عَن عمر بن أبي سَلمَة قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصفحة. فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «سم الله وكل يَمِينك وكل مِمَّا يليك»
Urdu
عمر بن ابی سلمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیر پرورش لڑکا تھا اور (کھانے کے دوران) میرا ہاتھ پلیٹ میں ہر طرف گھومتا تھا ، (یہ حرکت دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ اللہ کا نام لے کر اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ اپنے سامنے سے کھاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک شیطان اس کھانے کو ، جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے ، کھانا حلال سمجھتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور وہ اپنے داخلے کے وقت اور کھانا کھانے کے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے ، تمہارے لیے نہ تو رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ ہے اور نہ شام کا کھانا ، اور جب آدمی داخل ہوتا ہے اور وہ اپنے داخلے کے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) کہتا ہے ، تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی ، اور جب وہ کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو وہ کہتا ہے : تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی اور شام کا کھانا بھی پا لیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھائے تو وہ اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے پیئے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص بھی اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور نہ اس کے ساتھ پیئے ، کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ کھاتا پیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین انگلیوں کے ساتھ کھایا کرتے تھے ، اور آپ ہاتھ صاف کرنے سے پہلے انہیں چاٹ لیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگلیاں اور پلیٹ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا :’’ تم نہیں جانتے کہ (کھانے کے) کس حصے میں برکت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ چاٹنے یا چٹانے سے پہلے اپنا ہاتھ صاف نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ شیطان تمہارے ہر معاملے میں ، حتی کہ کھانے کے وقت بھی حاضر ہوتا ہے ، جب تم میں سے کسی سے لقمہ گر جائے تو وہ اسے صاف کر کے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے ، اور جب فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انس ؓ نے فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ میز پر رکھ کر کھایا اور نہ طشتری میں کھانا کھایا اور نہ ہی چپاتی کھائی ۔ قتادہ سے پوچھا گیا : وہ کس چیز پر کھانا کھایا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : دستر خوان پر ۔ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نہیں جانتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری زندگی میدے کی روٹی اور سالم بھنی ہوئی بکری دیکھی (یعنی کھائی) ہو ۔ رواہ البخاری ۔
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ، جب سے اللہ نے انہیں مبعوث فرمایا زندگی بھر نہ میدہ کی روٹی دیکھی اور نہ چھلنی ، ان سے دریافت کیا گیا ، تم پھر بِن چھنے جَو کیسے کھاتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہم اس کا آٹا بناتے اور پھونک مارتے جو چیز اڑنی ہوتی وہ اڑ جاتی ، اور جو باقی رہ جاتا ہم اسے گھوندھ کر روٹی بناتے اور اسے کھا لیتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا ، اگر آپ نے اسے پسند کیا تو کھا لیا اور اگر ناپسند کیا تو اسے چھوڑ دیا ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی بہت زیادہ کھایا کرتا تھا ، جب وہ مسلمان ہو گیا تو کم کھانے لگا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
اور صحیح مسلم کی دوسری روایت جو کہ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے ، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ایک کافر شخص مہمان ٹھہرا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بکری کے متعلق فرمایا تو اس کا دودھ دھویا گیا ، اس نے اس کا سارا دودھ پی لیا ، پھر دوسری کا دودھ دھویا گیا تو اس نے وہ بھی پی لیا ، پھر ایک اور کا دودھ دھویا گیا ، اس نے اسے بھی پی لیا ، حتی کہ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا ، پھر اگلے روز اس نے اسلام قبول کر لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کے متعلق حکم فرمایا ، اس کا دودھ دھویا گیا اس نے اس کا دودھ پی لیا ، پھر دوسری کے متعلق حکم دیا گیا تو وہ دوسری کا سارا دودھ نہ پی سکا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن ایک آنت میں پیتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو (آدمیوں) کا کھانا تین کے لیے کافی ہوتا ہے جبکہ تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے ، دو کا کھانا چار کے لیے اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