حساب سے بیچ دیا کرو اور پھر درہموں کے بدلے عمدہ قسم کی کھجوریں خرید لیا کرو ۔‘‘ اور فرمایا :’’ وزن کی جانے والی تمام چیزوں میں بھی یہی اصول ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، بلال ؓ برنی (بڑی عمدہ قسم کی) کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا :’’ یہ کہاں سے لائے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہمارے پاس نکمی کھجوریں تھیں میں نے ان کے دو صاع کے عوض ان کا ایک صاع لیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ افسوس ! افسوس ! یہ تو بالکل سود ہے ، بالکل سود ہے ، ایسے نہ کرو ، بلکہ جب تم خریدنا چاہو تو ان کھجوروں کو فروخت کرو ، پھر اس (قیمت) کے عوض انہیں خریدو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک غلام آیا تو اس نے ہجرت پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی ، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم نہ تھا کہ وہ غلام ہے ، اتنے میں اس کا مالک آیا اور اس کا مطالبہ کرنے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ اسے مجھے بیچ دو ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو حبشی غلاموں کے بدلے میں اسے خرید لیا ، اس کے بعد آپ کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے حتی کہ آپ اس سے پوچھ لیتے کیا وہ غلام ہے یا آزاد ؟‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معلوم شدہ وزن کھجور کے بدلے میں غیر معلوم وزن کھجوروں کے ڈھیر کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
فضالہ بن ابی عُبید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے خیبر کے دن بارہ دینار کے بدلے میں ایک ہار خریدا جس میں سونا اور گھونگھے تھے ، میں نے اس ہار کو کھول دیا تو میں نے اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا پایا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کو نہ بیچا جائے حتی کہ اسے کھول کر الگ کر لیا جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ تمام لوگ سود کھانے والے ہوں گے ، اگر کوئی اسے نہیں بھی کھائے گا تو اس کا اثر اس تک پہنچ جائے گا ۔‘‘ اور اس طرح بھی مروی ہے کہ ’’ اس کا غبار پہنچ جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