The Conditions of Resurrection
كتاب أَحْوَال الْقِيَامَة وبدء الْخلق
Chapter 27
عبداللہ بن ابی جدعاء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میری امت کے ایک آدمی (عثمان ؓ) کی سفارش پر قبیلہ بنو تمیم سے زیادہ افراد جنت میں جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی و ابن ماجہ ۔
ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت میں سے بعض ایک جماعت کی سفارش کریں گے ، ان میں سے بعض قبیلے کی ، ان میں سے بعض ایک خاندان کی اور ان میں سے کوئی کسی آدمی کی سفارش کرے گا حتی کہ (اس طرح سفارش کرتے کرتے) وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت سے چار لاکھ افراد کو بغیر حساب جنت میں داخل فرمائے گا ۔‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اضافہ فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اور اس طرح ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بنایا ، ابوبکر ؓ نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہماری اس تعداد میں بھی اضافہ فرمائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اور اس طرح ۔ عمر ؓ نے فرمایا : ابوبکر ! ہمیں چھوڑ دو ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : اگر اللہ ہم سب کو جنت میں داخل فرما دے تو تمہارا کیا نقصان ہے ؟ عمر ؓ نے فرمایا : اگر اللہ عزوجل چاہے کہ وہ اپنی مخلوق کو ایک چلو کے ذریعے جنت میں داخل فرما دے تو وہ کر سکتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عمر نے ٹھیک کہا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہنمیوں کی صف بنائی جائے گی تو جنت والوں میں سے آدمی ان کے پاس سے گزرے گا تو ان میں سے ایک آدمی کہے گا : اے فلاں ! کیا تم مجھے پہچانتے نہیں ؟ میں وہی ہوں جس نے ایک مرتبہ تجھے پانی پلایا تھا ، اور ان میں سے کوئی کہے گا : میں وہی ہوں جس نے وضو کے لیے پانی دیا تھا ، وہ اس کے لیے سفارش کرے گا تو وہ اسے جنت میں (اپنے ساتھ) داخل کرائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہنم میں جانے والوں میں سے دو آدمی بہت زور سے آہ و بکا کر رہے ہوں گے ، رب تعالیٰ فرمائے گا : ان دونوں کو نکالو ، وہ انہیں فرمائے گا : تم کس وجہ سے زور زور سے چیخ رہے ہو ؟ وہ عرض کریں گے ، ہم نے یہ اس لیے کیا ہے تا کہ آپ ہم پر رحم فرمائیں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تمہارے لیے میری رحمت یہی ہے کہ تم چلے جاؤ اور تم جہنم میں جہاں تھے اپنے آپ کو وہیں ڈال دو ، ان میں سے ایک اپنے آپ کو (جہنم میں) ڈال لے گا ، اللہ اس کو اس پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دے گا ، جبکہ دوسرا کھڑا رہے گا ، اور وہ اپنے آپ کو (جہنم میں) نہیں ڈالے گا ، رب تعالیٰ اس سے پوچھے گا : کس چیز نے تجھے اپنے آپ کو جہنم میں ڈالنے سے منع کیا جیسا کہ تیرے ساتھی نے (اپنے آپ کو) ڈال لیا ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں امید کرتا ہوں کہ تو مجھے وہاں نہیں بھیجے گا جہاں سے تو نے مجھے نکال لیا تھا ، رب تعالیٰ اسے فرمائے گا : تمہارے لیے تمہاری امید کے مطابق عطا کر دیا گیا ، وہ دونوں اللہ کی رحمت سے اکٹھے ہی جنت میں داخل کیے جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمام لوگ آگ (پل صراط) پر وارد ہوں گے ، پھر وہ اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے پار ہوں گے ، ان میں سے سب سے پہلے بجلی چمکنے کی مانند گزر جائیں گے ، پھر ہوا کی مانند ، پھر تیز رفتار گھوڑے کی مانند ، پھر سواری پر سوار کی مانند ، پھر دوڑنے والے آدمی کی مانند اور پھر پیدل چلنے والے کی مانند (اس پل سے گزریں گے جو کہ جہنم پر نصب ہو گا) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے آگے میرا حوض ہے ، اس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان ہے ۔‘‘ بعض راویوں نے کہا ہے : یہ دونوں (جرباء اور اذرح) شام کے دو گاؤں ہیں ۔ ان دونوں کے درمیان تین راتوں کی مسافت ہے ۔ ایک روایت میں ہے : اس کے پیالے آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں ، جو کوئی وہاں آئے گا اور اس سے پانی پی لے گا تو پھر اس کے بعد وہ کبھی پیاس محسوس نہیں کرے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حذیفہ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا تو مومن کھڑے ہوں گے حتی کہ ان کے لیے جنت قریب کر دی جائے گی ، وہ آدم ؑ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے : ہمارے ابا جان ! ہمارے لیے جنت کھلنے کی درخواست کریں ، وہ کہیں گے : تمہارے والد کی غلطی ہی نے تو تمہیں جنت سے نکلوایا تھا ، میں اس کے اہل نہیں ہوں ، تم میرے بیٹے اللہ کے خلیل ابراہیم ؑ کے پاس جاؤ ، فرمایا :’’ ابراہیم ؑ فرمائیں گے : میں بھی اس کے اہل