Back to Mishkat Al-Masabih

The Conditions of Resurrection

كتاب أَحْوَال الْقِيَامَة وبدء الْخلق

Chapter 27

Hadith 5661
sahih
وَعَن الشّعبِيّ قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَعْبًا بِعَرَفَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَكَبَّرَ حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا بَنُو هَاشِمٍ. فَقَالَ كَعْبٌ: إِنَّ اللَّهَ قَسَّمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ. قَالَ مسروقٌ: فَدخلت على عَائِشَة فَقلت: هَل رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ قَفَّ لَهُ شَعَرِي قُلْتُ: رُوَيْدًا ثُمَّ قَرَأْتُ (لقد رأى من آيَات ربّه الْكُبْرَى) فَقَالَتْ: أَيْنَ تَذْهَبُ بِكَ؟ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ. مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: (إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ) فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَمَرَّةً فِي أَجْيَادٍ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى الشَّيْخَانِ مَعَ زِيَادَةٍ وَاخْتِلَافٍ وَفِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى) ؟ قَالَتْ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ
Urdu

شعبی ؒ بیان کرتے ہیں ، ابن عباس ؓ ، کعب ؓ کو عرفات کے میدان میں ملے تو ابن عباس ؓ نے ان سے کسی چیز کے متعلق مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے (زور سے) اللہ اکبر کہا حتی کہ پہاڑوں نے انہیں جواب دیا ، ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہم بنو ہاشم ہیں ، کعب ؓ نے فرمایا : اللہ نے اپنی رؤیت اور اپنے کلام کو محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور موسی ؑ کے درمیان تقسیم فرمایا ہے ، موسی ؑ نے دو مرتبہ کلام کیا ہے جبکہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دو مرتبہ دیکھا ہے ۔ مسروق ؒ بیان کرتے ہیں میں عائشہ ؓ کے پاس گیا تو میں نے پوچھا کیا محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تم نے ایسی چیز کے متعلق بات کی ہے کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں ، میں نے عرض کیا : ذرا سکون فرمائیں ، پھر میں نے یہ آیت تلاوت کی :’’ اس (رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) نے اپنے رب کی بعض بڑی نشانیاں دیکھیں ۔‘‘ انہوں نے فرمایا : یہ (آیت) تمہیں کدھر لے جا رہی ہے ؟ اس سے مراد تو جبریل ؑ ہیں ، جو شخص تمہیں یہ بتائے کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ یا جس کے متعلق آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو (بیان کرنے کا) حکم دیا گیا تھا تو آپ نے اس میں سے کوئی چیز چھپا لی ؟ یا آپ وہ پانچ چیزیں جانتے تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ، اور وہی بارش برساتا ہے ۔‘‘ اور یہ (کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے) تو یہ بہت بڑا جھوٹ ہے ، لیکن آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل ؑ کو دیکھا ہے اور آپ نے انہیں ان کی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ ہی دیکھا ہے ، ایک مرتبہ سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ اجیاد (مکہ کے نشیبی علاقے) کے پاس ، اس کے چھ سو پر ہیں ۔ اور اس نے افق کو بھر دیا تھا ۔ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ نے کچھ اضافے اور کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ، ان کی روایت میں ہے ، مسروق ؒ نے کہا : میں نے عائشہ ؓ سے عرض کیا : اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :’’ پھر وہ قریب ہوا اور آگے بڑھا ، تو کمان کا یا اس سے بھی کم فرق رہ گیا ۔‘‘ کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ (جبریل ؑ) آدمی کی صورت میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا کرتے تھے ، اور اس مرتبہ وہ اپنی اس صورت میں آئے تھے جو کہ ان کی اصل صورت ہے ، تو افق بھر گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و اصل الحدیث عند البخاری و مسلم ۔

Hadith 5662
sahih
وَعَن ابْن مَسْعُود فِي قَوْلِهِ: (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى) وَفِي قَوْلِهِ: (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى) وَفِي قَوْلِهِ: (رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى) قَالَ فِيهَا كُلِّهَا: رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى) قَالَ: رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَهُ وَلِلْبُخَارِيِّ فِي قَوْلِهِ: (لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى) قَالَ: رَأَى رَفْرَفًا أَخْضَرَ سَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ
Urdu

