Back to Mishkat Al-Masabih

The Conditions of Resurrection

كتاب أَحْوَال الْقِيَامَة وبدء الْخلق

Chapter 27

Hadith 5541
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: يَا آدَمُ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ. قَالَ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ. قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ (وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شديدٌ) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ؟ قَالَ: «أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلًا وَمِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفٌ» ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَكَبَّرْنَا. فَقَالَ: «أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَكَبَّرْنَا فَقَالَ: «أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَكَبَّرْنَا قَالَ: «مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ أَوْ كشعرة بَيْضَاءَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

ابوسعید خدری ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! وہ عرض کریں گے : حاضر ہوں ، تیار ہوں ، اور ساری خیر تیرے ہاتھوں میں ہے ۔ وہ فرمائے گا : جہنم جانے والوں کو نکال دو ، وہ عرض کریں گے ، جہنم جانے والے کتنے ہیں ؟ وہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے ، اس وقت بچے بوڑھے ہو جائیں گے ، ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی ، اور تم لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو گے ، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے ، بلکہ اللہ کا عذاب شدید ہو گا ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں سے وہ ایک کون ہو گا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہیں بشارت ہو ، کیونکہ وہ ایک آدمی تم میں سے ہو گا جبکہ یاجوج ماجوج ہزار ہوں گے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ ایک چوتھائی جنتی تم ہو گے ۔‘‘ ہم نے (خوش ہو کر) نعرہ تکبیر بلند کیا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں امید کرتا ہوں کہ تم جنت میں ایک تہائی ہو گے ۔‘‘ ہم نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں امید کرتا ہوں کہ نصف جنتی تم ہو گے ۔‘‘ ہم نے اللہ اکبر کہا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم تمام لوگوں میں اتنے ہو گے جتنے سفید بیل کی جلد پر ایک سیاہ بال ، یا کسی سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5542
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ہمارا رب (روزِ قیامت) اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو ہر مومن مرد اور مومنہ عورت اس کے لیے سجدہ ریز ہو جائیں گے ، صرف وہی باقی رہ جائے گا جو دنیا میں ریا اور شہرت کی خاطر سجدہ کیا کرتا تھا ، وہ سجدہ کرنا چاہے گا لیکن اس کی کمر تختہ بن جائے گی (اور وہ سجدہ کے لیے جھک نہیں سکے گی) ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5543
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عندَ الله جَناحَ بعوضة» . وَقَالَ: اقرؤوا (فَلَا نُقيمُ لَهُم يومَ القيامةِ وَزْناً) مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت ایک موٹا تازہ شخص آئے گا ، اللہ کے ہاں وہ مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہو گا ۔‘‘ اور فرمایا :’’ یہ آیت پڑھو : روزِ قیامت ہم ان کا کوئی وزن نہیں کریں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5544
