ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بڑا جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا اور چھوٹا پرچم سفید رنگ کا تھا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
موسیٰ بن عبیدہ ، محمد بن قاسم کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : محمد بن قاسم نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پرچم کے متعلق پوچھنے کے لیے براء بن عازب ؓ کے پاس بھیجا تو انہوں نے فرمایا :’’ وہ سیاہی دھاری دار تھا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پرچم سفید رنگ کا تھا ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیویوں کے بعد گھوڑوں سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں عربی کمان تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی دیکھا اس کے ہاتھ میں فارسی کمان تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ کیا ہے ؟ اسے پھینک دو ، اور تم پر یہ اور اس کی مثل لازم ہیں ، اور کامل نیزے تم پر لازم ہیں ، کیونکہ اللہ ان کے ذریعے تمہیں دین میں مدد عطا فرمائے گا اور تمہیں شہروں میں اقتدار عطا کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے روز روانہ ہوئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعرات کے روز روانہ ہونا پسند فرماتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کی ان خرابیوں کا علم ہو جائے جو مجھے معلوم ہیں تو کوئی سوار تنہا ایک رات کا بھی سفر نہ کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس قافلے کے ساتھ کتا اور گھنٹی ہو تو (رحمت کے) فرشتے اس کے ساتھ نہیں چلتے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ گھنٹی ، شیطان کے ساز ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابو بشیر انصاری ؓ سے روایت ہے کہ وہ کسی سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قاصد بھیجا کہ ’’کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا پٹہ یا کوئی پٹہ نہ رہنے دیا جائے ، وہ سب کاٹ دیے جائیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں چلو تو اونٹ کو زمین سے اس کا حق دو ، (انہیں چرنے دو) ، اور جب تم قحط سالی میں چلو تو پھر تیزی سے چلو ، جب تم رات کے وقت پڑاؤ ڈالو تو راستے سے اجتناب کرو کیونکہ رات کے وقت وہ چوپاؤں کی راہیں اور زہریلی چیزوں کا ٹھکانا ہیں ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جب تم قحط سالی میں سفر کرو تو پھر جب تک ان (اونٹوں) کا گودا باقی ہے جلدی سے سفر کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے اس دوران اچانک ایک آدمی سواری پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ دائیں بائیں دیکھنے لگا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس زائد سواری ہو وہ اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس کوئی سواری نہیں ، جس شخص کے پاس زاد سفر زیادہ ہو تو وہ اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس زاد راہ نہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال کی بہت اصناف کا ذکر فرمایا ، حتی کہ ہم نے سمجھا کہ ہم میں سے کسی شخص کو زائد چیز پر کوئی حق نہیں ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سفر عذاب کی ایک قسم ہے ، وہ آپ میں سے ہر ایک کو اس کی نیند اور اس کے کھانے پینے سے باز رکھتا ہے ، لہذا جب وہ سفر کا مقصد حاصل کر لے تو اسے اپنے اہل خانہ کے پاس جلد آ جانا چاہیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن جعفر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے تشریف لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ کے بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کیا جاتا ، اسی طرح آپ ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو مجھے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا ، آپ نے مجھے اپنے آگے سوار کر لیا ، پھر فاطمہ کے کسی لخت جگر (حسن یا حسین ؓ) کو لایا گیا تو آپ نے اسے اپنے پیچھے سوار کر لیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، ہم مدینہ میں ایک سواری پر تین سوار ہو کر داخل کیے گئے ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ اور ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں واپس آ رہے تھے جبکہ صفیہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھیں ۔ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب سفر سے واپس آتے تو) وہ رات کے وقت اپنے اہل خانہ کے ہاں تشریف نہیں لاتے تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کے پہلے پہر یا پچھلے پہر تشریف لایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی طویل مدت تک (گھر سے) غائب رہے تو وہ رات کے وقت اپنے اہل خانہ کے پاس نہ آئے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم رات کے وقت (شہر میں) داخل ہو تو اپنی اہلیہ کے پاس نہ جاؤ حتی کہ جس کا خاوند غائب رہا ہے وہ غیر ضروری بالوں کی صفائی کر لے اور پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ یا گائے ذبح کی ۔ رواہ البخاری ۔
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو دن کو چاشت کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہوتے تھے ، جب آپ داخل ہوتے تو پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے ، پھر لوگوں کی خاطر وہاں تشریف رکھتے ۔ متفق علیہ ۔