The Conditions of Resurrection
كتاب أَحْوَال الْقِيَامَة وبدء الْخلق
Chapter 27
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا ، کوثر کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ ایک نہر ہے جو اللہ نے مجھے عطا کی ہے ، یعنی وہ مجھے جنت عطا کرے گا ، (اس کا پانی) دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا ہے ، اس میں ایک پرندہ ہے جس کی گردن اونٹ کی گردن کی طرح ہے ۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا : یہ تو پھر بہت اچھی نعمت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کو کھانے والے اس سے بھی زیادہ اچھے ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر اللہ نے تجھے جنت میں داخل کر دیا اور تو نے اگر وہاں سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہونے کی خواہش کی تو وہ جنت میں جہاں تو چاہے گا تجھے اڑا کر لے جائے گا ۔‘‘ ایک دوسرے آدمی نے آپ سے دریافت کرتے ہوئے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا جنت میں اونٹ بھی ہوں گے ؟ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے وہ جواب نہیں دیا جو آپ نے اس کے ساتھی کو جواب دیا تھا (بلکہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر اللہ نے تجھے جنت میں داخل فرما دیا تو تیرے لیے وہاں وہ کچھ ہو گا جس کو تیرا دل چاہے گا اور (جس سے) تیری آنکھیں لذت و سرور حاصل کریں گیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں (دنیا میں) گھوڑے پسند کرتا ہوں ، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تجھے جنت میں داخل کر دیا گیا تو تجھے یاقوت کا ایک گھوڑا دیا جائے گا ، جس کے دو پر ہوں گے ، تجھے اس پر سوار کیا جائے گا ، پھر تو جہاں چاہے گا وہ تجھے اڑا لے جائے گا ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : اس حدیث کی سند قوی نہیں ، ابو سورہ راوی حدیث کے معاملے میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ، میں نے امام بخاری سے سنا ، وہ فرما رہے تھے یہ منکر الحدیث ہے ، اور وہ منکر روایات بیان کرتا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ، ان میں سے اسی اس امت کی ہوں گی ، اور چالیس باقی تمام امتوں کی ہوں گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی و البیھقی فی کتاب البعث و النشور ۔
سالم ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کے لوگ جس دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے ، اس کا عرض ، بہترین سوار کی تین (روز یا سال) کی مسافت کے برابر ہے ، پھر بھی وہاں سے داخل ہوتے وقت وہ اتنے تنگ ہوں گے کہ قریب ہے کہ ان کے کندھے الگ ہو جائیں ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث ضعیف ہے ، اور میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری ؒ) سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے اسے نہ پہچانا اور فرمایا : یخلد بن ابی بکر منکر روایات بیان کرتا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں ایک بازار ہے ، وہاں کوئی خرید و ٖفروخت نہیں ہو گی ، البتہ وہاں مردوں اور عورتوں کی تصویریں ہوں گی ، جب آدمی کسی صورت و تصویر کو پسند کرے گا تو وہ اس میں داخل ہو جائے گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