ابن مسعود ؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان :’’ تو کمان یا اس سے بھی کم فرق رہ گیا ۔‘‘ اور ’’ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو کچھ دیکھا ، دل نے اس میں دھوکہ نہیں کھایا ‘‘ اور ’’ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔‘‘ کے بارے میں فرمایا : ان تمام صورتوں میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل ؑ کو دیکھا ہے ، ان کے چھ سو پر تھے ۔ متفق علیہ ۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے :’’ آپ نے جو دیکھا ، دل نے اس میں دھوکہ نہیں کھایا ۔‘‘ کے بارے میں فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل ؑ کو سبز جوڑے میں دیکھا ، اس نے زمین و آسمان کے درمیانی خلا کو پُر کر رکھا تھا ، اور ترمذی اور صحیح بخاری کی ، اللہ تعالیٰ کے فرمان :’’ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔‘‘ روایت میں ہے ، فرمایا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سبز لباس والے کو دیکھا اس نے افق بھر دیا تھا ۔ و الترمذی و قال : حسن صحیح ۔

Hadith 5663
sahih
وسُئل مَالك بن أَنسٍ عَن قَوْله تَعَالَى (إِلى ربِّها ناظرة) فَقِيلَ: قَوْمٌ يَقُولُونَ: إِلَى ثَوَابِهِ. فَقَالَ مَالِكٌ: كَذَبُوا فَأَيْنَ هُمْ عَنْ قَوْلُهُ تَعَالَى: (كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لمحجوبونَ) ؟ قَالَ مَالِكٌ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَعْيُنِهِمْ وَقَالَ: لَوْ لَمْ يَرَ الْمُؤْمِنُونَ رَبَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ يُعَيِّرِ اللَّهُ الْكَفَّارَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ (كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لمحجوبون) رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
Urdu

اور مالک بن انس ؒ سے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :’’ وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے ۔‘‘ کے بارے میں پوچھا گیا ، نیز انہیں بتایا گیا کہ کچھ لوگ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ وہ رب تعالیٰ کے ثواب کو دیکھنے والے ہوں گے ، امام مالک ؒ نے فرمایا : انہوں نے جھوٹ کہا ہے ، (اگر ایسے ہے) تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :’’ ہرگز نہیں ، بے شک وہ اس روز اپنے رب کے دیدار سے روک دیے جائیں گے ۔‘‘ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ امام مالک ؒ نے فرمایا : لوگ روز قیامت اپنی آنکھوں سے اللہ کا دیدار کریں گے اور فرمایا : اگر مومن قیامت کے دن اپنے رب کا دیدار نہیں کریں گے تو پھر اللہ کافروں کو دیدار سے محرومی کی عار نہ دلاتا ، فرمایا :’’ ہرگز نہیں ، بے شک وہ (کافر لوگ) اس روز اپنے رب کے دیدار سے روک دیے جائیں گے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 5664
sahih
وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ نورٌ فَرفعُوا رؤوسَهم فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى (سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رحيمٍ) قَالَ: فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَلَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ عَنْهُمْ وَيَبْقَى نُورُهُ وَبَرَكَتُهُ عَلَيْهِم فِي دِيَارهمْ . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

