جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی انگلی سے گھوڑے کی پیشانی کے بالوں کو بل دیتے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت فرما رہے تھے :’’ گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ روزِ قیامت تک خیر و برکت باندھ دی گئی ہے ، اور (اس خیر سے مراد) ثواب اور مال غنیمت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اور اس کے وعدے کو سچا جانتے ہوئے اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھا تو اس کی شکم سیری و سیرابی ، اس کی لید اور اس کا پیشاب ، روزِ قیامت اس کی میزان (نیکیوں کے پلڑے) میں ہوں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے میں ’’الشکال‘‘ ناپسند کیا کرتے تھے ، ’’الشکال‘‘ یہ ہے کہ گھوڑے کے دائیں پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو ، یا اس کے دائیں ہاتھ اور اس کے بائیں پاؤں میں سفیدی ہو ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تربیت یافتہ گھوڑوں کے درمیان حفیاء سے ثنیۃ الوداع کے مابین گھڑ دوڑ کرائی اور ان دونوں کے درمیان چھ میل ہے ، اور غیر تربیت یافتہ گھوڑوں کے درمیان ثنیہ سے بنو زریق کی کی مسجد تک گھڑ دوڑ کرائی اور ان دونوں کے درمیان ایک میل کی مسافت ہے ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عضباء نامی اونٹنی تھی اور وہ سب سے آگے رہتی تھی ، ایک اعرابی اپنے اونٹ پر آیا تو وہ اس سے آگے نکل گیا جو مسلمانوں پر ناگوار گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک یہ اللہ کا دستور ہے کہ جو چیز دنیا میں عروج پر پہنچ جاتی ہے تو وہ اسے پستی کی طرف دھکیل دیتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت عطا فرمائے گا ، تیر بنانے والا جو اپنے بنانے میں ثواب کی امید رکھتا ہو ، اسے پھینکنے والا اور اسے (تیر انداز کو) پکڑانے والا ، تیر اندازی کرو اور گھڑ سواری کرو ۔ اور تمہارا تیر اندازی کرنا ، تمہاری گھڑ سواری سے مجھے زیادہ محبوب ہے ۔ ہر وہ چیز جس سے انسان کھیلتا ہے اور اس کے ساتھ مشغول ہوتا ہے وہ باطل ہے ، البتہ اس کا کمان کے ساتھ تیر اندازی کرنا ، اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا اور اس کا اپنی اہلیہ کے ساتھ مشغول ہونا حق ہے ۔‘‘ امام ابوداؤد اور امام دارمی نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ جس شخص نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد ، اس سے عدم رغبت کی بنا پر اسے ترک کر دیا تو وہ ایک نعمت تھی جسے اس نے ترک کر دیا ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اس کی ناشکری کی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ابوداؤد و الدارمی ۔
ابونجیح سلمی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے اللہ کی راہ میں (کسی کافر کو نشانے پر) تیر لگایا تو اسے جنت میں ایک درجہ حاصل ہو گیا ، جس نے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کی تو وہ اس کے لیے غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ، اور جو شخص اسلام میں بوڑھا ہوا تو روزِ قیامت اس کے لیے نور ہو گا ۔‘‘ امام ابوداؤد نے پہلا فقرہ ، امام نسائی نے پہلا اور دوسرا جبکہ امام ترمذی نے دوسرا اور تیسرا فقرہ روایت کیا ہے ، اور ان دونوں (بیہقی اور ترمذی) کی روایت میں ہے :’’ جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہوا ۔‘‘ یعنی ’’اسلام‘‘ کے بجائے ’’اللہ کی راہ ’’کے الفاظ نقل کیے ہیں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان و ابوداؤد و النسائی و الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انعام صرف تیر اندازی ، اونٹ اور گھوڑے میں ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے (گھڑ دوڑ کے مقابلے کے) دو گھوڑوں کے مابین ایک گھوڑا داخل کر دیا ، اگر اسے اس کے سبقت لے جانے کا علم ہو تو پھر اس میں کوئی خیر نہیں ، اور اگر اس کے سبقت لے جانے کا علم نہ ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘ ابوداؤد کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جس شخص نے دو گھوڑں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دیا یعنی اسے یقین نہیں کہ وہ آگے نکل جائے گا تو پھر یہ جوا نہیں ، اور جس شخص نے دو گھوڑوں کے مابین گھوڑا داخل کر دیا اور اسے یقین ہے کہ وہ سبقت لے جائے گا تو یہ جوا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’نہ جلب‘‘ ہے اور نہ ’’جنب‘‘ راوی یحیی نے اپنی روایت میں ’’گھڑ دوڑ‘‘ کا اضافہ کیا ہے ۔ جلب (مقابلہ میں شریک شخص اپنے کسی ساتھی کو کہے کہ راستہ میں میرے گھوڑے کو آواز لگا دینا جس سے یہ اور تیز دوڑے گا ۔) جنب (پہلو میں دوڑنے والا وہ گھوڑا جس پر دوڑنے والا اپنے گھوڑے کے تھکنے کی صورت میں منتقل ہو جائے ۔) ابوداؤد ، نسائی ، اور امام ترمذی نے اسے کچھ زائد الفاظ کے ساتھ باب الغصب میں روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الترمذی ۔
ابوقتادہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بہتر گھوڑا وہ ہے جو انتہائی سیاہ ہو اور اس کی پیشانی پر تھوڑی سی سفیدی ہو ، اس کا اوپر والا ہونٹ یا ناک سفید ہو ، پھر وہ جس کی تین ٹانگیں سفید ہوں اور آگے والی دائیں ٹانگ گھوڑے کی رنگ کی ہو ، اگر سیاہ رنگ کا نہ ہو تو پھر وہ جس میں قدرے سرخی اور قدرے سیاہی ہو اور اس کے کان سیاہ ہوں وہ بھی اس کی مثل ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
ابووہب جُشمی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم ہر ایسے گھوڑے کو لازم پکڑو جو سرخ سیاہی مائل اور سیاہ کانوں والا ہو اس کی پیشانی اور پاؤں سفید ہوں ، یا وہ گھوڑا جو سرخ ہو ، اس کی پیشانی اور پاؤں سفید ہوں یا سیاہ رنگ کا گھوڑا جس کی پیشانی اور پاؤں سفید ہوں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سرخ رنگ کے گھوڑے میں برکت ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عتبہ بن عبد سلمی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ گھوڑے کی پیشانی ، گردن اور دم کے بال مت کاٹو ، کیونکہ اس کی دم اس کے لیے باعث پنکھا ہے (جس سے وہ اپنے اوپر بیٹھنے والی چیز کو اڑاتی ہے ۔) اس کی گردن کے بال اسے گرم رکھتے ہیں ، جبکہ اس کی پیشانیوں کے ساتھ خیر و بھلائی بندھی ہوئی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابووہب جشمی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ گھوڑے باندھو (انہیں رکھو اور پالو) اور ان کی پیشانیوں اور پشتوں پر ہاتھ پھیرو اور ان کی گردنوں میں پٹے ڈالو ۔ لیکن تانت نہ ڈالو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے تھے آپ کو احکامات نافذ کرنے پر مامور کیا گیا تھا ، آپ نے تین چیزوں کے علاوہ دیگر لوگوں سے الگ کوئی خصوصیت ہمیں عنایت نہیں فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم اچھی طرح مکمل وضو کریں ، ہم صدقہ نہ کھائیں اور ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر جفتی کے لیے نہ چڑھائیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک خچر بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر سواری فرمائی ، علی ؓ نے عرض کیا : اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھائیں تو ہمارے ہاں بھی اسی کے مثل (خچر) ہوں گے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو جانتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار کی دستی چاندی کی تھی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
ہود بن عبداللہ بن سعد اپنے دادا مزیدہ سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے روز (مکہ میں) داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار پر سونا اور چاندی تھی ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے روز نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اوپر تلے دو زریں تھیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