The Conditions of Resurrection
كتاب أَحْوَال الْقِيَامَة وبدء الْخلق
Chapter 27
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جنت میں داخل ہو گا وہ خوشحال رہے گا ، بد حال نہیں ہو گا ، نہ تو اس کا لباس پرانا ہو گا اور نہ اس کی جوانی ختم ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (جنت میں) ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا :’’ اب تم صحت مند ہی رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے ، تم ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں ، ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے ، اور تم ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی بدحال نہیں ہو گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (جنت میں) ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا :’’ اب تم صحت مند ہی رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے ، تم ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں ، ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے ، اور تم ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی بدحال نہیں ہو گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت والے اپنے اوپر بالا خانوں کے مکینوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم مشرق یا مغرب کے افق میں چمکتے ہوئے ڈوبتے ستارے کو دیکھتے ہو ، اور یہ تمہارے باہم مراتب میں فرق کی وجہ سے ہو گا ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ انبیا ؑ کی منزلیں ہوں گی ، جہاں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں پہنچ سکے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں کچھ ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل (حسد و بغض وغیرہ سے پاک ہونے کے لحاظ سے) پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا : جنت والو ! وہ عرض کریں گے : ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں تیری سعادت حاصل کرنے کے لیے ، اور ہر قسم کی خیر و بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، وہ فرمائے گا : کیا تم خوش ہو ؟ وہ عرض کریں گے ، رب جی ! ہمارے راضی نہ ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے جبکہ آپ نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا ہے جو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا ، وہ فرمائے گا : کیا میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز نہ دوں ؟ وہ عرض کریں گے : رب جی ! اس سے بہتر چیز کون سی ہے ؟ وہ فرمائے گا : میں تمہیں اپنی دائمی رضا مندی عطا کرتا ہوں اور میں اس کے بعد تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں تم میں سب سے کم ملکیت والا شخص وہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تمنا کر ! وہ تمنا کرے گا ، اور تمنا کرے گا تو وہ اس سے پوچھے گا : کیا تو نے تمنا کر لی ؟ وہ کہے گا ، جی ہاں ، تو اسے کہا جائے گا : تمہارے لیے وہ ہے جو تو نے تمنا کی اور جو تو نے تمنا کی اتنا اس کے ساتھ اور بھی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سیحان ، جیحان ، فرات اور نیل سب جنت کی نہریں ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عتبہ بن غزوان ؓ بیان کرتے ہیں ، ہمیں بتایا گیا کہ اگر جہنم کے کنارے سے پتھر گرایا جائے تو وہ ستر سال میں بھی اس کی تہ تک نہیں پہنچتا ، اللہ کی قسم ! اسے بھرا جائے گا ۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ جنت کی چوکھٹ کا درمیانی فاصلہ چالیس سال کا ہے ۔ اور اس پر ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ وہ ازدحام کی وجہ سے بھری ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ؟ فرمایا :’’ پانی سے ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : جنت کی تعمیر کیسے ہوئی ؟ فرمایا :’’ ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی ، اس کا گارا تیز خوشبو والی کستوری کا ہے ، اس کی چپس ہیرے جواہرات اور یاقوت ہیں ، اس کی مٹی زعفران ہے ، جو اس میں داخل ہو گا وہ خوشحال رہے گا ، بدحال نہیں ہو گا ، وہاں ہمیشہ رہے گا ، فوت نہیں ہو گا ، اس کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے نہ اس کی جوانی ختم ہو گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت کے درختوں کے تنے سونے کے ہوں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں سو درجے ہیں ، ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں سو درجے ہیں ، اگر تمام جہان والے ان میں سے کسی ایک میں جمع ہو جائیں تو وہ ان کے لیے کافی ہو ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : (وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ) ’’ اور بلند بسترے ‘‘ کے بارے میں روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان (بچھونوں) کی بلندی اس طرح ہو گی جس طرح زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ، اور وہ فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پہلا گروہ جو روزِ قیامت جنت میں جائے گا ان کے چہرے اس طرح روشن ہوں گے جس طرح چودھویں رات کا چاند روشن ہوتا ہے ، دوسرا گروہ آسمان میں سب سے زیادہ چمک دار ستارے کی طرح روشن ہو گا ، ان میں سے ہر آدمی کے لیے دو بیویاں ہوں گی ، ہر بیوی پر ستر جوڑے ہوں گے ، اس کی پنڈلی کا گودا ان کے اوپر سے نظر آئے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن کو جنت میں جماع کی بہت زیادہ طاقت دی جائے گی ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسے سو (آدمیوں) کی طاقت دی جائے گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر جنت کی نعمتوں میں سے ناخن برابر کوئی نعمت (دنیا میں) ظاہر ہو جائے تو اس کی وجہ سے زمین و آسمان کے کنارے مزین ہو جائیں ، اور اگر جنت والوں میں سے ایک آدمی (زمین پر) جھانک دے اور اس کے کنگن ظاہر ہو جائیں تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو اس طرح مٹا دے جس طرح سورج ستاروں کی روشنی مٹا دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت والوں کے جسم پر بال نہ ہوں گے اور نہ ان کی داڑھی ہو گی ، اور ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی ، نہ تو ان کی جوانیاں ختم ہوں گی اور نہ ان کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت والے جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ نہ تو ان کے جسم پر بال ہوں گے اور نہ ان کی داڑھی ہو گی ، ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور ان کی عمر تیس یا تینتیس سال ہو گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
اسماء بنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، آپ سے سدرۃ المنتہی کا ذکر کیا گیا تو فرمایا :’’ سوار اس کی شاخوں کے سائے میں سو سال چلتا رہے گا ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اس کے سائے سے سو سوار سایہ حاصل کر سکیں گے ۔‘‘ اس میں راوی کو شک ہوا ہے ۔‘‘ اس پر پتنگے سونے کے ہوں گے ، اور اس کا پھل بڑے مٹکوں کی طرح ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