جابر ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس اثنا میں کہ جنت والے اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اچانک ان کے لیے ایک نور چمکے گا ، وہ اپنے سر اٹھائیں گے تو اچانک ان کے اوپر سے رب تعالیٰ نے ان پر تجلی فرمائی ہو گی ، وہ فرمائے گا : جنت والو ! السلام علیکم !‘‘ فرمایا :’’ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ فرمان ہے :’’ مہربان رب کی طرف سے سلام کہا جائے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ ان کی طرف دیکھے گا اور وہ اس کی طرف دیکھیں گے ، جب تک وہ اس کی طرف دیکھتے رہیں گے وہ کسی اور نعمت کی طرف توجہ نہیں کریں گے حتی کہ وہ ان سے حجاب کر لے گا اور اس کا نور باقی رہ جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 5665
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَارُكُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً قَالَ: «فُضِّلَتْ عَلَيْهِنَّ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: «نَارُكُمُ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ» . وَفِيهَا: «عَلَيْهَا» و «كلهَا» بدل «عَلَيْهِنَّ» و «كُلهنَّ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری (یہ دنیا کی) آگ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! اگر (یہ دنیا کی آگ ہی) ہوتی تو وہی کافی تھی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس (جہنم کی آگ) کو ان (آگ کی اقسام) پر انہتر درجے فضیلت و برتری دی گئی ہے ، وہ سب اس (دنیا کی آگ) کی حرارت و تپش کی طرح ہے ۔‘‘ اور الفاظ حدیث صحیح بخاری کے ہیں ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے :’’ تمہاری وہ آگ جو انسان جلاتا ہے ۔‘‘ اور صحیح مسلم کی روایت میں : ((علیھن)) اور ((کلھن)) کے بجائے ((علیھا)) اور ((کلھا)) کے الفاظ ہیں ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 5666
sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سبعونَ ألفَ مَلَكٍ يجرُّونها» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جہنم کو لایا جائے گا ، اس روز اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5667
sahih
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ مَا يُرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جہنم والوں میں سے جس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہو گا ، وہ شخص وہ ہو گا جس کے جوتے اور تسمے آگ کے ہوں گے ، جن کی وجہ سے اس کا دماغ اس طرح کھولتا ہو گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے ،‘‘ وہ یہ خیال کرے گا کہ کسی شخص کو اس سے زیادہ عذاب نہیں ہو رہا حالانکہ وہ سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5668
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يغلي مِنْهُمَا دماغه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جہنم والوں میں سے سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہو گا ، اس نے آگ کے دو جوتے پہنے ہوں گے ، ان سے اس کا دماغ کھولے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 5669
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النارِ صَبْغَةً ثمَّ يُقَال: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ وَهَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ. فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شدَّة قطّ . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت جہنم والوں میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جسے دنیا میں سب سے زیادہ نعمتیں میسر تھیں ، اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا ، پھر کہا جائے گا : اے انسان ! کیا تم نے کبھی کوئی خیر و نعمت دیکھی تھی ؟ کیا کسی نعمت کا تیرے پاس سے کبھی گزر ہوا تھا ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! اللہ کی قسم ! نہیں ، (پھر) اہل جنت میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں سب سے زیادہ بدحالی دیکھی ہو ، اسے جنت میں ایک بار گھما کر اس سے پوچھا جائے گا : اے انسان ! کیا تو نے کبھی کوئی بدحالی دیکھی تھی ؟ یا کبھی کوئی شدت و تنگی تیرے پاس سے گزری تھی ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! اللہ کی قسم ! نہیں ، نہ تو کبھی بدحالی میرے پاس سے گزری اور نہ میں نے کبھی کوئی شدت و تنگی دیکھی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5670
sahih
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكَنْتَ تَفْتَدِي بِهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

انس ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت اللہ ، جہنم والوں میں سے سب سے ہلکے عذاب میں گرفتار شخص سے فرمائے گا : اگر زمین کی تمام چیزیں تیری ملکیت ہوں تو کیا تو انہیں اس (عذاب کے) بدلے میں بطورِ فدیہ دے دے گا ؟ وہ عرض کرے گا : جی ہاں ، وہ فرمائے گا : میں نے تجھ سے ، جبکہ تو آدم ؑ کی پشت میں تھا ، اس سے بھی معمولی چیز کا مطالبہ کیا تھا کہ تو میرے ساتھ شریک نہ ٹھہرائے گا ، لیکن تو نے انکار کیا ، اور میرے ساتھ شرک کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5671
sahih
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّار إِلَى ترقوته» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کچھ ایسے لوگ ہوں گے جنہیں آگ ان کے ٹخنوں تک پکڑے گی ، ان میں سے کسی کے گھٹنوں تک پہنچی ہو گی ، ان میں سے کسی کے ازار بند تک پہنچی ہو گی اور ان میں سے کسی کی گردن کو دبوچے ہوئے ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5672
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ مَنْكِبَيِ الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذِكْرُ حَدِيث أبي هُرَيْرَة: «إِذا اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا» . فِي بَابِ «تَعْجِيلِ الصَّلَوَات»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جہنم میں کافر کے دو کندھوں کا درمیانی فاصلہ تیز رفتار سوار کی تین روز کی مسافت جتنا ہو گا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ کافر کی داڑھ احد (پہاڑ) کی مثل ہو گی ، اور اس کی جلد کی موٹائی تین رات کی مسافت جتنی ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی .....۔‘‘ باب تعجیل الصلوات میں ذکر کی گئی ہے ۔

