Back to Mishkat Al-Masabih

The Conditions of Resurrection

كتاب أَحْوَال الْقِيَامَة وبدء الْخلق

Chapter 27

Hadith 5721
sahih
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَ زَكَرِيَّاء نجارا» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زکریا ؑ بڑھئی تھے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5722
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بن مَرْيَمَ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ الْأَنْبِيَاءُ أُخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ وَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِي» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں عیسیٰ بن مریم ؑ سے دنیا و آخرت میں اور لوگوں کی نسبت زیادہ قرابت دار ہوں ، انبیا ؑ علاتی (ایک باپ کی اولاد) بھائی ہیں ، ان کی مائیں الگ الگ ہیں ، جبکہ ان کا دین ایک ہے ، اور ہمارے (میرے اور عیسیٰ ؑ) کے درمیان کوئی نبی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5723
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعَنُ الشَّيْطَانُ فِي جَنْبَيْهِ بِإِصْبَعَيْهِ حِينَ يُوَلَدُ غَيْرَ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ذَهَبَ يَطْعَنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عیسیٰ بن مریم ؑ کے علاوہ ، شیطان ہر نومولود کو اس کی پیدائش کے وقت اپنی دو انگلیوں سے اس کے پہلو میں کچوکے لگاتا ہے ۔ وہ انہیں بھی کچوکے لگانے گیا تھا ، لیکن اس نے حجاب میں کچوکے لگا دیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5724
sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النساءِ إِلا مريمُ بنتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَنَسٍ: «يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ» . وَحَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ» وَحَدِيثُ ابْن عمر: الْكَرِيم بن الْكَرِيمِ: «. فِي» بَابِ الْمُفَاخَرَةِ وَالْعَصَبِيَّةِ
Urdu

ابوموسی ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مردوں میں سے تو بہت سے کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کمال کو پہنچیں ، اور عائشہ ؓ کو تمام عورتوں پر ایسے ہی برتری حاصل ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور انس ؓ سے مروی حدیث : ((یا خیر البریۃ)) ، ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث : ((أی الناس اکرم)) اور ابن عمر ؓ سے مروی حدیث : ((الکریم ابن الکریم)) باب المفاخرۃ و العصیۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔

Hadith 5725
sahih
وَالْبَعْض يُحسنهُ) عَن أبي رزين قَالَ: قلت: يَا رَسُول الله أَيْن رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ: «كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: الْعَمَاءُ: أَيْ لَيْسَ مَعَه شَيْء
Urdu

ابورزین ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جب رب تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس سے پہلے وہ کہاں تھا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ابر میں ، اس کے نیچے ہوا تھی اور اس کے اوپر ہوا تھی ، اور اس نے اپنا عرش پانی پر تخلیق فرمایا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یزید بن ہارون نے کہا : عماء سے مراد ہے اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں تھی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5726
sahih
وَعَن العبَّاس بن عبد الْمطلب زعم أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِيهِمْ فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ فَنَظَرُوا إِلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟» . قَالُوا: السَّحَابَ. قَالَ: «وَالْمُزْنَ؟» قَالُوا: وَالْمُزْنَ. قَالَ: «وَالْعَنَانَ؟» قَالُوا: وَالْعَنَانَ. قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا بعد مابين السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟ » قَالُوا: لَا نَدْرِي. قَالَ: «إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا إِمَّا وَاحِدَةٌ وَإِمَّا اثْنَتَانِ أَوْ ثَلَاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً وَالسَّمَاءُ الَّتِي فَوْقَهَا كَذَلِكَ» حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ. ثُمَّ «فَوْقَ السَّمَاء السَّابِعَة بَحر بَين أَعْلَاهُ وأسفله مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَة أَو عَال بَيْنَ أَظْلَافِهِنَّ وَوُرُكِهِنَّ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِنَّ الْعَرْشُ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ ثُمَّ اللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

