The Conditions of Resurrection
كتاب أَحْوَال الْقِيَامَة وبدء الْخلق
Chapter 27
ابوسعید ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہنم کی آگ کا چار دیواروں سے احاطہ کیا گیا ہے ، اور ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی مسافت ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر (جہنمیوں کے زخموں کی) پیپ کا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو دنیا والے بدبو دار بن جاتے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت اس حال میں آئے کہ تم مسلمان ہو ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر زقوم (تھوہر) کا ایک قطرہ دنیا میں گرا دیا جائے تو وہ زمین والوں پر ان کے اسبابِ زندگانی خراب کر دے ، تو اس شخص کی کیا حالت ہو گی جس کا کھانا ہی وہی ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اور وہ اس (جہنم) میں اس طرح ہوں گے کہ ان کے ہونٹ سکڑ کر اوپر چڑھ گئے ہوں گے اور دانت کھل گئے ہوں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ آگ انہیں جلا دے گی تو ان کے اوپر والے ہونٹ سکڑ جائیں گے حتی کہ وہ ان کے سر کے وسط میں پہنچ جائیں گے اور ان کے نچلے ہونٹ لٹک جائیں گے حتی کہ وہ ان کی ناف تک پہنچ جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگو ! (اپنے گناہوں پر ڈرتے ہوئے) رویا کرو ، اگر تم (رونے کی) استطاعت نہ رکھو تو پھر اپنے آپ کو رونے پر آمادہ کرو ، کیونکہ جہنم والے جہنم میں روئیں گے حتی کہ ان کے آنسو ان کے چہروں پر اس طرح رواں ہوں گے جیسے وہ بہتی نالیاں ہیں ، اور پھر روتے روتے ان کے آنسو ختم ہو جائیں گے تو پھر خون بہنا شروع ہو جائے گا ، آنکھیں زخمی ہو جائیں گی (اور اس قدر آنسو اور خون بہے گا کہ) اگر اس میں کشتیاں چھوڑ دی جائیں تو وہ چلنا شروع کر دیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہنم والوں پر بھوک ڈال دی جائے گی ، اور وہ (بھوک کی تکلیف) اس عذاب (کی تکلیف) کے برابر ہو گی جس میں وہ مبتلا ہوں گے ، وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی کانٹے دار کھانے کے ذریعے کی جائے گی ، وہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا ، وہ کھانے کی فریاد کریں گے تو ان کی اس طرح کے کھانے سے فریاد رسی کی جائے گی جو حلق میں اٹک جانے والا ہو گا ، وہ یاد کریں گے کہ وہ دنیا میں ، حلق میں اٹک جانے والی چیزوں کو گزارنے کے لیے پانی پیا کرتے تھے ، وہ پانی کے لیے فریاد کریں گے تو لوہے کے آنکڑوں کے ذریعے گرم کھولتا ہوا پانی ان کے قریب کیا جائے گا ، جب وہ ان کے چہروں کے قریب ہو گا تو وہ ان کے چہروں کو جلا دے گا ، اور ان کے پیٹ میں داخل ہو گا تو وہ پیٹ میں موجود ہر چیز کو کاٹ ڈالے گا ، وہ کہیں گے : جہنم کے دربانوں کو بلاؤ ، تو وہ جواب دیں گے ، کیا تمہارے رسول معجزات لے کر تمہارے پاس نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں ، آئے تھے ، وہ کہیں گے : (پھر) پکارتے رہو ، اور کافروں کی پکار خسارے میں ہے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ (کافر) کہیں گے : مالک کو بلاؤ ، وہ کہیں گے ، مالک ! تیرا رب ہمیں موت ہی دے دے ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ انہیں جواب دے گا : بے شک تم ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں ٹھہرنے والے ہو ۔‘‘ اعمش ؒ نے فرمایا : مجھے بتایا گیا کہ ان کی دعا اور مالک کے انہیں جواب دینے میں ہزار سال کا وقفہ ہو گا ۔ فرمایا :’’ وہ کہیں گے ، اپنے رب سے دعا کرو ، تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ، وہ عرض کریں گے : ہمارے پروردگار ! ہماری شقاوت ہم پر غالب آ گئی اور ہم گمراہ لوگ تھے ، ہمارے پروردگار ! ہمیں یہاں سے نکال دے ، اگر ہم نے دوبارہ وہی کام کیے (جن پر تو ناراض ہوتا ہے) تو ہم ظالم ہوں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ انہیں جواب دے گا : ذلیل ہو کر اسی میں رہو ، اور مجھ سے کلام نہ کرو ۔