جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشتہ داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب کے درمیان تقسیم کر دیا تو میں اور عثمان بن عفان ؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بنو ہاشم قبیلے کے ہمارے یہ بھائی ، آپ کے مقام و مرتبہ کی وجہ سے ان کی فضیلت کا ہمیں انکار نہیں کیونکہ اللہ نے آپ کو ان میں پیدا فرمایا ، بنو مطلب کے ہمارے بھائیوں کے بارے میں بتائیں کہ آپ نے انہیں عطا فرما دیا جبکہ ہمیں چھوڑ دیا حالانکہ ہماری اور ان کی قرابت ایک ہی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر اپنی انگلیوں کو ایک دوسری میں داخل کر کے فرمایا :’’ بنو ہاشم اور بنو مطلب اس طرح ایک چیز ہیں ۔‘‘ شافعی ۔ ابوداؤد اور نسائی کی روایت اسی طرح ہے ، اور اس میں ہے : ہم اور بنو مطلب نہ تو دور جاہلیت میں الگ تھے اور نہ اسلام میں الگ ہیں ۔ اور ہم اور وہ ایک چیز ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں ۔ حسن ، رواہ الشافعی و ابوداؤد و النسائی ۔
عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، میں غزوۂ بدر کے روز صف میں کھڑا تھا ، میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو میں انصار کے دو نو عمر لڑکوں کے درمیان تھا ، میں نے تمنا کی کہ میں اِن دونوں سے زیادہ قوی آدمیوں کے درمیان ہوتا ، اتنے میں اِن میں سے ایک نے مجھے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا : چچا جان ! آپ ابوجہل کو جانتے ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں ، لیکن بھتیجے تمہیں اس سے کیا کام ؟ اس نے کہا : مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں الگ نہیں ہوں گا حتی کہ ہم سے جلد اجل کو پہنچنے والا فوت ہو جائے ۔ اس کی اس بات سے مجھے بہت تعجب ہوا ، بیان کرتے ہیں ، پھر دوسرے نے مجھے اشارہ کیا اور اس نے بھی مجھ سے وہی بات کی ، اتنے میں میں نے ابوجہل کو لوگوں میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا : کیا تم دیکھ نہیں رہے یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھ رہے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں ، وہ دونوں اپنی تلواروں کے ساتھ اس کی طرف لپکے اور اس پر وار کیا حتی کہ انہوں نے اسے قتل کر دیا ، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے ؟‘‘ اِن دونوں میں سے ہر ایک نے کہا : میں نے اسے قتل کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کی تلواریں دیکھ کر فرمایا :’’ تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے ۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوجہل کے سازو سامان کے متعلق معاذ بن عمرو بن جموح کے حق میں فیصلہ فرمایا ، جبکہ وہ دونوں آدمی (لڑکے) معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء تھے ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کون دیکھ کر ہمیں یہ بتائے گا کہ ابوجہل کس حالت میں ہے ؟‘‘ ابن مسعود ؓ گئے تو انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اس پر حملہ کیا ہے جس کی وجہ سے وہ ٹھنڈا (قریب المرگ) ہو گیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے اسے داڑھی سے پکڑ کر کہا : تو ابوجہل ہے ؟ اس نے کہا : تم نے ایک آدمی ہی تو قتل کیا ہے ؟ ایک دوسری روایت میں ہے : اس نے کہا : کاش کوئی غیر کاشکار مجھے قتل کرتا ۔ متفق علیہ ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جماعت کو کچھ دیا اور میں بیٹھا ہوا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا وہ مجھے ان میں سے زیادہ پسندیدہ تھا ، چنانچہ میں کھڑا ہوا اور عرض کیا : فلاں شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں اسے مومن سمجھتا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بلکہ (میں اسے) مسلمان (سمجھتا ہوں) ۔