ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجاہد آدمی اور اس کے گھوڑے کے لیے تین حصے مقرر فرمائے ، ایک حصہ اس شخص کے لیے اور دو حصے اس کے گھوڑے کے لیے ۔ متفق علیہ ۔
یزید بن ہرمز ؓ بیان کرتے ہیں ، نجدہ حروری نے ابن عباس ؓ کی طرف خط لکھا جس میں اس نے مسئلہ دریافت کیا کہ اگر مال غنیمت کی تقسیم کے وقت غلام اور عورت موجود ہوں تو کیا ان کا حصہ نکالا جائے گا ؟ انہوں نے یزید ؓ سے فرمایا : اسے جواب لکھو ان دونوں کے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں البتہ تھوڑا سا دے دیا جائے ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے : ابن عباس ؓ نے اسے جواب لکھا : تم نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عورتیں جہاد کیا کرتیں تھیں ، اور کیا ان کا حصہ مقرر کیا جاتا تھا ؟ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عورتیں جہاد میں شریک ہوتیں تھیں ، وہ مریضوں کا علاج معالجہ کرتی تھیں ، انہیں مال غنیمت میں سے دیا جاتا تھا ، رہا حصہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رباح ، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے ، کے ساتھ اپنے اونٹ بھیجے ، اور میں بھی اس کے ساتھ تھا ، جب ہم نے صبح کی تو عبدالرحمن فرازی نے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹوں پر دھاوا بول دیا ، میں ایک اونچی جگہ پر کھڑا ہوا اور مدینہ کی طرف رخ کر کے تین بار آواز دی ، لڑائی کا وقت آ گیا ، پھر میں نے ان لوگوں کا پیچھا کیا ، میں ان پر تیر برسا رہا تھا اور رجزیہ شعر پڑھ رہا تھا : میں ابن اکوع ہوں ، اور آج رذیل لوگوں کی ہلاکت کا دن ہے ۔ چنانچہ میں ان پر تیر برساتا رہا اور ان کی سواریوں کو زخمی کرتا رہا ، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اونٹ میں نے ان کے قبضہ سے آزاد کروا لیے ، اور میں پھر بھی ان کا پیچھا کر کے ان پر تیر اندازی کرتا رہا حتی کہ انہوں نے وزن ہلکا کرنے کے لیے تیس چادریں اور تیس نیزے پھینک دیے ، وہ جو بھی چیز پھینکتے میں اس پر پتھر کی نشانی لگاتا جاتا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ اسے پہچان سکیں ، حتی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہ سواروں کو دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہ سوار ابوقتادہ ؓ نے عبدالرحمن فرازی کو جا لیا اور اسے قتل کر دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آج ہمارا بہترین شہ سوار ابوقتادہ ؓ ہیں ، اور ہمارا بہترین پیادہ سلمہ ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو حصے دیے ، ایک حصہ گھڑ سوار کا اور ایک حصہ پیادہ کا ، آپ نے وہ دونوں میرے لیے جمع فرما دیے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ واپس آتے ہوئے مجھے (اپنی اونٹنی) عضباء پر اپنے پیچھے سوار کر لیا ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن دستوں کو روانہ فرماتے تو ان میں سے بعض مجاہدین کو ان کے حصہ کے علاوہ خصوصی حصہ عنایت فرمایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ہمارے حصے کے علاوہ خمس میں سے بھی کچھ عطا فرمایا ، سو مجھے خمس سے ایک ’’شارف‘‘ ملی ۔ شارف بوڑھی اونٹنی کو کہتے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ان کا گھوڑا بھاگ گیا تو دشمن نے اسے پکڑ لیا ، مسلمان ان پر غالب آ گئے تو وہی گھوڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں مجھے لوٹا دیا گیا ۔ اور ایک روایت میں ہے ، ان کا ایک غلام فرار ہو کر رومیوں سے جا ملا ، جب مسلمان ان پر غالب آ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خالد بن ولید ؓ نے وہ مجھے لوٹا دیا ۔ رواہ البخاری ۔
جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اور عثمان بن عفان ؓ ، نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، آپ نے خیبر کے خمس میں سے بنو مطلب کو عطا کیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے ، جبکہ ہمارا اور ان کا آپ سے ایک رشتہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں ۔‘‘ جبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کے درمیان کچھ بھی تقسیم نہ فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم جس بستی میں (بلا قتال) داخل ہو جاؤ اور وہاں اقامت اختیار کرو تو اس میں تمہارا حصہ ہے ، اور جس بستی والوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو اس (سے حاصل ہونے والے مال) کا خمس اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے ، پھر وہ (باقی) تمہارے لیے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