‘‘ فرمایا :’’ اس وقت وہ ہر قسم کی خیر و بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے ، اور اس وقت وہ چیخ و پکار ، حسرت اور تباہی میں مبتلا ہو جائیں گے ۔‘‘ اور عبداللہ بن عبد الرحمن ؒ (راوی) بیان کرتے ہیں ، لوگ اس حدیث کو مرفوع بیان نہیں کرتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں نے تمہیں جہنم کی آگ سے آگاہ کر دیا ، میں نے تمہیں جہنم کی آگ سے آگاہ اور خبردار کر دیا ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار یہ فرماتے رہے ، حتی کہ اگر آپ میری اس جگہ ہوتے تو بازار والے اسے سن لیتے ، اور حتی کہ آپ (کے کندھے) پر جو چادر تھی وہ آپ کے قدموں پر گر پڑی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر اتنا سیسہ ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :’’ آسمان سے زمین کی طرف چھوڑا جائے اور وہ پانچ سو میل کی مسافت ہے ، تو وہ شام سے پہلے زمین پر پہنچ جائے ، اور اگر اسے زنجیر کے سرے سے چھوڑا جائے تو اسے اس کی اصل (پہلے کڑی) تک یا اس کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے متواتر چالیس سال لگیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابو بُردہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہنم میں ایک وادی ہے جسے ھَبْھَبْ کہا جاتا ہے ، اس میں ہر قسم کے سرکش اور باغی رہیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
ابن عمر ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہنم والوں کے جسم ، جہنم میں بڑے ہو جائیں گے حتی کہ ان کی کان کی لو سے کندھے تک سات سو سال کی مسافت ہو گی ، اس کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ ہو گی اور اس کی داڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہنم میں بختی اونٹوں کی طرح اژدہے ، ان میں سے ایک ڈسے گا تو وہ چالیس سال تک اس کے زہر کا اثر محسوس کرتا رہے گا ، اس میں پالان بندھوں خچروں کی طرح کے بچھو ہوں گے ، ان میں سے کوئی ڈسے گا تو وہ شخص چالیس سال تک اس کی زہر کا اثر محسوس کرتا رہے گا ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد ۔
حسن بصری ؒ بیان کرتے ہیں ، ابوہریرہ ؓ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت سورج اور چاند کو لپیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔‘‘ اس پر حسن ؒ نے عرض کیا : ان کا کیا گناہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کر رہا ہوں ، تب حسن بصری ؒ خاموش ہو گئے ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی البعث و النشور ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ صرف بدنصیب شخص ہی جہنم میں جائے گا ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! بدنصیب شخص کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے اللہ کی خاطر کوئی نیک کام نہ کیا اور نہ اس کی خاطر کوئی گناہ چھوڑا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت اور جہنم نے بحث و مباحثہ کیا تو جہنم نے کہا : مجھے تکبر کرنے والوں اور سرکشوں کے لیے خاص کر دیا گیا ہے ، جنت نے کہا ، میری تو حالت یہ ہے کہ مجھ میں (زیادہ تر) صرف ضعیف اور کم رتبہ والے اور دنیا سے بیزار لوگ ہوں گے ، اللہ نے جنت سے فرمایا : تو میری رحمت ہے ، میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم فرماؤں گا ، اور جہنم سے فرمایا : تو میرا عذاب ہے ،میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا ، اور تم دونوں بھر جاؤ گی ، رہی جہنم تو وہ نہیں بھرے گی حتی کہ اللہ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو وہ کہے گی : بس ، بس ، بس تب وہ بھرے گی اور اس کا بعض حصہ ، بعض کے ساتھ مل جائے گا ، اور اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا ، رہی جنت تو اللہ اس کے لیے ایک مخلوق پیدا فرمائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہنم میں لوگوں کو ڈالا جائے گا تو وہ کہتی رہے گی : کچھ اور بھی ہے ؟ حتی کہ رب العزت اس میں اپنا قدم رکھے گا تو اس کا بعض حصہ بعض کے ساتھ مل جائے گا اور وہ کہے گی : تیری عزت و کرم کی قسم ! بس ، بس ! اور جنت میں مزید گنجائش ہو گی حتی کہ اللہ اس کے لیے ایک مخلوق پیدا فرمائے گا ، اور انہیں جنت کے زائد حصے میں بسائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور انس ؓ سے مروی حدیث ((حفت الجنۃ بالمکارہ)) کتاب الرقاق میں ذکر کی گئی ہے ۔
ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ نے جنت کو پیدا فرمایا تو جبریل ؑ سے فرمایا : جاؤ اسے دیکھو ، وہ گئے اور انہوں نے اس کو اور اس کے رہنے والوں کے لیے اللہ نے جو کچھ تیار کر رکھا تھا اس کو دیکھا ، پھر واپس آئے تو عرض کیا : رب جی ! تیری عزت کی قسم ! اس کے متعلق جو بھی سنے گا وہ اس میں داخل ہو گا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے گرد ناگوار چیزوں کی باڑ لگا دی ، پھر فرمایا : جبریل ! جاؤ اور اسے دیکھو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ گئے اور اسے دیکھا ، پھر آئے اور عرض کیا : رب جی ! تیری عزت کی قسم ! مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی ایک بھی داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ فرمایا :’’ جب اللہ نے جہنم کو پیدا فرمایا تو فرمایا : جبریل ! جاؤ اور اسے دیکھو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ گئے اور اسے دیکھا ، پھر آئے اور عرض کیا ، رب جی ! تیری عزت کی قسم ! اس کے متعلق جو سنے گا وہ اس میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے گرد شہوات کی باڑ لگا دی ، پھر فرمایا :’’ جبریل ! جاؤ اور اسے دیکھو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ گئے اور اسے دیکھا تو (آ کر) عرض کیا : رب جی ! تیری عزت کی قسم ! مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں داخل ہونے سے کوئی بھی نہیں بچے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز ہمیں نماز پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر چڑھے اور اپنے ہاتھ سے مسجد کے قبلے کی طرف اشارہ کیا ، پھر فرمایا :’’ اب جب کے میں تمہیں نماز پڑھا رہا تھا تو مجھے اس دیوار کی طرف جنت اور جہنم کے مناظر دکھائی دیے ، میں نے آج کے دن کی طرح نہ تو کوئی بھلی چیز دیکھی اور نہ ایسی کوئی بُری چیز دیکھی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ بنو تمیم (قبیلے) کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بنو تمیم ! تم خوشخبری قبول کرو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، آپ نے ہمیں خوشخبری تو سنا دی ، آپ ہمیں عطا بھی فرمائیں ، اتنے میں اہل یمن سے کچھ لوگ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یمن والو ! تم خوشخبری قبول کرو ، جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم نے قبول کیا ، اور ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں تا کہ ہم دین میں سمجھ بوجھ حاصل کریں اور سب سے پہلے کیا چیز تھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تھا ، اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی ، اور اس کا عرش پانی پر تھا ، پھر اس نے آسمان اور زمین پیدا فرمائی ، اور ذکر (لوح محفوظ) میں ہر چیز لکھی ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر ایک آدمی میرے پاس آیا تو اس نے کہا : عمران ! اپنی اونٹنی کی خبر لو ، وہ جا چکی ہے ، میں اسے تلاش کرنے چلا گیا ، اللہ کی قسم ! میں نے خواہش کی کہ وہ چلی جاتی اور میں (وہاں سے) نہ اٹھتا ۔ رواہ البخاری ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں طویل خطبہ ارشاد فرمایا ، آپ نے ہمیں مخلوق کی ابتدا سے بتانا شروع کیا (اور بتاتے گئے) حتی کہ جنت والے اپنی منازل میں اور جہنم والے اپنی جگہوں میں داخل ہو گئے ۔ اور جس نے اسے یاد رکھنا تھا اس نے اسے یاد رکھا ، اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی تخلیق سے پہلے ایک مکتوب (لوح محفوظ) تحریر کیا کہ میری رحمت ، میرے غضب پر غالب ہے اور وہ عرش کے اوپر اس کے پاس لکھا ہوا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