‘‘ سعد ؓ نے تین بار ایسے ہی عرض کیا ، اور آپ نے انہیں ایسے ہی جواب ارشاد فرمایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک میں آدمی کو دیتا ہوں ، جبکہ دوسرا شخص (جسے میں نہیں دیتا) اس کی نسبت مجھے زیادہ پیارا ہوتا ہے ، اس اندیشے کے پیشِ نظر دیتا ہوں کہ وہ اپنے چہرے کے بل جہنم میں نہ ڈالا جائے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور صحیحین کی روایت میں ہے ، امام زہری ؒ نے فرمایا : ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام کلمہ ہے جبکہ ایمان عمل صالح ہے ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ بدر کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا :’’ بے شک عثمان ، اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں ، اور میں ان کی بیعت کرتا ہوں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا ، جبکہ آپ نے ان کے علاوہ کسی اور غیر حاضر شخص کے لیے حصہ مقرر نہیں فرمایا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال غنیمت کی تقسیم میں ایک اونٹ کے بدلے میں دس بکریاں مقرر فرمایا کرتے تھے ۔ صحیح رواہ النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انبیا ؑ میں سے کسی ایک نبی نے جہاد کیا تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا : وہ شخص میرے ساتھ نہ جائے جس نے شادی کی اور وہ اسے اپنے گھر لانا چاہتا ہے مگر وہ اسے تاحال اپنے گھر نہیں لا سکا اور وہ شخص بھی میرے ساتھ نہ جائے جس نے گھر بنایا اور اس نے اس کی چھتیں بلند نہیں کیں ، اور نہ وہ شخص میرے ساتھ جائے جس نے بکری یا حاملہ اونٹنی خریدی ہے اور وہ اس کے بچے کا منتظر ہے ۔ انہوں نے جہاد کا ارادہ کیا ، اور وہ نماز عصر یا اس کے قریب اس بستی کے قریب پہنچے (جس کے ساتھ جہاد کرنا تھا) اور انہوں نے سورج سے فرمایا : تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں ، اے اللہ ! اسے ٹھہرا دے ، لہذا اسے ٹھہرا دیا گیا حتی کہ اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی ، انہوں نے مال غنیمت جمع کیا ، آگ اسے جلانے کے لیے آئی مگر اس نے اسے نہ جلایا ۔ انہوں نے فرمایا : تم میں سے کوئی خائن ہے ، ہر قبیلے سے ایک آدمی میری بیعت کرے ، ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چمٹ گیا ، نبی نے فرمایا : تم میں خائن ہے ۔ وہ گائے کے سر کے برابر سونے کا ایک سر لائے اور اسے مالِ غنیمت میں رکھا گیا ، پھر آگ آئی اور اسے کھا گئی ۔ اور ایک روایت میں یہ زیادہ نقل کیا ہے :’’ ہم سے پہلے مالِ غنیمت کسی کے لیے حلال نہیں تھا ، پھر اللہ نے ہمارے لیے مالِ غنیمت حلال فرما دیا ، اس نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھی تو اسے ہمارے لیے حلال قرار دے دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے فرمایا : جب غزوہ خیبر کا دن تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت آئی اور انہوں نے کہا : فلاں شہید ہے ، فلاں شہید ہے ، حتی کہ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا : فلاں شہید ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہرگز نہیں ، میں نے اسے ایک چادر کی وجہ سے ، جو اُس نے خیانت کی تھی ، جہنم میں دیکھا ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ ابنِ خطاب ! جاؤ اور تین بار اعلان عام کر دو کہ جنت میں (کامل) مومن داخل ہوں گے ۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نکلا اور تین بار اعلان کیا : سن لو ! جنت میں صرف مومن ہی جائیں گے ۔ رواہ مسلم ۔
بجالہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں احنف کے چچا جزء بن معاویہ کا سیکرٹری تھا ، عمر بن خطاب ؓ کی وفات سے ایک سال پہلے اِن کی طرف سے ہمارے پاس ایک خط آیا کہ مجوسیوں کے ہر اس جوڑے کے درمیان علیحدگی کرو جو آپس میں ایک دوسرے کے محرم ہوں ، اور عمر ؓ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے حتی کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ۔ رواہ البخاری ۔ اور بریدہ ؓ سے مروی حدیث ’’جب کسی امیر کو کسی لشکر پر مقرر فرماتے .....‘‘ باب الکتاب إلی الکفار میں ذکر کی گئی ہے
معاذ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو انہیں ہر بالغ شخص سے ایک دینار یا اس کے مساوی معافری کپڑا جو کہ یمن میں ہوتا ہے ، لینے کا حکم فرمایا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک ملک میں دو قبیلے (یعنی دین) درست نہیں اور نہ کسی مسلمان پر جزیہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالد بن ولید ؓ کو دومہ کے بادشاہ اکیدر کی طرف بھیجا ، وہ اسے گرفتار کر کے آپ کی خدمت میں لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی جان بخشی فرما دی اور فریقین کے مابین جزیہ پر صلح ہو گئی ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