سعید بن مسیّب ؒ سےروایت ہے کہ وہ ابوہریرہ ؓ سے ملے تو ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : میں اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ (بازار مدینہ کی طرح) مجھ کو اور آپ کو جنت کے بازار میں اکٹھا فرمائے ، سعید ؒ نے فرمایا : کیا وہاں بازار ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ جب جنت والے ، اس (جنت) میں داخل ہو جائیں گے تو وہ اپنے اعمال کے حساب سے وہاں قیام کریں گے ، پھر دنیا کے ایام سے جمعہ کے دن کی مقدار کے مطابق انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رب کی زیارت کریں گے اور وہ ان کے لیے اپنا عرش ظاہر فرمائے گا ، وہ (ان کا رب) ان کی خاطر جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچے میں تجلی فرمائے گا ، ان کے لیے نور کے موتیوں کے ، یاقوت کے ، زمرد کے ، سونے کے اور چاندی کے منبر لگائے جائیں گے ، ان میں سے ادنی ٰ درجے کا شخص ، اور ان میں سے کوئی بھی ادنی ٰ درجے کا نہیں ہو گا ، کستوری اور کافور کے ٹیلوں پر ہو گا ، اور وہ یہ محسوس نہیں کریں گے کہ کرسیوں والے نشست و برخواست میں ان سے افضل ہیں ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، کیا تم سورج دیکھنے میں اور چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں شک کرتے ہو ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسی طرح تم اپنے رب کو دیکھنے میں شک نہیں کرو گے ، اور اس مجلس میں موجود ہر شخص سے اللہ (کسی ترجمان کے بغیر) مخاطب ہو گا ، حتی کہ وہ ان میں سے ایک آدمی سے کہے گا : اے فلاں بن فلاں ! کیا تجھے فلاں دن یاد ہے تو نے یہ اور یہ کہا تھا ، وہ دنیا میں اس کی بعض نافرمانیاں اور عہد شکنیاں اسے یاد کرائے گا تو وہ عرض کرے گا : رب جی ! کیا تو نے مجھے بخش نہیں دیا تھا ؟ وہ فرمائے گا ، کیوں نہیں ، ہاں میری مغفرت کی وسعت کی بدولت ہی تو اپنے اس مقام کو پہنچا ہے ، وہ اسی اثنا میں ہوں گے تو بادل کا ایک ٹکڑا اوپر سے انہیں ڈھانپ لے گا ، وہ ان پر خوشگوار بارش برسائے گا ، اور انہوں نے اس جیسی خوشبو کسی چیز میں نہیں پائی ہو گی ، ہمارا رب فرمائے گا : میں نے تمہارے اعزاز و اکرام کی خاطر جو تیار کر رکھا ہے ، تم اس کا قصد کرو اور (وہاں سے) جو تم چاہو ، وہ لے لو ، ہم ایک بازار میں جائیں گے ، اسے فرشتوں نے گھیر رکھا ہو گا ، اس میں ایسی ایسی چیزیں ہوں گی جسے آنکھوں نے دیکھا ہو گا نہ کانوں نے سنا ہو گا اور نہ ہی دلوں میں اس کا خیال آیا ہو گا ، ہم جو چاہیں گے وہ ہمارے لیے لایا جائے گا ، وہاں خرید و فٖروخت نہیں ہو گی ، اور اس بازار میں ، جنت والے ایک دوسرے کو ملیں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ بلند منزلوں والا آدمی توجہ کرے گا تو وہ اپنے سے کم تر سے ، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی کم تر نہیں ، ملاقات کرے گا تو وہ اس کے لباس کو دیکھے گا تو وہ اسے تعجب میں ڈال دے گا ، اس کی بات ختم نہیں ہو گی حتی کہ اسے خیال آئے گا کہ اس پر جو (لباس) ہے وہ اس (لباس) سے بہتر ہے ، اور یہ اس لیے ہے کہ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس (جنت) میں غمگین ہو ، پھر ہم اپنے گھروں کو واپس آئیں گے تو ہماری ازواج ہم سے ملاقات کریں گی تو وہ کہیں گی : خوش آمدید ، جب تم ہمارے پاس سے گئے تھے ، تو اب جبکہ تم ہمارے پاس آئے ہو ، اس سے زیادہ خوبصورت ہو ، ہم کہیں گے : آج ہم نے اپنے رب جبار کی ہم نشینی اختیار کی تو ہم پر لازم تھا کہ ہم اسی حالت میں واپس آتے جس حالت میں ہم واپس آئے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت والوں میں سے ادنی ٰ درجے والا وہ ہو گا جس کے اسی ہزار خادم اور بہتّر بیویاں ہوں گی ، اور اس کے جابیہ سے صنعاء کی درمیانی مسافت جتنا ، جواہرات ، زمرد اور یاقوت سے ایک خیمہ نصب کیا جائے گا ۔‘‘ اور اسی سند کے ساتھ ہے ، فرمایا :’’ جنت والوں میں سے (دنیا میں) جو کوئی چھوٹا یا کوئی بڑا فوت ہو جاتا ہے وہ سب جنت میں تیس برس کے ہوں گے ، ان کی عمر اس سے کبھی زیادہ نہیں ہو گی ، اور جہنم والے بھی اس طرح (تیس سال کے) ہوں گے ۔