ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف (دیکھ کر) مسکراتا ہے ، ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ، یہ اس طرح ہے کہ ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور وہ شہید کر دیا جاتا ہے ، پھر اللہ اس قاتل پر (اپنی رحمت سے) رجوع فرماتا ہے ۔ (وہ مسلمان ہو جاتا ہے) وہ بھی شہید کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سہل بن حُنیف ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص صدقِ دل سے اللہ سے شہادت طلب کرتا ہے تو وہ اسے شہداء کے مقام پر پہنچا دیتا ہے ، خواہ اسے اپنے بستر پر موت آئے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ حارثہ بن سراقہ ؓ کی والدہ ربیع بنت براء ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے حارثہ ؓ کے متعلق نہیں بتائیں گے ، وہ غزوہ بدر میں شہید کر دیے گئے تھے ، انہیں نامعلوم تیر لگا تھا ، اگر تو وہ جنت میں ہے ۔ تو میں صبر کروں گی اور اگر اس کے علاوہ کسی اور جگہ پر ہے تو پھر میں ان پر خوب روؤں گی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ام حارثہ ! جنت میں کئی درجات ہیں اور تیرا بیٹا تو فردوس بریں میں ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ؓ روانہ ہوئے حتی کہ وہ مشرکین سے پہلے بدر پہنچ گئے ، اور مشرکین بھی پہنچ گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس جنت کی طرف پیش قدمی کرو جس کا عرض زمین و آسمان کی مانند ہے ۔‘‘ عمیر بن حُمام ؓ نے کہا : بہت خوب ، بہت خوب ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہیں یہ بات : بہت خوب ، بہت خوب ، کہنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! صرف اس امید نے کہ میں بھی جنتیوں میں سے ہو جاؤں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم جنتیوں میں سے ہو ۔‘‘ انہوں نے ترکش سے کھجوریں نکالیں اور کھانے لگے ، پھر کہا : اگر میں اپنی کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو پھر یہ ایک طویل زندگی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، ان کے پاس جو کھجوریں تھیں ، وہ انہوں نے پھینک دیں ، پھر مشرکین کے ساتھ قتال کیا حتی کہ وہ شہید کر دیے گئے ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اپنے میں کسے شہید شمار کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے وہ شہید ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تب تو میری امت کے شہید قلیل ہوئے ، جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے تو وہ شہید ہے ، جو شخص اللہ کی راہ میں فوت ہو جائے تو وہ شہید ہے ، جو شخص طاعون کے مرض میں فوت ہو جائے تو وہ شہید ہے اور جو شخص پیٹ کے مرض میں فوت ہو جائے تو وہ شہید ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو جماعت یا لشکر جہاد کرتا ہے وہ مال غنیمت اور سلامتی کے ساتھ واپس آتا ہے تو اس نے اپنے اجر میں سے دو تہائی حصے جلد (دنیا میں) حاصل کر لیے ، اور جو جماعت یا لشکر (جہاد میں) زخمی ہوتا ہے اور شہید ہوتا ہے تو وہ مکمل اجر پاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اس نے جہاد کیا اور نہ اس کے دل میں اس کا خیال آیا تو وہ نفاق کی موت مرا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : ایک آدمی مالِ غنیمت کی خاطر قتال کرتا ہے ، دوسرا آدمی شہرت کی خاطر لڑتا ہے ، کوئی آدمی اپنا مقام و مرتبہ دکھانے کی خاطر لڑتا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ میں کون (مقبول) ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے کلمے کی سر بلندی کے لیے لڑتا ہے وہی اللہ کی راہ میں ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے ، جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا :’’ مدینہ میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ، کہ تم جہاں بھی گئے اور جس وادی سے گزرے تو وہ تمہارے ساتھ ہی تھے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ اجر میں تمہارے ساتھ شریک ہیں ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ تو مدینہ ہی میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (ہاں) وہ مدینہ ہی میں تھے ، کیونکہ عذر نے انہیں روک رکھا تھا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
امام مسلم نے اسے جابر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تیرے والدین زندہ ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان دونوں (کی خدمت) میں مجاہدہ (انتہائی کوشش) کر ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے والدین کے پاس چلا جا اور ان سے اچھی طرح سلوک کر ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے روز فرمایا :’’ فتح (مکہ) کے بعد کوئی ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت (باقی) ہے ، اور جب تم سے (جہاد میں) نکلنے کے لیے کہا جائے تو نکلو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر لڑتا رہے گا ، جو اِن سے دشمنی کرے گا یہ اس پر غالب رہیں گے ، حتی کہ اِن کا آخری شخص مسیح دجال سے قتال کرے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے نہ جہاد کیا اور نہ کسی مجاہد کو تیار کیا نہ کسی مجاہد کے گھر میں اچھا جانشین بنا تو اللہ روز قیامت سے پہلے اسے کسی سخت مصیبت سے دوچار کرے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے اموال ، اپنی جانوں اور اپنی زبانوں کے ساتھ مشرکین سے جہاد کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سلام عام کرو ، کھانا کھلاؤ اور کافروں کے سرداروں کی گردنیں اڑاؤ ، تم بہشتوں کے وارث بنا دیے جاؤ گے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
فضالہ بن عبید ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں مورچہ بند ہونے کی حالت میں وفات پانے والے کے سوا ہر میت کا عمل ختم کر دیا جاتا ہے ، مگر اس کے عمل میں قیامت تک اضافہ ہوتا رہتا ہے اور وہ فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
اور دارمی نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے ’’فواق ناقہ‘‘ (اونٹنی کا دودھ دھوتے وقت جب ایک بار تھن دبا کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ اسے دبایا جاتا ہے تو اس دوبارہ دبانے کے درمیانی وقفے) کے برابر اللہ کی راہ میں جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ، اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں زخم لگا ، یا وہ کسی حادثہ کا شکار ہوا تو وہ (زخم) جس قدر (دنیا میں) تھا اس سے کہیں زیادہ ہو کر روزِ قیامت آئے گا ، اس کا رنگ زعفران کا سا ہو گا اور اس کی خوشبو کستوری کی ہو گی ، اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں کوئی پھوڑا نکلا تو اس پر شہداء کی مہر و علامت ہو گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
خُریم بن فاتک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کیا تو اس کے لیے سات سو گنا تک لکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