عباس بن عبد المطلب ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے نقل کیا کہ وہ بطحا میں ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں تشریف فرما تھے ، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا گزرا تو انہوں نے اس کی طرف دیکھا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم اسے کیا نام دیتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا :’’ السحاب ‘‘، فرمایا :’’ المزن ‘‘، انہوں نے عرض کیا :’’ المزن ‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ العنان ‘‘ انہوں نے عرض کیا :’’ العنان ‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی مسافت ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم نہیں جانتے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ان دونوں کے درمیان یا تو اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے ، اور آسمان جو اس کے اوپر ہے اسی طرح ہے ۔‘‘ حتی کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ساتوں آسمان گنے ۔‘‘ پھر ساتویں آسمان کے اوپر ایک سمندر ہے ، اوپر والے اور نچلے حصے کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے ، جیسے آسمان سے دوسرے آسمان تک ، پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے ہیں جو پہاڑی بکروں کی شکل کے ہیں ، ان کے کھروں اور سرین کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان سے آسمان تک ہے ، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے ، اس کے نچلے اور اوپر والے حصے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ۔ پھر اس کے اوپر اللہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 5727
sahih
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: جَهِدَتِ الْأَنْفُسُ وَجَاعَ الْعِيَالُ وَنُهِكَتِ الْأَمْوَالُ وَهَلَكَتِ الْأَنْعَام فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى الله نستشفع بِاللَّهِ عَلَيْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ» . فَمَا زَالَ يسبّح حَتَّى عُرف ذَلِك فِي وُجُوه أَصْحَابه ثُمَّ قَالَ: «وَيْحَكَ إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا اللَّهُ؟ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا» وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مَثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ «وإِنه ليئط أطيط الرحل بالراكب» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا جانیں مشقت میں پڑ گئیں ، بال بچے بھوک کا شکار ہو گئے ، اموال ختم ہو گئے اور جانور ہلاک ہو گئے ، آپ اللہ سے ہمارے لیے بارش کی دعا فرمائیں ، ہم آپ کے ذریعے اللہ سے سفارش کرتے ہیں اور اللہ کے ذریعے آپ سے سفارش کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سبحان اللہ ! سبحان اللہ !‘‘ آپ مسلسل تسبیح بیان کرتے رہے حتی کہ یہ چیز آپ کے صحابہ کے چہروں سے معلوم ہونے لگی ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہے ، کسی پر اللہ کو سفارشی نہیں بنایا جاتا ، اللہ کی شان اس سے عظیم تر ہے ، تجھ پر افسوس ہے ، کیا تم جانتے ہو ، اللہ (کی عظمت و کبریائی) کیا ہے ؟ بے شک اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے ۔‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ فرمایا جیسے اس پر قبہ ہو ۔‘‘ وہ اس وجہ سے اس طرح آواز نکالتا ہے جس طرح سوار کی وجہ سے پالان آواز نکالتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 5728
sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ أَنَّ مَا بَيْنَ شحمة أُذُنَيْهِ إِلَى عَاتِقَيْهِ مَسِيرَةُ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

جابر بن عبداللہ ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اجازت دی گئی کہ میں اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا ذکر کروں جو حاملین عرش میں سے ہے ، اس کے کانوں کی لو اور اس کے کندھوں کے درمیان سات سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 5729
sahih
وَعَن زُرَارَة بن أوفى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجِبْرِيلَ: هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ فَانْتَفَضَ جِبْرِيلُ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعِينَ حِجَابًا مِنْ نُورٍ لَوْ دَنَوْتُ مِنْ بَعْضِهَا لاحترقت «. هَكَذَا فِي» المصابيح
Urdu

زرارہ بن اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل ؑ سے پوچھا :’’ کیا تم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟‘‘ (اس سوال سے) جبریل ؑ لرز گئے اور فرمایا : محمد ! میرے اور اس کے درمیان نور کے ستر پردے ہیں ، اگر میں ان میں سے کسی کے قریب چلا جاؤں تو میں جل جاؤں ۔‘‘ المصابیح میں اس طرح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی مصابیح السنہ ۔

Hadith 5730
sahih
وَرَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْيَةِ» عَنْ أَنَسٍ إِلَّا أَنه لم يذكر: «فانتفض جِبْرِيل»
Urdu