‘‘ اور اسی سند کے ساتھ فرمایا :’’ ان (جنت والوں کے سروں) پر تاج ہوں گے ، ان کا ادنی سا موتی مشرق و مغرب کے درمیان کو روشن کر دے گا ۔‘‘ اور اسی سند سے مروی ہے ، فرمایا :’’ مومن جب جنت میں بچے کی خواہش کرے گا تو اس کا حمل ہونا ، اس کی ولادت ہونا اور اس کی عمر (پوری) ہونا ایک گھڑی میں ہو جائے گا جس طرح وہ چاہے گا ۔‘‘ اور اسحاق بن ابراہیم ؒ نے اس حدیث (کے بیان) میں فرمایا : جب مومن جنت میں بچے کی خواہش کرے گا تو وہ ایک گھڑی میں ہو جائے گا لیکن وہ اس کی خواہش ہی نہیں کرے گا ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا :’’ یہ حدیث غریب ہے ، امام ابن ماجہ نے چوتھا فقرہ روایت کیا ، جبکہ امام دارمی نے آخری ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں حورِعین کے لیے ایک اجتماع گاہ ہے جہاں وہ آوازیں بلند کریں گی جو مخلوق نے نہیں سنی ہوں گی ، وہ کہیں گی : ہم دائمی ہیں ، ہم ہلاک نہیں ہوں گی ، ہم تو عیش کرنے والیاں ہیں ، ہم محتاج نہیں ہوں گی ، اور ہم خوش رہنے والیاں ہیں ، ہم ناراض نہیں ہوں گی ، اس شخص کے لیے خوش خبری ہو جو ہمارے لیے ہے اور ہم اس کے لیے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
حکیم بن معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں پانی کا دریا ہے ، شہد کا دریا ہے ، دودھ کا دریا ہے ، اور شراب کا دریا ہے ، پھر (جنت والوں کے جنت میں داخل ہونے کے) بعد نہریں نکلیں گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
اور امام دارمی نے اسے معاویہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔
ابوسعید ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی جنت میں ، (اپنی خاص) جنت میں کروٹ بدلنے سے پہلے ستر تکیوں پر ٹیک لگائے گا ، پھر ایک عورت اس کے پاس آئے گی ، اور اس کے کندھے کو تھپتھپائے گی ، وہ اس کے رخسار میں اپنا چہرہ دیکھے گا ، وہ (رخسار) آئینے سے زیادہ صاف ہو گا ، اور اس (عورت) پر ادنی موتی مشرق و مغرب کے درمیانی فاصلے کو روشن کر دے ، وہ اس کو سلام کرے گی تو وہ اسے سلام کا جواب دے گا ، اور وہ اس سے پوچھے گا : تو کون ہے ؟ وہ کہے گی : میں ’’مزید‘‘ کے ضمن سے ہوں ، اس پر ستر لباس ہوں گے ، اس کی نظر ان (ستر لباسوں) سے گزر جائے گی حتی کہ ان کے پیچھے اس کی پنڈلی کا گودا دیکھ لے گا ، اور اس پر ایک تاج ہو گا اور اس کے جواہرات میں سے ادنی ہیرا مشرق و مغرب کو روشن کر دے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بات کر رہے تھے ، اس وقت آپ کے پاس ایک اعرابی تھا کہ جنت والوں میں سے ایک آدمی نے اپنے رب سے کاشتکاری کے متعلق اجازت طلب کی تو اس نے اس سے فرمایا : کیا تجھے من پسند چیزیں میسر نہیں ؟ اس نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، میسر ہیں ، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میں کاشتکاری کروں ، اس نے بیج گرایا تو پل بھر میں وہ اگ آیا ، برابر ہو گیا اور کٹ بھی گیا ، اور وہ (غلے کے ڈھیر) پہاڑوں کی طرح تھے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ابن آدم ! اسے لے لو ، کیونکہ کوئی چیز تیرا پیٹ نہیں بھر سکتی ۔