ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں خیمہ دینا ، اللہ کی راہ میں خادم عنایت کرنا اور اللہ کی راہ میں اچھی سواری پیش کرنا سب سے افضل صدقہ ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے ڈر سے روئے وہ جہنم میں نہیں جائے گا حتی کہ دودھ تھن میں واپس چلا جائے ، کسی بندے پر اللہ کی راہ میں پڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوں گے ۔‘‘ امام نسائی نے دوسری روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ مسلمان کے نتھنے میں کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے ۔‘‘ اور انہی کی دوسری روایت میں ہے :’’ بندے کے پیٹ میں کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے ، اور بندے کے دل میں بخل اور ایمان کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو آنکھیں ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہیں چھوے گی ، ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے روئی اور دوسری وہ آنکھ جو رات کے وقت اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی ایک گھاٹی کے پاس سے گزرا جس میں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا ، اسے یہ بھلا محسوس ہوا تو انہوں نے کہا : اگر میں لوگوں سے الگ تھلک ہو جاؤں تو میں اس گھاٹی میں رہائش اختیار کر لوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایسی خواہش مت کرو ۔ کیونکہ تم میں سے کسی کا اللہ کی راہ میں ٹھہرنا اس کا اپنے گھر میں ستر سال نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف فرما دے اور تمہیں جنت میں داخل فرما دے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو ، جس شخص نے ’’فواق ناقہ‘‘ (تھن سے دو دفعہ دودھ نکالنے کے درمیانی وقفے) جتنا اللہ کی راہ میں قتال کیا تو اس پر جنت واجب ہو گئی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عثمان ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں ایک دن نگہبانی کرنا ہزار دن کی عبادت سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تین شخص مجھ پر پیش کیے گئے : شہید ، عفت و عصمت والا جو سوال کرنے سے بچتا ہے اور وہ غلام جس نے اللہ کی عبادت اچھے انداز میں کی اور اپنے مالکوں سے بھی خیر خواہی کی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن حبشی ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ طویل قیام ۔‘‘ پھر پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ جو کم مال والا بقدر گنجائش اپنی طاقت کے موافق صدقہ کرے ۔‘‘ عرض کیا گیا : کون سی ہجرت افضل ہے ؟ فرمایا :’’ جس نے اللہ کی حرام کردہ چیز کو چھوڑ دیا ۔‘‘ پوچھا گیا : کون سا جہاد افضل ہے ؟ فرمایا :’’ جس نے اپنے مال اور اپنی جان سے مشرکین کے ساتھ جہاد کیا ۔‘‘ عرض کیا گیا : کون سا قتل زیادہ باعث شرف ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس کا خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں ۔‘‘ اور نسائی کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سے اعمال سب سے افضل ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو ، وہ جہاد جس میں کوئی خیانت نہ ہو اور حج مقبول ۔‘‘ پھر عرض کیا گیا ، کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس میں لمبا قیام ہو ۔‘‘ پھر اس کے بعد والی روایت پر دونوں (امام ابوداؤد اور امام نسائی) کا اتفاق ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ شہید کے لیے اللہ کے ہاں چھ انعامات ہیں : اسے پہلے قطرہ خون گرنے پر بخش دیا جاتا ہے ، اس کا جنت میں ٹھکانا اسے دکھا دیا جاتا ہے ، اسے عذاب قبر سے بچا لیا جاتا ہے ، وہ (قیامت کی) بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا ، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھ دیا جائے گا اس کا ایک یاقوت دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے ، بہتر (۷۲) حوروں سے اس کی شادی کرائی جائے گی اور اس کے ستر رشتہ داروں کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اثر جہاد کے بغیر اللہ سے ملاقات کرے گا تو وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ (اس شخص کے دین) میں نقص و خلل ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ شہید قتل ہونے کی اتنی بھی تکلیف محسوس نہیں کرتا جتنی تم میں سے کوئی چیونٹی کے کاٹنے کی تکلیف محسوس کرتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، نسائی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و النسائی و الدارمی ۔
ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کو دو قطروں اور دو نشانوں سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں ، اللہ کے ڈر سے گرنے والا آنسو اور اللہ کی راہ میں بہایا جانے والا خون کا قطرہ ، اور دو نشانوں سے مقصود ایک نشان وہ ہے جو اللہ کی راہ میں زخم یا چوٹ وغیرہ سے آئے اور دوسرا نشان اللہ کے کسی فریضہ کی ادائیگی کی صورت میں رونما ہونے والا ہے (مثلاً سجدہ وغیرہ کے نشان) ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حج کرنے یا عمرہ کرنے یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے علاوہ سمندر کا سفر نہ کرو ، کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے سمندر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ام حرام ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سمندر (کے سفر) میں چکرانے والے شخص کو قے آ جائے تو اس کے لیے ایک شہید کا اجر ہے ، اور جو شخص ڈوب جائے تو اس کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص اللہ کی راہ میں نکلے اور وہ فوت ہو جائے یا اسے قتل کر دیا جائے یا اس کا گھوڑا یا اس کا اونٹ اسے گرا دے یا کوئی زہریلی چیز اسے ڈس لے یا وہ اپنے بستر پر کسی قسم کی موت سے اللہ کی مشیت سے فوت ہو جائے تو وہ شہید ہے اور اس کے لیے جنت ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (جہاد سے) واپس آنا جہاد کی طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہاد کرنے والے کے لیے اس کا اجر ہے اور جہاد پر تیار کرنے والے کے لیے تیاری کا اجر بھی ہے اور جہاد کرنے کا اجر بھی ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوایوب ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تم پر علاقے فتح کیے جائیں گے اور فوجیں مجتمع ہوں گی اس میں سے چند دستے تشکیل دیے جائیں گے ، ایک شخص (بلا اجرت) جانا پسند نہیں کرے گا اور وہ اپنی قوم سے الگ ہو جائے گا ، پھر وہ ایسے قبائل کو تلاش کرے گا جن کے سامنے وہ اپنی خدمات پیش کرے گا اور کہے گا کہ کون ہے وہ شخص جس کی جگہ میں لشکر میں شرکت کروں ، سن لو ! ایسا شخص اپنے خون کے آخری قطرے تک اجیر ہے (وہ ثواب سے محروم رہے گا) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ کا اعلان فرمایا : تو میں اس وقت عمر رسیدہ شخص تھا ، میرے پاس کوئی خادم بھی نہیں تھا ، میں نے اپنی طرف سے کفایت کرنے کے لیے ایک اجیر تلاش کیا چنانچہ مجھے ایک آدمی مل گیا ، میں نے اس کے لیے تین دینار طے کیے ، جب مال غنیمت آیا تو میں نے اسے اس کا حصہ دینے کا ارادہ کیا ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے یہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں اس غزوہ میں اس کے لیے ان تین مقررہ دینار کے علاوہ دنیا و آخرت میں کچھ اور نہیں پاتا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک آدمی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتا ہے جبکہ وہ دنیا کا مال و متاع چاہتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کے لیے کوئی اجر نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہاد دو قسم کا ہے ، رہا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جہاد کیا ، امام و امیر کی اطاعت کی ، انتہائی قیمتی مال خرچ کیا ، اپنے ساتھی کو آسانی و سہولت فراہم کی اور فساد سے اجتناب کیا تو ایسے شخص کا سونا اور جاگنا سب باعث اجر ہے ، دوسرا وہ شخص جس نے فخر و ریا نیز شہرت کی خاطر جہاد کیا ، امام و امیر کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد پیدا کیا تو وہ ثواب کے ساتھ واپس نہیں آتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و ابوداؤد و النسائی ۔