ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن حذافہ سہمی ؓ کے ذریعے کسریٰ کے نام خط بھیجا اور انہیں حکم فرمایا کہ وہ اسے سربراہ بحرین کے حوالے کرے ، چنانچہ سربراہ بحرین نے یہ خط کسریٰ کے حوالے کیا ، جب اس نے پڑھا تو اس نے اسے چاک کر دیا ، ابن مسیّب بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی کہ وہ پارہ پارہ کر دیے جائیں ۔ رواہ البخاری ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر ، نجاشی اور ہر سرکش کے نام خط لکھا اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دی ، اور یہ وہ نجاشی نہیں جس کی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ جنازہ پڑھی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
سلیمان بن بُریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی لشکر یا کسی دستے پر کوئی امیر مقرر فرماتے تو آپ خاص طور پر اسے اللہ کا خوف اختیار کرنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ خیر و بھلائی کرنے کا حکم فرماتے ، پھر فرماتے :’’ اللہ کی راہ میں اللہ کے نام سے جہاد کرو ، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے قتال کرو جہاد کرو ، خیانت ، عہد شکنی اور مثلہ مت کرو ، بچوں کو قتل نہ کرو ، اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں سے ملاقات کرو تو انہیں تین چیزوں کی طرف دعوت دو اور وہ ان میں سے جو قبول کر لیں وہی تم ان سے قبول کر لو اور اِن سے (لڑائی کرنے سے) ہاتھ روک لو ، پھر انہیں اسلام کی طرف دعوت دو ، اگر تمہاری بات مان لیں ، تو اِن سے قبول کر لو ، اور اِن سے (لڑائی کرنے سے) ہاتھ روک لو ، پھر انہیں ان کے گھر سے دار المہاجرین کی طرف منتقل ہونے کی دعوت پیش کرو اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو پھر ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہوں گے اور ان کی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین کی ہوں گی ، اگر وہ وہاں سے منتقل ہونے سے انکار کریں تو انہیں بتاؤ کہ ان کا معاملہ دیہاتوں میں رہائش پذیر مسلمانوں جیسا ہو گا ، اللہ کے احکام ان پر ویسے ہی جاری کیے جائیں گے جیسے دیگر مومنوں پر جاری ہوں گے ، اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے تو تب ان کے لیے مال غنیمت اور مالِ فے میں سے حصہ ہو گا ورنہ نہیں ، اگر وہ انکار کریں تو ان سے جزیہ طلب کرو ، اگر وہ آپ کی بات مان لیں تو ان کی طرف سے قبول کرو اور ان سے لڑائی مت کرو ، اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے قتال کرو ، جب تم قلعہ والوں کا محاصرہ کرو اور اگر وہ تم سے یہ چاہیں کہ تم انہیں اللہ اور اس کے نبی کی امان دو تو انہیں اللہ اور اس کے نبی کی امان مت دینا ، بلکہ انہیں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی امان دینا ، کیونکہ اگر تم نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی امان کو توڑا تو یہ اس سے سہل تر ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی امان کو توڑو ۔ اور اگر تم قلعہ والوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے مطالبہ کریں کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر نکالو تو تم انہیں اللہ کے حکم پر نہ نکالو ، بلکہ تم انہیں اپنے حکم پر نکالو ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کر سکو گے یا نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ان ایام میں سے کسی روز جس میں آپ دشمن سے ملے زوال آفتاب کا انتظار فرمایا ، پھر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب فرمایا :’’ لوگو ! دشمن سے ملاقات کی تمنا مت کرو بلکہ اللہ سے عافیت طلب کرو ۔ لیکن جب تم آمنے سامنے ہو جاؤ تو پھر صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! کتاب کے نازل فرمانے والے ، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے ! انہیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہمیں لے کر کسی قوم سے جہاد کرتے تو آپ اس وقت تک جہاد کا آغاز نہ فرماتے جب تک صبح نہ ہو جاتی پھر آپ ان کا جائزہ لیتے ، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان سنتے تو ان سے لڑائی نہ کرتے اور اگر اذان نہ سنتے تو پھر ان پر حملہ کر دیتے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو ہم رات کے وقت وہاں پہنچ گئے ، پس جب صبح ہوئی تو آپ نے اذان نہ سنی ، آپ سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ ؓ کے پیچھے سوار ہوا ، اور میرے قدم ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کے ساتھ لگ رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ (کام کی غرض سے) اپنی ٹوکریوں اور بیلچوں کے ساتھ ہماری طرف آئے ، جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی قسم ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکر سمیت (آ گئے ہیں) ، وہ قلعہ بند ہو گئے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا :’’ اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، خیبر تباہ ہوا ، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر پڑتے ہیں تو ان کے ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بُری ہو جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
نعمان بن مقرن ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک تھا ، اگر آپ دن کے آغاز میں لڑائی کا آغاز نہ فرماتے تو آپ انتظار فرماتے حتی کہ ہوائیں چلنے لگتیں اور نماز (ظہر) کا وقت ہو جاتا ۔ رواہ البخاری ۔
