حبیب بن مسلمہ فہری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا کہ آپ نے شروع شروع میں لڑنے والوں کو مالِ غنیمت میں سے چوتھائی حصہ زائد عطا فرمایا ، اور واپسی پر لڑائی کرنے والوں کو تہائی حصہ زائد عطا فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
حبیب بن مسلمہ فہری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جہاد سے واپس تشریف لانے سے پہلے مالِ غنیمت خمس نکالنے کے بعد چوتھائی اور واپس لوٹتے ہوئے خمس نکالنے کے بعد تہائی حصہ اضافی طور پر عطا فرمایا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابو جویریہ جرمی ؓ بیان کرتے ہیں ، معاویہ کے دورِ امارت میں روم کی سر زمین پر مجھے ایک سرخ گھڑا ملا جس میں دینار تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ، معن بن یزید نامی ، صحابی ہمارے امیر تھے جو کہ بنو سلیم قبیلے سے تھے ، میں نے وہ گھڑا ان کی خدمت میں پیش کر دیا ، انہوں نے اسے مسلمانوں کے مابین تقسیم کر دیا اور مجھے بھی سب کے برابر ہی حصہ دیا ، پھر فرمایا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ خمس نکالنے کے بعد اضافی حصہ دیا جائے گا تو میں تمہیں ضرور دیتا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم (حبشہ سے) واپس آئے تو ہماری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب خیبر فتح ہو چکا تھا ، آپ نے ہمارا حصہ بھی مقرر فرمایا : یا یوں کہا : آپ نے ہمیں عطا فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر میں حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے یا تو ان لوگوں کو حصہ دیا جو اس غزوہ میں شریک تھے یا پھر ہمارے کشتی کے ساتھیوں یعنی جعفر اور ان کے رفقا کو دیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
یزید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ساتھی فوت ہو گیا ، صحابہ نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو ۔‘‘ یہ سن کر صحابہ کے چہروں کا رنگ متغیر ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے ساتھی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے ۔‘‘ ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہم نے اس میں یہود کا ایک نگینہ پایا جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہیں تھی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و ابوداؤد و النسائی ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مالِ غنیمت ملتا تو آپ بلال ؓ کو حکم فرماتے تو وہ عام اعلان کرتے جس پر صحابہ کرام وہ مال غنیمت لے کر حاضر ہوتے جو ان کے پاس ہوتا ، آپ اس میں سے خمس نکالتے اور اسے تقسیم کرتے ، چنانچہ ایک آدمی اس سے ایک روز بعد بالوں سے بنی ہوئی ایک لگام لے کر آیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مالِ غنیمت میں ملنے والے مال میں یہ بھی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے بلال ؓ کو تین مرتبہ اعلان کرتے ہوئے سنا تھا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تو پھر کس چیز نے تجھے اسے لانے سے منع کیا ؟‘‘ اس نے معذرت پیش کی ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اب تم اسے قیامت کے روز لاؤ گے ، میں اسے تم سے ہرگز قبول نہیں کروں گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابوبکر اور عمر ؓ نے خیانت کرنے والے کے مال و متاع کو جلا دیا اور اس کی پٹائی کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے :’’ جو شخص خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرتا ہے تو وہ بھی اسی کی طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالِ غنیمت کو اس کی تقسیم سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حصوں کی تقسیم سے پہلے انہیں بیچنے سے منع فرمایا ۔ سندہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
خولہ بنت قیس ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ یہ مال (غنیمت) خوش منظر اور خوش ذائقہ ہے ، چنانچہ جس نے اسے بقدر استحقاق حاصل کیا تو وہ اس کے لیے باعث برکت بنا دیا جائے گا ، اور بہت سے لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں من پسند تصرف کرتے ہیں ، ان کے لیے روزِ قیامت آگ ہی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر کے روز اپنی تلوار ذوالفقار حصہ سے زیادہ لی ۔ ابن ماجہ اور امام ترمذی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں ، اور یہ وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احد کے روز خواب میں دیکھی تھی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
رویفع بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے مالِ غنیمت کے کسی جانور پر سواری نہ کرے حتی کہ جب اسے لاغر کر دے تو اسے اس میں واپس لوٹا دے ، اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں سے کوئی کپڑا نہ پہنے حتی کہ جب اسے بوسیدہ کر دے تو اسے اس میں واپس کر دے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
محمد بن ابو مجاہد ، عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا : کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں طعام میں سے بھی پانچواں حصہ نکالتے تھے ؟ انہوں نے کہا : غزوہ خیبر میں ہمیں کھانا ملا ، ہر آدمی آتا اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس سے لیتا اور پھر واپس چلا جاتا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک لشکر کو کھانا اور شہد ملا تو ان میں سے خمس نہ لیا گیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام قاسم ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم جہاد میں اونٹ کا گوشت کھایا کرتے تھے اور ہم اسے تقسیم نہیں کیا کرتے تھے ، حتی کہ جب ہم اپنی منزلوں کو لوٹتے تو ہماری خورجیاں اس سے بھری ہوتی تھیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ دھاگہ اور سوئی بھی (مالِ غنیمت میں) جمع کرا دو اور خیانت سے بچو ، کیونکہ روزِ قیامت وہ خیانت کرنے والے کے لیے باعثِ عار ہو گی ۔‘‘ سندہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
امام نسائی نے اسے ’’عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ‘‘ کی سند سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ کے قریب ہوئے تو آپ نے اس کی کوہان سے ایک بال پکڑا پھر فرمایا :’’ لوگو ! اس مالِ غنیمت سے میرے لیے کوئی چیز نہیں اور یہ (بال تک) بھی نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی اٹھائی البتہ خمس ، اور خمس بھی تمہیں ہی لوٹا دیا جائے گا ، تم دھاگہ اور سوئی تک جمع کرا دو ۔‘‘ چنانچہ ایک آدمی کھڑا ہوا تو اس کے ہاتھ میں بالوں کا ایک ٹکڑا سا تھا ، اس نے عرض کیا : میں نے اسے جھل کو صحیح کرنے کے لیے لیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ چیز جو میری اور بنو عبد المطلب کی ہے وہ تیرے لیے ہے ۔‘‘ اس آدمی نے کہا : اگر معاملہ اس قدر سنگین ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ، اور اس نے اسے پھینک دیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عمرو بن عبسہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالِ غنیمت کے اونٹ کی طرف رخ کر کے ہمیں نماز پڑھائی ، اور جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کے پہلو سے چند بال پکڑے پھر فرمایا :’’ تمہارے اموال غنیمت میں سے خمس کے علاوہ میرے لیے اتنی چیز بھی حلال نہیں ، جبکہ خمس بھی تمہارے مصالح پر خرچ کیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