حرب بن عبیداللہ اپنے نانا سے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ محصول تو یہود و نصاری پر ہے ، مسلمانوں پر عُشر نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم کسی قوم کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ نہ تو ہماری مہمان نوازی کرتے ہیں اور نہ وہ ہمارا وہ حق دیتے ہیں جو ان پر عائد ہوتا ہے اور ہم بھی ان سے اپنا حق (زبردستی) حاصل نہیں کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر وہ انکار کریں اور تمہیں زبردستی لینا پڑے تو لو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
اسلم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے سونے والوں پر چار دینار اور چاندی والوں پر چالیس درہم جزیہ مقرر فرمایا ، اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ضروریات زندگی اور تین دن کی ضیافت ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلح حدیبیہ کے سال اپنے ہزار سے چند سینکڑے زیادہ صحابہ کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے جانوروں کے گلے میں قلادہ ڈالا ، قربانی کا نشان لگایا اور اسی جگہ سے عمرہ کا احرام باندھا ، اور چل پڑے حتی کہ جب آپ ثنیہ پر پہنچے جہاں سے اتر کر اہل مکہ تک پہنچا جاتا تھا ، وہاں آپ کی سواری آپ کو لے کر بیٹھ گئی ، لوگوں نے ، حل ، حل کہہ کر اٹھانے کی کوشش کی اور کہا کہ قصواء کسی عذر کے بغیر اڑی کر گئی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قصواء نے اڑی نہیں کی اور اس کا یہ مزاج بھی نہیں ، لیکن ہاتھیوں کو روکنے والے نے اسے روک لیا ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! وہ اللہ کی حرمات کی تعظیم کرنے کے متعلق مجھ سے جو مطالبہ کریں گے میں وہی تسلیم کر لوں گا ۔‘‘ پھر آپ نے اونٹنی کو ڈانٹا اور وہ تیزی کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی ، آپ اہل مکہ کی گزر گاہ چھوڑ کر حدیبیہ کے آخری کنارے پر اترے جہاں برائے نام پانی تھا ، لوگ وہاں سے تھوڑا تھوڑا پانی حاصل کرنے لگے اور تھوڑی دیر میں انہوں نے سارا پانی اس کنویں سے کھینچ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیاس کی شکایت کی تو آپ نے اپنے ترکش سے تیر نکالا ، پھر انہیں حکم فرمایا کہ وہ اسے اس (پانی) میں رکھ دیں ، اللہ کی قسم ! ان کے لیے پانی خوب ابلتا رہا حتی کہ وہ اس جگہ سے آسودہ ہو کر واپس ہوئے ، وہ اسی اثنا میں تھے کہ ہدیل بن ورقاء الخزاعی خزاعہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ آیا ، پھر عروہ بن مسعود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، اور حدیث کو آگے بیان کیا ، کہ سہیل بن عمرو آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لکھو یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح کی ۔‘‘ (اس پر) سہیل نے کہا : اگر ہمیں یقین ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو ہم آپ کو بیت اللہ سے کیوں روکتے اور آپ سے قتال کیوں کرتے ؟ بلکہ آپ محمد بن عبداللہ لکھیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم نے میری تکذیب کی ہے ، (اچھا) لکھو ، محمد بن عبداللہ ، پھر سہیل نے کہا : اور اس شرط پر معاہدہ ہے کہ اگر ہماری طرف سے کوئی آدمی ، خواہ وہ آپ کے دین پر ہو ، آپ کے پاس آئے گا ؟ آپ اسے ہمیں لوٹائیں گے ، جب تحریر سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا :’’ کھڑے ہو جاؤ ، قربانی کرو ، پھر سر منڈاؤ ۔‘‘ پھر مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ اسے اہل ایمان جب مومن عورتیں ہجرت کر کے آپ کے پاس آئیں .....