Hadith 5673
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُوقِدَ عَلَى النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جہنم کی آگ ہزار برس جلائی گئی تو وہ سرخ ہو گئی ، پھر اسے ہزار برس جلایا گیا تو وہ سفید ہو گئی ، پھر اسے ہزار برس جلایا گیا تو وہ سیاہ ہو گئی ، وہ سیاہ ترین ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5674
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مسيرَة ثَلَاث مثل الربذَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت کافر کی داڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی ، اس کی ران بیضاء (پہاڑ /مقام) کی طرح ہو گی ، اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ تین رات کی مسافت ، جیسے (مدینہ سے) ربذہ ہے ، کے برابر ہو گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5675
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کافر کی جلد کی موٹائی بیالیس ہاتھ ہو گی ، اس کی داڑھ احد پہاڑ کی مثل ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جس طرح مکہ اور مدینہ کے درمیان فاصلہ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5676
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْكَافِرَ لَيُسْحَبُ لسانُه الفرسَخ والفرسخين يتوطَّؤُه النَّاس» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَيْثُ غَرِيب
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کافر اپنی زبان کو فرسخ (تین میل) اور دو فرسخ گھسیٹے گا اور لوگ اس کو پاؤں تلے روندیں گے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 5677
sahih
وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يُتَصَعَّدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَيُهْوَى بِهِ كَذَلِكَ فِيهِ أَبَدًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِي
Urdu

ابوسعید ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ الصعود جہنم میں ایک پہاڑ ہے جس پر (کافر) کو ستر سال تک مسلسل چڑھایا جائے گا اور اسی طرح (ستر سال تک) اسے مسلسل گرایا جائے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5678
sahih
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي قَوْله: (كَالْمهْلِ) أَيْ كَعَكَرِ الزَّيْتِ فَإِذَا قُرِّبَ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطت فَرْوَة وَجهه فِيهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّّّّّّّ
Urdu

ابوسعید ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (کالمھل) کی تفسیر میں فرمایا :’’ وہ تل چھٹ کی طرح ہو گا ۔ جب اس کو اس کے چہرے کے قریب کیا جائے گا تو اس کے چہرے کی جلد اس میں گر جائے گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5679
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رؤوسهم فَينفذ الْحَمِيم حَتَّى يخلص إِلَى جَوْفه فسلت مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ وَهُوَ الصَّهْرُ ثُمَّ يُعَادُ كَمَا كَانَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کھولتا ہوا پانی ان (جہنم والوں) کے سروں پر ڈالا جائے گا تو وہ کھولتا ہوا پانی داخل ہو جائے گا حتی کہ وہ اس کے پیٹ کے اند تک پہنچ جائے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹ ڈالے گا حتی کہ وہ اس کے قدموں سے نکل جائے گا ، اور یہ وہ صہر (گلا دینا) ہے پھر اسے اس کی پہلی ہی حالت پر لوٹا دیا جائے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5680
sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: (يُسْقَى مِنْ مَاءٍ صديد يتجرَّعُه) قَالَ: يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ فَإِذَا أُدْنِي مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ. يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: (وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أمعاءهم) وَيَقُولُ: (وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوه بئس الشَّرَاب) رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوامامہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان :’’ اسے پیپ پلائی جائے گی تو وہ اسے گھونٹ گھونٹ پیئے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ اس کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ اسے ناپسند کرے گا ، جب اسے اس کے قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ جل جائے گا ، اس کے سر کی جلد گر پڑے گی ، جب وہ اسے پیئے گا تو اس کی انتڑیاں کٹ جائیں گی حتی کہ وہ اس کی دبر (پیٹھ) کے راستے باہر نکل آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔’’ انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی انتڑیاں کاٹ ڈالے گا ۔‘‘ اور وہ فرماتا ہے :’’ اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تل چھٹ کی طرح ہو گا ، چہروں کو بھون ڈالے گا ، برا پینا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