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: (يَوْمَئِذٍ تُحدِّثُ أخبارَها) قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كلِّ عَبْدٍ وَأَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا أَنْ تَقول: عمِلَ عَليَّ كَذَا وَكَذَا يومَ كَذَا وَكَذَا . قَالَ: «فَهَذِهِ أَخْبَارُهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جس روز وہ (زمین) اپنی خبریں بتا دے گی ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور ہر عورت کے متعلق اس کے تمام اعمال کے متعلق گواہی دے گی جو اس نے اس کی پشت پر کیے ہوں گے ، وہ کہے گی : اس نے فلاں فلاں دن مجھ پر فلاں فلاں کام کیا تھا ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ اس کی خبریں ہیں ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 5545
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ إِلَّا نَدِمَ» . قَالُوا: وَمَا نَدَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ ازْدَادَ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا نَدِمَ أَنْ لَا يكونَ نزع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بھی فوت ہوتا ہے تو وہ حسرت و افسوس کرتا ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس کی حسرت و افسوس کیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر وہ نیکوکار تھا تو وہ افسوس کرتا ہے کہ اس نے زیادہ نیکیاں کیوں نہیں کیں ، اور اگر وہ گناہ گار تھا تو وہ افسوس کرتا ہے کہ اس نے گناہ کیوں نہ چھوڑے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5546
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ: صِنْفًا مُشَاةً وَصِنْفًا رُكْبَانًا وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ قَالَ: «إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت لوگوں کو تین اقسام میں جمع کیا جائے گا ، ایک قسم پیدل چلنے والوں کی ہو گی ، ایک سواروں کی اور ایک گروہ اپنے چہروں کے بل چل رہا ہو گا ۔‘‘ عرض کیا گیا اللہ کے رسول ! وہ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس ذات نے انہیں ان کے قدموں پر چلایا وہ اس پر قادر ہے کہ وہ انہیں چہروں کے بل چلا دے ، سنو ! وہ (کفار) ہر اونچی جگہ اور کانٹے (ہر تکلیف دہ چیز) سے اپنے چہروں کے ذریعے اپنا بچاؤ کریں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5547
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فليَقرأْ: (إِذا الشَّمسُ كُوِّرَتْ) و (إِذا السَّماءُ انفطرَتْ) و (إِذا السَّماءُ انشقَّتْ) رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص روزِ قیامت کا آنکھوں دیکھا منظر دیکھنا پسند کرتا ہو تو وہ سورۃ التکویر ، الانفطار اور سورۃ الانشقاق کی تلاوت کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 5548
sahih
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي: أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ: فَوْجًا رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ وفوجا تسحبنهم الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ وَفَوْجًا يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ وَيُلْقِي اللَّهُ الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ فَلَا يَبْقَى حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَتَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ يُعْطِيهَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، الصادق المصدوق صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حدیث بیان کی کہ ’’ لوگوں کو تین گروہوں میں جمع کیا جائے گا ، ایک گروہ کے لوگ سواریوں پر ہوں گے ، کھاتے پیتے اور خوش حال ہوں گے ، ایک گروہ ایسا ہو گا کہ فرشتے انہیں ان کے چہروں کے بل گھسیٹ رہے ہوں گے ، اور وہ انہیں (جہنم کی) آگ میں جمع کریں گے ، اور ایک گروہ ہو گا کہ وہ چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے ، اور اللہ سواریوں پر کوئی آفت بھیجے گا تو کوئی سواری باقی نہیں رہے گی ، حتی کہ آدمی کا باغ ہو گا وہ اسے سواری کے بدلے میں دے گا لیکن وہ اس پر قادر نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔

Hadith 5549
sahih
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا هَلَكَ» . قلتُ: أوَ ليسَ يقولُ اللَّهُ: (فسوْفَ يُحاسبُ حسابا يَسِيرا) فَقَالَ: «إِنَّمَا ذَلِكَ الْعَرْضُ وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ فِي الْحساب يهلكُ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت جس کسی سے حساب لیا گیا وہ مارا گیا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا :’’ (جس کسی کو نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا) اس سے آسان حساب لیا جائے گا ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ تو صرف پیش کرنا ہو گا ، لیکن جس کی حساب میں جانچ پڑتال کی گئی وہ ہلاک ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5550
sahih
وَعَن عديِّ بن حاتمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَا مِنْكُم أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ وَلَا حِجَابٌ يَحْجُبُهُ فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلِهِ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَة» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا رب کلام فرمائے گا ، اس کے اور اس (بندے) کے درمیان کوئی ترجمان ہو گا نہ کوئی حجاب ہو گا جو اسے چھپا سکے ، اپنے دائیں دیکھے گا تو وہ اپنے اعمال ہی دیکھے گا جو اس نے آگے بھیجے تھے ، وہ اپنے بائیں دیکھے گا تو وہ آگے بھیجے ہوئے اپنے اعمال ہی دیکھے گا ، وہ اپنے آگے چہرے کے سامنے دیکھے گا تو اسے (جہنم) کی آگ ہی نظر آئے گی ، تم (جہنم کی) آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5551
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: إِن الله يدني الْمُؤمن فَيَضَع على كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ أَتَعْرِفُ ذَنْب كَذَا؟ فَيَقُول: نعم يَا رب حَتَّى قَرَّرَهُ ذنُوبه وَرَأى نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ. قَالَ: سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَى بِهِمْ على رؤوسِ الْخَلَائِقِ: (هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لعنةُ اللَّهِ على الظالمينَ) مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ مومن کو قریب کر لے گا ، اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا کر فرمائے گا : کیا تم فلاں گناہ پہچانتے ہو ؟ کیا تم کو فلاں گناہ یاد ہے ؟ وہ عرض کرے گا ، رب جی ! جی ہاں ، حتی کہ جب وہ اسے اس کے گناہوں کا اعتراف و اقرار کرا لے گا تو وہ شخص اپنے دل میں سوچے گا کہ وہ تو مارا گیا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھا اور آج میں تیرے گناہ معاف کرتا ہوں ، اسے اس کی نیکیوں کی کتاب (اعمال نامہ) دے دی جائے گی ، البتہ کفار اور منافقین تو انہیں ساری مخلوق کے سامنے بلایا جائے گا اور کہا جائے گا :’’ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا ، سن لو ! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5552
sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا فَيَقُولُ: هَذَا فِكَاكُكَ مِنَ النَّارِ رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ ہر مسلمان کو ایک یہودی یا ایک عیسائی دے گا اور فرمائے گا : اس کے بدلے میں (جہنم کی) آگ سے تیری آزادی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5553
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُجَاءُ بِنُوحٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ فَتُسْأَلُ أُمَّتُهُ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا جَاءَنَا مِنْ نَذِيرٍ. فَيُقَالُ: مَنْ شُهُودُكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فيجاء بكم فتشهدون على أنَّه قد بلَّغَ» ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدا) رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت نوح ؑ کو لایا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا : کیا آپ نے (اللہ تعالیٰ کے احکامات و تعلیمات) پہنچا دیے تھے ؟ وہ کہیں گے : جی ہاں ، میرے پروردگار ! ان کی امت سے پوچھا جائے گا : کیا انہوں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچا دیے تھے ؟ وہ کہیں گے : ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے (آگاہ کرنے) والا آیا ہی نہیں ۔ ان سے کہا جائے گا : آپ کا گواہ کون ہے ؟ وہ کہیں گے : محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اور ان کی اُمت ۔‘‘ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پھر تمہیں لایا جائے گا ، تو تم گواہی دو گے کہ انہوں نے پہنچا دیا تھا ۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ ہم نے اسی طرح تمہیں امت وسط بنایا تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول اللہ تم پر گواہ ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 5554