نعمان بن مقرن ؓ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا ، جب آپ دن کے پہلے پہر قتال نہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتظار فرماتے حتی کہ سورج ڈھل جاتا ، ہوائیں چلنے لگتیں اور نصرت نازل ہوتی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
قتادہ ، نعمان بن مقرن ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں جہاد کیا جب فجر نمودار ہو جاتی تو آپ (قتال سے) رک جاتے حتی کہ سورج طلوع ہو جاتا ، جب وہ طلوع ہو جاتا تو آپ قتال کرتے ، جب نصف النہار ہو جاتا تو آپ رک جاتے حتی کہ سورج ڈھل جاتا ، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ عصر تک قتال کرتے پھر آپ رک جاتے تھے حتی کہ نمازِ عصر پڑھتے ، پھر آپ قتال کرتے ۔ قتادہ بیان کرتے ہیں ، اس وقت کہا جاتا تھا : نصرت کی ہوائیں چلتی ہیں ، اور مومن اپنی نمازوں میں اپنے لشکروں کے لیے دعائیں کرتے ہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عصام مزنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا تو فرمایا :’’ جب تم کوئی مسجد دیکھو یا کسی مؤذن کو سنو تو پھر تم کسی کو قتل نہ کرو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابووائل بیان کرتے ہیں ، خالد بن ولید ؓ نے اہل فارس کے نام خط لکھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم خالد بن ولید کی طرف سے رستم و مہران اور فارس کے سرداروں کے نام ، اس شخص پر سلام جو ہدایت کی اتباع کرے ، امابعد ! ہم تمہیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں ، اگر تم انکار کرو تو تم اپنے ہاتھوں جزیہ ادا کرو اس حال میں کہ تم ذلیل ہو ، کیونکہ میرے ساتھ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتال کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے فارسی شراب پسند کرتے ہیں ۔ اور اس شخص پر سلام جو ہدایت کی اتباع کرے ۔ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غزوہ احد کے روز عرض کیا : مجھے بتائیں کہ اگر میں قتل کر دیا جاؤں تو کہاں ہوں گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں ۔‘‘ اس نے وہ کھجوریں ، جو کہ اس کے ہاتھ میں تھیں ، پھینک دیں ، پھر قتال کیا حتی کہ شہید کر دیا گیا ۔ متفق علیہ ۔
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ کا ارادہ فرماتے تو آپ اس کے علاوہ کسی اور کا توریہ فرمایا کرتے تھے لیکن جب یہ غزوہ یعنی غزوہ تبوک ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سخت گرمی میں لڑا ، اس میں آپ کو دور دراز کا سفر ، بے آب و گیاہ راستوں اور بہت زیادہ دشمنوں کا سامنا تھا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے ان کے معاملے کو واضح کر دیا تاکہ وہ اپنے غزوہ کے لیے خوب تیاری کر لیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس سمت جانا تھا وہ انہیں بتا دی ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لڑائی ایک دھوکہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد کے لیے جاتے تو ام سلیم ؓ اور انصار کی کچھ عورتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے جاتیں وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں ۔ رواہ مسلم ۔
ام عطیہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی ، میں اِن کے سامان کے پاس رہا کرتی تھی ، اِن کے لیے کھانا تیار کرتی ، زخمیوں کا علاج کرتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
صعب بن جثامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محلوں میں رہنے والے مشرکین کے بارے میں دریافت کیا گیا جن پر شب خون مارا جائے جس میں ان کی عورتیں اور ان کے بچے ہلاک ہو جائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ بھی انہیں کے حکم میں ہیں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ اپنے آباء کے تابع ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت کاٹے اور جلائے ، حسان ؓ نے اس کے متعلق شعر کہا :’’ بنولؤی کے سرداروں کے لیے بویرہ پر (کھجوروں کے درختوں کو) جلانا آسان ہوا جو کہ پھیلا ہوا تھا ۔‘‘ اور اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی :’’ تم نے کھجور کے جو درخت کاٹ ڈالے یا انہیں ان کے تنوں پر قائم رہنے دیا وہ (سب) اللہ کے حکم سے تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عون ؓ سے روایت ہے کہ (ابن عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام) نافع ؒ نے انہیں خط لکھا جس میں انہوں نے انہیں (یعنی مجھے) یہ بتایا کہ ابن عمر ؓ نے انہیں (یعنی نافع کو) خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق پر اس وقت حملہ کیا جب وہ مریسیع کے مقام پر اپنے مویشیوں میں غافل تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگجوؤں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا ۔ متفق علیہ ۔
ابواسید ؓ سے روایت ہے کہ جب غزوہ بدر کے موقع پر ہم اور قریش ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب وہ تمہارے قریب آ جائیں تو تم ان پر تیر برساؤ ، اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب وہ تمہارے قریب آ جائیں تو تم ان پر تیر برساؤ اور کچھ تیر اپنے پاس محفوظ رکھو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔ اور سعد ؓ سے مروی حدیث :’’ تمہاری مدد نہیں کی جاتی ...... ‘‘ ہم عنقریب باب فضل الفقراء میں ذکر کریں گے ، اور براء ؓ سے مروی حدیث ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا .....‘‘ باب المعجزات میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