خولہ انصاریہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کچھ لوگ اللہ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں ، ، روزِ قیامت ان کے لیے (جہنم کی) آگ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر خطاب فرمایا اس میں آپ نے خیانت کا ذکر کیا اور آپ نے اس معاملے کو سنگین قرار دیا ، پھر فرمایا :’’ میں تم سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت آئے اور اس کی گردن پر اونٹ بلبلا رہا ہو ، اور وہ شخص مجھے کہے : اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، اور میں اس سے کہوں کہ : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو اور وہ آدمی کہے : اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، تو میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری ممیا رہی ہو ، وہ شخص کہے ، اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، تو میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے روز آئے اور اس کی گردن پر کوئی نفس (یعنی مملوک) ہو اور وہ چلا رہا ہو اور وہ شخص کہے : اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت آئے اور اس کی گردن پر چادر حرکت کر رہی ہو تو وہ شخص کہے : اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، تو میں کہوں گا : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ۔ میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ، میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت آئے اور اس کی گردن پر کوئی غیر ناطق چیز (سونا ، چاندی وغیرہ) ہو تو وہ شخص کہے : اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، تو میں کہوں گا : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدعم نامی ایک غلام بطور ہدیہ پیش کیا ، مدعم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ اسے ایک نامعلوم جانب سے ایک تیر آ لگا جس سے وہ قتل ہو گیا ، لوگوں نے کہا : اسے جنت مبارک ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس نے غزوہ خیبر کے مالِ غنیمت میں سے ، اس کی تقسیم سے پہلے ، جو چادر چوری کی تھی وہ اس پر آگ بھڑکا رہی ہے ۔‘‘ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے آیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ایک تسمہ یا دو تسمے آگ (میں جانے کے سبب) سے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ کرکرہ نامی شخص ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامان پر مامور تھا ، وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ جہنمی ہے ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ اس کا سامان دیکھنے لگے تو انہوں نے ایک چادر پائی جو اُس نے چوری کی تھی ۔ رواہ البخاری ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوات میں ہمیں شہد اور انگور ملتے تو ہم انہیں کھا لیتے تھے ، اور انہیں اوپر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک نہیں پہنچاتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ خیبر میں مجھے چربی کی ایک تھیلی ملی تو میں نے اسے اٹھا لیا ، اور کہا : میں آج اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا ، میں نے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف (دیکھ کر) مسکرا رہے تھے ۔ متفق علیہ ۔ ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ میں جو تمہیں عطا کروں ۔‘‘ باب رزق الولاۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔
ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے مجھے تمام انبیا ؑ پر فضیلت عطا کی ہے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت عطا کی گئی ہے اور ہمارے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا :’’ جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کا سازو سامان اسی کا ہے ۔ ابوطلحہ ؓ نے اس روز بیس آدمی قتل کیے اور انہوں نے ان کا سازو سامان لے لیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
عوف بن مالک اشجعی اور خالد بن ولید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ میں قتل ہو جانے والے شخص کے سازو سامان کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ وہ اس کے قاتل کا ہے ، اور آپ نے مقتول کے سازو سامان سے خمس نہیں نکالا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر ابوجہل کی تلوار مجھے اضافی طور پر عطا فرمائی اور انہوں (ابن مسعود ؓ) نے اسے قتل کیا تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابولحم کے آزاد کردہ غلام عمیر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنے مالکوں کے ساتھ غزوۂ خیبر میں شریک تھا ، انہوں نے میرے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی اور انہوں نے آپ کو بتایا کہ میں ایک غلام ہوں ، آپ نے میرے متعلق حکم فرمایا تو مجھے تلوار حمائل کی گئی ، اور میں اسے گھسیٹ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سامان میں سے مجھے کچھ دینے کا حکم فرمایا ۔ میں نے آپ کو ایک دم سنایا جو کہ میں دیوانوں پر کیا کرتا تھا ، آپ نے اس میں سے کچھ الفاظ ترک کر دینے اور کچھ رکھ لینے کا حکم دیا ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، البتہ ابوداؤد کی روایت لفظ متاع پر ختم ہو جاتی ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
مجمع بن جاریہ ؓ بیان کرتے ہیں ، خیبر کا مالِ غنیمت اہل حدیبیہ پر تقسیم کیا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اٹھارہ حصوں میں تقسیم فرمایا : لشکر کی تعداد پندرہ سو تھی ، اس میں سے تین سو گھڑ سوار تھے ، آپ نے گھڑ سوار کو دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ عطا فرمایا ۔ اور امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن عمر ؓ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے اور عمل اسی پر ہے ۔ مجمع سے مروی حدیث میں وہم ہے کہ انہوں نے کہا : تین سو گھڑ سوار تھے ، جبکہ وہ صرف دو سو تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