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا أَضْحَكُ؟ . قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟ قَالَ: يَقُولُ: بَلَى . قَالَ: فَيَقُولُ: فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي . قَالَ: فَيَقُولُ: كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا . قَالَ: فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ: انْطِقِي . قَالَ: «فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ» . قَالَ: فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا فعنكنَّ كنتُ أُناضلُ . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھے تو آپ ہنس دیے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے ہنس رہا ہوں ؟‘‘ انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا : بندے کے اپنے رب سے مخاطب ہونے سے ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! کیا آپ مجھے ظلم سے نہیں بچائیں گے ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ (رب تعالیٰ) فرمائے گا : کیوں نہیں ، ضرور ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرے گا : میں اپنے خلاف صرف اپنے نفس ہی کی گواہی قبول کروں گا ، فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :’’ آج تیرا نفس ہی تیرے خلاف گواہی دینے کے لیے کافی ہے ۔ اور لکھنے والے معزز فرشتے بھی گواہی کے لیے کافی ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی ، اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا ، کلام کرو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ اس کے اعمال کے متعلق بولیں گے ، پھر اس (بندے) کے اور اس کی زبان کے درمیان سے پابندی اٹھا لی جائے گی ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ (اپنی زبان سے بول کر) کہے گا : تمہارے لیے دوری ہو اور ہلاکت ہو ، میں تو تمہاری ہی طرف سے جھگڑا تھا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5555
sahih
وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبنَا يَوْم الْقِيَامَة؟ قَالَ: «فَهَل تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رؤيةالقمر لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا» . قَالَ: فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ: أَيْ فُلْ: أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ فَيَقُولُ بَلَى قَالَ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ لَا فَيَقُولُ: فَإِنِّي قَدْ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ فَيَقُولُ لَهُ مثل ذَلِك فَيَقُول يارب آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ ويثني بِخَير مااستطاع فَيَقُول: هَهُنَا إِذا. ثمَّ يُقَال الْآن تبْعَث شَاهِدًا عَلَيْكَ وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ؟ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ: انْطِقِي فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ وَذَلِكَ يسخطُ اللَّهُ عَلَيْهِ رَوَاهُ مُسلم وذُكر حَدِيث أبي: «يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ» فِي «بَابِ التَّوَكُّلِ» بِرِوَايَة ابْن عَبَّاس
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم روزِ قیامت اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم ، دوپہر کے وقت جبکہ مطلع ابر آلود نہ ہو ، سورج دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم ، چودھویں رات جبکہ مطلع ابر آلود بھی نہ ہو ، چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم اپنے رب کے دیدار میں بس اتنی تکلیف محسوس کرو گے ، جس طرح تم ان دونوں (سورج اور چاند) میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں تکلیف محسوس کرتے ہو ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ بندے سے ملاقات کرے گا تو وہ فرمائے گا : اے فلاں ! کیا میں نے تمہیں عزت نہیں بخشی تھی ؟ کیا میں نے تمہیں سردار نہیں بنایا تھا ؟ کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی ؟ کیا میں نے گھوڑے اور اونٹ تیرے لیے مسخر نہیں کیے تھے ؟ کیا میں نے تجھے (تیری قوم پر) سردار نہیں بنایا تھا ؟ اور تو ان سے چوتھا حصہ وصول کرتا تھا ؟ وہ کہے گا : کیوں نہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ رب تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو جانتا تھا کہ تو مجھ سے ملاقات کرنے والا ہے ؟ وہ کہے گا : نہیں ، پھر رب تعالیٰ فرمائے گا : میں نے (آج) تجھے بھلا دیا جس طرح تم نے مجھے (دنیا میں) بھلا رکھا تھا ، پھر رب تعالیٰ دوسرے سے ملاقات کرے گا ، اور اسی (پہلے) کی مثل ذکر کیا ، پھر وہ تیسرے سے ملاقات کرے گا تو وہ اس سے بھی اسی کی مثل کہے گا : وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں آپ پر ، آپ کی کتاب پر اور آپ کے رسولوں پر ایمان لایا ، میں نے نماز پڑھی ، روزہ رکھا ، صدقہ کیا ، اور وہ جس قدر ہو سکا اپنی تعریف کرے گا ، رب تعالیٰ فرمائے گا : یہیں ٹھہرو ، پھر کہا جائے گا : ہم ابھی تجھ پر گواہ پیش کرتے ہیں ، وہ اپنے دل میں غور و فکر کرے گا ، وہ کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے گا ، اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی ، اور اس کی ران سے کہا جائے گا ، بولو ، چنانچہ اس کی ران ، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل کے مطابق کلام کریں گی ، اور یہ اس لیے ہو گا تا کہ اللہ تعالیٰ اس کے نفس کی طرف سے اس کا عذر زائل کر دے ، اور یہ منافق شخص ہو گا ، اور یہ وہ ہو گا جس پر اللہ ناراض ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث ((یدخل من امتی الجنۃ)) بروایت ابن عباس ؓ ، باب التوکل میں ذکر کی گئی ہے ۔