ابونعیم نے اسے حلیہ میں انس ؓ سے روایت کیا ہے ، البتہ انہوں نے ذکر نہیں کیا :’’ جبریل ؑ لرز گئے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابونعیم فی حلیہ الاولیاء ۔

Hadith 5731
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ إِسْرَافِيلَ مُنْذُ يَوْمَ خَلْقَهُ صَافًّا قَدَمَيْهِ لَا يَرْفَعُ بَصَرَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَبْعُونَ نورا مَا مِنْهَا من نورٍ يدنو مِنْهُ إِلاّ احْتَرَقَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے اسرافیل ؑ کو پیدا فرمایا ، اس نے جس روز سے اسے پیدا فرمایا وہ اس وقت سے اپنے قدموں پر کھڑا ہے اور وہ اپنی نظر تک نہیں اٹھاتا ، اس کے اور اس کے رب تبارک و تعالیٰ کے درمیان ستر نور ہیں ، جو اس نور کے قریب جاتا ہے تو وہ جل جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5732
sahih
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَذُرِّيَّتَهُ قَالَتِ: الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ خَلَقْتَهُمْ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيَنْكِحُونَ وَيَرْكَبُونَ فَاجْعَلْ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةَ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَا أَجْعَلُ مَنْ خَلَقْتُهُ بيديَّ ونفخت فِيهِ مِنْ رُوحِي كَمَنْ قُلْتُ لَهُ: كُنْ فَكَانَ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِ
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ اور اس کی اولاد کو پیدا فرمایا تو فرشتوں نے عرض کیا ، رب جی ! تو نے انہیں پیدا فرمایا ہے ، وہ کھاتے پیتے ، شادیاں کرتے اور سواری کرتے ہیں ، اور تو ان کے لیے دنیا مقرر کر دے اور ہمارے لیے آخرت مقرر فرما دے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اس (مخلوق) کو ، جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی ، اسے میں اس مخلوق کے برابر نہیں کروں گا جسے میں نے کہا بن جا اور وہ بن گئی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5733
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ بَعْضِ مَلَائِكَتِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مومن اللہ کے ہاں بعض فرشتوں سے بھی زیادہ معزز ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 5734
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ فَقَالَ: «خلق الله الْبَريَّة يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخلق الشّجر يَوْم الِاثْنَيْنِ وَخلق الْمَكْرُوه يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ وَآخِرِ سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلى اللَّيْل» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :’’ اللہ نے مٹی (زمین) کو ہفتے کے دن پیدا فرمایا ، اتوار کے روز اس میں پہاڑ پیدا فرمائے ، پیر کے دن درخت پیدا فرمائے ، مکروہ چیزیں منگل کے دن پیدا فرمائیں ، بدھ کے روز نور پیدا فرمایا ، جمعرات کے روز اس میں چوپائے پھیلائے اور آدم ؑ کو جمعہ کے دن عصر کے بعد مخلوق میں سب سے آخر پر پیدا فرمایا ، اور دن کی آخری گھڑی عصر اور شام کے درمیان ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5735
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَأَصْحَابُهُ إِذْ أَتَى عَلَيْهِمْ سَحَابٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا؟» . قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «هَذِهِ الْعَنَانُ هَذِهِ رَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهَا اللَّهُ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْكُرُونَهُ وَلَا يَدعُونَهُ» . ثمَّ قَالَ: «هَل تَدْرُونَ من فَوْقَكُمْ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «فَإِنَّهَا الرَّقِيعُ سَقْفٌ مَحْفُوظٌ وَمَوْجٌ مَكْفُوفٌ» . ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا خَمْسُمِائَةِ عَامٍ» ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ؟» . قَالُوا: اللَّهُ ورسولُه أعلمُ. قَالَ: «سماءانِ بُعْدُ مَا بَيْنَهُمَا خَمْسُمِائَةِ سَنَةٍ» . ثُمَّ قَالَ كَذَلِكَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ «مَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءَيْنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» . ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «إِنَّ فَوْقَ ذَلِكَ الْعَرْشُ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّماءين» . ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا تَحْتَ ذَلِكَ؟» . قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «إِنَّ تَحْتَهَا أَرْضًا أُخْرَى بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ» . حَتَّى عدَّ سَبْعَ أَرضين بَين كلَّ أَرضين مسيرَة خَمْسمِائَة سنة قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّكُمْ دَلَّيْتُمْ بِحَبْلٍ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ» ثُمَّ قَرَأَ (هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شيءٍ عليم) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآيَةَ تَدُلُّ على أَنه أَرَادَ الهبط عَلَى عِلْمِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ وَسُلْطَانِهِ وَعِلْمُ اللَّهِ وَقُدْرَتُهُ وَسُلْطَانُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ وَهُوَ عَلَى الْعَرْش كَمَا وصف نَفسه فِي كِتَابه
