قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، انس بن مالک ؓ نے ابوطلحہ ؓ کی سند سے ہمیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر کے روز قریش کے چوبیس سرداروں کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں بدر کے ایک بند کنویں میں ڈال دیا گیا جو کہ خبیث اور خبیث بنا دینے والا تھا ، اور آپ کا معمول تھا کہ جب آپ کسی قوم پر غالب آتے تو آپ میدان قتال میں تین راتیں قیام فرماتے ، چنانچہ جب بدر میں تیسرا روز ہوا تو آپ نے رخت سفر باندھنے کا حکم فرمایا ، سواریاں تیار کر دیں گئیں ، پھر آپ چلے اور آپ کے صحابہ بھی آپ کے پیچھے چلنے لگے ، حتی کہ آپ اس کنویں کے کنارے ، جس میں سردارانِ قریش کی لاشیں پھینکی گئی تھیں ، کھڑے ہو گئے اور آپ انہیں ان کے اور ان کے آباء کے نام لیکر پکارنے لگے :’’ ٖفلاں بن فلاں ! فلاں بن فلاں ! اور تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے ، چنانچہ ہمارے رب نے جس چیز کا ہم سے وعدہ کیا تھا ہم نے تو اسے سچ پا لیا ، تمہارے رب نے جس چیز کا تم سے وعدہ کیا تھا ، کیا تم نے اسے سچا پایا ؟‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ مردہ جسموں سے کلام فرما رہے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ! میں جو کہہ رہا ہوں تم اسے ان سے زیادہ نہیں سن رہے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دیتے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور امام بخاری ؒ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ قتادہ ؓ نے فرمایا : اللہ نے انہیں زندہ کر دیا حتی کہ باعث توبیخ و تحقیر ، انتقام و حسرت اور ندامت ، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنا دی ۔ متفق علیہ ۔
مروان اور مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ ہوازن کے لوگ مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ وعظ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ، انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ ان کے اموال اور ان کے قیدی لوٹا دیے جائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دونوں میں سے ایک چیز اختیار کر لو ، خواہ قیدی ، خواہ مال ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم اپنے قیدی لینا چاہتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے پھر اللہ کی شایان شان اس کی ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ امابعد ! تمہارے بھائی مسلمان ہو کر آئے ہیں ، میری رائے تو یہی ہے کہ ان کے قیدی انہیں لوٹا دیے جائیں ، تم میں سے جو کوئی شخص بخوشی بے لوث ایسے کرنا چاہتا ہے تو وہ کرے اور اگر تم میں سے کوئی اپنا حصہ لینا پسند کرتا ہو تو وہ انتظار کرے حتی کہ اللہ ہمیں جو سب سے پہلے مال فے عطا فرمائے تو ہم اسے وہی چیز عطا کر دیں گے ، لہذا اب وہ ایسا کر لے (کہ قیدی واپس کر دے) ۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم نے یہ کام خوشی سے کر دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی اور کس نے اجازت نہیں دی ، تم لوٹ جاؤ حتی کہ تمہارے رؤساء تمہارا معاملہ ہمارے سامنے پیش کریں ۔‘‘ لوگ لوٹ گئے ، ان کے رؤساء نے ان سے بات چیت کی ، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ آئے اور انہوں نے آپ کو بتایا کہ وہ راضی ہیں اور انہوں نے اجازت دی ہے ۔ رواہ البخاری ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، ثقیف ، بنو عُقیل کے حلیف تھے ، ثقیف (قبیلے) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو صحابی قید کر لیے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے بنو عقیل کا ایک آدمی قید کر لیا اور اسے باندھ کر پتھریلی زمین پر پھینک دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو اس نے آپ کو آواز دی : محمد ! محمد ! مجھے کس لیے پکڑا گیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے حلیف ثقیف کے جرم کے بدلہ میں ۔‘‘ آپ نے اسے اس کے حال پر چھوڑا اور آگے چل دیے ، اس نے پھر آواز دی ، محمد ! محمد ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر ترس آ گیا اور واپس تشریف لا کر فرمایا :’’ تمہارا کیا حال ہے ؟‘‘ اس نے کہا : میں مسلمان ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم اس وقت کہتے جب کہ تم اپنے معاملے کے خود مختار تھے تو تم مکمل فلاح پا جاتے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ان دو آدمیوں ، جنہیں ثقیف نے قید کر رکھا تھا ، کے بدلے میں چھوڑ دیا ۔ (یعنی تبادلہ کر لیا) رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے فدیہ بھیجا تو زینب ؓ نے ابوالعاص (اپنے خاوند) کے فدیہ میں مال بھیجا اور اس میں اپنا ہار بھی بھیجا جو خدیجہ ؓ کا تھا جو انہوں نے انہیں ابوالعاص کے ساتھ شادی کے موقع پر عطا کیا تھا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (ہار) کو دیکھا تو ان (زینب ؓ) کی خاطر آپ پر شدید رقت طاری ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم مناسب سمجھو تو اس کی خاطر قیدی کو رہا کرو اور اس کا ہار بھی واپس کر دو ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : (اللہ کے رسول !) ٹھیک ہے ، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوالعاص سے یہ عہد لیا کہ وہ زینب کو میرے پاس (مدینہ) آنے کی اجازت دے دے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن حارثہ ؓ اور انصار کے ایک آدمی کو (مکہ) بھیجا تو فرمایا :’’ تم دونوں یا حج کے مقام پر ہونا حتی کہ زینب تمہارے پاس سے گزریں تو تم اس کے ساتھ ہو لینا حتی کہ تم انہیں (یہاں مدینہ) لے آنا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بدر کو قید کیا تو آپ نے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو قتل کیا اور ابوعزہ جمحی پر (بلا معاوضہ آزاد کرنے کا) احسان کیا ۔ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقبہ بن ابی معیط کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے کہا : بچوں کے لیے کون (کفیل) ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (تم اپنی جان کی فکر کرو تمہارے لیے) آگ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
علی ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ’’جبریل ؑ کا نزول ہوا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ، اپنے صحابہ کو بدر کے قیدیوں کے بارے میں اختیار دیں کہ وہ انہیں قتل کریں یا فدیہ لے لیں کہ آئندہ سال اتنے ہی (ستر) ان میں سے شہید کر دیے جائیں گے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، فدیہ قبول کرتے ہیں ، اور ہمیں منظور ہے کہ ہم میں سے قتل کیے جائیں ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عطیہ قرظی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں قریظہ کے قیدیوں میں تھا ، ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روبرو پیش کیا گیا ، وہ دیکھتے کہ جس کے زیر ناف بال اگے ہوتے اسے قتل کر دیا جاتا اور جس کے بال نہ ہوتے اسے قتل نہ کیا جاتا ، انہوں نے میری شرم گاہ سے پردہ اٹھایا اور دیکھا کہ وہاں بال نہیں اُگے تو انہوں نے مجھے قیدیوں میں شامل کر دیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، صلح حدیبیہ کے روز صلح سے پہلے کچھ غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو ان کے مالکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام خط لکھا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کی قسم ! یہ لوگ آپ کے دین میں رغبت رکھنے کے پیش نظر آپ کے پاس نہیں آئے ، بلکہ یہ تو غلامی سے بھاگ کر آئے ہیں ۔ لوگوں نے کہا ، اللہ کے رسول ! انہوں نے سچ کہا ہے ، آپ انہیں لوٹا دیجیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو گئے اور فرمایا :’’ جماعتِ قریش ! میں سمجھتا ہوں کہ تم باز نہیں آؤ گے حتی کہ اللہ تم پر ایسے شخص کو بھیجے جو اس (تعصب) پر تمہاری گردنیں اڑا دے ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو لوٹانے سے انکار کر دیا ، اور فرمایا :’’ وہ اللہ کے لیے آزاد کردہ ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالد بن ولید ؓ کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجا ، انہوں نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ، انہوں نے واضح طور پر (لفظ اَسْلَمْنَا) ہم نے اسلام قبول کر لیا نہ کہا ، بلکہ انہوں نے (لفط صَبأْنا) ہم بے دین ہوئے کہا ، اس پر خالد ؓ انہیں قتل کرنے لگے اور قیدی بنانے لگے ، اور انہوں نے ہم میں سے ہر شخص کو اس کا قیدی دیا حتی کہ ایک روز ایسے ہوا کہ انہوں نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کرے ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنا قیدی قتل کروں گا نہ میرا کوئی ساتھی اپنے قیدی کو قتل کرے گا ، حتی کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ سے اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دو مرتبہ فرمایا :’’ اے اللہ ! خالد نے جو کیا میں اس سے تیرے حضور براءت کا اعلان کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ام ہانی بنت ابی طالب ؓ بیان کرتی ہیں ، میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا جبکہ آپ کی بیٹی فاطمہ ایک کپڑے سے آپ کو پردہ کیے ہوئے تھیں ، میں نے سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ کون ہے ۔‘‘ میں نے (خود) عرض کیا : میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ام ہانی کے لیے خوش آمدید ۔‘‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے ، اور ایک کپڑے میں لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ماں کے بیٹے علی ارادہ رکھتے ہیں ، کہ وہ ایک شخص فلان بن ہبیرہ کو قتل کر دیں جبکہ میں نے اس کو پناہ دی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ام ہانی ! تم نے جسے پناہ دی ، ہم نے بھی اسے پناہ دی ۔‘‘ ام ہانی بیان کرتی ہیں : یہ چاشت کا وقت تھا ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے : وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے خاوند کے رشتہ داروں میں سے دو آدمیوں کو امان دی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے جسے امان دی ، ہم نے بھی اسے امان دی ۔‘‘ متفق علیہ و الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک عورت ، قوم کفار کو مسلمانوں کی طرف سے پناہ دے سکتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عمرو بن حمق ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے کسی شخص کو جان کی امان دی اور پھر اسے قتل کر دیا تو روزِ قیامت اسے عہد شکنی کا پرچم دیا جائے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