Hadith 5556
sahih
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
Urdu

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت سے ستر ہزار افراد حساب و عذاب کے بغیر جنت میں لے جائے گا ۔ اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے ۔ اور مزید یہ کہ میرے رب کی طرف سے تین چلو ہوں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 5557
sahih
وَعَن الحسنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ: فَأَمَّا عَرْضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ وَأَمَّا الْعَرْضَةُ الثَّالِثَةُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الْأَيْدِي فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ لَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أبي هُرَيْرَة
Urdu

حسن بصری ؒ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت لوگ تین بار (اللہ کے حضور) پیش کیے جائیں گے ، پہلی دو مرتبہ کی پیشی میں جھگڑا اور معذرت ہو گی اور تیسری پیشی کے وقت ہاتھوں کی طرف اعمال نامے اڑیں گے ، چنانچہ کوئی انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑنے والا ہو گا اور کوئی بائیں میں ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث اس وجہ سے صحیح نہیں کہ حسن بصری ؒ نے ابوہریرہ ؓ سے نہیں سنا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 5558
sahih
وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى
Urdu

اور بعض راویوں نے اسے حسن بصری ؒ کے واسطے سے ابوموسی ؓ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و احمد ۔

Hadith 5559
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ سيخلِّصُ رجلا من أُمّتي على رُؤُوس الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلَ مَدِّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَقُولُ: أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الحافظون؟ فَيَقُول: لَا يارب فَيَقُول: أَفَلَك عذر؟ قَالَ لَا يارب فَيَقُولُ بَلَى. إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ فَتُخْرَجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولُ احْضُرْ وَزْنَكَ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ فَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ الله شَيْء . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت اللہ میری امت کے ایک آدمی کو ساری مخلوق کے سامنے لائے گا اور اس کے ننانوے رجسٹر کھولے گا ، اور ہر رجسٹر کی لمبائی حد نظر تک ہو گی ، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تم ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو (کہ تم نے نہ کی ہو) ؟ یا میرے لکھنے والوں نے ، حفاظت کرنے والوں نے تم پر کوئی ظلم کیا ہو ؟ وہ عرض کرے گا ، رب جی ! نہیں ، اللہ فرمائے گا : کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ؟ نہیں ، اللہ فرمائے گا : ہاں ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے ، کیونکہ آج تم پر کوئی ظلم نہیں ہو گا ، ایک کارڈ نکالا جائے گا ، اس پر درج ہو گا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اللہ فرمائے گا : وزن پر حاضر ہو ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس کارڈ کی کیا حیثیت ہے ؟ چنانچہ اللہ وہ فرمائے گا : آج تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ، فرمایا : ایک پلڑے میں وہ دفاتر رکھے جائیں گے اور دوسرے پلڑے میں وہ کارڈ رکھا جائے گا تو وہ دفاتر ہلکے پڑ جائیں گے اور وہ کارڈ بھاری ہو جائے گا ، اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 5560
sahih
وَعَن عائشةَ أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» . قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا: عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَعْلَمَ: أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَمْ يَثْقُلُ؟ وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ (هاؤم اقرؤوا كِتَابيه) حَتَّى يَعْلَمَ: أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ أَفِي يَمِينِهِ أم فِي شِمَاله؟ أم مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ؟ وَعِنْدَ الصِّرَاطِ: إِذَا وُضِعَ بينَ ظَهْري جَهَنَّم . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جہنم کی آگ کو یاد کیا تو وہ رو پڑیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہیں کون سی چیز رلا رہی ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میں نے جہنم کی آگ کو یاد کیا تو میں رو پڑی ، تو کیا روزِ قیامت آپ اپنے اہل خانہ کو یاد رکھیں گے ؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! تین مقامات ہیں ، جہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا ، میزان کے موقع پر حتی کہ وہ جان لے کہ آیا اس کی میزان ہلکی پڑتی ہے یا وہ بھاری ہوتی ہے ، نامہ اعمال کے وقت ، جب کہا جائے گا :’’ آؤ اپنا نامہ اعمال پڑھو ۔‘‘ حتی کہ وہ جان لے کہ اس کا نامۂ اعمال کہاں دیا جاتا ہے ، اس کے دائیں ہاتھ میں یا اس کی پشت کے پیچھے سے اس کے بائیں ہاتھ میں ملتا ہے ، اور پل صراط کے موقع پر جب اسے جہنم پر رکھا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