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، اس اثنا میں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے صحابہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بادل آیا تو اللہ کے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ عنان ہے ، یہ زمین کو سیراب کرنے والا ہے ، اللہ اس کو اس قوم کی طرف ہانک کر لے جاتا ہے جو نہ تو اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ اس سے دعا کرتے ہیں ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ رقیع (آسمان کا نام) ایک محفوظ چھت اور تھمی ہوئی موج ہے ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا :’’ تمہارے اور اس کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا :’’ آسمان اور ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتا ہے کہ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی طرح فرمایا حتی کہ آپ نے سات آسمان گنے ۔’’ اور ہر دو آسمان کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے جتنی آسمان اور زمین کے درمیان ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کے اوپر عرش ہے ، اس کے اور آسمان کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے جتنی دو آسمانوں کے درمیان ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے نیچے کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا :’’ وہ زمین ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو اس کے نیچے کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا :’’ اس کے نیچے ایک دوسری زمین ہے ، ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ حتی کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سات زمینیں شمار کیں ۔’’ اور ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) کی جان ہے ! اگر تم نچلی زمین کی طرف رسی لٹکاؤ تو وہ اللہ کے علم میں ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی :’’ وہی اول ، وہی آخر ، وہی ظاہر ، وہی باطن ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءتِ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارادہ فرمایا کہ وہ اللہ کے علم ، اس کی قدرت اور اس کی بادشاہت میں گرتی ہے ، اور اللہ کا علم و قدرت اور اس کی بادشاہت ہر جگہ پر ہے جبکہ وہ عرش پر (مستوی) ہے ، جیسا کہ اس نے اپنے متعلق اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 5736
sahih
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَ طُولُ آدَمَ سِتِّينَ ذِرَاعًا فِي سبع أَذْرع عرضا»
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آدم ؑ کا طول ساٹھ ہاتھ اور عرض سات ہاتھ تھا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 5737
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: «آدَمُ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: «نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كم المُرْسَلُونَ؟ قَالَ: «ثَلَاثمِائَة وبضع عشر جماً غفيراً» وَفِي رِوَايَة عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمْ وَفَاءُ عِدَّةِ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: «مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا»
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! سب سے پہلے نبی کون تھے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آدم ؑ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا وہ نبی تھے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، ایسے نبی تھے جن پر صحیفہ نازل کیا گیا تھا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! رسول کتنے تھے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تین سو اور دس سے کچھ اوپر کا جم غفیر تھا ۔‘‘ اور ابوامامہ ؓ کی روایت میں ہے ، ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! انبیا ؑ کی کل تعداد کتنی ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایک لاکھ چوبیس ہزار ، ان میں سے رسولوں کی تعداد تین سو پندرہ ایک جم غفیر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 5738
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ. رَوَى الْأَحَادِيث الثَّلَاثَة أَحْمد
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ خبر ، مشاہدے کی طرح نہیں ہوتی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسی ؑ کو ان کی قوم کے بچھڑے کو معبود بنانے کے متعلق بتایا تو انہوں نے الواح (تختیاں) نہیں پھینکیں ، جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جو انہوں نے کیا تھا ، تو انہوں نے تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں ۔‘‘ تینوں (بلکہ چاروں) احادیث کو امام احمد ؒ نے نقل کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