سلیم بن عامر ؒ بیان کرتے ہیں ، معاویہ ؓ اور رومیوں کے درمیان عہد تھا ، معاویہ ؓ ان کے شہروں کی طرف سفر جاری رکھتے حتی کہ جب مدتِ معاہدہ پوری ہو جاتی تو آپ ان پر حملہ کر دیتے ، ایک آدمی گھوڑے یا ترکی گھوڑے پر یہ کہتا ہوا آیا : اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، وفا کرو ، عہد شکنی نہ کرو ، لشکر معاویہ ؓ نے دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ ؓ تھے ، معاویہ ؓ نے اس بارے میں ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص کا کسی قوم سے کوئی عہد ہو تو وہ عہد کو توڑے نہ اسے منعقد کرے (کوئی تبدیلی یا تجدید نہ کرے) حتی کہ اس کی مدت گزر جائے یا وہ برابری کی سطح پر ان کی طرف معاہدہ توڑنے کا پیغام بھیج دے ۔‘‘ چنانچہ معاویہ ؓ لوگوں کو لے کر واپس آ گئے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، قریش نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا ، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت و صداقت ڈال دی گئی ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی ان کی طرف لوٹ کر نہیں جاؤں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں عہد شکنی نہیں کروں گا ، نہ قاصد کو روکوں گا ، تم واپس چلے جاؤ ، اگر تمہارے دل میں وہ چیز ہوئی جو اب تمہارے دل میں ہے تو پھر لوٹ آنا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں گیا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
نعیم بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسیلمہ (کذاب) کی طرف سے آئے ہوئے دو آدمیوں سے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! اگر قاصدوں کو قتل کرنا روا ہوتا تو میں تمہاری گردنیں اڑا دیتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا :’’ جاہلیت کے عہد پورے کرو ، کیونکہ اسلام اسے مضبوط کرتا ہے لیکن اسلام میں کوئی اور نیا عہد نہ کرو ۔‘‘ (اسے امام ترمذی نے حسین بن ذکوان عن عمرو کے طریق سے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن ہے) اور علی ؓ سے مروی حدیث :’’ مسلمان برابر ہیں .....‘‘ کتاب القصاص میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ابن نواحہ اور ابن اثال مسیلمہ کے قاصد بن کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟‘‘ انہوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں ، اگر میں کسی قاصد کو قتل کرنے والا ہوتا تو میں تمہیں قتل کر دیتا ۔‘‘ عبداللہ ؓ نے فرمایا : یہ سنت بن گئی کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جائے ۔ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہم میں سے پہلے کسی کے لیے بھی مالِ غنیمت حلال نہیں تھا ، یہ اس لیے (حلال کیا گیا) کہ اللہ نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھی تو اسے ہمارے لیے حلال فرما دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ حنین کے سال ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے ، جب ہم (مشرکین سے) ملے تو مسلمانوں کو ہزیمت کا سامنا ہوا ، میں نے ایک مشرک شخص کو دیکھا جو ایک مسلمان شخص پر غالب آ چکا تھا ، میں نے اس کے پیچھے سے اس کی رگ گردن پر تلوار ماری اور اس کی زرہ کاٹ دی ، وہ میری طرف متوجہ ہوا تو اس نے مجھے اس قدر دبایا کہ مجھے اس کے (دبانے) سے اپنی موت نظر آنے لگی ، لیکن موت اس پر آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ، میں عمر بن خطاب ؓ سے ملا تو میں نے کہا : لوگوں کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ کا حکم (ہی ایسے تھا) ، پھر وہ (مسلمان) لوٹے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے تو فرمایا :’’ جس نے کسی مقتول کو قتل کیا اور اس پر اس کے پاس دلیل ہو تو اس (مقتول) کا سازو سامان اس (قاتل) کے لیے ہے ۔‘‘ میں نے کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا ؟ پھر میں بیٹھ گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی بات فرمائی ، میں نے کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا ؟ پھر میں بیٹھ گیا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی بات فرمائی تو میں کھڑا ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابوقتادہ ! تمہارا کیا مسئلہ ہے ؟‘‘ میں نے آپ کو بتایا تو ایک شخص نے کہا ’’ اس نے سچ کہا ، اور اس کا سازو سامان میرے پاس ہے اسے میری طرف سے راضی کر دیں ۔ (اور مال میرے پاس ہی رہنے دیں) ابوبکر ؓ نے فرمایا : ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اللہ کا شیر جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے قتال کرتا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا سازو سامان تجھے دیں گے ، تب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابوبکر ؓ نے سچ کہا ، پس اسے دو ۔‘‘ چنانچہ اس نے اسے مجھے دے دیا ، میں نے اس سے بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا ، اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے حالتِ اسلام میں جمع کیا تھا ۔ متفق علیہ ۔