نہیں ہوں میں تو بہت پہلے (دنیا میں) خلیل تھا ، تم موسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جس سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے ، وہ موسیٰ ؑ کے پاس آئیں گے ، تو وہ بھی کہیں گے ، میں اس کے اہل نہیں ہوں ، تم عیسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جو اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں ، عیسیٰ ؑ بھی کہیں گے : میں اس کے اہل نہیں ہوں ، وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں گے ، وہ کھڑے ہوں گے ، انہیں اجازت دی جائے گی ، امانت اور صلہ رحمی کو بھیجا جائے گا ، وہ پل صراط کے دونوں طرف کھڑی ہو جائیں گی ، تم میں سے پہلا بجلی کی طرح گزر جائے گا َ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا : میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، بجلی کی طرح گزرنے کی کیا صورت ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے بجلی نہیں دیکھی ، وہ آنکھ جھپکنے میں گزرتی ہے اور واپس آ جاتی ہے ۔ پھر ہوا کے چلنے کی طرح ، پھر پرندے کی طرح اور تیز چلنے والے آدمیوں کی طرح ، ان کے اعمال انہیں لے کر چلیں گے ، اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پل صراط پر کھڑے ہوں گے ، وہ کہہ رہے ہوں گے : رب جی ! سلامتی عطا فرما ، سلامتی عطا فرما : حتی کہ بندوں کے اعمال عاجز آ جائیں گے ۔ یہاں تک کہ ایک ایسا آدمی آئے گا جو چلنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو گا ، بلکہ وہ سرین کے بل گھسٹ رہا ہو گا ۔‘‘ اور فرمایا :’’ پل صراط کے دونوں کناروں پر آنکڑے معلق ہوں گے ، وہ اس بات پر مامور ہوں گے کہ جس کے متعلق اسے حکم دیا جائے گا وہ اسے پکڑ لیں گے ، کچھ لوگ مجروح ہوں گے ، نجات پانے والے ہوں گے ، اور کچھ جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے ۔‘‘ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے ! جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت ہے ۔ رواہ مسلم ۔
حذیفہ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا تو مومن کھڑے ہوں گے حتی کہ ان کے لیے جنت قریب کر دی جائے گی ، وہ آدم ؑ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے : ہمارے ابا جان ! ہمارے لیے جنت کھلنے کی درخواست کریں ، وہ کہیں گے : تمہارے والد کی غلطی ہی نے تو تمہیں جنت سے نکلوایا تھا ، میں اس کے اہل نہیں ہوں ، تم میرے بیٹے اللہ کے خلیل ابراہیم ؑ کے پاس جاؤ ، فرمایا :’’ ابراہیم ؑ فرمائیں گے : میں بھی اس کے اہل نہیں ہوں میں تو بہت پہلے (دنیا میں) خلیل تھا ، تم موسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جس سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے ، وہ موسیٰ ؑ کے پاس آئیں گے ، تو وہ بھی کہیں گے ، میں اس کے اہل نہیں ہوں ، تم عیسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جو اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں ، عیسیٰ ؑ بھی کہیں گے : میں اس کے اہل نہیں ہوں ، وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں گے ، وہ کھڑے ہوں گے ، انہیں اجازت دی جائے گی ، امانت اور صلہ رحمی کو بھیجا جائے گا ، وہ پل صراط کے دونوں طرف کھڑی ہو جائیں گی ، تم میں سے پہلا بجلی کی طرح گزر جائے گا َ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا : میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، بجلی کی طرح گزرنے کی کیا صورت ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے بجلی نہیں دیکھی ، وہ آنکھ جھپکنے میں گزرتی ہے اور واپس آ جاتی ہے ۔ پھر ہوا کے چلنے کی طرح ، پھر پرندے کی طرح اور تیز چلنے والے آدمیوں کی طرح ، ان کے اعمال انہیں لے کر چلیں گے ، اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پل صراط پر کھڑے ہوں گے ، وہ کہہ رہے ہوں گے : رب جی ! سلامتی عطا فرما ، سلامتی عطا فرما : حتی کہ بندوں کے اعمال عاجز آ جائیں گے ۔ یہاں تک کہ ایک ایسا آدمی آئے گا جو چلنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو گا ، بلکہ وہ سرین کے بل گھسٹ رہا ہو گا ۔‘‘ اور فرمایا :’’ پل صراط کے دونوں کناروں پر آنکڑے معلق ہوں گے ، وہ اس بات پر مامور ہوں گے کہ جس کے متعلق اسے حکم دیا جائے گا وہ اسے پکڑ لیں گے ، کچھ لوگ مجروح ہوں گے ، نجات پانے والے ہوں گے ، اور کچھ جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے ۔