‘‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں منع فرمایا کہ وہ ان (مومن عورتوں) کو (کفار کی طرف) واپس نہ کریں ، اور انہیں حکم فرمایا کہ وہ حق مہر واپس کر دیں ، پھر آپ مدینہ تشریف لے آئے تو قریش کے ابوبصیر ، جو کہ مسلمان تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے ، قریش نے ان کی تلاش میں دو آدمی بھیجے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ان کے حوالے کر دیا ، وہ انہیں لے کر وہاں سے روانہ ہوئے حتی کہ جب وہ ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے وہاں پڑاؤ ڈالا اور کھجوریں کھانے لگے ، ابوبصیر ؓ نے ان دونوں میں سے ایک سے کہا : اے فلاں ! اللہ کی قسم ! تمہاری یہ تلوار بہت عمدہ ہے ، مجھے دکھاؤ میں بھی دیکھوں ، اس شخص نے ان کو (تلوار) دے دی تو انہوں نے اسے ایک ایسی ضرب لگائی کہ اس کا کام تمام کر دیا جبکہ دوسرا فرار ہو کر مدینہ پہنچ گیا اور دوڑتا ہوا مسجد نبوی میں داخل ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص نے کوئی خوف زدہ منظر دیکھا ہے ۔‘‘ اور اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میرا ساتھی قتل کر دیا گیا ہے اور میں قتل کیا ہی جانے والا ہوں ، اتنے میں ابوبصیر بھی آ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کی ماں برباد ہو ، اگر ساتھی مل جائے تو یہ لڑائی کی آگ بھڑکا دے گا ۔‘‘ جب انہوں نے سنا تو وہ سمجھ گئے کہ آپ مجھے ان کے حوالے کر دیں گے ، وہ وہاں سے نکل کر ساحل سمندر پر آ گئے ، راوی بیان کرتے ہیں ، ابوجندل بن سہل ؓ بھی (مکہ سے) بھاگے اور ابوبصیر سے آ ملے ، اب قریش کا جو بھی آدمی اسلام لا کر بھاگتا تو وہ ابوبصیر سے آ ملتا ، حتی کہ ان کی ایک جماعت بن گئی ، اللہ کی قسم ! ان کو ملک شام کے لیے روانہ ہونے والے کسی بھی قریشی قافلے کا پتہ چلتا تو وہ اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے ، انہیں قتل کرتے اور ان کا مال چھین لیتے ، قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ اور رشتہ داری کا واسطہ دیتے ہوئے یہ پیغام بھیجا کہ آپ انہیں اپنے پاس بُلا لیں ۔ اب جو شخص آپ کے پاس آ جائے تو وہ مامون رہے گا ، (اس پر) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں (اپنے پاس) بُلا بھیجا ۔ رواہ البخاری ۔
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے روز مشرکین سے تین شرائط پر صلح کی ، مشرکین میں سے جو شخص آپ کے پاس آئے گا اسے واپس کیا جائے گا ، اور مسلمانوں کی طرف سے جو اُن کے پاس آئے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا اور وہ اگلے سال مکہ آئیں گے اور تین دن قیام کریں گے ، اور وہ اپنا اسلحہ تلوار ، کمان وغیرہ چھپا کر (نیام میں بند کر کے) لائیں گے ۔ اتنے میں ابوجندل ؓ اپنی بیڑیوں میں جھکڑے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں واپس کر دیا ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ شرط عائد کی کہ تمہاری طرف سے جو شخص ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے تمہیں واپس نہیں کریں گے ، اور جو شخص ہماری طرف سے تمہارے پاس آئے گا تو تم اسے ہمیں واپس کرو گے ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم (یہ شرط) لکھ دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، جو شخص ہماری طرف سے ان کی طرف جائے گا تو اللہ نے اسے دور کر دیا ، اور جو شخص ان کی طرف سے ہمارے پاس آئے گا تو اللہ اس کے لیے عنقریب کوئی خلاصی کی راہ پیدا فرما دے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ نے خواتین کی بیعت کے بارے میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کے مطابق اس کا امتحان لیا کرتے تھے :’’ اے نبی ! جب مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں اور اس بات پر آپ سے بیعت کریں .....‘‘ تو ان میں سے جو اِن شرائط کی پابندی کا اقرار کر لیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے فرماتے :’’ میں نے تم سے بیعت لے لی ۔‘‘ آپ ان سے بیعت فقط زبانی طور پر لیتے ۔ اللہ کی قسم ! بیعت کرتے وقت آپ کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ سے نہیں لگا ۔ متفق علیہ ۔
مسور اور مروان سے روایت ہے کہ انہوں نے دس سال لڑائی بند رکھنے کا معاہدہ کیا ، اس عرصہ میں لوگ امن سے رہیں گے ، کسی غلط فہمی کا شکار ہوں گے اور نہ ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھائیں گے (جان و مال کا تحفظ ہو گا) ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