‘‘ اس اعرابی نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! وہ قریشی یا انصاری ہو گا کیونکہ وہ کاشتکار ہیں ، اور رہے ہم ، تو ہم کاشتکار نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس دیے ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا ، کیا جنت والے سوئیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نیند ، موت کی بہن ہے اور جنت والے مریں گے نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اپنے رب کو صاف ظاہر طور پر دیکھو گے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے : راوی بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا تو فرمایا :’’ عنقریب تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو ، اور اس کو دیکھنے میں تم کوئی تنگی محسوس نہیں کرو گے ، اگر تم اس کی استطاعت رکھو کہ تم طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے کی نمازوں کی ادائیگی میں مغلوب نہ ہو جاؤ تو پھر ان کی ادائیگی ضرور کرو ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ طلوع آفتاب اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
صہیب ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو میں تمہیں مزید عطا فرماؤں ؟ وہ عرض کریں گے : کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں بنا دیے ؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرما دیا اور تو نے ہمیں جہنم کی آگ سے نہیں بچا لیا ؟‘‘ فرمایا :’’ حجاب اٹھا لیا جائے گا تو وہ اللہ کے چہرے کا دیدار کریں گے ، انہیں جو کچھ عطا کیا گیا ان میں سے اپنے رب کا دیدار نہیں سب سے زیادہ محبوب ہو گا ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اچھے اعمال کیے ، اچھا ثواب (جنت) ہے اور زیادہ (اللہ تعالیٰ کا دیدار) ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت والوں میں سے سب سے ادنی مقام والا وہ شخص ہو گا جو اپنے باغات ، اپنی ازواج ، اپنی نعمتوں ، اپنے خادموں اور اپنے تختوں کو ہزار سال کی مسافت تک دیکھے گا (اس کی نعمتیں ہزار سال کی مسافت پر محیط ہوں گی) اور ان میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ ہو گا جو صبح و شام اس کے چہرے کا دیدار کرے گا ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اس روز بعض چہرے تروتازہ ہوں گے ، اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
ابورزین عقیلی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا قیامت کے روز ہم سب اللہ کو اکیلے اکیلے دیکھیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، کیوں نہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اس کی نشانی کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابو رزین ! کیا تم سب چودھویں رات کے چاند کو اکیلے اکیلے نہیں دیکھتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جی ہاں (دیکھتے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ (چاند) تو اللہ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ اجل و اعظم ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا : کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (وہ) نور ہے ، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :’’ اس (رسول) نے جو کچھ دیکھا (آپ کے) دل نے اس میں دھوکہ نہیں کھایا ۔ اور آپ نے اس کو ایک اور بار بھی دیکھا ۔‘‘ کے بارے میں فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے دل سے دو مرتبہ دیکھا ۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے ، فرمایا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کو دیکھا ہے ، عکرمہ ؒ نے فرمایا : کیا اللہ فرماتا نہیں ؟‘‘ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں جبکہ وہ آنکھوں کا ادراک کر سکتا ہے ۔‘‘ فرمایا : تجھ پر افسوس ہے ! یہ تب ہے جب وہ اپنے اس نور کے ساتھ تجلی فرمائے جو کہ اس کا نور ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ہے ۔ رواہ مسلم و الترمذی ۔