‘‘ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے ! جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت ہے ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کچھ لوگ جہنم سے شفاعت کے ذریعے نکلیں گے گویا وہ ثغاریر ہیں ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : ثغاریر کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ لکڑیاں ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت تین قسم کے لوگ سفارش کریں گے ، انبیا ؑ ، پھر علما اور پھر شہدا ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے (جنت میں) ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں اور نہ کسی کان نے سنی ہیں ، اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا ہے ۔‘‘ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو :’’ کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کر رکھی گئی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ ، دنیا اور اس میں جو کچھ ہے ، سب سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں صبح کو یا شام کو چلنا دنیا اور اس میں جو کچھ ہے ، سب سے بہتر ہے ۔ اگر اہل جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت زمین پر جھانک لے تو ان دونوں (زمین و آسمان) کے درمیان ہر چیز روشن ہو جائے ، ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ معطر ہو جائے اور اس (عورت) کے سر کا ایک دوپٹہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں ایسا درخت ہے جس کے سائے میں گھڑ سوار سو سال چلتا رہے تو وہ اسے طے نہیں کر سکے گا ، اور جنت میں کمان کے برابر جگہ اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے یا غروب ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن کے لیے جنت میں ایک خول دار موتی کا خیمہ ہو گا جس کا عرض ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے ’’ اس کا طول ساٹھ میل ہو گا ، اس کے ہر کونے میں اس کے اہل خانہ ہوں گے ، وہ دوسروں کو نہیں دیکھیں گے ، مومن ان سب کے پاس جائے گا ، اور (اس کے لیے) دو باغ ہیں ، ان کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے وہ سب چاندی کا ہے ، اور دو باغ ہیں ، ان دونوں کے برتن اور ان کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب سونے کا ہے ، اہل جنت اور ان کے رب کے مابین صرف کبریائی کی چادر ہے جو کہ سدا بہار جنت میں اس کے چہرے پر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں سو درجے ہیں ، اور ہر دو درجوں کے درمیان اس قدر فاصلہ ہے جس قدر آسمان اور زمین کے درمیان ہے ، اور فردوس سب سے اعلیٰ درجے کی جنت ہے ، جنت کی چاروں نہریں وہیں سے جاری ہوتی ہیں اور اسی کے اوپر عرش ہے ، جب تم اللہ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو ۔ (جو کہ جنت کا اعلیٰ مقام ہے) ۔‘‘ ترمذی ۔ میں نے اسے نہ تو صحیحین میں پایا ہے اور نہ کتاب الحمیدی میں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں ایک (جمعہ) بازار ہے ، جہاں وہ ہر جمعے آئیں گے ، شمال کی طرف سے ہوا چلے گی تو وہ ان کے چہروں اور ان کے کپڑوں میں (خوشبو) ڈالے گی (جس سے) ان کے حسن و جمال میں اضافہ ہو جائے گا اور جب وہ اپنے اہل خانہ کے پاس جائیں گے تو ان کا حسن و جمال بڑھ چکا ہو گا چنانچہ ان کے اہل خانہ انہیں کہیں گے : اللہ کی قسم ! تم ہمارے بعد حسن و جمال میں بڑھ چکے ہو وہ کہیں گے ، اللہ کی قسم ! تم بھی ہمارے بعد حسن و جمال میں بڑھ چکے ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گی ، پھر ان کے بعد داخل ہونے والوں کی صورتیں آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گی ، (محبت و اتفاق کے لحاظ سے) ان کے دل فرد واحد کے دل کی طرح ہوں گے ، ان میں باہمی اختلاف ہو گا نہ کوئی باہمی بغض ہو گا ، ان میں سے ہر شخص کے لیے بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے دو بیویاں ہوں گی ۔ وہ اس قدر حسین ہوں گی کہ ان کی پنڈلیوں کا گودا ہڈیوں اور گوشت میں نظر آتا ہو گا ، وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہوں گے ، وہ بیمار ہوں گے نہ پیشاب کریں گے ، انہیں پاخانے کی حاجت ہو گی نہ انہیں تھوک آئے گی اور نہ ہی ناک سے آلائش نکلے گی ، ان کے برتن سونے اور چاندی کے ہوں گے ، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ، ان کی انگھیٹیوں کا ایندھن خوشبو دار عود ہو گا ، ان کا پسینہ کستوری کی طرح ہو گا ، وہ تخلیق کے لحاظ سے برابر ہوں گے جیسے فرد واحد ہوں ، اور وہ اپنے والد آدم ؑ کے قد و قامت پر ساٹھ ساٹھ ہاتھ اونچے ہوں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنتی جنت میں کھائیں پیئیں گے لیکن وہ تھوکیں گے نہ انہیں بول و براز کی حاجت ہو گی اور نہ ہی ان کی ناک سے آلائش نکلے گی ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : تو پھر کھانا کدھر جائے گا ؟ فرمایا :’’ ڈکار اور پسینہ ، اور پسینہ کستوری کی طرح ہو گا ، وہ اس طرح (آسانی اور تسلسل کے ساتھ) تسبیح و تحمید کریں گے جس طرح تم سانس لیتے ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